Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 14)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

“زیاد تم سن رہے ہو نہ میں کیا بول رہی ہوں یا صرف اچھا اچھا کیے جارہے ہو میری بات پر”

لیپ ٹاپ پر مصروف زیاد کی توجہ عرا ایک مرتبہ پھر اپنی طرف دلاتی ہوئی بولی

“ہاں یار میں نے سن لیا ہے حارث سعودیہ سے آچکا ہے تزئین کے ساتھ اُس کے نکاح کی ڈیٹ فکس ہوگئی تھی اور آج ان دونوں کا نکاح ہے لیکن یار ہم دونوں تزئین کا نکاح کیسے اٹینڈ کرسکتے ہیں تم خود سوچو تمہاری ڈاکٹر نے تمہیں احتیاط کا بولا ہے ماں تمہیں اب کہیں بھی جانے نہیں دیں گیں تین دن پہلے بھی میں تمہیں تمہاری فرینڈ شہرینہ کی شادی میں لے گیا تھا اس کے بعد ماں سے کتنی باتیں سنی تھی میں نے”

زیاد عرا کی کنڈیشن کے باعث اس کو سمجھاتا ہوا بولا عرا کی پریگننسی کو تیسرا مہینہ اسٹارٹ ہوچکا تھا۔۔۔ اِن دنوں اس کو اپنی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس کی وجہ سے لیڈی ڈاکٹر نے اُس کو احتیاط بتائی تھی ڈاکٹر کی بات پر مائے نور نے اس پر پابندیاں لگادی تھیں لیکن انوکھی بات یہ تھی کہ عرا کی پریگننسی یعنیٰ زیاد کے بچے کی آمد کا سن کر مائے نور کے رویے میں تھوڑی بہت تبدیلی آئی تھی

“زیاد تم کتنی عجیب بات کررہے ہو تزئین کی خوشی میں اُس کے اتنے اہم دن میں نہ جاؤ یار وہ میری کزن بالکل بہن کی طرح ہے میرا بچپن اس کے ساتھ گزرا ہے اور کل تم مجھے اپنی سائرہ چچی کی طرف لے گئے تھے تب تو آنٹی نے کچھ نہیں کہا تب بھی تو مجھے ڈاکٹر نے احتیاط کا بولا تھا”

عرا برا مناتی ہوئی بولی تو زیاد لیپ ٹاپ بند کرتا ہوا عرا کو سنجیدگی سے دیکھ کر بولا

“یار ایک تو یہ تم اپنا اور میرا کرنا بند کرو بس میں نے بول دیا ہے ہم نہیں جائیں گے تو پھر بحث کرکے اپنا اور میرا موڈ خراب نہیں کرو اپنی پھپھو سے فون پر معذرت کرلینا اور رؤف کے ہاتھ تزئین کو کوئی اچھا سا گفٹ بھجوا دینا”

زیاد عرا سے بول کر بات ختم کرتا ہوا آفس جانے کے لیے تیار ہونے لگا تو عرا کو اس کا رویہ برا لگا۔۔۔ وہ جانتی تھی مائے نور اُس کی عالیہ پھپھو کو سخت ناپسند کرتی تھی اور زیاد کو بھی وہاں جانے سے روکتی تھی اس وجہ سے زیاد اب اُس کی پھپھو کی طرف جانے سے یا ان سے ملنے سے کترانے لگا تھا کہیں مائے نور اس بات کا برا نہ مان جائے

“صاف بولو میری غریب پھپھو کا اسٹینڈرڈ تم لوگوں کے اسٹینڈرڈ سے میچ نہیں کرتا اس لیے تم مجھے وہاں نہیں لے جارہے ہو ابھی پرسوں تمہارے فرینڈ کے گھر جب ڈنر ہوگا تو۔۔۔

عرا زیاد سے بول ہی رہی تھی تو زیاد اُس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“نہیں جائیں گے ہم لوگ میرے دوست کے گھر ڈنر پر اوکے۔۔۔ دیکھو عرا ہم دونوں کو اپنے بچے کو پہلی ترجیح دینی چاہیے اس کے بارے میں پہلے سوچنا چاہیے نہ کہ ہمارے ریلیٹو اور فرینڈز کے بارے میں۔۔۔ تم یہ نوٹ کرو تمہاری پریگننسی کو لےکر ماں کتنا خوش ہیں اُن کے رویے میں کس قدر چینج آیا ہے پلیز یار تمہاری پریگننسی کا پیریڈ ساتھ خیریت سے گزر جائے پھر تم جہاں بولو گی میں تمہیں وہاں لے کر چلوں گا پرامس۔۔۔ اچھا سنو آج میرا آفس سے کافی لیٹ آنا ہوگا تم دوپہر کا لنچ ٹائم پہ لوگی اور میڈیسن بھی اور پھر رات کا ڈنر بھی تمہیں پراپر طریقے سے کرنا ہے اب ادھر آؤ”

زیاد اپنے آفس کی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کو تلقین کرتا ہوا آخر میں عرا کو اپنے پاس بلا کر بانہوں میں بھر چکا تھا اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا بولا

“تھوڑی دیر کے لیے لیٹ جاؤ معلوم نہیں کیو روز اتنی صبح جاگ جاتی ہو۔۔۔ اب تھوڑا ریسٹ میرے بےبی کو بھی دو پھر رات میں ملاقات ہوتی ہے”

اُس کی اُداسی کو فی الحال اگنور کرتا وہ عرا کو بیڈ پر لٹاکر آفس کے لیے نکل گیا

****

“جب تم خود یہاں نہیں آسکتی تو گفٹ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ایسے موقع پر تو بہنوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب تمہاری بھی مجبوری ہے طعبیت ٹھیک نہیں ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے”

