Rate this Novel
Episode 30
وہ ورق بہ ورق اسکا ماضی کھنکھال رہا تھا۔۔۔
سکندر علی اور مریم سکندر نے پسند کی شادی کی جسکی وجہ سے انہیں مریم کے باپ اور سابقہ منگیتر لکی (جو کہ آسٹریا کے بڑے گینگ کا حصہ تھے)سے بھاگ کے وہ لندن جا چھپے جہاں انہوں نے اپنی زندگی شروع کی۔۔۔
معاز، حمین، زجاح اور ولی کی پہدائش نے انکے آنگن میں خوشیوں کے پھول کھلا دیے۔۔۔ انہوں نے بیٹی کی بہت حسرت کی لیکن شادی کے بارہ سال تک انکی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔۔۔ ولی کی آمد کے بعد تو انہوں نے اس بات کی تمنا ہی چھوڑ دی تھی۔۔۔
معاز اس وقت بیس سال کا تھا جب آللہ نے کرم کیا اور مریم پھر سے امید سے ہوئی۔۔۔لیکن وہ سب سے شرمندہ تھی کہ اس عمر میں اور جوان بچوں میں ایسے وہ یہ سب نہیں کریں گی۔۔۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔ مریم کی ڈلیوری میں ایک مہینہ تھا جب ناگہانی وجوہات پہ معاز کا نکاح مرینہ سے کرنا پڑا۔۔۔
انکی شادی کے ایک ماہ بعد انکے گھر علیزے کی شکل میں رحمت آئی۔۔۔ علیزے سال بھر کی تھی جب معاز کے گھر ایک پری ‘ پریہان’ آئی۔۔۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ علیزے سارہ دن مرینہ کے پاس جبکہ پری سارا دن مریم کے پاس ہوتی تھی۔۔۔۔
علیزے چھ سال کی تھی جب انکی زندگیوں میں لکی کی صورت میں طوفان آیا۔۔
جسکی وجہ سے وہ سب کچھ چھوڑ کے پاکستان شفٹ ہو گئےلیکن وہاں بھی لکی پہنچ گیا اور ایک طلاطم مچا دیا اور سب سے بڑا طوفان علیزے کا اسکی نظروں میں آنا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . ۔۔۔۔
تم دماغ تو ٹھیک ہے؟؟ معاز دھاڑا۔۔۔
ہاں ایس پی۔۔۔ تم خود چنو۔۔۔ ماں یا بہن؟؟
وہ خباثت سے بولا۔۔۔
اگر تم سیدھے طریقے سے نا مانے تو تمہاری ماں کی تصویریں اور یہ پیپرز میں میڈیا تک پہنچا دونگا۔۔۔۔۔۔ وہ سفاکیت سے بولا۔۔۔
تم میں مار ڈالوں گا کمینے۔۔۔۔ زجاح اسکی طرف لپکا لیکن لکی چوکنا تھا اسنے فورا دروازے سے اینٹر ہوتی علیزے کو اپنی طرف کھینچا تو وہ اپنی جگہ رک گیا۔۔۔
نہ۔۔۔بچے رک جاٶ۔۔۔تمہاری بہن کے ادھر ہی پرخچے اڑا دونگا۔۔۔ جبکہ وہ اس ناگہانی آفت پہ چلانے لگی جب اسنے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
نہ جانے من۔۔۔رونا نہیں۔۔تمہیں میرے ساتھ رہنے جانا ہے۔۔تم میری ہو۔۔۔ میری پیاری۔۔۔۔وہ خباثت سے بولتا جا رہا تھا جب وہ ہوش کھو بیٹھی۔۔۔
اسکے ہوش کھوتے سب اسکی طرف لپکے جب اسنے اسے معاز کی طرف پھینکا اور خود سر پہ بم پھینکتا چلا گیا۔۔۔۔
تم سب کے پاس ایک ہفتے کا وقت ہے سوچ کے بتا دو۔۔۔۔نہیں تو بیٹی یا ماں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب اس صورتحال سے حد درجہ پریشان تھے اور کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے وجہ اسکے پاس مریم کی تصویریں تھی۔۔۔
پھر ایک خیال زہن میں آتے ہی وہ سب متفق ہوئے اور علیزے کو ایک ہفتے سے پہلے ہی معاز کے دوست کے ہاں بھیجنے کا ارادہ کیا لیکن اس سے پہلے ہی ہونے والے واقعہ نے انکی زندگانیوں کو جلا کے بھسم کر دیا۔۔۔۔
وہ علیزے کو بچانے میں مصروف تھے جب وہ پری کو اٹھا لے گیا۔۔۔۔
اس گھر میں صف ماتم بچھی پڑی تھی۔۔۔ اس بات نے انکی برداشت کی حد ختم کر دی اسی وجہ سے سکندر علی اسکے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے لگے۔۔۔ لیکن ایک مہینے بعد ہی کسی بھی کاروائی سے پہلے صبح کے وقت سکندر اور حمین کے ڈیڑھ سالہ بیٹے زارون کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔۔۔۔
