Rate this Novel
Episode 26
اسکے اس انداز پہ باہر کھڑی عوام نے سر پیٹ لیا جبکہ مہرو تو غش کھا گئی کہ اس سین کی پریکٹس اس نے ہزار بار کروائی لیکن وہ اب بھی ایسے بولی کہ جیسے بچہ ٹیچر کو کہتا میرا ٹیسٹ ٹھیک ہے۔۔۔۔
ہائے بھابھی۔۔۔ کب سیکھیں گی آپ یہ نزاکتیں۔۔ وہ سب افسوس کر رہی تھی۔۔۔
جبکہ وہ اس سے پوچھ کے سانس روکے کھڑی تھی جب اس نے اسکا بازو پکڑتے اسے کھینچتے اپنے پاٶں پہ کھڑا کر لیا اور اسکے گرد بازو حمائل کرتے اس کا چہرہ اپنے برابر کیا۔۔۔ وہ بمشکل اپنی مسکراہٹ کو کسی لمحے پھیلانے کی کوشش کرتی جو اسکی ڈوبتی سانسوں کے ساتھ بکھر رہی تھی۔۔۔
کیا پوچھ رہی تھیں آپ؟ اسنے سنجیدگی سے کہتے اسکے بال کان کے پیچھے کیے۔۔ اسکا لمس کان پہ محوس کرتی اسکی دھڑکن تھمی اس نے بے چارگی سے ٹیرس کی طرف دیکھنا چاہا لیکن بے سود۔۔۔۔
مم۔۔۔ میں کیسی۔۔۔۔؟؟ اسنے بات ادھوری چھوڑ دی اور پھر سے اسکی سمت ہلکی سی نگاہ اٹھائی کہ حوصلہ ہو کہ آبیل مجھے مار والا کام تو اسنے خود کیا تھا۔۔۔
آپ۔۔اس وقت مجھے اپنی اور مکمل میری لگ رہیں ہیں۔۔۔۔
اسنے سلگتے لہجے میں کہتے اسکی گردن پہ اپنا سر ٹکایا اور وہ جیسے وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔
جہان کو اس روپ میں آتے دیکھ کے وہ سب آنکھوں پہ ہاتھ رکھتی بھاگیں جبکہ وہ اسکی شرٹ پکڑے کھڑی تھی جب اسنے اسکے سر پہ بوسہ دیا اور بولا۔۔۔
علیزے۔۔۔۔ اسنے دھیمے سے پکارا۔۔
ہوں۔۔۔۔ اسکی سانسیں سپیڈوں میں تھی۔۔۔
اچھی کوشش ہے۔۔۔۔کیا بات ہے؟؟ اسکی بات پہ اسنے زبان دانتوں میں دبائی۔۔۔اور جب اسے لگا کہ وہ سب جان چکا ہے تو وہ پیچھے ہٹنے لگی لیکن گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔
بتائیں۔۔۔ اسنے ہاتھوں کا دباو بڑہایا۔۔۔
وہ۔۔۔ آپ پاپا کو منع کریں نا۔۔۔کہ معاویہ بھائ کو آج نہ جانے دیں۔۔ پلیز۔۔۔۔ اسنے نظریں جھکاتے کہا۔۔۔
آہاں۔۔۔ مطلب اس کام کیلیے میری بیوی اتنی محنت کر رہی تھی۔۔۔ اسکے متبسم لہجے پہ وہ شرمندہ ہوئی۔۔
و۔۔وہ بھابھی کہتیں کہ ش۔۔شش۔۔۔شوہر سے ایسے بات منواتے۔۔۔ اسنے اٹکتے ہوئے کہا تو وہ قہقہ لگاتا اسے بھینچ گیا۔۔۔
میری جان۔۔۔ اگر میں نا مانوں تو۔۔۔۔
تو۔۔۔ میں آپ سے ب۔۔بات نہیں کرونگی۔۔ آپکو بات ماننی ہی ہو گی۔۔۔ معاویہ بھائی نے کہا تھا کہ وہ ہمیں فارم ہاوس لیکر جائینگے اس لیے میں نے ضرور جانا۔۔۔ اسکی بات پہ وہ اسکے سینے سے سر اٹھاتی غصے اور معصومیت سے بولی۔۔۔
آپکو فارم ہاوس جانا ہے؟ اسنے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔
ہاں نا۔۔ اسکی بات پہ اسنے گہری سانس لی۔۔۔
میں آپکی بات مان لیتا ہوں۔۔ آپ مجھے اسکے بدلے کیا دیں گی۔۔۔ اسنے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔۔۔
کیا چچ۔۔چاہیے آپکو؟ اسنے آنکھیں پھیلاتے پوچھا
یہ میں آپکو فارم ہاوس سے واپسی پہ بتاٶنگا۔۔۔ کہتے ہی وہ جھکا اور نیچے پڑا پیج اٹھایا اسکے ہاتھ میں موجود ورق دیکھ کے وہ شرم سے سر جھکا گئی۔۔۔
پپ۔۔پلیز یہ میرا ہے۔۔ اسنے وو لینا چاہا لیکن تب تک وہ اسے کھول چکا تھا اور جوں جوں وہ پڑھتا جا رہا تھا اسکے چہرے پہ محظوظ کن مسکراہٹ تھی جبکہ وہ آنکھیں میچ گئی۔۔۔
