Rate this Novel
Episode 29
وہ ہوٹل کے باہر نکل کے ٹہل رہا تھا، وہ بہت غصے میں تھا جسکی وجہ سے اسکے گارڈز اور خان سب سہمے ہوئے تھے وجہ ڈیل کا لیٹ ہونا تھا۔ ۔۔
یونہی ٹہلتے ٹہلتے وہ برفیلے پہاڑوں کے نزدیک پہنچ رہا تھا جہاں نزدیک بہت گہری کھائیاں تھی۔ ۔۔
یونہی ٹہلتے ہوئے اسکی کچھ اونچائی پہ نظر گئی جہاں کچھ لڑکیاں ٹہل رہی تھیں۔ ۔انہیں دیکھ کے کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ کوئی ٹرپ پہ آیا ہے۔ ۔۔
وہاں یہ سب دیکھ کے وہ اور زیادہ کوفت زدہ ہوا، اسی طرح بلیک ڈریس میں ملبوس ناجانے کیا تلاش کر رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اسنے دوبارہ اوپر نظر کی تو وہاں موجود اب رش کم ہو چکا تھا لیکن ایک لڑکی کی پشت نظر آرہی تھی جو ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔
وہ لاشعوری طور پہ اسکی طرف دیکھتا رہا۔۔آہستگی سے وہ چلتی کناروں پہ پہنچی ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کے اسے تپ چڑ گئ کہ کیسی غائب دماغ لڑکی ہے جسے ہوش نہیں کہ وہ کدھر کھڑی ہے۔۔۔ کچھ پل وہ اسے دیکھتا رہا لیکن پھر وہ چونکا کیونکہ وہ سلپ کر گئی، اسکا پاوں رپٹا اور وہ نیچے کو لڑھکنے لگی۔۔
ایک لاشعوری قوت کے تحت وہ بھاگتا اس طرف لپکا اسکے بھاگتے خان بھی اسکے پیچھے لپکا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ نیچے کھائی میں گرتی اسنے اسے سنبھالا اسے سنبھالنے کی کوشش میں وہ بھی رپٹا لیکن پھر خود کو سنبھال گیا۔۔۔
وہ غصے سے اسکی طرف دیکھ کے کچھ کہنے لگا لیکن اسکے چہرے پہ نظر پڑتے ٹھٹک گیا۔۔۔
وہ جو کوئی بھی تھی اسکی عمر سولہ سترہ سے زیادہ نہ لگتی تھی۔اسکا سرخ و سپید چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔۔۔
لڑھکنے کی وجہ سے اسکا سفید حجاب کھل چکا تھا اور اسکے براون بالوں کی آبشار بکھر گئی۔۔ وہ سفید لباس میں ملبوس تھی اور تب پہلی بار اسکے دل نے گواہی دی تھی کہ سفید رنگ اسنے آج ہی کسی پہ جچتے دیکھا ہے۔۔۔۔
اسکے چہرے پہ اتنی ملائمت تھی کہ ایک پل کو اسکا دل کیا کہ وہ اسے محسوس کرے اور پھر اپنی سوچ پہ فورا عمل کرتے اسکے چہرے کہ طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
اور دھیرے سے اسکے آنسووں صاف کیے۔۔ اسکی اس حرکت پہ وہ سانس روک گئی اور آنکھیں پھاڑیں اسے دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں اتنا خوف تھا کہ وہ بھی حیران رہ گیا۔۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پہ خان بھی کچھ پل کو ساکت رہ گیا۔۔۔۔
وہ ابھی تک اسکے بازو کے حلقے میں قید تھی جب وہ تا دیر اسے پر تپش نگاہوں سے دیکھتا رہا تو وہ ہوش میں آ گئی۔۔۔
چھ۔۔چھ۔۔۔چھوڑ۔۔۔چھوڑو مم۔۔مج۔۔مجھے۔۔۔۔وہ ٹوٹتی آواز میں بولی تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسلسل سسک رہی تھی ۔۔۔
مم۔۔مجھ۔۔۔مجھے ۔۔۔جا۔۔جانے دیں۔۔۔ بب۔۔بھائی کو کال کریں۔۔۔۔ وہ روتی کہتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ چپ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں چھپے ڈر کو کھوج رہا تھا۔۔۔
نام کیا ہے آپکا؟؟؟ اسکی گھمبیر آواز گونجی۔۔وہ تب سے اب بولا تھا،
اسکا سوال سن کہ بھی اسنے سر نہ اٹھایا وہ روتی جا رہی تھی….