تزئین کی بات سن کر عرا نے اداسی سے کال کاٹ کر موبائل صوفے پر اچھالا جو کہ صوفے کی بجائے نیچے فرش پر گر پڑا اپنے کمرے سے باہر آتا ریان عرا کو ڈرائینگ روم میں دیکھ کر چونکا پھر اُس کی نظر فرش پر گرے ہوئے سیل فون پر پڑی جسے عرا نے اٹھانے کی زحمت نہیں کی تھی

“کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”

عرا کے چہرے پر اداسی دیکھ کر ریان عرا کی طرف متوجہ ہوتا اس سے پوچھنے لگا جس پر عرا چڑی

“میری طبیعت ٹھیک ہو یا خراب تم سے مطلب”

عرا کی اداسی چڑچڑے پن میں ڈھلنے لگی وہ ریان سے بدتمیزی سے بولتی ہوئی شمع کو آواز دینے لگی

“ٹیبل پر جو گفٹ رکھا ہے رؤف سے کہو وہ میری پھپھو کے گھر دے آئے”

شمع کی آمد پر عرا ریان کو نظر انداز کرتی شمع سے بولی اور وہاں سے لان میں چلی گئی۔۔۔ ریان شمع کو دیکھنے لگی تب ریان کو شمع کی زبانی عرا کی اداسی کی وجہ معلوم ہوئی

****

“بیٹیاں سسُرال کی ہوجاتی ہیں تو میکہ پرایا ہوجاتا ہے اُن کے لیے۔۔۔ تزئین تمہاری ہم عمر ہے نہ اُس کا کوئی بہن بھائی تھا نہ تمہارا۔۔۔ تم دونوں ایک ساتھ پل کر میرے پاس جوان ہوئی ہو اگر تھوڑی دیر کے لیے وقت نکال کر تزئین کی خوشی میں آجاتی تو اُس کا دل بڑا ہوجاتا مگر اس میں تمہارا بھی قصور نہیں تمہاری ساس کے لچھن مجھے خوب دکھائی دیتے ہیں چلو خوش رہو اپنے سسرال میں اور اپنا زیادہ دھیان رکھا کرو ان دنوں”

عالیہ کی بات یاد کرکے اس کا جی گڑھنے لگا لان میں آنے کے بعد عالیہ اور تزئین کی باتیں یاد کرکے وہ مزید اُداس ہوچکی تھی اوپر سے ریان کا چہرہ دیکھ کر اس کو اور بھی غصہ آنے لگا تھا وہ زیاد کے کہنے کے مطابق روف کے ہاتھ تزئین کے لیے نکاح کا گفٹ بھیجوا چکی تھی مگر نہ جانے کیوں اُس کا دل اداس تھا

“چلو تمہیں تمہاری کزن سے ملوا کر آتا ہوں آج اُس کا نکاح ہے تمہاری پھپھو اور تزئین تمہاری کمی محسوس کررہی ہوگیں اور تم خود بھی اُداس دکھائی دے رہی ہو تھوڑی دیر کے لیے چل کر اُن سے مل لو ہے”

ریان کے بولنے پر عرا حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی پھر اس کے چہرے پر بےزاری اتر آئی

“فضول باتیں مت کیا کرو زیاد اور آنٹی دونوں کو میرے جانے پر اعتراض ہوگا دونوں کو ہی یہ بات بری لگ سکتی ہے پلیز تم جاؤ یہاں سے”

بےزار سا منہ بناکر وہ ریان سے بولی اور خود وہاں سے جانے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی ریان ڈھیٹ ہے وہ یہاں سے نہیں جائے گا

“زیاد اور ماں کو کون بتائے گا”

ریان کے بولنے پر عرا رک کر ریان کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ آج زیاد کو آفس سے لیٹ آنا تھا اور اتفاق سے مائےنور اور عشوہ بھی گھر پر موجود نہ تھی

“اتنا کیا سوچ رہی ہو تمہاری کزن اور پھپھو تمہیں وہاں دیکھ کر خوش ہوجائیں گیں تمہاری اپنی اداسی بھی اُن سے مل کر دور ہوجائے گی ہم کون سا وہاں پر زیادہ دیر بیٹھیں گے بس گفٹ دے کر آجائیں گے میں رؤف کو گفٹ لے جانے سے منع کرچکا ہوں دیر مت کرو نکاح کا ٹائم نکل جائے گا” ریان کے بولنے پر عرا عجیب سی کشمکش میں ریان کو کنفیوز ہوکر دیکھنے لگی

“میں زیاد سے کوئی بھی بات چھپاتی اس طرح اس کو بغیر بتائے جانا مناسب نہیں”

عرا اداسی سے اسے منع کرتی بولی

“تو کون کہہ رہا ہے چھپانے کو واپس آکر بتا دینا اب چلو بھی”

ریان کے بولنے پر عرا تزئین کا چہرہ دماغ میں لاتی ہوئی ریان کے ساتھ چل دی

“مجھے معلوم یہ صحیح نہیں ہے جو میں نے کیا ہے”

عرا کی طبیعت کی وجہ سے وہ احتیاط سے ڈرائیونگ کررہا تھا عرا ریان کو ڈرائیونگ کرتے دیکھ کر بولی۔۔۔ یوں زیاد کو بناء انفارم کیے اسے ریان کے ساتھ اس طرح جانے پر گلٹ بھی محسوس ہورہا تھا

“کچھ غلط کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم سے ہوجاتے ہیں ہمہیں معلوم بھی ہوتا ہے یہ غلط ہے مگر ہم پھر بھی کر گزرتے ہیں”

ریان ایلکس سے ساتھ اپنی گزاری ہوئی رات کو سوچ کر بولا تو عرا اُس کی بات پر مشکوک انداز میں ریان کو دیکھنے لگی اس انسان کے ساتھ اکیلے گھر سے نکل کر کیا اُس نے صحیح کیا تھا