پے در پے ہونے والے جھٹکوں نے انہیں ہلا کے رکھ دیا۔۔۔ ژالے بیٹے کی بےدردی سے چھلنی کی گئی لاش کو دیکھ کے سدھ بدھ کھو بیٹھی جبکہ علیزے اتنی عمر میں تلخ حقیقتوں سے روشناش ہوگئی جب عورتوں کی باتیں سنیں۔۔۔
بہن کی وجہ سے ہو رہا یہ سب۔۔۔ پہلے گھر کی بیٹی کو نجانے کہاں لے گیا۔۔اب باپ اور بیٹے کو بے دردی سے مار دیا۔۔۔۔
ایسی صورت سے اللہ بچائے جو مصیبتوں کی جڑ ہو۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ اسے لیے بغیر جان نہی چھوڑے گا۔۔۔ نجانے ہے کون؟؟۔۔۔۔۔ . عورتوں کی گفتگو سنتی وہ پاگل ہو رہی تھی۔۔۔ آٹھ سال کی عمر میں زندگی اسے تپتے صحراوں میں لے کھڑی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ گزر رہا تھا۔۔۔۔ ایسے ہی ڈر میں دو سال گزر گئے۔۔۔ وہ آتا رہتا تھا اور یاد کرواتا رہتا کہ میٹرک تک وہ انکے پاس ہے اسکے بعد وہ علیزے انہیں دے اور پری لے جائیں۔۔۔۔
وہ جولائی کا گرم ترین دن تھا جب گھر کے پاس ہی اسکا کلاس فیلو اسے ٹفن پکڑا رہا تھا جب لکی نے اسکے اسی ہاتھ پہ گولی چلائی۔۔۔ وہ چلا اٹھی۔۔۔
اس گولی کے بعد وہ رکا نہیں وہ یکے بعد دیگرے گولیاں چلاتا رہا جبکہ خوف سے اسکی آواز گلے میں گھٹ کے رہ گئی۔۔۔۔ گولیوں کی آواز سن کے اسکا بھائی آیا تو اسنے اسے بھی بھون کے رکھ دیا۔۔۔۔
وہ ہوش کھونے لگی جب اسنے اسے کھینچ کے اپنے پاس کیا اور چاقو سے اسکی شرٹ کندھے سے پھاڑ دی۔۔۔ اور اسکے کان میں پھنکارا۔۔۔
تمہیں بات سمجھ نہیں آتی ۔۔تمہاری زندگی میں میرے علاوہ کوئی مرد نہیں ہے۔۔۔ میرے علاوہ جس سے بات کرو گی مارا جائیگا۔۔۔ تمہارے جسم پی میرا حق ہے۔۔۔ تمہاری رگ رگ میری ہے۔۔۔ وہ صور پھونکتا رہا اور پھر غلاظت سے بھرا لمس اسکے گردن پہ رکھا۔۔۔
وہ چلانا چاہتی تھی لیکن آواز گھٹ کے رہ گئی اور پھر اس چاقو کو لائیٹر سے گرم کرتے گلی میں کھڑے ہی اسنے اسکے کندھے کی کھال ادھیڑنا شروع کر دی۔۔۔۔۔
وہ چیخنے لگی کب وہ ہاتھ جما گیا۔۔۔ وہ اسکے کندھے پہ اپنا نام لکھنا چاہتا تھا اسنے ابھی L لکھا تھا جب وہ درد، خوف، وحشت اور زلت سے حواس کھو بیٹھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہوش کسی کے چیخنے چلانے سے آیا۔۔۔۔ وہ جو کوئی بھی تھا روتے ہوئے چلا رہا تھا۔۔۔ اسنے ہولے سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عورت انکے لاونج میں کھڑی چلا رہی تھی۔۔۔
مار کیوں نہیں دیتے اس ڈائن کو؟؟ کھا گئی یہ سب کو۔۔۔ میرے بیٹوں کی قاتل ہے۔۔ اپنے ماں،باپ کی، بھتیجے اور بھتیجی کی قاتل ہے یہ۔۔۔۔ دے دو اسے اس شخص کو ۔۔نہیں تو سب کو کھا جائیگی یہ۔۔۔۔۔۔ وہ بین کیے جا رہی تھی اور وہ پہلی دفعہ کسی کی اتنی نفرت کو دیکھنے اور سمجھنے اور پھر اسے برداشت کرنے کی کوشش میں تھی۔۔۔
سب کو مار کے آج ماں کو بھی مار گئی ہے یہ۔۔۔۔ لے جاو ادھر سے اسے نہیں تو میں مار دونگی۔۔۔۔ وہ اسکی طرف لپکی لیکن مرینہ اور ژالے نے بمشکل انہیں روکا۔۔۔۔ جبکہ اسکے سارے بھائی ایک طرف سر جھکائے بیٹھے تھے۔۔۔
وہ سکتے میں آ گئی ماں کی موت کا سن کے اور تب اسے احساس ہوا کہ واقع اسکی زندگی کا فائدہ نہیں وہ اگر ایسے رہی تو سب کو مار دے گی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
