Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Payar Howa Tha (Episode 1)

Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel

رات کا دوسرا پہر دم توڑنے کو تھا موسم سرما کا آغاز ہوچکا تھا جس کے سبب فضا میں خنکی پھیلی ہوئی تھی یہاں کے رہائش پذیر نہ جانے کب سے اپنے اپنے گھروں پر بستروں میں دبکے سو رہے تھے صرف وہ چار نفوس تھے جن کی آنکھوں سے نیند کوسو دور جاچکی تھی اور چہرے پر خوف کے ساتھ ہیبت بھی طاری تھی ماہی اُس بےجان وجود کو اُس کے ہاتھوں سے پکڑ کر پوری قوت سے کھینچتی ہوئی گاڑی تک لےکر آئی جس سے چکنے فرش پر خون کی لکیر سی بنتی چلی گئی

تیرہ سالہ لڑکا اُس خون کی لکیر کو ایک بڑے سے کپڑے سے صاف کرتا ہوا تھوڑی دیر پہلے پیش آئے اُس بھیانک واقعے کے سارے ثبوت مٹا رہا تھا وہ الگ بات تھی اُس لڑکے کے چہرے پر نہ صرف ہیبت طاری تھی بلکہ خون صاف کرتے وقت اُس کے اپنے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے جبکہ دوسرا لڑکا ایک چھوٹی بچی کے ساتھ گھر کے دروازے سے باہر نکل کر خاموش کھڑا ماہی اور اُس لڑکے کی کاروائی آرام سے دیکھ رہا تھا اُس کے ساتھ موجود بچی اپنے ہاتھ میں ٹیڈی بیئر پکڑے خوف کے باعث ہلکے ہلکے سسک رہی تھی جیسے تھوڑی دیر پہلے ہوئے حادثے سے وہ بری طرح سہمی ہوئی ہو

“کیا تم اِس کو اٹھانے میں میری ہیلپ کرو گے”

ماہی کی آواز پر وہ اقرار میں سر ہلاتا ہوا خون سے لت پت کپڑا ایک سائیڈ پر رکھ کر اُس کے پاس چلا آیا کیونکہ ماہی اُس بےجان وجود کو اکیلے گاڑی کے اندر نہیں ڈال سکتی تھی اپنے کمرے سے اِس بےجان وجود کو کار پورچ تک لانے میں ہی اُس کے پسینے چھوٹ چکے تھے اور وہ بری طرح ہانپنے لگی تھی تیرہ سالہ لڑکا اُس لاش کو قریب سے دیکھ کر دوبارہ سے خوف میں مبتلا ہوا

“ماہی۔۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔ اس کی آنکھیں ابھی بھی مجھے دیکھ سکتی ہیں”

وہ کانپتی ہوئی آواز میں خوفزدہ سا ماہی کو دیکھ کر بولا کیونکہ مرنے کے باوجود اُس کی آنکھوں کی دونوں پُتلیاں پوری کُھلی ہوئی تھی جیسے مرنے سے پہلے ہی اُس نے اپنے موت کی تکلیف کو بڑی اذیت سے برداشت کیا ہو

“اُس کے چہرے کی طرف مت دیکھو وہ اب زندہ نہیں ہے”

ماہی تیرہ سالہ لڑکے کے چہرے پر خوف طاری دیکھ کر اسے تسلی دینے والے انداز میں بولی جس کے بعد اُن دونوں نے مل کر اُس ساکن وجود کو ایک دوسرے کی مدد سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال دیا جس کے بعد وہ دوسرا لڑکا گاڑی تک آیا اور ہاتھ میں موجود بڑی سی چادر سے اُس بےجان وجود کو ڈھانکنے لگا

“ہہہم یہ تم نے اچھا کیا یہ بھی ضروری تھا”

ماہی نے اپنی جیکٹ کی زپ بند کرتے ہوئے جیسے اُس دوسرے لڑکے کے کام کو ایپریشیٹ کیا تھا تب اُس کی نظر چھوٹی بچی پر پڑی جو روتی ہوئی اپنے ننھے سے ہاتھوں میں پکڑے ٹیڈی بیئر کے ساتھ اُن تینوں کی جانب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی آرہی تھی ماہی نے آگے بڑھ کر اُس بچی کو اپنی گود میں اٹھالیا اور اسے پیار کرنے لگی تاکہ اُس ننھی سی بچی کے اندر موجود ڈر ختم ہو جو کچھ آج اُس کی انکھوں نے دیکھا تھا یقیناً اِس عمر میں اُس کو نہیں دیکھنا چاہیے تھا

“روتے نہیں ہیں نہ ہی ایسے ڈرتے ہیں۔۔۔ آئی نو یو آر بریو گرل”

ماہی کی بات پر وہ سسکتی ہوئی ماہی کو دیکھ کر بولی

“تم لوگوں نے اُس کو کیوں مار دیا وہ تو ہمارا۔۔۔ بچی کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ماہی اپنی انگلی اُس بچی کے ہونٹوں پر رکھ چکی تھی

“شش۔۔۔ اور اُس کو چپ کرواتی ہوئی بولی

“ہم نے کسی کو نہیں مارا رائٹ آج رات جو بھی ہوا ہم اُس کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے اور نہ ہی ہم خود اِس کے بارے میں ڈسکس کریں گے یہ ہم چاروں کا سیکرٹ ہے اور صرف ہمارے درمیان رہے گا” ماہی اس معصوم بچی کو سمجھاتی ہوئی اُس گاڑی کے پاس لے آئی اور اُسے تیرہ سالہ لڑکے کی گود میں تھمادیا