“یوں مت دیکھو مجھے کہ میرا خود پہ لعنت بھیجنے کو جی چاہے اس وقت تمہاری حفاظت میری ذمہ داری ہے جو میں اپنی جان سے بڑھ کر کرسکتا ہوں۔۔۔ صرف تمہاری اداسی کو محسوس کر کے تمہیں تمہاری کزن سے ملوانے جارہا ہوں اور میرا کوئی مقصد نہیں ہے”

ریان عرا کے اس طرح دیکھنے پر بولا تو عرا بغیر کچھ بولے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی

عرا جب عالیہ کے گھر بناء بتائے اچانک پہنچی تو عالیہ اور تزئین دونوں ہی اُس کو دیکھ کر خوش ہوگئی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد نکاح کی رسم ادا کردی گئی جس کے فوراً بعد عالیہ کے لاکھ روکنے پر وہ ریان کی ہمراہ واپس آگئی اب اُس کی طعبیت پر بوجھل پن نہ تھا وہ خوش تھی

“سنو تھینکس” واپسی پر عرا گاڑی سے اترنے سے پہلے ریان سے بولی

“تھینکس کی ضرورت نہیں، بس اداس مت رہا کرو”

ریان اس کو واپس سکندر ولا ڈراپ کرتا ہوا اپنے ضروری کام سے نکل گیا اُس نے واپس نیویارک جانے کا ارادہ کرلیا تھا شاید یہی زیاد عرا اور اُس کے لیے بہتر تھا

****

“ریان ماں تمہارے جانے کی خبر سے اداس ہیں پلیز اب بھی اپنا جانے کا پروگرام کینسل کردو”

زیاد آفس کے روم میں بیٹھا ہوا ریان کو موبائل پر سمجھاتا ہوا بولا کیوکہ کل کی فلائیٹ سے ریان نیویارک کے لیے روانہ ہورہا تھا

“تم جانتے ہو زیاد میرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے یار میں نہیں رہ سکتا یہاں، میرا واپس جانا ہی ٹھیک ہے تمہیں ماں کو سمجھانا ہوگا اور پلیز تم مجھ کو روکنے کی لیے مزید فورس نہیں کرو”

ریان اس وقت سکندر ولا کی بجائے مال میں موجود تھا جب سے زیاد اور مائے نور نے اُس کے جانے کا پروگرام سنا تھا وہ دونوں اُسے بار بار رکنے کے لیے فورس کررہے تھے جبکہ ریان عرا کی موجودگی میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا تھا اُس کا زیاد اور عرا کی زندگی سے دور جانا ہی بہتر تھا

“تم عاشو سے شادی کرلو ریان وہ تم سے محبت کرتی ہے اور ماں بھی تو یہی چاہتی ہیں کہ تمہاری اور عاشو کی شادی ہوجائے”

زیاد اپنی بات کا ردِ عمل جاننے کے باوجود اس کو مشورہ دیتا ہوا بولا جس پر ریان کو توقع کے مطابق غصہ آگیا

“بکواس بند کرو یار اپنی میں عاشو یا پھر کسی دوسری لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔ تم جانتے ہو شادی سے متعلق عاشو کے نام سے مجھے کس قدر چڑ ہے اس کے باوجود تم وہی فضول بات کررہے ہو جس پر مجھے غصہ آئے”

ریان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو جھڑکتا ہوا بولا

“پھر کیا کرو گے ساری عمر یک طرفہ محبت کا سوگ مناتے ہوئے گزار دو گے”

نہ چاہتے ہوئے بھی زیاد کے منہ سے ایسی بات نکلی جس پر اس نے فوراً اپنے لب بھینچے

“سوری۔۔۔۔ ریان میں بس چاہتا ہوں تم یہی پاکستان میں رہو ماں بھی ایسے ہی چاہتی ہیں پلیز یار واپس مت جاؤ یوں خود سے بھاگنا کوئی بہتر حل نہیں ہے”

زیاد ریان کو رسانیت سے سمجھاتا ہوا بولا

“تمہیں خوف کیوں نہیں آرہا مجھے روکتے ہوئے زیاد تم کیا چاہتے ہو میں عرا کو تمہارے ساتھ دیکھ کر اٙن دیکھی آگ میں جلتا رہو۔۔۔۔ تم جاننا چاہتے ہو میں واپس کیوں جارہا ہوں کیوکہ میرا دل اُس کو دیکھ کر مجھے اُکساتا ہے کہ میں اچھے برے کی تمیز کیے بغیر اسے حاصل کرلو چھین لوں تم سے۔۔۔۔ کیونکہ اُس کے ساتھ میں میرے دل کی خوشی ہے میرا دل اس کو پانا چاہتا ہے صحیح غلط کا سوچے بغیر۔۔۔ اب ڈر لگتا ہے مجھے اپنی اس کیفیت سے خوف آتا ہے کہ میری محبت تمہارا گھر نہ برباد کر ڈالے بولو اب تم چاہو گے کہ میں واپس نہ جاؤں”

ریان کی بات سن کر زیاد بالکل خاموش ہوگیا تو ریان نے کال کاٹ دی

****

آج عرا کا اپوائنٹمنٹ تھا اسے اپنے چیک اپ کے لیے ہاسپٹل جانا تھا جس کے لیے وہ تیار ہوکر زیاد کا انتظار کررہی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی زیاد آفس سے گھر آنے کے لیے نکل چکا تھا تاکہ عرا کو اس کی گائناکالوجسٹ کے پاس لے جاسکے وہ 15 منٹ بعد سکندر ولا پہنچنے والا عرا اپنے بیڈ روم میں موجود زیاد کے آنے کا انتظار کررہی تھی ڈریسنگ روم کے دروازے پر لگا کیوٹ سے بچے کا پوسٹر دیکھ کر وہ مسکرائی بچے کی تصویر یہاں زیاد نے لگائی تھی عرا کا چوتھا مہینہ مکمل ہونے کو تھا اور اِن گزرے مہینوں میں زیاد نے اُس کا بےحد خیال رکھا تھا وہ عرا کو ہر ممکن خوش رکھنے کی کوشش کرتا

