Rate this Novel
Episode 27
اسکی نظروں میں بھی بیتے دنوں کی یاد سلگ رہی تھی اسنے نظریں ہٹا ئیں۔۔۔
بھابھی آپ کے میاں کا فارم ہاوس ہے بتائیں کیسا ہے؟ اسے وہیں جمے دیکھ کے طلال نے شرارت سے کہا۔۔۔
وہ چونکتی ہوئی بولی۔۔۔ اچھا ہے۔۔بہت۔۔۔
وہ اس فارم ہاوس کا چپہ چپہ گھوم چکی تھی۔۔۔
وہ سب اندرونی حصے کی طرف بڑھے۔۔۔ رات کے ملگجے اندھیرے کو دور کرنے کو جلائی گئی لائٹس نے وہاں ایک خوبصورت سا منظر پیش کیا تھا۔۔۔
سب چلتے بیش قیمت چیزوں سے سجے سٹنگ ایریا میں گئے اور سب دھڑام سے صوفوں پہ بیٹھے۔۔… تب ہی کوئی بہت عجلت میں داخل ہوا وہ سب گردنیں موڑے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
اس کو دیکھ کے سب کو سانپ سونگھ گیا اگر کوئی پرسکون بیٹھا تھا تو وہ جہان تھا۔۔۔۔
زوریز۔۔۔۔۔ زینی چلاتی ہوئی اسکی طرف گئی تب ہی سب ہوش میں آتے اسکی طرف بڑھے۔۔ وہ تین سالوں سے ابروڈ تھا اور اب بغیر بتائے اسکی واپسی نے سب کو بےپناہ خوشی سے نوازا تھا۔۔۔۔
اسے دیکھ کے وہ ابھی تک ساکت تھی ابھی تقریبا چھ ماہ کے اس عرصے میں اس نے شاہ مینشن میں اس فرد کو تلاشنا چاہا تھا لیکن وہ اسے نا ملا اور وہ کسی سے پوچھنے سے بھی قاصر تھی حتیٰ کہ چاہ کے بھی جہان سے بھی نا پوچھ سکی۔۔۔
اور ابھی اچانک اسکو دیکھ کے وہ کوئی ردعمل نہ دے سکی۔۔۔
ہم تمہیں ایک سرپرائز دیں زوئی؟؟ ان سب نے اسکے آگے دیوار سی بناتے پوچھا۔۔
کیسا سرپرائز؟؟ براون جینز اور پیل کلر کی شرٹ اور براون ہی ہاف سلیوز جیکٹ پہنے اسنے پوچھا جسکے چہرے پہ سفر کی تھکان نہ تھی۔۔۔
مسز جہان سے ملنا چاہو گے؟؟ لاریب نے آنکھیں مٹکاتے پوچھا تو اسنے فورا نظریں گھماتے جہان کی طرف دیکھا جو بائیں طرف صوفے پہ بیٹھا تھا۔۔۔اسکے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے۔۔۔
سب نے اسے کہا تھا کہ شادی کی فوٹوز دیکھو گے لیکن اسنے انکار کر دیا تھا تب جہان نے ہی کہا تھا اسے انسسٹ مت کرو۔۔ وہ جب آئیگا تب ہی دیکھے گا۔۔ اسی لیے اسکے آتے آتے ہی وہ سب اسی موضوع کو لیکے کھڑی ہوگئیں۔۔۔
چلو یار میں بھابھی سے ملواتا ہوں یہ سب تو فضول میں سسپینس پھیلاتی ہیں۔۔ کیا پتہ تمہیں دکھانے کے بہانے تم سے بھے پیسے ٹھگ لیں۔۔۔ زوریز کے کچھ کہنے سے قبل ہی معاویہ اور ولی نے اسے پکڑا اور بت بنی لڑکیوں کو شرارت سے پیچھے کرتے اسے علیزے کے سامنے کھڑا کر دیا۔۔۔۔
Meet your sweet bhabhi…. Mrs.Aleezy Haider shah….