“ہمہیں اِس ڈیڈ باڈی کو یہاں سے دور لے جانا ہوگا ورنہ آگے جاکر ہمارے لیے مسئلہ بن سکتا ہے”

ماہی اپنی گھبراہٹ چھپاتی ہوئی خود کو نارمل رکھ کر اُن دونوں لڑکوں سے کہنے لگی

“ہم اِس کو کہاں لےکر جائیں گے وہ بھی اتنی رات کو”

تیرہ سالہ لڑکے کے برابر میں کھڑا دوسرا لڑکا گاڑی میں موجود ڈیڈ باڈی کو دیکھ کر گھبراتا ہوا ماہی سے پوچھنے لگا کیوکہ فلموں میں دیکھے جانے والے ایسے سینز مزا دیتے تھے مگر حقیقی زندگی میں یہ سب بہت پریشان کن تھا

“یہ تو ابھی مجھے خود بھی سمجھ نہیں آرہا مگر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا تم دونوں گاڑی میں بیٹھو”

ماہی پریشان ہوتی خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی جبکہ وہ دونوں لڑکے بچی سمیت ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئے اور ماہی نے گاڑی اسٹارٹ کردی

***

دونوں اطراف جنگل کے بیچوں بیچ گھری کچی پکی سڑک پر وہ ڈرائیونگ کرتی جارہی تھی تب سامنے سے پولیس وین کو دیکھ کر آفیسر کے اشارے پر اُسے اپنی گاڑی روکنا پڑی

“ریلکس، تم تینوں کچھ نہیں بولو گے بالکل خاموش رہنا”

ماہی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس بند کرتی اُن تینوں سے بولی اور گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے لگی

“اتنی رات کو اس طرح اِن بچوں کے ساتھ اکیلے سفر کرنے کی وجہ جان سکتا ہوں آپ سے محترمہ”

آفیسر گاڑی میں جھانکتا ہوا بچوں سمیت پچھلی نشت پر سوئے ہوئے وجود پر نظر ڈال کر ماہی سے پوچھنے لگا

“میرے ہسبینڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ان کو ہاسپٹل لےکر جارہی ہوں ذرا جلدی میں ہوں”

ماہی پُراعتماد لہجے میں آفیسر کو دیکھ کر بولی تو آفیسر اس کے ہسبینڈ والی بات پر چونکا

“اب یہ مت بولیے گا میڈم کہ یہ تینوں بچے آپ ہی کے ہیں”

آفیسر اُس کی عمر دیکھ کر طنزیہ لہجے میں بولا جس پر ماہی نے مسکرا کر اپنے دونوں شانے اچکائے

“یقیناً ایسا ہی ہے میرے پیرنٹس نے میری شادی کافی چھوٹی عمر میں کردی تھی لیکن مکمل تفصیل بتانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ میں آپ کو پوری اسٹوری ضرور سناتی اگر آپ کی انویسٹیگیشن مکمل ہوگئی ہو تو کیا میں جاسکتی ہوں”

ماہی دوبارہ اس آفیسر کو دیکھتی ہوئی بولی

“جی بالکل آپ جاسکتی ہیں ذرا دھیان سے جائیے گا”

آفیسر کی بات سن کر ماہی نے اُس کو شکریہ کہتے ہوئے گاڑی کا شیشہ اوپر کیا اور رکا ہوا سانس بحال کرتی وہ گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرچکی تھی

***

“میں نے تم سے تھوڑی دیر پہلے بھی کہا تھا پیچھے مت دیکھو”

تیرہ سالہ لڑکے کو ماہی نے ڈرائیونگ کے دوران دوسری مرتبہ ٹوکا تھا

“میں نے۔۔۔ میں نے اُس کو اپنے اِن ہاتھوں سے۔۔۔

تیرہ سالہ لڑکا سخت گھبرایا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھ کر بولا تو چھوٹی بچی ڈر کے مارے اُس لڑکے کے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جبکہ ماہی اُس کو ڈپٹتی ہوئی بولی

“تم نے اس وقت جو بھی کیا وہ بالکل ٹھیک تھا کچھ غلط نہیں کیا تم نے، اب اِس بات کو تم دوبارہ نہیں دہراؤ گے بلکہ ہم میں سے کوئی یہ بات دوبارہ اپنے منہ سے نہیں نکالے گا۔۔۔ از ڈیٹ کلیئیر”

ماہی ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ ساتھ اُن تینوں کے کم سِن چہروں پر نظر ڈالتی ہوئی ایک مرتبہ پھر بولی

شہر سے کافی دور اُن کی گاڑی ایک قبرستان کے سامنے آکر رکی یہ قبرستان آبادی سے ہٹ کر شہر کے آخری سِرے پر واقع تھا جو ایک مرتبہ مکمل آباد ہونے کے بعد اب کئی برسوں سے کھنڈر بن چکا تھا یہاں پر اُس مردہ وجود کو دفنانے پر کسی کو دور دور تک اُن لوگوں پر شک بھی نہیں ہوسکتا تھا بہت ممکن تھا یہ انسانی بےجان وجود گمشدگی کے باعث چند سالوں بعد خود اپنے گھر والوں کے لیے ایک یاد بن کر رہ جاتا

چھوٹی بچی گاڑی میں سو چکی تھی جبکہ ماہی کے ساتھ وہ دونوں لڑکے بوڑھے برگد کے پیڑ کے پاس سے بیلچہ اٹھا کر قبر کھودنے لگے ماہی برابر سے ان دونوں کی مدد کررہی تھی

“آج جو بھی کچھ ہوا وہ بہت ڈراونا تھا کسی نائٹ میئر کی طرح مگر ہم اِس بات کو اِس انسڈینٹ کو کسی دوسرے کے سامنے نہیں دہرائیں گے نہ ہی واپس جانے کے بعد اِس کے متعلق کچھ سوچیں گے جو کچھ بھی ہم لوگوں سے ہوا۔۔۔