عرا پوسٹر پر نظر جمائے صوفے پر بیٹھی تھی تب اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا عرا اپنے خیالوں سے نکل کر موبائل ہاتھ میں پکڑے صوفے سے اٹھی اور دروازہ کھولنے لگی مگر دروازے پر کوئی بھی موجود نہ تھا بلکہ اس وقت ہال خالی تھا پھر اس کے کمرے کا دروازہ کس نے ناک کیا تھا عرا ہال میں چاروں طرف نظر دوڑاتی ہوئی کمرے کا دروازہ بند کرنے لگی تبھی اس کی نظر نیچے فرش پر موجود اسی رسٹ واچ پر پڑی جو طارق کی تھی حیرت سے عرا کی آنکھیں پھیلی اسے آج بھی یاد تھا جب وہ چار ماہ پہلے اسپتال سے گھر آئی تھی اس نے زیاد سے اس گھڑی کے متعلق سوال کیا تھا تب زیاد نے اس بات کو ماننے سے ہی انکار کردیا تھا کہ سکندر ولا میں ایسی کوئی گھڑی موجود ہے جس کا تعلق اُس کے ڈیڈ سے ہو عرا اپنی بات منوانے کے لیے زیاد کو دوبارہ بیسمینٹ میں لےکر گئی تھی کیونکہ وہ گھڑی وہی موجود ہونا چاہیے تھی لیکن بیسمینٹ میں وہ گھڑی موجود نہ تھی اور شمع بھی زیاد کے سامنے صاف مکر گئی۔۔۔ زیاد نے اس گھڑی کے متعلق اس کا وہم بول کر عرا کو اس گھڑی سے متعلق بھول جانے کو کہا تب عرا خاموش ہوگئی تھی لیکن اس وقت اپنے کمرے کے باہر فرش پر وہی گھڑی دیکھ کر عرا نے جھک کر وہ گھڑی اٹھائی اور غور سے اُس گھڑی کو دیکھنے لگی تبھی اپنے کمرے سے مائے نور باہر نکلی وہ عرا کو نظر انداز کر کے کچن میں چلی جاتی مگر عرا کے ہاتھ میں طارق کی گھڑی دیکھ کر مائے نور بری طرح چونکی وہ عرا کی جانب قدم بڑھاتی ہوئی آئی اور جھپٹنے والے انداز میں اُس نے عرا کے ہاتھ سے وہ گھڑی اپنے قابو میں کرلی

“یہ۔۔۔۔ یہ تو میرے ڈیڈ کی واچ ہے یہ سکندر ولا میں کیا کررہی ہے”

عرا مائے نور کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“یہ تمہارے باپ کی نہیں سکندر کی واچ ہے سیم ڈیزائن کی سکندر کے پاس بھی واچ موجود تھی”

مائے نور بولتی ہوئی وہ گھڑی لےکر وہاں سے جانے لگی

“ہوسکتا ہے انکل کے پاس بھی ایسی واچ ہو لیکن میں اِس واچ کو اچھی طرح پہچانتی ہوں یہ ڈیڈ کی ہی واچ ہے اس کے ہینڈ پر موجود چھوٹا سا ضرب ہے میں اس کو بچپن سے دیکھتی آرہی ہوں یہ میرے ڈیڈ کی واچ ہی ہے یہ سکندر ولا میں کیا کررہی ہے پلیز مجھے بتائیں”

عرا کی بات پر مائے نور کے قدم رکے وہ پلٹ کر عرا کو دیکھنے لگی جس کے موبائل پر اس وقت میسج کی ٹون بھی بجی تھی مگر عرا اپنی بات کے انتظار میں موبائل کی بجائے مائے نور کی جانب متوجہ تھی

“تمہارے باپ کی گھڑی میرے گھر پر کیا کرے گی یہ گھڑی میرے شوہر کی ہے اس پر بھی ایسے ہی ضرب کا نشان موجود تھا اور میری بات یاد رکھنا میرا رویہ تمہارے ساتھ صرف اس لیے نرم پڑا ہے کیونکہ تم زیاد کو اس کا بچہ دینے والی ہو یعنی سکندر ولا کو اس کا وارث ملنے والا ہے تبھی میں نے تمہاری اتنی بات بھی سن لی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اپنی اوقات بھول جاؤ اس لیے اب مجھ سے دوبارہ مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ہے”

مائے نور سخت انداز میں عرا کو جھڑکتی ہوئی عرا کا چہرہ دیکھنے لگی جو اس کی بےعزتی سے پھیکا پڑگیا تھا جس کی پرواہ کیے بغیر مائے نور کچن میں چلی گئی جبکہ عرا وہی کھڑی زیاد کے متعلق سوچنے لگی اگر یہ گھڑی سچ میں سکندر کی تھی تو زیاد نے اس کو یہ بات کیوں نہیں بتائی تھی زیاد نے تو سرے سے ہی ایسی واچ کے وجود کو سکندر ولا میں موجود ہونے سے انکار کیا تھا عرا وہی کھڑی غائب دماغی میں سوچتی ہوئی موبائل پر آیا میسج دیکھنے لگی جو کسی اجنبی نمبر سے آیا تھا یہ کوئی ویڈیو کا کلپ تھا جس میں سائیڈ فیس زیاد کا دکھ رہا تھا عرا نے ویڈیو پلے کی