دونوں نے ملکے کہا۔۔۔
اور علیزے پہ نظر پڑتے ہی اسکا زہن ہوا میں معلق ہو گیا اور وہ ہونقوں کی طرح منہ کھولے کبھی سامنے بیٹھی علیزے اور کبھی پرے بیٹھے جہان کو دیکھتا۔۔۔۔
اسکے ایسے ری ایکشن پہ وہ نروس ہو گئی اور ہتھیلیاں مسلنے لگی۔۔جبکہ باقی سب بھی حیران تھے۔۔
کیا ہوا بھائی بھابھی کو کیوں ڈرا رہے ہو منہ تو بند کرو۔۔۔۔
معاویہ نے اسے جھانپڑ مارتے ہوئے کہا تو وہ ہوش میں آیا اور تبھی کھڑی ہوتی علیزے کی طرف بڑھا۔۔۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔ آپ ہیں بھابھی۔۔۔ آپ نہیں جانتی میں۔۔میں کتنا خوش ہوا آپکو یہاں دیکھ کے۔۔۔ اسے ساتھ لگاتے وہ شدتِ جذبات سے بولا.۔۔۔۔
وہ اسکی محبت پہ جھینپتی مسکرا دی۔۔۔
رئیلی جے۔۔۔ یہ پلیزنٹ سرپرائز تھا؟؟
وہ خوشی سے چہکتا بولا۔۔۔
تو وہ ہلکا سا سر خم کر گیا۔۔۔
تھینک گاڈ بھابھی یہ ہیں۔۔ نہیں تو میں جے کی مسز سے نہ بولنے کا عہد کر کے آیا تھا۔۔۔۔ اسنے شرارتی انداز میں کہا تو آیت بولی۔۔
تم علیزے کو پہلے سے جانتے ہو؟؟ اسکے سوال پہ علیزے کی سانس اٹکی اسنے جہان کی طرف دیکھا تو اسنے پرسکون سا اشارہ کیا۔۔۔
اسے دیکھتی وہ پرسکون ہوئی کیونکہ وہ اتنا تو جانتی تھی کہ وہ سب سنبھال لیتا تھا اور اس پہ کوئی آنچ نہیں آنے دیتا تھا۔۔۔۔
ہاں ان کو میں نے ایک بار مال میں دیکھا تھا تب ہی میں نے سوچا تھا کہ جے کی مسز اگر بنے گی تو وہ یہی ہونگی۔۔ تو میری وش پوری ہو گئی۔۔۔
اسنے آرام سے کہا تو سب ہنسنے لگ گئے۔۔۔
وہ جہان سے بہت چھوٹا تھا لیکن جہان کی اس سے محبت نے اسے اس سے بہت اٹیچ کر دیا تھا وہ بہت کم عمری سے ہی اسے جے کہتا تھا۔۔۔
چلو تم نے اگر چینج کرنا ہے تو کر لو ہم رات کی تیاری کریں اب۔۔۔ موحد بھائی نے اٹھتے ہوئے کہا تو لڑکے انکے ساتھ باہر لان اور سوئمنگ پول کی طرف چل دیے جبکہ لڑکیاں کچن کی طرف۔۔۔
وہ بھی انکے پیچھے جانے لگی جب عقب سے آتی آواز پہ رکی۔۔
جب پانچ سال پہلے اسی جگہ پہ جے کے ساتھ آپکو دیکھا تھا تب سچوئیشن ایسی تھی کہ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی پھر سے دیکھ سکوں گا لیکن آج پھر سے اسی مقام پہ جے کے ساتھ آپکو دیکھ کے بہت خوش ہوں۔۔۔۔
زوریز کی آواز پہ اسنے بہت کچھ اندر اتارتے مسکراتے ہوئے پلٹ کے اسے دیکھا۔۔۔
یہ تو مجھے بھی امید نہیں تھی لیکن آپکے بھائی ثابت قدم نکلے اور بتا دیا کہ جو کہتے وہ کرتے بھی۔۔۔ سو انہوں نے پھر سے ہمیں ملا دیا۔۔۔ آپکے بھائی کی ثابت قدمی پہ ساری قسمیں ہار گئیں۔۔۔
اسنے اسے دیکھتے شرارت سے کہا۔۔
میرے۔بھائی کی صرف ثابت قدمی ہی۔۔۔ محبت نہیں کہیں گی؟؟
اسنے شرارت کو اور طوالت دی تو اسکے چہرے پہ شرم کی لالی چھائی۔۔۔
اسنے کن انکھیوں سے کچھ فاصلے پہ کھڑے کال سنتے جہان پہ نظر ڈالی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ادھر متوجہ ہے یا نہیں یا اتنے فاصلے سے وہ کچھ سن سکتا تھا یا نہیں۔۔۔