ماہی کے سمجھانے پر دوسرا لڑکا ایک دم ماہی کی بات کاٹتا ہوا بولا

“ہم سے کیا ہوا ہے مرڈر تو اُس نے کیا ہے ناں”

اُس دوسرے لڑکے کی بات پر تیرہ سالہ لڑکے کے قبر کھودتے ہاتھ پل بھر کے لیے تھمے وہ اپنے برابر میں کھڑے اس دوسرے لڑکے کو حیرت سے دیکھنے لگا جس کے بار بار اُکسانے اور طیش دلانے پر ہی اُس کے ہاتھوں سے گولی چلی تھی اور زندگی سے بھرپور ایک زندہ وجود لاش میں تبدیل ہوگیا تھا

“کوئی مرڈر نہیں ہوا کسی سے بھی سمجھے تم اب کی بار میں تمہارے منہ سے دوبارہ یہ مرڈر والی بات نہ سنو”

ماہی اُس دوسرے لڑکے کو ڈانٹتی ہوئی بولی وہ تینوں ہی اُس بےجان لاش کو قبر میں اتار کر گاڑی میں آکر بیٹھ گئے

“تم ٹھیک ہو”

ماہی نے تیرہ سالہ لڑکے کو دیکھ کر اس سے پوچھا

“یہ ایک برا کام تھا جو میں دوبارہ کبھی نہیں کرنا چاہوں گا”

تیرہ سالہ لڑکا دوبارہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا بولا جن سے وہ تھوڑی دیر پہلے ایک زندہ وجود کی جان لے چکا تھا

***

“اے عرا کل تم کہاں غائب تھی میں کل دو مرتبہ تمہارا پوچھنے آیا مگر تم اپنے گھر پر موجود نہیں تھی”

وہ اپنی سائیکل عرا کے گھر کے پاس روکتا ہوا عرا کو دیکھ کر چہکا جو اپنے گھر کے دروازے پر ہی اس کو مل گئی تھی

“واؤ نیو سائیکل لےلی تم نے”

عرا اُس کی بات کو اگنور کرتی ہوئی اُس کی سائیکل کو دیکھ کر خوش ہوتی پوچھنے لگی۔۔۔ وہ اور اُس کا بھائی دونوں ہی عمر میں عرا سے بڑے تھے مگر عرا کے فادر نے عرا کو کالونی کے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے یا دوستی کرنے کی پرمیشن نہیں دی تھی اِس لیے عرا کی اُن دونوں بھائیوں کے ساتھ دوستی تھی کیوکہ عرا کے فادر اور ان دونوں بھائیوں کے فادر بھی اچھے دوست تھے

“ہاں آج کل ڈیڈ آئے ہوئے ہیں میں نے اُن سے ضد کر کے یہ سائیکل لی میں تمہیں کل یہ سائیکل ہی دکھانے کے لیے آیا تھا مگر تم گھر پر نہیں تھی”

وہ عرا کو دیکھتا ہوا بتانے لگا۔۔۔ عرا کے چہرے کے نقوش انگریزوں جیسے تھے وہ اپنی ماں سے بےتحاشہ مشابہت رکھتی تھی عرا کی ماں اُس کی پیدائش کے دو سال بعد عرا کے فادر کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اُس کی زندگی سے جاچکی تھی

“کل ڈیڈ مجھے پھپھو کے گھر لےکر گئے تھے، کیا میں اِس سائیکل پر تمہارے ساتھ بیٹھ سکتی ہوں”

عرا اس کو دیکھتی ہوئی اشتیاق سے پوچھنے لگی کیونکہ سائیکلنگ کرنا اُس کو نہیں آتی تھی مگر اس کو سائیکلنگ کرنے کا بےحد شوق تھا

“آف کورس میں نے یہ سائیکل ابھی تک آن کو چلانے نہیں دی کیوکہ میں چاہتا تھا کہ اِس سائیکل پر سب سے پہلے میں اور تم بیٹھیں”

وہ عرا کو دیکھ کر خوش ہوتا بولا عرا اُس کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ گئی مگر تھوڑی دور جاکر سائیکل ڈس بیلنس ہوئی جس کے نتیجے میں وہ دونوں ہی نیچے گر گئے

“عرا تمہیں زور سے تو نہیں لگی”

وہ اپنی کہنی پر لگی چوٹ بھول کر عرا کے پاس آتا اُس سے پوچھنے لگا جو زمین پر بیٹھی ہوئی رونا اسٹارٹ کرچکی تھی

“جب تمہیں خود سائیکلنگ کرنی نہیں آتی تو پھر مجھے نہیں بٹھانا تھا اپنے ساتھ۔۔۔ کتنی زور سے میرے چوٹ لگی ہے تمہاری جگہ یہاں آن ہوتا تو وہ مجھے کبھی بھی تکلیف نہیں پہنچاتا”

عرا اپنا زخمی گھٹنا دیکھ کر روتی ہوئی اٹھنے لگی مگر عرا سے اٹھا نہیں گیا۔۔۔

اُس نے آگے بڑھ کر عرا کو سہارا دیتے ہوئے اٹھنے میں مدد کی

“سوری مگر میں نے جان بوجھ کر تمہیں نہیں گرایا آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں”

اپنی نئی سائیکل کو بھول کر وہ عرا کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا

“کوئی ضرورت نہیں ہے میں خود چلی جاؤ گی”