“لےلی تھی ناں اُس کے باپ کی جان اپنے اِن ہاتھوں سے، مر چکا ہے آپ کا مجرم پھر کیوں بار بار یہ بات میرے سامنے دہرا کر مجھے نئے سرے سے روز اذیت میں مبتلا کررہی ہیں۔۔۔ کیا دوبارہ قبر سے نکال کر اسے زندہ کر کے دوبارہ مار ڈالوں تب سکون ملے گا آپ کو، اس کے باپ کی سزا دو اپنی بیوی کو، ایسا چاہتی ہیں آپ اگر آپکو یہی سب سلوک کرنا تھا تو آپ سیدھے طریقے سے بول دیتی مت کرو اس لڑکی سے شادی اب شادی کرلی تو اس طرح تکلیف دیں گی آپ مجھے”

ویڈیو میں زیاد کے منہ سے طارق کے بارے میں ایسا انکشاف سن کر عرا کے ہاتھ بری طرح لرزے موبائل اس کے ہاتھ سے نیچے گر پڑا مائے نور بھی ویڈیو کی آواز پر دوبارہ عرا کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی وہ عرا کا چہرہ دیکھنے لگی جو اس وقت اس بھیانک انکشاف سے سفید پڑچکا تھا اس کی آنکھوں میں بےیقینی اور اذیت جیسا تاثر موجود تھا

“یہ فیک ویڈیو ہے میرا بیٹا بھلا ایسا کیوں کرے گا کس نے بھیجی ہے تمہیں یہ ویڈیو”

مائے نور عرا کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی اور جھک کر عرا کا موبائل اٹھانے لگی مگر اس سے پہلے عرا نے خود اپنا موبائل اٹھالیا دوسرے میسج میں ایک قبرستان کی لوکیشن سینڈ کی ہوئی تھی جہاں اُس کے باپ کو دفن کیا گیا تھا عرا کا چہرہ آنسو سے تر ہونے لگا تبھی زیاد بھی گھر پہنچ گیا

“کیا ہوا عرا رو کیوں رہی ہو”

زیاد عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس کے پاس آنے لگا لیکن عرا اپنا موبائل ہاتھ میں پکڑے ہال سے باہر نکل گئی زیاد مائے نور کا پریشان اور گھبرایا ہوا چہرہ دیکھنے لگا

“آپ نے کچھ کہا ہے عرا کو”

اس سے پہلے زیاد عرا کے پاس باہر جاتا مائے نور سے عرا کے رونے کی وجہ پوچھنے لگا تو مائے نور نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی طارق کی گھڑی زیاد کے سامنے کردی جسے دیکھ کر اس کے چہرے کے تاثرات یک دم پتھریلے ہوئے

“اُسے اپنے باپ کے بارے میں معلوم ہوچکا ہے معلوم نہیں کس نے اس کے موبائل پر وہ ویڈیو بھیجی ہے جس میں تم میرے کمرے میں کھڑے اس کے باپ کے مرڈر کا اعتراف کررہے تھے”

مائے نور کے منہ سے یہ بات سن کر اب کی مرتبہ زیاد کا چہرہ فق پڑگیا کار اسٹارٹ کرنے کی آواز پر مائے نور اور زیاد دونوں ہی چونکے

“زیار جلدی سے اپنی بیوی کے پیچھے جاؤ کہیں وہ اِس بات کا کسی دوسرے کو نہ بتادے ہم بری طرح پھنس جائے گے”

مائے نور کے بولنے پر زیاد تیزی سے باہر نکلا

“عرا رکو”

جب تک زیاد وہاں پہنچا تب تک گاڑی گیٹ سے باہر نکل چکی تھی جو رؤف ڈرائیو کررہا تھا زیاد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر عرا کے پیچھے اپنی گاڑی لےکر نکلا جبکہ گھر میں موجود مائے نور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہی صوفے پر بیٹھ گئی

“اب آپ کو کیا ہوا سب خیریت ہے”

ریان جو ابھی باہر سے سکندر ولا میں داخل ہوا تھا مائے نور کو یوں بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگا اس نے زیاد کی گاڑی گیٹ سے باہر نکلتے دیکھی تھی زیاد بھی چہرے سے پریشان دکھائی دے رہا تھا اور گھر میں مائے نور بھی ایسے بیٹھی تھی تبھی ریان کو کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا ریان کے پوچھنے پر مائے نور نے سارا واقعہ ریان کو بتادیا جس کو سن کر وہ خود بھی باہر زیاد کے پیچھے چلاگیا

****

“ٰعرا پلیز رک جاؤ”

زیاد کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بلکہ وہ لکڑی کا پھاٹک کھول کر قبرستان کے اندر داخل ہوگئی

“بےوقوف انسان میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے تم”

زیاد غصہ کرتا ہوا رؤف سے بولا جو عرا کو یہاں شہر سے دور قبرستان میں لے آیا تھا جہاں سالوں پہلے اس نے عرا کے باپ کو دفن کیا تھا

“کیسے اٹھاتا بیگم صاحبہ نے مجھ سے میرا موبائل لےلیا تھا مجھے اندازہ نہیں تھا آپ مجھے کال کررہے ہیں”

رؤف زیاد کے غصہ کرنے پر گھبراتا ہوا بولا زیاد قبرستان کے اس پھاٹک کو دیکھنے لگا جس سے چند سیکنڈ پہلے عرا اندر گئی تھی

“جاؤ واپس گھر۔۔۔ میں عرا کو خود لےکر آؤ گا اور ماں کو بولنا وہ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہوجائے گا میں آرہا ہوں اُن کے پاس تھوڑی دیر میں”

زیاد رؤف کو بولتا ہوا خود بھی قبرستان کے اندر جانے لگا جہاں اس نے آج سے 16 سال پہلے قدم رکھا تھا

