55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

اسکی نظروں سے گھبراتی وہ بولی۔ ۔۔
وہ۔ ۔وہ گھر میں۔ ۔ اسنے بات ادھوری چھوڑی۔ ۔
میں انفارم کر چکا وہ کچھ نہیں پوچھیں گے آپ ریلیکس رہیں۔ ۔۔ اسنے نظریں سامنے جماتے ہوئے کہا تو وہ پرسکون ہو گئی۔ ۔۔
کچھ لمحوں بعد اسے گھر چھوڑتا وہ باہر نکلتا چلا گیا، جب وہ اینٹر ہوئی تو سب لاونج میں ہی تھے وہ پزل ہو گئی کہ نجانے کیسا ری ایکشن ہو گا لیکن تب وہ ریلیکس ہوئی جب ماما نے ساتھ لگا کہ تسلی دی۔ ۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا۔ ۔ خدا کی دین ہے ۔۔پریشان نہیں ہونا ویسے بھی دیر ہی کتنی ہوئی ہے۔ ۔۔ انکی باتیں سنتی وہ شرم سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کے ساتھ بیٹھی تھی جب ہدیٰ اور علینہ ولی کی ساتھ آتے اسے خوشگوار سر پرائز دے گئے۔ ۔۔
انہیں دیکھ کے وہ بہت خوش ہوئی ۔۔۔۔۔ سب بیٹھے گپیں لگا رہے تھے جب معاویہ کے جانے کا تذکرہ ہوا۔ ۔۔
میں اتنا سوچا تھا کہ معاویہ بھائی کی برتھڈے کو اچھا سیلیبریٹ کریں گے لیکن اب وہ ہوں گے ہی نہیں۔ ۔۔ سٹابری کو منہ میں رکھتی وہ افسردگی سے بولی تو سب نے چونک کے اسے دیکھا۔ ۔۔
آپ واقعی چاہتی کہ معاویہ نہ جائے۔ ۔ سب نے فورا پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی بولی۔ ۔۔
ہاں نا۔ ۔۔ اسکے بچوں والے سٹائل پہ سب مسکرانے لگے۔ ۔۔۔۔ ایک طریقہ ہے جسکے زریعے وہ نہیں جا سکتے۔ ۔۔ لاریب نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ ۔۔
اچھا کیسا طریقہ؟ اسنے اشتیاق سے پوچھا۔ ۔۔
ہے ایک طریقہ لیکن اسکیلیے آپکو ہماری ہیلپ کرنا ہو گی۔ ۔۔ مہرو نے سسپینس کرایٹ کیا۔ ۔۔
کیسی ہیلپ؟ اسنے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ ۔
آپ کو پتہ کہ معاویہ کا جانا ایک بندہ ہی کینسل کروا سکتا۔ ۔ زینی نے وقفہ دیا اور اسکی بات کو آیت نے کیری کیا۔ ۔۔
اّور وہ بندہ آپ کا شوہر ہے اور اسے اس کام کیلیے آپ نے منانا۔ ۔۔ انہوں نے اسکے ہاتھوں کے چڑیاں طوطے اڑادئے۔ ۔۔
نن۔ ۔میں۔ ۔ کیسے؟ میں نہیں۔ ۔ وہ میں کیسے۔ ۔۔ وہ الٹے سیدھے لفظوں میں انکاری ہوئی۔ ۔۔
اوہو علیزے بیوی ہو یار منواو تم۔ ۔۔ اپنی پاور استعمال کرو۔ ۔۔ علینہ نے اب کے اسے سمجھانا چاہا۔ ۔۔
کیسی پاور؟ اور کیسے؟ اسنے انکی طرف دیکھا اور سب انکی طرف سرکیں۔ ۔
ہم بتاتے کے بیوی کیسے بات منواتی۔ ۔۔ وہ سب اسکے کانوں میں گھسی۔ ۔۔
اور اسے ایسے ایسے مشورے دیے کہ وہ بدک گئی وہ کانوں تک سرخ پڑی۔ ۔۔