عرا ناراضگی سے اُس کا ہاتھ جھٹک کر بولی کیونکہ وہ اُس کو زخمی کرچکا تھا۔۔۔ عرا کو اکیلا گھر جاتا دیکھ کر اُسے افسوس ہونے لگا

****

چاند کی روشنی سے پورا قبرستان جگمگا رہا تھا سیاہ آسمان پر پر ہر سو ستارے بکھرے تھے اونچے بوڑھے درخت خاموشی سے شاخوں کا بوجھ لیے سو رہے تھے ایک دم ہوا کا تیز جھونکا چلا جس کی سنسناہٹ سے اندھیرے میں ڈوبا قبرستان ہڑبڑا سا گیا مگر چند لمحوں کے بعد وہی پُرسکون خاموشی چھا جاگئی ایسے میں وہ متوازن چال چلتا اُس گمنام سی قبر کی طرف بڑھنے لگا جسے برسوں پہلے نہ صرف اُس نے اپنے ہاتھوں سے اس قبر میں اتارا تھا بلکہ اپنے انہی ہاتھوں سے وہ اُس کی جان بھی لے چکا تھا وہ اُس گمنام قبر کے پاس پہنچ کر خاموش کھڑا اُس قبر کو دیکھنے لگا سولہ سال گزرا وہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اُس کی انکھوں کے سامنے گھومنے لگا ایک ایک منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے تازہ ہوتا چلا گیا

“چھوڑ دو مجھے۔۔۔ پلیز کوئی میری ہیلپ کرے۔۔ مجھے بچالو خدارا۔۔۔ مجھے اِس سے بچالو”

ماہی کا چیخنا چلا چلا کر مدد کی فریاد کرنا وہ اپنے آپ کو اس مضبوط شکنجے سے چاہ کر بھی بچا نہیں پارہی تھی جبکہ وہ اور اُس کا بھائی بےبسی سے روتے ہوئے ماہی کے ساتھ ظلم ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے وہ دونوں ہی ماہی کو نہیں بچا سکتے تھے کیونکہ کمرے کا دروازہ لاکڈ تھا جبکہ بند شیشے کی کھڑکیوں سے وہ کمرے کے اندر سارا منظر باآسانی دیکھ کر بری طرح کھڑکی کا شیشا بجاکر سسک رہے تھے

“ماہی کو بچالو ورنہ وہ مر جائے گی، پلیز اُسے بچالو وہ آج سچ میں مر جائے گی۔۔۔ ڈیڈ کا پستول لے آؤ اسے بچالو پلیز”

روتے ہوئے اپنے بھائی کی آواز سن کر جیسے اُس وقت اُس کے ذہن نے کام کیا تھا تبھی وہ بھاگ کر دوسرے کمرے میں گیا اور دوسرے ہی منٹ میں وہ پستول لے کر واپس اُس کمرے کی کھڑکی کے پاس آیا

“تمہیں پسٹل چلانا آتا ہے سوچو مت فائر کرو، ما۔۔۔۔ مار ڈالو اُس کو”

اپنے بھائی کی روتی کانپتی آواز اُس کے کانوں میں گونجی وہ اپنے بھائی کی بات پر عمل کرتا اُس وجود کا نشانہ لے چکا تھا پہلی بار اُس کے ہاتھ سے پسٹل چلی تھی جبکہ مہینہ بھر پہلے جب اُس کے ڈیڈ اُسے اپنے ساتھ شکار پر لےکر گئے تھے تب وہ ایک بھیڑیے کی جان لیتا ہوا کانپ گیا تھا تب اُس وقت اُس سے پسٹل نہیں چل سکی تھی لیکن آج ماہی کو بچانے کے لیے وہ ایک انسانی جان لے چکا تھا

گمنام قبر کے آگے کھڑا ہوکر وہ اپنے ماضی کو سوچ رہا تھا چہرے پر اُگی ہوئی شیو پر ہاتھ پھیرتا وہ اپنے ہاتھ کو سینے تک لایا تو اس کے دل میں عجیب ٹیس اٹھتی محسوس ہوئی تب اچانک اسے اپنے شانے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا وہ ہاتھ یخ بستہ ٹھنڈا تھا جس میں خون کی گرمائش اور روانی موجود نہ تھی جیسے کسی بےجان مردے نے اُس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ہو

“اتنے سالوں بعد یہاں کیسے آنا ہوا تمہارا کیا آج بھی تم میری جان لینے آئے ہو دیکھو میں اِس وقت اپنی قبر میں نہیں بلکہ یہاں موجود ہوں تمہارے پیچھے”

کانوں میں آشنا سی آواز گونجی وہ ڈر کے مارے یکدم پیچھے مڑا اپنے سامنے کھڑی اُس بےجان لاش کو زندہ دیکھ کر دلخراش چیخ اُس کے حلق سے برآمد ہوئی

“ماہی ہیلپ می۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔ ماہی میری مدد کرو مجھے بچالو” اندھیرے میں قبرستان میں اندھا دھند بھاگتا ہوا خوف سے وہ ماہی کو پکارنے لگا جب بھاگتا بھاگتا وہ بری طرح ہانپ گیا تو رکوع کی حالت میں جھکتا ہوا گہرے سانس لینے لگا تبھی ہلکی سی سرسراہٹ پر وہ چوکنا ہوا، جھکا ہوا سر اٹھا کر اُس نے اپنے سامنے دیکھا تو خوف کی سنسناتی ہوئی لہر ایک مرتبہ پھر اُس کے پورے وجود میں دوڑ گئی ایک مرتبہ دوبارہ وہ مردہ وجود اُس کے سامنے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں وہی پستول موجود تھی جس سے برسوں پہلے وہ اس کو ابدی نیند سُلا چکا تھا۔۔۔

