Rate this Novel
Episode 28
اس کے سینے سے لگی وو سسکیاں بھرتی ماضی کی عمیق گہرائیوں میں کھو گئی۔ ۔۔۔
💔💔💔💔💔💔
بھائی مجھے نہیں جانا۔ ۔۔ سولہ سالہ علیزے روتی ہوئی بولی۔ ۔ اسکا سپید چہرہ رونے سے سرخ ہو رہا تھا اور لب لرز رہے تھے۔۔
کیوں بیٹا؟ ؟ معاز نے اسکے گرد بازو حمائل کرتے پوچھا۔ ۔
بھائی آپ جانتے ہیں نا؟ میں نہیں جا سکتی۔ ۔ وہ سراسیمگی سے بولی۔ ۔
باقی سب خاموش تماشائی بنے انکی گفتگو سے مستفید ہو رہے تھے جبکہ ژالے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی حور کی جھلا رہی تھی۔ ۔۔
نہیں بیٹا۔ ۔بس آپ پریشان نہ ہوں۔ ۔آپ کے ٹیچر نے خود کہا ہے آپ کو لیجانے کا۔۔۔اور سیکیورٹی بھی ہو گی۔۔۔ معاز نے اسے اصرار کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ؐلیکن بھائی۔۔۔۔ اسنے احتجاجا کچھ کہنا چاہا تو ولی بول پڑا۔۔۔
اوہو۔۔لیزے بس کر ٹرپ ہے اور تم ایسے ڈر رہی جیسے نجانے کیا ہونے لگا۔۔۔ چل کرو ڈیئر ۔۔۔ زیادہ پرابلم ہے تو مجھے ساتھ لے چلو تمہیں اور تمہاری فرینڈز کو کمپنی دے دونگا۔۔۔ ” وہ نان سٹاپ شروع ہو گیا تو چٹخ گئی۔۔۔
بھائیییییییییییی۔۔۔ اسنے احتجاجا معاز کو پکارا جبکہ باقی سب نے بمشکل مسکراہٹ روکی۔۔۔
اوہو۔۔مینے ایسا کیا کہ دیا جو ایسے اوور ری ایکٹ کر رہی’بھائییییییی’ کی کچھ لگتی؟؟ اسنے اسکی نقل اتارتے کہا تو وہ روہانسی ہو گئی۔۔
کچھ پتہ ہے کہ ایسے ہینڈسم گائیڈز کتنے مشکل سے ملتے اور میں تمہارے لیے جا رہا اور تم۔۔۔۔۔ اسنے جیسے افسوس سے سر ہلایا جبکہ وہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی اسکی شکل دیکھ کے معاز خود پہ کنٹرول کرتا کھنکھارا۔۔۔
ولی۔۔۔ اسنے تنبیہا پکارا تو وہ چپ کر گیا۔۔۔
آپ جائیں بیٹا۔۔جا کے پیکنگ کریں صبح نکلنا ہے آپ نے۔۔ معاز نے دوٹوک انداز میں کہا اور اسے منہ کھولتے دیکھ کے آنکھیں دکھائیں تو وہ خفگی سے دیکھتی مڑ گئی۔۔۔
معاز کیا اسکا جانا ٹھیک رہے گا؟؟ مرینہ نے دل کا ڈر زبان پہ لایا۔۔
ہاں میں سیکیوڑٹی کا ارینج کر دیا ہے ہم ایسے اسے گھر میں نہیں رکھیں گے۔۔اسطرح اسکی سیلف گروتھ اور کنفیڈینس گروم نہیں ہو گا۔۔۔۔ انہوں نے کہا تو وہ سب تائیدی سر ہلا گئے جبکہ ایک خوف اور انہونی نے انکے دل میں پنجے گاڑے ہوئے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گیسٹ ہاوس کے باہر کھڑا جونیجو گروپ کے آنر کا ویٹ کرتے اکتایا ہوا تھا۔۔۔
پہلی بار اسے یہ سب کرنا پڑ رہا تھا اور یہ سب سہ ایک وعدے کی بنا پہ کر رہا تھا لیکن اب عادت سے مجبور اکتا گیا تھا اسی لیے اس کوفت سے بچنے کیلیے وہ گیسٹ روم سے نکل کے باہر کھڑا خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔
مری کے خوبصورت مناظر دیکھ کے بھی اسکا چہرے پہ کوئی تاثر نہیں آرہا تھا۔۔۔
اسکے ساتھ کھڑے خان کے ہمیشہ کی طرح دل میں یہ حسرت جاگی کہ کبھی تو اسکی زندگی میں کچھ ایسا ہو جس پہ یہ شخص نارمل ری ایکٹ کرے، اسکے چہرے پہ کوئی زندگی سے بھرپور تاثر ابھرے۔۔۔
اسنے ہمیشہ کی طرح اسے دیکھتے دعا کی۔۔۔ اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ دعا قبول ہوگی یا نہیں۔۔۔
لِیکن کوئی یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اسکے دل سے اس وقت نکلی ہوئی دعا بہت جلد پوری ہونے والی تھی۔۔
کیونکہ وہ رب بہت بے نیاز ہے۔۔۔ بیشک۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح چھ بجے کی گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔ اسے سب ٹیچرز اور فرینڈز پہ غصہ آ رہا تھا جنہوں نے اسکے گھر میں فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے ٹرپ کا بتایا اور اسے پھر مجبورا آ پڑا تھا۔۔۔
وہ صبح سے روئے جا رہی تھی اور جانے کیلیے منع کر رہی تھی جب عادت سے مجبور ولی دوبارہ بولا۔۔۔
لیزہ یہ جو ابھی ٹسوے بہا رہی ہو نا تمہارا ادھر سے آنے کو دل نہیں کرنا تم پہنچ تو لو ادھر۔۔۔ اسکی بات پہ وہ اور زوروشور سے رونے لگی تو وہ بوکھلا گیا۔۔۔
بس کرو یار تم دیکھنا کتنا زبردست ٹرپ ہو گا۔۔۔ بہت یادگار۔۔تم ہمیشہ یاد رکھو گی۔۔۔ وہ اسے سینے سے لگاتا بولا۔۔۔۔
وہ بس کی کھڑکی سے ٹیک لگائے ان سب کی باتیں سوچ رہی تھی۔۔۔
ولی نے کہا تھا کہ اسکا یہ سفر یادگار ہو گا لیکن یہ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اسکی سوچ سے بھی زیادہ یادگار ہو گا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
