55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

ماں کی موت کی خبر سن کے وہ چلانے لگی اور بازو میں لگی ڈرپ کی سوئی اتار کے پھینک دی۔۔۔
وہ وحشیانہ اپنے بال نوچنے لگی۔۔۔
سب بھائی اٹھ کے اسکی طرف آئے۔۔معاز نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ چیخنے لگی۔۔۔
نن۔۔نہیں۔۔ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔۔مار ۔۔مار دےگا تمہیں۔۔۔ دور ہو جاٶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے بازووں میں چہرہ چھپائے چلائی تو سب اپنی جگہ کٹ کے رہ گئے۔۔۔۔
بیٹا میں آپ کا بھائی ہوں۔۔ادھر دیکھیں۔۔۔ وہ خود پہ ضبط کرتا اسکی طرف بڑھا تو وہ حلق کے بل درد اور خوف سے بلبلا اٹھی۔۔۔
نہیں ہے بھائی کوئی۔۔۔ صرف وہ ہی ہے۔۔۔ کوئی نہیں۔۔ چلے جاو یہاں سے۔۔۔ مم۔۔۔میں سب کو مار دونگی۔۔۔ سبکو۔۔۔۔
میں نے مم۔۔ماما کو مار دیا۔۔۔ وہ سسکی بابا کو۔۔۔ زاوی مر گیا۔۔۔پری بھی۔۔۔۔ سب مر گئے۔۔۔ میں نے مار دیا سبکو۔۔۔ میں نے مار دیا۔۔۔۔۔
وہ وحشیانہ اپنا چہرہ اور بال نوچنے لگی جبکہ وہ سب یوں کھڑے تھے گویا مٹی کے بت ہوں۔۔۔
اسکی حالت دیکھ کے انہیں صحیح معنوں میں اپنے نقصانات کا ادراک ہوا جسکے بعد وہ جہاں کے تہاں کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک فیصلہ لینا انکیلیے ناگزیر ہو گیا وہ تھا پری کو رب کے حوالے کر کے اسلام آباد شفٹنگ کا تھا۔۔۔۔
دوسال لگے اسے نارمل ہونے میں وہ کسی لڑکے کو دیکھتی بھی نا حتیٰ کہ بھائی سے چھپ کے رہتی۔۔اسکی یہ حالت انہیں پل پل جینے اور مرنے پہ مجبور کر دیتی۔۔۔
جب جب وہ اپنے زخم کو دیکھتی تو ہسٹریائی ہو جاتی اور کندھا نوچنے کی کوشش میں زخم کو ناسور بنا دیا لیکن کسی ڈاکٹر کو نزدیک بھی آنے نہ دیتی۔۔۔۔
یونہی وقت گزرتا گیا مرینہ اور ژالے نے اسے کسی حد تک سنبھال لیا اور پھر ایک لمبے صبر آزما عرصے کے بعد وہ بھائیوں کو پہچاننے لگی انکے پاس جانے لگی وجہ لکی کا منظر سے غائب ہونا تھا اسکے بارے میں کوئی کچھ نہ جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
سنبھلنے کے باوجود وہ کسی مرد کو قریب نا آنے دیتی اسکے دل و دماغ میں یہ خوف بیٹھ چکا تھا کہ اسکی زندگی میں اسکے سوا کوئی مرد نہیں آ سکتا جو بھی اسکی طرف آتا ہے مارا جاتا ہے۔۔۔
وہ گھر سے نکلنا کم کر چکی تھی کالج بھی ہدیٰ کے ساتھ جاتی تھی اسے اس فیز سے نکالنے کیلیے جب معاز سے ٹرپ کی بات کی تو اسے لگا اب ہی ٹھیک موقع ہے سو سب نے اصرار کر کے اسے بھیج دیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
فائل اسکے سامنے کھلی پڑی تھی جبکہ چہرہ ضبط کی گہری نشاندہی کر رہا تھا۔۔۔ آنکھوں سے گویا لہو ٹپکنے لگا ہو۔۔۔۔۔۔۔
یہ انفارمیشن کدھر سے لی؟؟ اسنے سامنے کھڑے خان سے سوال کیا۔۔
سکندر علی کی فیملی میں شروع سے ایک خاتون رہتی ہیں انابی۔۔ جو سب کی دیکھ بھال کیلیے انکے ساتھ رہتی ہیں۔۔۔ ان سے پتہ کیا سب۔۔۔
اسنے سر جھکائے جواب دیا اور پھر ایک چور نظر اسکے چہرے پہ ڈالی جس پہ ناقابل فہم تاثرات تھے۔۔۔۔
وہ اسی طرح کرسی سے ٹیک لگائے غیرمرئی نقطے کو گھور رہا تھا ۔۔۔ اسکا سرخ پڑتا چہرہ اسکے ضبط اور شدید غیض کی علامت تھے اور ایسی سچویشن میں اسکے قریب کوئی بھی نہ جاتا زارا شاہ بھی نہیں۔۔۔۔