پیار سے مسکرا کے ویلکم بھی ہو گیا۔۔ تعریف بھی ہو گئی۔۔۔ پلو سے چہرہ بھی صاف ہوا۔۔ اپنی تعریف بھی ہو گئی ۔۔۔ وہ بولتا رکا۔۔۔
لِیکن یار اسکے بعد کے سینز۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں ناجانے کیا تھا کہ وہ اسکے لبوں پہ کپکپاتا ہاتھ رکھ گئی۔۔۔ اور پھر اسکی چمکتی آنکھوں کو دیکھتی باہر بھاگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب باہر آئی تو وہ سب لاونج میں بیٹھی تھیں انہیں اپنی طرف دیکھتا پا کے اسے غصہ اور شرم ایک ساتھ آئی۔۔۔
چیٹ کیا آپ سب نے مجھے۔۔۔ اکیلے چھوڑ کے آ گئے۔۔۔وہ نروٹھے انداز میں بولی۔۔
ہائیں تو ہم تمہارے شوہر کو عمران ہاشمی بنتے دییکھتے رہتے؟؟
ہدیٰ کے شرارتی انداز پہ وہ بلش کرنے لگی اور ہاتھ مسلنے لگی۔۔۔
وہ۔۔۔وہ۔۔ایس۔۔۔۔ ایسے نہیں ہیں۔۔۔۔ اسنے صفائی دی گویا۔۔۔
بھآبھی آپ نے تو میرا دل توڑ دیا، اتنی پریکٹس کروائ کہ کیسے تعریف کروانی لیکن آپ۔۔۔۔ اسنے افسوس سے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔
بب۔۔بس کریں نا اب۔۔۔ پرمیشن تو مل گئی نا۔۔۔ اسنے انہیں گویا خوشخبری دی۔۔۔
ہرااااااااا۔۔۔جیو بھابھی۔۔۔۔ انہوں نے نعرہ لگایا اور معاویہ کو سرپرائز دینے تاشے اوپر دوڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین چار گاڑیوں پہ مشتمل قافلہ فارم ہاوس روانہ ہوا۔۔۔ ولی ہدیٰ، علینہ اور ژالے اور حمین بھی انکی پرزور فرمائش پہ ساتھ تھے۔۔۔
وہ جہان ، مہرو اور آیت کے ساتھ خان کی گاڑی میں تھے جبکہ باقی سب دوسری گاڑیوں میں تھے۔۔۔
خان نے بیک ویو مرر سیٹ کیا تو آج اسے اس میں جھانکتی دو سنہری آنکھیں دکھائی نہ دیں۔۔۔ گاڑی میں کوئی بھی ہو اسکی نظریں ہمیشہ مرر پہ لگی رہتی لیکن آج وہ بے نیاز ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔
اور اس بے حسی اور بے نیازی کی وجہ وہ جانتا تھا اسی لیے لب بھینچتا وہ سر جھٹک گیا۔۔۔
وہ اسے کوئی تسلی یا تشفی کے جگنو نہیں پکڑانا چاہتا تھا کہ یہ ان دونوں کیلیے ہی ٹھیک نہ تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب دو گھنٹے کا سفر انجوائے کرتے فارم ہاوس کے قریب پہنچے۔۔۔ آج سب فکریں اور دکھ بھول کے وہ بھی اس سب کو انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
اور پھر کچھ ہی لمحوں بعد گاڑی ایک علیشان اور وسیع فارم ہاوس کے گیٹ کے پاس رکی۔۔۔
یکے بعد دیگرے باقی گاڑیاں بھی آ پہنچی۔۔ شام کے اندھیرے کی وجہ سے وہ ابھی باہر کچھ دیکھنے سے قاصر تھی۔۔۔
خان نے اترتے پہلے جہان کیلیے دروازہ کھولا اور پھر پیچھلی سائیڈ پہ آتا انکا دروازہ کھول کے سائیڈ پہ ہوا اور تبھی مہرو نے اترتے ایک زخمی نگاہ سے اسے دیکھا اور وہ وہیں ٹھر گیا کہ وہ نگاہ اسے اندر تک توڑ گئی تھی۔۔۔۔
مہرو کے اترنے کے بعد جب اسنے باہر نکلتے جائزہ لینا چاہا تو وہ پہلے پہ ہی ٹھٹھک گئی۔۔۔
تب اسے اندازہ ہوا کہ جہان نے اسے بار بار کیوں پوچھا تھا کہ وہ وقعی فارم ہاوس جانا چاہتی؟؟ تب وہ کیوں نا سمجھی کہ یہ وہی جگہ ہے۔۔۔
جہاں اسنے ایک دن میں اپنی زندگی کے حسین لمحات بتائے تھے اور اسی جگہ سے انکے درمیان فرقت کے لمحات آئے تھے۔۔۔۔
اسنے بے اختیار نظروں کی تپش سے گھبرا کہ اسکی طرف نگاہ کی۔۔۔۔۔۔