ہاں محبت بھی۔۔۔ ہولے سے اسکے لب پھڑپھڑائے اور وہ بھاگ گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاز اور مرینہ اپنے بیڈروم میں بلکل ساکت بیٹھے تھے۔۔۔ مرینہ کے چہرے سے آنسو لڑیوں کی صورت میں بکھرتے جا رہے تھے وہ ساکت وجود سے بیٹھے بلکل بے جان محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
وہ ابھی بھی یقین کرنے سے تامل تھے کہ کچھ پل پہلے جہان نے انہیں جو خبر دی ہے کیا وہ سچ ہے یا کوئی الوژن ہے؟؟
آپکی ایک امانت ہے میرے پاس۔۔۔ لیکن آپکو دینے سے قاصر ہوں فلوقت لیکن جیسے ہی طبیعت و حالات سازگار ہوں گے میں آ جاونگا۔۔
لِیکن تب تک آپ نے اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ یہ بات صرف آپ تک محدود رہنی چاہیے۔۔ صرف آپ تک کیونکہ یہ بات آپ بھی جانتے کہ اگر یہ بات پھیلی تو کیا کچھ ہو سکتا۔۔۔
میں جب تک منزل کے قریب نہیں پہنچ جاتا یہ بات صرف آپ دونوں تک رہے گی۔۔۔ اور ایک بات علیزے کو فلحال اس بات کی بھنک بھی نہیں لگنی چاہیے کیونکہ آپ جانتے تب کیا کچھ ہو سکتا۔۔۔
اور تھوڑا سا صبر کریں اللّہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔۔ میری کوشش ہو گی کہ میں جلد ہی اس میس کو کلیئر کروں۔۔۔۔
انکے کانوں میں ابھی بھی اسکے نپے تلے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔
مم۔۔۔معاز کک۔۔کیا یہ سچ ہے؟؟ مرینہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا تو وہ اسے دیکھتے ساتھ بھینچ گئے۔۔۔
ہاں میری جان۔۔۔ یہ سچ ہے اللّہ نے کرم کیا ہے۔۔۔ مشکل کا وقت کٹنے والا ہے۔۔۔ تم دعا کرو کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔۔۔ انہوں نے خود پہ قابو پاتے کہا تو وہ خاموشی سے انکے سینے لگی آنسو بہاتی رہی جن میں تشکر کے آنسو نمایاں تھے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاویہ اپنی بیگم سے کیا گفٹ لیا؟؟ وہ سب بیٹھے باربی کیو سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ دسمبر کی ٹھنڈی رات اور خو شگوار ماحول نے سب کو فریش کر دیا۔۔۔
وہ اور جہان زوریز کی پرزور فرمائش پہ ساتھ بیٹھے تھے اسی وجہ سے وہ اس سب میں پزل تھی ، سیاہ شلوار سوٹ میں ملبوس سیاہ ہی شال اوڑھے بیٹھا وہ اسکی دھڑکنوں کو متزلزل کر رہا تھا۔۔۔
علینہ کے پوچھنے پہ معاویہ نے شرارتی انداز میں اسکی طرف دیکھا جو تپتے چہرے کو چھپانے کی کوششش میں لگی تھی۔۔۔
نہیں دیا ابھی۔۔۔ اسنے مصنوعی افسردگی سے کہا۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں اگر نہیں دیا تو میں اپنی مرضی اور پسند کا بعد میں لے لونگا۔۔۔ اسکی طرف معنی خیزی سے دیکھتا کہتا وہ اسکے چھکے چھڑا گیا۔۔۔
نن۔۔نہیں۔۔ ہے میرے پاس میں لیکے آئی ہوں۔۔ وہ جلدی سے بولی تو اپنی سکیم پہ وہ قہقہ لگا اٹھا جبکہ اپنے بیوقوف بننے پہ وہ دانت کچکچا کہ رہ گئی۔۔۔
جے تم نے مجھے کوئی گفٹ نہیں دیا۔۔۔ اب اسنے رخ ِسخن اسکی طرف موڑا۔۔
میرے خیال میں یہ آج تمہارا جانا کینسل ہوا ہے اسے ہی گفٹ سمجھ لو۔۔۔ اسنے اس پہ اچٹتی سی نگاہ ڈالتے کہا۔۔۔