تبھی کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلا اور اسکا رونے سے سوجا ہوا چہرہ نمودار ہوا۔۔۔۔ وہ تب بھی متوجہ نہ تھا۔۔۔۔
مم۔۔مجھے۔۔۔گھر چھ۔۔چھوڑ کے آٶ۔۔۔۔
اسکی بپھرتی آواز نے گویا گہرے سکوت کو توڑا اسنے پرسکون انداز میں گردن موڑ کے اسے دیکھا تو اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کے وہ ڈر گئی جبکہ خان بھی دل میں اسکی عافیت کی دعا کرنے لگا جسنے شیر کو آواز دی لیکن پھر عجب لمحہ آیا جسنے خان اور علیزے کے ساتھ ساتھ گویا وہاں موجود ہر شے کو ساکت کر دیا ہو۔۔۔
وہ دھیرے سے چلتا اسکی طرف بڑھا جبکہ وہ قدم بہ قدم پیچھے کو ہٹی لیکن پیچھے موجود دیوار راہ میں حائل ہوئی۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے خوف اور آنسو ٹپکنے لگے اسے لگا وہ پھر سے کسی لکی کے ہاتھ لگ گئی ہے۔۔۔۔
گا
اسکے روئے روئے سرخ چہرے۔۔۔ سبز نین کٹوروں۔۔اٹھی ہوئی گھنی پلکوں۔۔ اسکے بکھرے حجاب اور بالوں کو یک ٹک دیکھتا وہ اسکی طرف بڑھتا گیا۔۔۔وہ دھیرے سے اسکے پاس آکے رکا اور ایک ہاتھ اسکے دائیں طرف رکھا وہ خوف سے آنکھیں میچ گئیں اور سسکیاں بھرنے لگی۔۔۔ وہ ہلکا سا اسکے کان میں جھکا اور بولا۔۔۔
مجھ سے شادی کریں گی؟؟؟
خان دم بخود رہ گیا اسنے ہمیشہ دعا کی تھی کہ جہان کے چہرے پہ کوئی تاثر ابھرے اور آج اس ابھرنے والے تاثر نے اسے ٹھٹکا دیا۔۔۔
وہ اسکے چہرے پہ غصے، نفرت، اکتاہٹ، طیش جیسے تاثرات کی توقع کر سکتا تھا لیکن اس تاثر نے اسکو اپنی جگہ جما دیا۔۔۔۔
جبکہ وہ گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ اسنے آنکھیں کھولیں اور اسکی طرف دیکھنے لگی وہ بالکل ساکت تھی جب وہ پھر سے جھکا اور دائیں ہاتھ کو ہٹا کے اسکی پشت سے اسکا رخسار سہلایا اور سرگوشی کی۔۔۔۔
Aleezy ! will you blessed me by accept my proposal???
اسکی سرگوشی اور سلگتے لمس نےاسکے اندر بلا کی مزاحمت بیدار کی اسنے کانپتے نازک ہاتھوں سے اسے پوری طاقت لگا کے پیچھے کو دھکا دیا اور بھاگتی باہر نکلی۔۔۔۔۔
وہ جو اس سے اس بات کی توقع نہ رکھتا تھا غیر ارادی طور پہ تھوڑا پیچھے ہوا اور جب اسنے اسکے تاثرات کو جانچا تو فورا اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔ اسکی توقع کے عین مطابق وہ ریسٹ ہاوس سے باہر جا رہی تھی۔۔۔ یہ تو شکر تھا یہ ہاوس اسکا زاتی تھا پبلکلی نہیں وگرنہ علیزے کیلیے مشکلات بن سکتی تھی۔۔۔۔
اسنے اسے راستے میں ہی جھکڑ لیا اور اسکا ہاتھ پکڑتااندر کو جانے لگا جب وہ چیخنتی رہی۔۔۔
چھوڑیں۔۔مجھے، برے ہیں۔۔آپ۔۔غلط باتیں کرتیں۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔ بھائی۔۔بھائی پاس جانا۔۔۔سب برے ہوتے۔۔۔ سب برے۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولتی گئی لیکن وہ کان بند کیے اسے پکڑے اندر کو گیا اور اسے روم میں لے جا کے اسکا ہاتھ چھوڑا اور سرعت سے مڑتے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ بند کرتے دیکھ کے اسکی جان حلق میں آ گئی۔۔۔ وہ مڑ کہ اسکی طرف بڑھا تو وہ ہوش کھوتی نیچے کو آن گری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . . . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