توبہ۔ ۔۔ کیسی باتیں کرتی ہیں آپ سب۔ ۔۔ اسنے کانوں پہ ہاتھ رکھے تو علینہ نے ہاتھ نیچے کھینچے اور پھر سب گھسر پھسر کرنے لگی۔ ۔۔
نہ۔۔۔ کبھی نہیں۔ ۔۔ وہ شرم سے گھبرا گئی۔ ۔۔
بس کریں بھابھی۔ ۔ اتنا سینسر کر کے سمجھایا اتنا تو سینسر بورڈ والے ری ایکٹ نہیں کرتے۔ ۔۔ زینی نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن وہ بدستور انکاری تھی جب لاریب زور سے بولی۔ ۔
بس۔ ۔۔۔ ہم سب پیج پہ لکھ دیتے تم آرام سے یاد کر لو اور تمہاری سیفٹی کیلیے ہم ساتھ والے روم سے ٹیرس میں آ جائیں گے۔ ۔۔۔ اور آپ کوئی انکار نہیں کریں گی۔ ۔۔ اسنے اسکے کھلتے لبوں کو دیکھ کے کہا۔ ۔۔
بھابھی پلیززززززززززز۔ ۔۔۔ سب نے ملتجی کہا تو اسے مانتے ہی بنی۔ ۔۔
لِیکن آپ سب ساتھ ہوں گی۔ ۔۔ اسنے انہیں وارن کیا تو سب نے تسلی دی۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے پتہ چلا تھا کہ اسکی طبیعت خراب ہے تب سے ہی بے چین روح بنی بھٹک رہی تھی۔ ۔۔
بھآبھی سے ہی پتہ چلا تھا کہ آج باہر بھی نہ گیا تھا وہ کروٹ پہ کروٹ بدلے جا رہی تھی۔ ۔۔ اسنے وقت دیکھا تو عصر کا وقت ہونے والا تھا مطلب سب بزی ہونگے۔ ۔۔
اسے کسی طور سکون نہ آیا تو وہ کمبل پھینکتی سب حدیں بالائے طاق رکھتی اٹھی۔ ۔۔
وہ ہولے سے سیڑھیاں چڑھتی سیکنڈ فلور پہ آئی اور لیفٹ سائیڈ پہ بنے تیسرے نمبر والے کمرے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ۔۔ کچھ پل کھڑی اپنی ہمت جٹاتی رہی اور پھر دھڑکتے دل سے دروازہ کھول دیا۔ ۔۔
کمرے میں دھیمی سی روشنی پھیلی تھی ۔۔ پردے سب گرے ہوئے عجب خوابناک سا ماحول تھا۔ ۔ وہ کمبل لپیٹے لیٹا تھا صرف اسکی پیشانی اور بکھرے بال نظر آ رہے تھے وہ دھیرے دھیرے چلتی اسکے قریب گئی اور پھر گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گئی۔ ۔۔
وہ کافی دیر تک اسے دیکھتی رہی لیکن پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی وہ ہاتھ شال سے نکالتی اسکی پیشانی کی طرف بڑھا گئی اور اسکے بکھرے بال سمیٹنے لگی۔ ۔۔
ٹھنڈے ہاتھ کا لمس گرم پیشانی پہ محسوس کرتا وہ فورا جاگا اور کچھ پل ماحول سمجھتا رہا اور جب آنکھیں ماحول سے مانوس ہوئی تو اسے بیٹھے دیکھ کے اسے جھٹکا لگا وہ فورا اٹھ بیٹھا۔ ۔۔
کیسے ہو دبیر؟ اسنے دھیرے سے کہا اور اٹھ کے پاس پڑی کرسی پہ آ بیٹھی۔ ۔۔
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ وہ ابھی تک بے یقین تھا۔ ۔۔
تمہاری طبیعت پوچھنے آئی تھی۔ ۔۔ اسنے بظاہر آرام سے کہا۔ ۔۔