وہ بےیقینی کی کیفیت میں آج کھلی آنکھوں سے اس قبرستان کو دیکھ رہی تھی جسے وہ اب تک صرف خواب میں دیکھتی آئی تھی شام کے سائے اِس وقت تیزی سے پھیل کر اندھیرے میں ڈھل رہے تھے خوف عرا کو آہستہ سے اپنے حصار میں لینے لگا یہ منظر، یہ جگہ آج سے پہلے اس نے صرف بند آنکھوں سے اپنے خوابوں میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس قبرستان میں اس کا باپ دفن تھا

“ڈیڈ” عرا روتی ہوئی صدمے سے بےآواز بولی اس کی آنکھیں خود بخود بھیگنا شروع ہوگئیں وہ خواب میں خود کو ایک قبر کے اندر دیکھتی تھی کوئی تھا جو اُس کو زندہ دفن کرنا چاہتا تھا تو کیا زیاد اس کی جان لینے والا تھا جیسے اس نے اس کے باپ کی جان لے لی تھی

“عرا میری بات سن لو پلیز”

زیاد عرا کی پشت پر کھڑا آہستہ آواز میں بولا تو زیاد کی آواز پر عرا ایک دم مڑی وہ خوفزدہ نظروں سے زیاد کو دیکھنے لگی

قاتل۔۔۔ قاتل زیاد کو دیکھ کر یہی ایک نام اس کے کانوں میں گونجنے لگا

“میرے قریب مت آنا زیاد دور۔۔۔ دور رہو مجھ سے”

وہ خوفزدہ سی بولتی ہوئی پیچھے کی جانب قدم اٹھانے لگی

“ایسے بی ہیو کیوں کررہی ہو میں تمہارا شوہر، اس طرح سے مت دیکھو مجھے پلیز میں تم سے پیار کرتا ہوں میرا یقین کرو”

عرا کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف دیکھ کر زیاد کا دل تڑپ اٹھا وہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا عرا کے پاس آنے لگا

“نہیں تم میرے شوہر نہیں ہو بلکہ میرے ڈیڈ کے قاتل ہو۔۔۔ تم نے میرے ڈیڈ کو مار کر یہی دفن کیا ہے میں۔۔۔۔ میں سب جان گئی ہوں تمہارے بارے میں، اب تم مجھے بھی مار ڈالو گے میں جانتی ہوں”

عرا خوف ذرہ سی بولتی ہوئی وہاں سے بھاگنے لگی

“عرا رک جاؤ پلیز بھاگو مت۔۔۔ مجھ سے مت ڈرو عرا پلیز رک جاؤ”

عرا کی کنڈیشن کے پیش نظر اس کے بھاگنے پر زیاد اسے منع کرتا ہوا عرا کو پکڑ چکا تھا

“چھوڑو مجھے تم قاتل ہوں میرے ڈیڈ کو مار ڈالا تم نے اب تم مجھے بھی مارنا چاہتے ہو۔۔۔ میں۔۔۔ میں سب کو بتاؤ گی کہ تم نے میرے ڈیڈ کے قاتل ہو”

عرا زیاد سے اپنا آپ چھڑواتی ہوئی بری طرح اس کے حصار میں روتی ہوئی مچلنے لگی۔۔۔ زیاد نے عرا کو جھنجوڑتے ہوئے اس کا چہرہ تھاما

“ہوش میں آؤ یہاں دیکھو میری طرف میں تمہیں مار سکتا ہوں کیا تمہیں ایسا لگ رہا ہے زیاد سکندر تمہاری جان لے سکتا ہے میں تمہیں کبھی کوئی تکلیف پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا پلیز میرا یقین کرو عرا صرف منہ زبانی نہیں بولا ہے میں سچ میں محبت کرتا ہوں تم سے”

وہ اپنے دونوں ہاتھوں میں عرا کا چہرہ تھامے اس کو اپنا یقین دلانے لگا

“پھر میرے ڈیڈ کو کیوں مار ڈالا تم نے”

روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بن چکی تھی وہ صدمے کی کیفیت میں زیاد سے پوچھنے لگی اس کا شوہر ہی اس کے باپ کا قاتل تھا یہ انکشاف کتنا جان لیوا تھا وہ باپ جسے اُس نے کتنے سالوں سے زندہ سمجھا درحقیقت وہ اُس دنیا میں موجود نہ تھا وہ تو کب کا مر چکا تھا بلکہ اس کے شوہر نے ہی اُس کے باپ کی جان لی تھی یہ بات سوچتے ہوئے عرا کو تکلیف ہونے لگی

“وہ ایک بھیانک حادثہ تھا عرا میں تمہیں ساری سچائی بتادو گا ایسا کیوں ہوا، اس رات کا سارا سچ تمہیں بتاؤں گا پہلے تم یہاں سے میرے ساتھ چلو “

زیاد عرا کو دوبارہ اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا

“مم۔ ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی مجھے اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا میں کیسے ایک مجرم کے ساتھ رہ سکتی ہوں اس کے ساتھ جس نے میرے ڈیڈ کا قاتل کیا ہو، مجھے اب تم پر بھروسہ نہیں ہے نہ ہی تمہاری محبت پر یقین ہے میں جانتی ہوں تم مجھے بھی مار ڈالو گے مجھے معلوم ہے تم مجھے یہاں سے سکندر ولا نہیں لےکر جاؤ گے بلکہ یہی پر تم نے میرے لیے پہلے سے ہی قبر کھودی ہوئی ہے تم مجھ کو یہاں زندہ دفن کرنا چاہتے ہو بولو یہی ہے ناں تمہارا آگے کا پلان”