گولی چلنے کی آواز پر وہ بری طرح ہڑبڑاتا ہوا وہ ایک دم آرام دہ بیڈ سے اٹھ کر بیٹھا اور گہرے سانس لیتا ہوا خود کو یقین دلانے کوشش کرنے لگا کہ وہ زندہ ہے۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے اُس نے برا خواب دیکھا تھا پھر بھی اُس کا جسم مکمل طور پر تھکن سے چور تھا جیسے سولہ سال کی مسافت طے کرکے وہ ابھی یہاں پہنچا ہو بادل گرجنے اور بجلی کڑکنے کی آواز پر وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا بچپن سے آتے نائٹ میئرز آج تک اُس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے

“ماہی پلیز یہاں آجاؤ۔۔۔ پلیز ہیلپ می۔۔۔ ڈیڈ کو بتادو وہ سب کچھ میں نے جان بوجھ کر نہیںں کیا تھا”

اپنے نڈھال وجود کو دوبارہ نرم بستر پر ڈالتا ہوا وہ تکیے پر سر رکھے لیٹا بڑبڑانے لگا اس وقت وہ 29 سالہ جوان مرد نہیں بلکہ 13 سالہ کم سِن معصوم بچہ لگ رہا تھا

وہ اپنی زندگی سے ہر طرح مطمئن ایک اچھی خوشگوار زندگی گزار رہا تھا مگر جب جب یہ بھیانک خواب اس کو رات میں آکر ڈراتا تو وہ خود کو بدقسمت انسان تصور کرتا یہ کیفیت اس خواب کے بعد تھوڑی دیر تک اُس پر چھائی رہتی اور اگلی صبح وہ پھر ایک نارمل روٹین لائف گزارنے لگ جاتا

***

(Brookly heights)

میں موجود کئی منزلہ عمارت جو سر اٹھائے کھڑی تھی یہ نیویارک کا پوش علاقہ جانا چاہتا تھا۔ چمکیلی سی صبح جو بروکلن ہائٹس کے اِس پارک میں چھلک آئی تھی پچھلی رات کافی تیز بارش برسی تھی لیکن اِس وقت آسمان بالکل صاف ہوچکا تھا بس ہوا میں بارش کی خوشبو محسوس ہورہی تھی جاگنگ ٹریک بالکل خشک ہوچکا تھا لیکن گھاس میں کہیں کہیں نمی ابھی بھی موجود تھی لائٹ گرے کلر کا ٹریک سوٹ پہنے جاگنگ کرنے کی وجہ سے اس کا سانس پھولا ہوا تھا ہاتھ اور پاؤں مسلسل حرکت میں تھے خوشگوار موسم کے باوجود اُس کا جسم پسینے سے شرابور ہوچکا تھا پارک کے پانچ راؤنڈ کمپلیٹ کرنے کے بعد وہ ایک جگہ رک کر گہرے سانس لیتا ہوا اپنا تنفس بحال کرنے لگا جس کے بعد اس نے پاکٹ سے چھوٹا سا رومال نما ٹاول نکال کر گردن اور چہرے پر آیا ہوا پسینہ صاف کیا اور روش سے نیچے اتر کر بینچ پر بیٹھتا ہوا اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر بینچ کی پشت پر سر ٹیک کر سستانے لگا۔۔۔ سفیدے کے درختوں کے سائے میں یوں ریلیکس انداز میں بیٹھا ہوا اسے اچھا محسوس ہورہا تھا تبھی بینچ پر اُس کے برابر میں ایلکس آکر بیٹھی وہ بھی لائٹ گرین کلر کے ٹریک سوٹ میں موجود تھی اور ابھی جاگنگ سے فارغ ہوئی تھی مخالف سمت پر جاگنگ کرتے ان دونوں کا دو مرتبہ آپس میں ٹکراؤ ہوا تھا مگر آج اُس نے ایلکس کی طرف روز کی طرح دیکھ کر اسمائل نہیں دی تھی

“تم جاننا چاہو گے تمہارے متعلق میرا پوائنٹ آف اٹریکشن کیا ہے”

اُس مشرقی مرد کے نظر انداز کرنے کے باوجود ایلکس اُس کی طرف دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی کیونکہ وہ مشرقی مرد اپنے آپ میں کافی زیادہ کشش رکھتا تھا

“میرے متعلق تمہارا جو بھی نظریہ ہو مجھے وہ جاننے میں انٹرسٹ نہیں ہے”

اُس نے اپنی دلچسپی ظاہر نہ کرتے ہوئے آج ایلکس کی طرف نہیں دیکھا تھا شاید وہ کل والے ایلکس کے بی ہیویئر کو لےکر ایلکس سے ابھی تک خفا تھا

“تمہیں بالکل اِسی طرح انٹرسٹ نہیں ہے جیسے میں پاکستان کے گُڈ فیس کے متعلق کچھ بھی جاننے میں انٹرسٹ نہیں رکھتی”

ایلکس دو بدو جواب دیتی ہوئی اس سے بولی جس پر اب کی بار اُس نے ایلکس کی جانب اپنا رةخ کیا

“پاکستان کے متعلق کچھ بھی غلط مت بولنا”

وہ سنجیدگی سے ایلکس کو دیکھ کر تنبیہ کرنے والے انداز میں بولا

“سب ہی بولتے ہیں ایک میرے نہ بولنے سے کیا ہوجائے گا”

ایلکس شانے اچکا کر بولی جیسے اس نے کل کا حساب برابر کیا تھا۔۔۔ ایلکس کی بات سن کر وہ ضبط کرتا ہوا وہ بناء کچھ بولے خاموش نظر اس پر ڈال کر بینچ سے اٹھا اور وہاں سے جانے لگا تبھی اس کو خفا دیکھ کر ایلکس خود بھی بینچ سے اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی

“اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے کل تم نے میرے کنٹری کے متعلق سیاست کے بارے میں مذاق اڑایا جبکہ میں نے ابھی تمہارے کنٹری کے متعلق کچھ بولا بھی نہیں”

ایلکس اس کے ساتھ گیلی گھاس پر چلتی ہوئی اُس کے چہرے پر ناراضگی بھرے تاثرات دیکھ کر بولی

“تم کچھ بول کر تو دیکھو”

وہ رک کر دھمکی دیتا ہوا انداز اپنائے ایلکس سے بولا ایلکس اس کے روڈ ایٹیٹیوڈ پر مسکرا دی اس کی جگہ اگر مونٹی یہاں ہوتا تو وہ اُس کو تپانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی

“میرے کچھ بولنے پر تم مزید غصہ ہوجاؤ گے اور میں نہیں چاہتی کہ تم مجھے غصے میں مزید اٹریکٹ کرو”

ایلکس اُس کے قریب آتی ہوئی اُس کا کالر کھینچ کر اپنا چہرہ اُس کے قریب کرتی ایک ادا سے بولی تو وہ ایلکس کی خوبصورت نقوش پر نظر ڈال کر اس کا ہاتھ اپنے کالر سے ہٹاتا ہوا اسے سائیڈ میں کرتا وہاں سے جانے لگا ایک مرتبہ دوبارہ ایلکس اُس کے ساتھ چل دی

“کل ایرک مونٹی اور میں کلرک اسٹریٹ (street clark) جارہے ہیں تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو گے”

ایلکس اس کے ساتھ چلتی ہوئی دوستانہ لہجہ اپنائے اُس سے پوچھنے لگی

“فلحال میرا شاپنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں”

وہ صاف انکار کرتا ہوا بولا تو ایلکس ایک دم اُس کے سامنے آئی جس کی وجہ سے اُس کے آگے بڑھتے قدم رکے ٹراؤزر کی دونوں پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ اپنے سامنے کھڑی ایلکس کو دیکھنے لگا

“تو پھر نیکسٹ ویک ڈنر کا پروگرام بنالو میرے اپارٹمنٹ پر ویسے بھی مونا اور جینی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ اُن کے پاس ویک اینڈ گزارے گیں اور میں بالکل تنہا ہوگی”

ایلکس اُس کے نزدیک آکر اسے اپنی روم پارٹنرز کے متعلق بتانے لگی جس پر وہ ایلکس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اُس کے قریب آتا ہوا پوچھنے لگا

“صرف ڈنر یا پھر کچھ اور۔۔۔

وہ گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتا ہوا معنٰی خیز انداز اور لہجہ اختیار کرتا ایلکس سے پوچھنے لگا جس پر ایلکس ایک ادا سے مسکرائی اور اپنے اپر کی زپ نیچے کرتی ہوئی بولی

“جس میں تمہاری خوشی ہو میں تو ہر طریقے سے کمفرٹیبل ہوں”

ایلکس مسکراتی ہوئی اس مشرقی مرد کے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتی ہوئی اُس سے بولی اس مرد کی نظریں اب ایلکس کے حسین چہرے پر نہیں بلکہ چہرے سے تھوڑا نیچے جاکر اِس کے حسین سراپے پر آ ٹھہری تھی

“سوئیٹ اینڈ سورس ایک ساتھ کبھی کبھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں بٹ آئی لائک اٹ اگر تم ڈنر کے بعد کمفرٹیبل نہ بھی ہوئی تو میں کردوں گا”

اپنا ہاتھ پاکٹ سے نکال کر وہ ایلکس کے اپر کی زپ بند کرتا ہوا اُسے آنکھ مار کر آگے بڑھ گیا

****

“میرا کیا حال پوچھتے ہو یار وہی آفس اور آفس سے گھر ایک جیسا روٹین چل رہا ہے۔۔۔ تم سناؤ کیسے ہو دل نہیں بھرا تمہارا ابھی تک وہاں رہ کر پاکستان کب آرہے ہو”

وہ موبائل پر بات کرتا ہوا شاپنگ مال کے اندر داخل ہوا جہاں آج لوگوں کا ہجوم موجود تھا

“یار پاکستان آکر کیا کرنا ہے پاکستان آنے کی کوئی معقول وجہ بھی تو موجود ہونی چاہیے فی الحال تو میں پاکستان نہیں آرہا”

ریان ایلکس سے مل کر تھوڑی دیر پہلے اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا تب پاکستان سے اُس کے بھائی کی کال آئی تھی ریان واپس پاکستان آنے کی بات پر اپنے بھائی سے بولا جس پر اس کے بھائی کو ریان کی سوچ پر افسوس ہوا

“کسی دوسرے غیر ملک میں کب تک اپنا بہت ضائع کرتے رہو گے وہ بھی فالتو میں اور پاکستان آنے کی معقول وجہ کیوں موجود نہیں ہے ریان یہاں ماں ہے وہ تمہیں مس کرتی ہیں”

وہ لیڈیز شاپ میں داخل ہونے کے ساتھ موبائل پر اپنے بھائی سے بولا جو اپنی اسٹڈیز مکمل ہونے کے بعد چند سال پہلے نیویارک میں جابسا تھا

“میں یہاں فالتو میں اپنا وقت ضائع نہیں کررہا کوئی ایک وجہ نہیں اِس غیر ملک میں بسنے کی، ڈھیر ساری حسین وجوہات موجود ہیں ہفتے بھر پہلے ہی تو ایک وجہ کا ذکر کیا تھا تم سے ایلکس یاد آیا”