نام کیا ہے آپ کا ؟؟ ؟اسنے اب کے سرد آواز میں پوچھا تو وہ اچھل گئی اسنے چور نظروں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی، وہ پاکٹ میں ہاتھ ڈال رہا تھا۔۔۔ بلیک پینٹ،بلیک شرٹ، بلیک ویسٹ اور بلیک ہی جیکٹ جسکے بازو فولڈ کر رکھے تھے میں ملبوس وہ شخص اسے پراسرار اور سحر انگیز لگا۔۔۔اسکی شخصیت میں نجانے کیا محسوس ہوا کہ وہ سراسیمگی میں پہنچی۔۔۔
اسکو پاکٹ ہاتھ ڈالتے دیکھ کے وہ ڈر گئی اور بولی۔۔۔
ع۔۔عل۔۔علی۔۔علیزے سس۔۔سکندر۔۔۔
ادھر کس کے ساتھ آئی ہیں؟ دوبارہ سوال ہوا تب ہی اسکا گارڈ اندر آیا اسے دیکھ کے وہ سمٹ گئی اور خوف سے بولی۔۔۔
ککک۔۔کالج ٹرپ۔۔۔۔
دد۔۔دیکھو۔۔۔مجھے۔۔بھائی کے ۔۔پاس۔۔جانا ہے، میں۔۔۔کالج۔۔والوں سے دد۔۔دور ہو گئی۔۔۔ وہ۔۔پتہ نن۔۔نہیں سب۔۔کدھر گئے۔۔۔ وہ روتی اٹکتی سانسوں میں بولی۔۔۔
کونسے کالج کے ساتھ آئی ہیں؟؟ اسنے سگریٹ سلگاتے سوال کیا شاید وہ دھویں سے اپنے تاثرات چھپانا چاہتا تھا۔۔۔
اسکے کالج کا نام سن کے وہ کچھ پل نجانے کیا سوچتا رہا اور پھر بولا۔۔۔
آپکے بھائی کا نام کیا ہے؟؟
مم۔۔معاز سکندر۔۔۔ نام سن کے وہ چونکا لیکن پھر قابو پاتے بولا۔۔
اوکے میں آپکے گھر اس شرط پہ کال کرونگا جب آپ اٹھ کے فریش ہونگی۔۔۔جائیں شاباش۔۔۔
اسنے اسے نرمی لیکن اسی سرد آواز میں کہاتو وہ انکار کرنے لگی تو اسکے بولنے سے پہلے وہ بولا۔۔۔
اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو آپ ادھر سے نہیں جائیں گی۔۔۔ اسکی بات سن کے وہ سرپٹ بھاگی۔۔۔
اسکے جانے کے بعد وہ خان کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
خان۔۔۔
جی سر۔۔۔۔ وہ فورا بولا۔۔
پتہ کرو انکی فیملی کے بارے میں۔۔ہر ڈیٹیل ، انکے خوف کی وجوہات۔۔ اور یہ سب انکے پرنسپل کے پہنچنے تک ہو جانا چاہیے۔۔۔ رائیٹ؟؟ اسنے اسے ایک نظر دیکھا تو خان اسکے چہرے پہ نظر ڈالتا بولا۔۔۔
یس سر۔۔۔ آج اس چہرے پہ اسے ہلکی سی پرچھائیاں نظر آنے لگی۔۔شاید پتھر میں دراڑ جیسی۔۔۔
خان کے جانے کے بعد وہ خود اپنے موبائل پہ کوئی نمبر ملانے لگا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سامنے ایک بلیو فائل کھلی پڑی تھی۔۔۔ حکم کے مطابق دو گھنٹوں میں خان نے اسکی معلومات اسکے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔
علیزے کو سکون آور دوا اسکی لاعلمی میں کھلا دی گئی تھی جوس میں ملا کہ۔۔۔ اسکی بڑی وجہ راستوں کا بلاک ہونا تھا جسکی بدولت اسکی کالج انتظامیہ اس تک پہنچنے سے قاصر تھی۔۔۔۔
اب وہ فائل سامنے رکھے بیٹھا تھا اور پھر سب کچھ زہن سے جھٹک کے اسنے ہاتھ بڑھا کہ فائل اٹھائی۔۔۔
اسکے پہلے صفحے پہ اسکی بہت پیاری فوٹو لگی تھی سفید حجاب میں لپٹا چہرہ معصومیت سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
اسنے بے خودی سے اس چہرے پہ ہاتھ پھیرا اور پھرنگاہ ابتدائی صفحے پہ ڈالی۔۔۔
نام۔۔۔۔ علیزے سکندر
والدین۔۔۔۔ سکندر علی۔۔مریم سکندر
عمر۔۔۔۔۔سولہ سال۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