نا جی اس سب میں زیادہ ہاتھ آپکی بیگم کا ہے اسلیے یہ گفٹ تو انکی طرف سے سمجھا جائیگا۔۔۔ اسنے احتجاج کیا تو وہ دھیمے سے سر جھکاتی مسکرا دی۔۔۔
بات تو ایک ہی ہے۔۔ ہم دو کب ہیں ایک ہی تو ہیں۔۔۔ اسکی گھمبیر پرتپش آواز پہ اسکی ہتھیلیاں نم ہوئیں جبکہ باقی سب ہوٹنگ کرنے لگے۔۔۔
لیکن وہ پھر سے پاس بیٹھے موحد اور حمین کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ ان سے چند قدم پہ معاویہ، زوریز اور ولی کے ساتھ بیٹھے ہو اس وجود کا دھیان نا چاہتے ہوئے بھی بھٹک بھٹک کے اسکی طرف جا رہی تھی جو آج بے رخی برت رہی تھی اور اسے آج احساس ہو رہا تھا کہ جن آنکھوں میں اپنے لیے ہمیشہ چاہت دیکھی ہو ان میں اجنبیت دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہے۔۔۔
چلو اب سب لیٹو اتنی رات ہو چکی ہے ۔۔ تین دن ہم ادھر ہی ہیں بعد میں انجوائے کر لینا۔۔۔ موحد اور حمین نے اٹھتے ہوئے کہا لیکن وہ جو انکی طرف جھکی باتیں سن رہی تھی وہ سب بغیر نوٹس لیے لگی رہی۔۔۔
حد ہو گئی ہے علیزے اتنی محنت سے بات سن رہی ہو پوری لٹکی ہوئی۔۔ اٹھو جا کے سب ریسٹ کرو۔۔۔ حمین نے اب کے ڈپٹتے ہوئے کہا تو سب کو مانتے ہی بنی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روم میں کھڑی کھڑکی سے سر ٹکائے اس جگہ پہ گزارے سب پل سوچ رہی تھی اور اسکے اندر آنسووں کی کن من ہو رہی تھی وہ ان سوچوں میں اتنی مگن تھی کہ اسے جہان کے آنے کا بھی پتہ نہ چل سکا۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ کس کرب میں ہے اسی لیے وہ اسے بار بار پوچھ رہا تھا لیکن وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس کے اندر کا لاوا پھٹے وہ اپنی بھڑاس نکالے اسی لیے وہ کچھ سوچتا اسے لے آیا یہاں پہ اسی بیڈروم میں۔۔۔۔
کِیا سوچ رہی ہیں؟ اسکی آواز پہ اسنے پلٹ کے دیکھا تو اسکی آنکھیں شدت ضبط اور کرب سے لال ہو رہی تھیں۔۔۔
پیرٹ اور پنک کنڑاسٹ کے ڈریس میں کسی بھی گرم چیز سے بےنیاز اس سردی سے بے نیاز کھڑی لڑکی جو اسے جان سے عزیز تھی جسکے کہنے پہ جسکیلے اس نے اسکو ہی چھوڑا تھا۔۔ اسکی یہ حالت اسے تڑپا گئی۔۔۔
وہ اسکے قریب ہوا اور اسے تسلی دینے کو اسکا سر اپنے کندھے سے لگایا اور یہ انداز تسلی ہی غضب ڈھا گیا وہ اسے جھکڑتی اس شدت سے روئی کہ وہ پریشان ہو اٹھا۔۔۔
حح۔۔حیدر میں مر رہی ہوں پل پل۔۔ مم۔۔ جینا چاہتی لیکن اسکی آہیں مجھے سونے نہیں دیتی۔۔ مم۔۔مجھ۔۔مجھے اس انسان کا۔۔۔اس وح۔۔۔وحشی کا خوف سونے نہیں دیتا۔۔ مم۔۔میں۔۔ بھی جینا چچ۔۔چاہتی۔۔مجھے بھی جینا آپ کے ساتھ۔۔۔
اسکے ساتھ لگی وہ اسکی شرٹ جھنجھوڑتی رو رہی تھی جبکہ اسکے ماتھے اور گردن کی رگیں غصے سے تن چکیں تھیں اسنے اسے اپنے ساتھ بھینچا اور اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتا اسکے سر سے سر ٹکا گیا۔۔۔
وہ اسی طرح ٹوٹی پھوٹی سرگوشیاں کرتی ماضی کی عمیق گہرائیوں میں کھو گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