اپنی بات بول کر ریان ایلکس کا تپا ہوا چہرا یاد کرکے خود ہی ہنسا جو آج رات اُس سے بہت ساری توقعات لگائے بیٹھی تھی اور ریان اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر کر آرہا تھا جبکہ دوسری طرف اس کے بھائی کو اُس کی لاوبالی طبعیت پر شدید مایوسی ہوئی بچپن سے ہی عاشو اُس سے کس قدر اٹیچ تھی یہ جانتے ہوئے بھی وہ پردیس میں نہ جانے کن چکروں میں پڑا ہوا تھا

“میں ماں کی بات کررہا ہوں ریان وہ تمہارے واپس آنے کا ویٹ کررہی ہیں اب تمہیں مس کرنے لگی ہیں اُن کا تو کچھ احساس کرلو”

اس نے جان بوجھ کر عاشو کا ذکر نہیں کیا کہیں ریان چڑ ہی نہ جاتا وہ ریان سے بات کرتے ہوئے لیڈیز کے ہلکے رنگ کے نفیس سے ڈریس بھی دیکھ رہا تھا جن کے لیے وہ اس بوتیک میں آیا تھا

“ماں کا احساس کرنے کے لیے تم ہو تو اُن کے پاس، اب ہر بار کی طرح مجھے یہ مت بولنا کہ سب کا احساس میں ہی کرو۔۔۔ تم اپنا احساس کرنے والی ڈھونڈ لو ناں یار اپنے لیے۔۔۔ کب سے ماں تمہاری شادی کے پیچھے پڑی ہیں ایسا کرو تم شادی کا پروگرام بنالو پھر میں پاکستان آجاتا ہوں”

ریان اس کو اپنے پاکستان آنے کی معقول وجہ بتاتا ہوا بولا

“شادی کے لیے ایک عدد لڑکی کی ضرورت ہوتی ہے ریان اور شادی کرنے لائق کوئی لڑکی فل الحال میری لائف میں تو موجود نہیں”

چند خوبصورت ڈریسز میں سے اُس نے ایک خوبصورت ڈریس ہینگر سمیت نکالا اور تنقیدی نظر ڈالتا ہوا واپس اس ڈریس کو ہینگ کرنے لگا تبھی کسی نسوانی ہاتھ نے وہ ڈریس اُس کے ہاتھ سے کھینچا جس پر وہ چونکتا ہوا اُس لڑکی کو دیکھنے لگا اور بس خاموش کھڑا کچھ پل کے لیے اُس لڑکی کو دیکھتا ہی گیا

وہ لڑکی “وہی” تھی جو پورے دو سال بعد آج پھر اُس کو نظر آئی تھی وہ اپنی کسی سہیلی کو ڈریس دکھانے کے لیے بلارہی تھی

“کیسی ضد لگا کر بیٹھے ہو وہ لڑکی تمہیں دوبارہ کہاں ملے گی بھول جاؤ اُس لڑکی کو دنیا میں اور بھی حسین چہرے ہیں یار”

اس کو ریان کا بولا ہوا ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا وہ بس موبائل کان سے لگائے اُس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کی دوست اُس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوسری سائیڈ پر لے جاتی ہوئی اسے دوسرا ڈریس سلیکٹ کرنے کا مشورہ دے رہی تھی

“ہیلو کیا ہوا میری آواز آرہی ہے تمہیں۔۔۔ ہیلو”

اب کی مرتبہ ریان کے بولنے پر وہ غائب دماغی میں اُس سے بولا

“ریان وہ مجھے مل گئی”

اُس کی نظریں ابھی بھی اُسی لڑکی پر جمی ہوئی تھی وہ موبائل پر ریان سے بےخودی کے عالم میں اتنا ہی کہہ سکا

“کون۔۔۔ کون مل گئی تمہیں”

ریان اُس کی بات پر چونکتا ہوا اپنے بھائی سے پوچھنے لگا تھوڑی دیر پہلے تک اُس کا بھائی اُس سے نارمل طریقے سے بات کررہا تھا اب اچانک نہ جانے اُسے کیا ہوا تھا

“لڑکی۔۔۔ لڑکی مل گئی مجھے”

وہ اُس لڑکی کو دیکھتا ہوا ریان سے دوبارہ بولا اُس لڑکی کو یوں اچانک دیکھنے کے بعد نہ جانے کیوں اُس کی ہارٹ بیٹ نارمل رفتار کی بانسبت تیز رفتار میں چل رہی تھی۔ اُس کا مکمل دھیان اُسی لڑکی کی طرف تھا جس کو کوئی ڈریس پسند نہیں آرہا تھا وہ ہر ڈریس کو دیکھ کر بڑی مایوسی سے نفی میں سرہلارہی تھی جبکہ ریان اُس کی بات سن کر ابھی تک کنفیوز تھا فریج سے اپنے لیے انرجی ڈرنک کا کین نکالتا ہوا وہ صوفے پر آبیٹھا اور اس سے پوچھنے لگا

“کون سی لڑکی مل گئی میرے بھائی تمہیں”

سات سمندر پار ریان ہاتھ میں موجود انرجی ڈرنگ سائیڈ پر رکھتا ہوا کچھ پریشان سا اس سے پوچھنے لگا جبکہ دوسری جانب اُس کا بھائی اُس لڑکی کا چاند چہرا دیکھتا ہوا دوبارہ اس سے بولا

“وہی لڑکی جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں تمہیں میں نے بتایا تھا ریان تم آخر کیسے بھول سکتے ہو اتنی امپورٹنڈ بات”