صدمے اور خوف کے سبب اس کے حواس کام کرنا چھوڑ چکے تھے زیاد کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا بول رہی ہے اس سے پہلے عرا چکرا کر نیچے گرتی زیاد نے عرا کو تھام لیا

“عرا” زیاد نے اس کو پکارا مگر وہ بےہوش ہوچکی تھی زیاد اس کو اپنے بازووں میں اٹھاتا ہوا اپنی کار تک لے آیا اور اسے کار میں بٹھاکر سیٹ بیلٹ باندھنے لگا خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہوا وہ کار اسٹارٹ کرچکا تھا

ڈرائیونگ کرتے ہوئے زیاد بار بار عرا کی جانب دیکھ رہا تھا دائیں جانب اس کی گردن ڈھلکی ہوئی تھی وہ بےہوش تھی۔۔۔ آگے اس کے اور عرا کے رشتے میں کیا ہونے والا تھا وہ کس طرح عرا کو اپنا یقین دلاتا عرا اس پر یقین کرتی یا پھر اس کو اپنے باپ کے لیے معاف کردیتی زیاد نہیں جانتا تھا لیکن اس وقت اسے عرا کی اور اپنے بچے کی فکر تھی اس بچے کی جو اس وقت دنیا میں نہیں آیا تھا زیاد کے موبائل پر ریان کی کال آنے لگی تو زیاد نے گہرا سانس لیتے ہوئے ریان کی کال ریسیو کی

“عرا کو یہ بول دو کہ اس کے ڈیڈ کا مرڈر تم نے نہیں بلکہ میں نے کیا تھا گولی تم سے نہیں مجھ سے چلی تھی میرا کیا ہے مجھے تو چلے جانا ہے تم اس پر اصل حقیقت کبھی بھی واضح مت ہونے دینا زیاد ورنہ تمہارے رشتے میں آگے جاکر بہت پرابلمز آسکتی ہیں”

کال ریسیو کرتے ہی اسے ریان کی آواز سنائی دی

“میں گھر آرہا ہوں وہی بات کرتے ہیں”

زیاد نے اس سے فی الحال اس موضوع پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا

“میں راستے میں ہی ہوں زیاد میں وہی پہنچ رہا ہوں تمہارے پاس”

ریان ڈرائیونگ کرتا ہوا زیاد کو بتانے لگا تو دوسری طرف زیاد چونکا

“تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے میں عرا کو لےکر واپس آرہا ہوں تم واپس اپنی کار موڑ لو”

ریان کو زیاد کی آواز سنائی دی وہی ریان نے عرا کی بھی آواز سنی وہ روتی ہوئی کچھ بول رہی تھی

“زیاد پلیز عرا کے سامنے ابھی سچ قبول مت کرنا”

ریان نے ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ زیاد سے ایک مرتبہ پھر بولا اور کال کاٹ دی پہلے اس کا ارادہ زیاد کی بات ماننے کا تھا مگر پھر دل میں نہ جانے کیا سمائی اس نے اپنی گاڑی کو گھر کی طرف نہیں موڑا تھا

“تم مجھے کہاں لےکر جارہے ہو میں تمہارے ساتھ واپس نہیں جاؤں گی مجھے اب تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا زیاد کار یہی روک دو”

عرا نے ہوش میں آکر اپنے آپ کو زیاد کی کار میں پایا تو وہ ڈرائیونگ کرتے زیاد سے بولی ساتھ ہی اس نے اسٹیرنگ وہیل دائیں جانب گھمایا یہ ون وے ٹریفک روڈ تھا جہاں دائیں جانب سامنے سے بڑا سا ٹرالر تیزی سے آرہا تھا

“عرا کیا کررہی ہو”

زیاد نے زور سے چیختے ہوئے سٹیرنگ ویل دوسری جانب گھمایا لیکن بدقسمتی سے اس کی گاڑی ٹرالر سے بری طرح ٹکرائی اور بل کھاتی ہوئی پلٹی بھیانک چیخ عرا کے منہ سے نکلی

****

عرا کی کراہ اور سسکیوں کی آواز سے آہستہ آہستہ سے زیاد کا دماغ واپس ہوش میں آنے لگا

اس کی گاڑی مکمل طور پر الٹی ہوئی تھی بونٹ مکمل طور پر تباہ ہوکر گاڑی کے اگے والے حصے پر دھنسا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں کی ٹانگیں پھنسی ہوئی تھی

“میرا بچہ۔۔۔ زیاد وہ مر جائے گا۔۔۔ وہ نہیں بچ پائے گا میں۔۔۔ میں بھی مر جاؤں گی”

عرا کی روتی ہوئی خوف سے کانپتی آواز پر زیاد اپنی تکلیف بھول چکا تھا۔۔۔ اس کی سائیڈ سے اور فرنٹ مرر ٹوٹ کر شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے زیاد کے بازو اور سینے میں گُھسے ہوئے تھے۔۔۔ اس کا چہرے کو بری طرح زخمی ہوچکا تھا

“کچھ نہیں ہونے دو گا اپنے بچے کو اور تمہیں۔۔۔ عرا اپنی طرف کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرو”

پیٹرول کی اسمیل زیاد کے نتھنوں سے ٹکرائی تو اس کا دماغ اور بھی تیزی سے کام کرنے لگا اس نے عرا کی سیٹ بیلٹ کھولتے ہوئے عرا سے اس کی طرف کا دروازہ کھولنے کو کہا

“یہ جام ہوچکا ہے مجھ سے نہیں کھل رہا۔۔۔ اب ہم یہاں سے نہیں نکل سکتے”

عرا روتی ہوئی زیاد سے بولی

“کچھ نہیں ہوگا، ٹینشن مت لو تھوڑی سی ہمت کرو عرا اپنی ٹانگیں باہر نکالنے کی کوشش کرو جلدی”