اب کی بار وہ مکمل حواس میں آتا ہوا ریان سے بولا تو حواس کھونے کی باری اب کی مرتبہ ریان کی تھی

“ویٹ۔۔۔ ویٹ۔۔۔ ویٹ۔۔۔ تمہارے کہنے کا مطلب ہے تمہیں وہی لڑکی آج دوبارہ دکھی ہے جسے تم نے دو سال پہلے ٹریفک میں پھنسے ہوئے دیکھا تھا”

ریان کچھ یاد کرتا ہوا جوشی سے پوچھنے لگا

“ہاں وہی لڑکی ریان۔۔۔ آج یہاں ماں کے لیے ڈریس لینے آیا تھا وہ بھی اِسی بوتیک میں موجود ہے”

وہ اُس لڑکی کے چہرے پر نظریں ٹکائے ریان سے بولا۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے اُس نے اِس چہرے کو کئی مرتبہ یاد کیا تھا وہ چاہ کر بھی اُس لڑکی کو نہیں بھلا پایا تھا

“تو بے وقوف انسان تم مجھ سے کیوں باتیں کررہے ہو جاکر اُس لڑکی سے بات کرو اُس سے اس کا کانٹیکٹ نمبر لو کہیں وہ لڑکی دوبارہ نہ غائب ہو جائے”

ریان کو اپنے بھائی کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہا تبھی وہ اس کو مشورہ دیتا ہوا بولا

“کیا بولوں اُس کے پاس جاکر۔۔۔ ہیلو تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو کیا تم مجھ سے شادی کرو گی پلیز مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر یا پھر ایڈریس دے دو تاکہ میں تمہارے گھر اپنا رشتہ لے کر آسکو آر یو میڈ۔۔۔ ریان وہ لڑکی مجھے گالیوں سے نواز کر یہاں پر میری اچھی خاصی عزت افزائی کرسکتی ہے اِس پبلک پلیس میں”

وہ اب کی بار تپے ہوئے انداز میں ریان کو بولا اُس کا بھائی اُس کی نیچر اچھی طرح جانتا تھا وہ کس قدر ریزرو نیچر کا انسان تھا تب بھی ریان اُس کو ایسے مشورے دے رہا تھا

“بیٹا مجھے نہیں لگ رہا تمہاری شادی اِس لڑکی سے تو کیا کسی بھی لڑکی سے ہوپائے گی آج مجھے سچ میں افسوس ہورہا ہے کہ تم جیسا گدھا سڑیل نیچر کا انسان میرا بھائی ہے”

ریان اس پر افسوس کرتا ہوا بولا جبکہ دوسری طرف اس کی نظریں اب بھی اُسی لڑکی پر ٹکی ہوئی تھی جو اب بوتیک سے باہر نکل رہی تھی

“ریان وہ یہاں سے جارہی ہے یار”

اُس کو جاتا ہوا دیکھ کر جیسے اُس کی دھڑکنیں بند ہونے لگیں

“تو پیچھا کرو اُس کا بیوقوف آدمی بات نہیں کرسکتے تو کم سے کم آج اُس کا ایڈریس ہی نوٹ کرلو۔۔۔ اگر اسی سے شادی کرنے کے لیے اِس قدر بےقرار ہورہے ہو”

ریان تپے ہوئے انداز میں اپنے بھائی کو مشورہ دیتا ہوا بولا

“ہاں یہ کرلیتا ہوں اچھا تم کال رکھو”

وہ بولتا ہوا کال کاٹ کر موبائل اپنی پاکٹ میں رکھ کر تیزی سے بوتیک سے باہر نکلا مگر تب تک وہ اپنی سہیلی کے ساتھ نہ جانے کہاں غائب ہوچکی تھی وہ پریشان سا ہوکر پورے مال میں چاروں طرف اپنی نظریں دوڑانے لگا تب ایک جگہ وہ اسے اپنی سہیلی کے ساتھ لفٹ کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی اُس سے پہلے وہ تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھتا اپنی پشت سے اُس کو آواز سنائی دی

“ہیلو تم یہاں کیسے”

شاہینہ کو وہاں موجود پاکر نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے لفٹ کی جانب بڑھتے قدموں کو بریک لگا

“او شاہینہ بھابھی آپ یہاں کیوں آگئی آئی مین کیسے آگئی”

اخلاقیات کا تقاضا مشکل سے نبھاتا ہوا وہ اپنے اچھے دوست کی وائف سے پوچھنے لگا مگر اُس کا پورا دھیان اب بھی لفٹ کی طرف تھا وہ دونوں لڑکیاں لفٹ کے اندر جاچکی تھیں اور لفٹ بند ہوچکی تھی بےیقینی کی سی کیفیت میں وہ لفٹ کو دیکھنے لگا جو نیچے جارہی تھی

“تم شاید جلدی میں لگ رہے ہو یا پھر کسی کا ویٹ کررہے ہو ہم بعد میں بات کرتے ہیں”

شاہینہ اپنی طرف اس کو متوجہ نہ پاکر بولی

“میں واپس آکر ملتا ہوں آپ سے”

شاہینہ کو بولتا ہوا وہ جلدی سے لفٹ کے پاس پہنچا اور نیچے گرا ہوا آف وائٹ کلر کا کارڈ اٹھالیا جو اُسی لڑکی کے ہینڈ بیگ سے گرتے ہوئے اُس نے دیکھ لیا تھا۔۔۔ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ وہ افسردگی سے اس کارڈ کو دیکھنے لگا جو کسی شادی کا انویٹیشن کارڈ معلوم ہوتا تھا جس پر شہرینہ نام درج تھا۔۔۔ زیر لب وہ نام بڑبڑا کر مال سے باہر نکل گیا

****