زیاد عرا کی سیٹ پیچھے کرتا ہوا عرا سے بولا اور خود بھی اس کی ٹانگوں کو آہستہ سے اوپر کی جانب کھینچتے ہوئے عرا کو اپنی طرف کھینچنے لگا کیونکہ زیاد کا اپنی طرف کے دروازے کا لاک کھل چکا تھا یہاں سے وہ اور عرا باہر نکل سکتے تھے

تھوڑی سی کوشش کے بعد عرا کی دبی ہوئی ٹانگیں نکل چکی تھی زیاد کے مقابلے میں اُس کو زیادہ چوٹیں نہیں لگی تھی جس کی وجہ سے زیاد کو تھوڑا اطمینان تھا۔۔۔ وہ عرا کو باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تب زیاد کو کسی کی گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی تھی کوئی تیزی سے بھاگتا ہوا اُس کی گاڑی کی طرف آرہا تھا

“زیاد یہ سب کیسے ہوگیا۔۔۔ زیاد تم مجھے سن سکتے ہو تم ٹھیک تو ہو زیاد”

زیاد کو ریان کی پریشان زدہ آواز سنائی دی جس پر زیاد نے اللہ کا شکر ادا کیا

“ریان باہر سے گاڑی کا دروازہ کھولو جلدی”

گاڑی مکمل طور پر الٹی ہوئی تھی زیاد کی گاڑی کا حشر دیکھ کر ریان کے اپنے اوسان خطا ہونے لگے گاڑی کے اندر سے آتی زیاد کی آواز پر ریان نے زیاد کی گاڑی کا دروازہ کھینچتے ہوئے اسے پورا کھول دیا اور جھک کر گاڑی کے اندر دیکھنے لگا

“ریان پہلے عرا کو باہر نکالو جلدی سے عرا کو باہر نکالو ہری اپ”

گاڑی کا دروازہ کھولتے ہی زیاد ریان سے بولنے لگا

“عرا جلدی سے اپنا ہاتھ پکڑاؤ مجھے”

ریان پریشان سا عرا سے بولا۔۔۔ زیاد خود گاڑی میں سے نکلنے سے پہلے عرا کو اپنی سیٹ کی جانب کھینچ چکا تھا عرا مسلسل روئے جارہی تھی کیونکہ اسے اپنی ٹانگیں بےجان محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ دروازے سے باہر ریان کی طرف بڑھائے جنہیں ریان پکڑ کر کھینچتا ہوا عرا کو گاڑی سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگیا

“زیاد تم بھی جلدی سے باہر نکلو”

عرا کو نکالنے کے بعد ریان دوبارہ جھک کر زیاد کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا کیونکہ ریان زیاد کی زخمی حالت دیکھ چکا تھا اس کو کافی زیادہ چوٹیں آئی تھیں

“میری فکر مت کرو میں خود نکل جاؤ گا جلدی سے عرا کو لےکر یہاں سے دور چلے جاؤ پیٹرول ٹنکی سے لیک ہورہا ہے تم دونوں فوراً دور جاؤ یہاں سے”

زیاد اپنی سیٹ بیلٹ کھلتا ہوا اپنی ٹانگیں باہر نکالنے کی کوشش کرتا ریان سے بولا

“ہاں۔۔۔ مگر میں تمہیں بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا”

ریان نے جھک کر زیاد کو باہر نکالنے کی کوشش کی تو زیاد تیز آواز میں اُس پر چیخا

“بےقوفی والی حرکت مت کرو عرا کو لےکر یہاں سے دور جاؤ۔۔۔ میں آرہا ہوں”

زیاد کے غصہ کرنے پر وہ زمین پر بیٹھی عرا کو اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا کیونکہ وہ اپنی ٹانگیں پکڑے زمین پر بیٹھی ہوئی مسلسل تکلیف سے روئے جارہی تھی یقینًا وہ چل نہیں سکتی تھی

“عرا تم ٹھیک ہو”

ریان اس کو اٹھائے زیاد کی گاڑی سے دور لے جاتا ہوا پوچھنے لگا

“زیاد ٹھیک نہیں ہے ریان اس کو بہت زیادہ چوٹیں آئی ہیں پلیز تم اس کو بھی جاکر لے آؤ”

عرا روتی ہوئی ریان سے بولی اس وقت وہ بھول چکی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے وہ گاڑی میں زیاد سے کس بات پر لڑ رہی تھی یاد تھا تو صرف یہ کہ اِس وقت اُس کا شوہر بری طرح زخمی حالت میں تھا

“اُسے کچھ نہیں ہوگا میں اُس کو بھی لے کر آتا ہوں تم پلیز پریشان مت ہو یہاں بیٹھو”

ریان عرا سے بولتا ہوا اسے اپنی گاڑی میں بٹھاکر دوبارہ تیزی سے زیاد کی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا

زیاد کافی مشکل سے خود کو گاڑی سے باہر نکال پایا تھا لیکن اُس کی بائیں ٹانگ کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ گاڑی سے باہر نکلنے کے باوجود گاڑی سے تھوڑا دور ہی فاصلے طے کر پایا تب اچانک گاڑی میں آگ لگنا شروع ہوئی اور ایک دم گاڑی میں زوردار بلاسٹ ہوا زیاد کی گاڑی میں بلاسٹ ہوتا دیکھ کر ریان کے قدم وہی تھم گئے آنکھوں کے سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں بےیقینی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی ایک پل کے لیے وہ سکتے میں چلا گیا تھا

“زیاد” عرا کی زوردار چیخ پر وہ ہوش میں آیا اور تیزی سے زیاد کی جانب بھاگا دھماکے کی وجہ سے زیاد کی باڈی ہوا میں اچھل کر دور جا گری تھی

****