ٹھیک ہوں میں۔ ۔۔ جائیں آپ یہاں سے۔ ۔۔ اسنے رخ موڑتے کہا۔ ۔۔
دبیر۔ ۔۔ وہ دکھ سے بولی۔ ۔۔
مِیں کہ چکا کہ میں دبیر نہیں ہوں۔۔۔ وہ درشتگی سے کہتا کمبل پرے کرتا اٹھا۔ ۔۔
پلیز لیٹے رہو تمہاری طبیعت۔ ۔۔ وہ بوکھلا گئی۔ ۔۔
بدنامی سر پہ بیٹھی ہے اور میں لیٹا رہوں۔ ۔۔ اسنے اسے جھرکا لگایا۔ ۔۔
مم۔ ۔۔ میں بدنامی ہوں تمہارے لیے۔ ۔۔ وہ کرلاتے ہوئے بولی۔ ۔۔
وہ اسکی بات نظر انداز کرتا بولا۔ ۔۔
عورت کی عزت بہت قیمتی ہے بی بی۔ ۔ اسے بیکار مشغلے میں مت تباہ کریں۔ ۔ میں آپ کے معیار کا نہیں ہوں۔ ۔ اور آئندہ ادھر مت آئیے گا۔ ۔۔ اسے لہو لہو کرتا بیڈ پہ پڑی اپنا شال اٹھاتا وہ باہر نکل گیا۔ ۔۔
جبکہ وہ ساکت بیٹھی تھی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے یونہی پڑی تھی جب ان تینوں نے دھاوا بول دیا۔۔۔۔
لو یہ میڈم ابھی پڑی ہے اور سب سے زیادہ یہی اکسائیٹڈ تھی۔ ۔۔ مینے نے آواز لگائی۔ ۔۔
او میڈم اٹھو نا۔ ۔۔ اسنے کمبل کھینچا لیکن اسکی چہرہ دیکھ کے ٹھٹک گئی۔ ۔۔
کِیا ہوا؟ روتی رہی ہو؟ سب پریشان ہوئیں۔ ۔۔
نہیں یار سر درد کر رہا تھا گولی کھا کہ لیٹی تھی کہ اس ٹائم تک فریش ہو جاوں۔ ۔۔ اسنے نسبتاً ہشاش بشاش لہجے میں کہا۔ ۔۔
سچ بتاو وقعی درد ہی تھا؟ زینی نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔ ۔۔ تو وہ مصنوعی ہنسی ہنس دی۔ ۔۔
ہاں یار میں پہلے کبھی کچھ چھپایا۔ ۔۔ چلو چلیں ٹیرس پہ لالہ آنیوالے ہوں گے۔ ۔۔ وہ خود کو پرجوش ظاہر کرتی اٹھی اور سبکو ساتھ لیے باہر نکلی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا دروازہ کھول کے ہاتھ میں صفحہ لیے انکے ٹوٹکے رٹ رہی تھی اور ساتھ دھڑکنوں کو نارمل رکھنے کو آیت لکرسی بھی پڑھ چکی تھی۔ ۔۔ بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ آ تو نہیں گیا اور پھر تسلی کیلیے ٹیرس کی طرف بھی۔۔۔ جہاں وہ سر کھڑکی سے لگائے کھڑی تھیں۔ ۔۔
وہ پوری طرح رٹنے میں مگن تھی جب باہر آہٹ ہوئی اسنے پیج مٹھی میں دبوچا اور سانس بحال کرنے لگی۔ ۔۔
وہ دروازہ کھولتا اندر آیا تو پہلے قدم پہ ٹھٹھکا جہاں وہ سفید ساڑھی باندھے کھڑی تھی(وہ ساری زندگی لگی رہتی تو بھی ساڑھی نہ باندھ پاتی وہ تو جب سب نے فورس کیا کہ جہان کا فیورٹ ڈریس کونسا ہے تو وہ کچھ یاد کرتی بولی ساڑھی۔ ۔۔ تب ہی انہوں نے اسے مشکل میں ڈالا۔ ۔۔)
فل سلیوز کے وائیٹ ہی بلاوز اور وائیٹ ہی ساڑھی میں وہ اسے کوئی حور لگی۔ ۔۔ بلاوز کے پچھلے گہرے گلے کو چھپانے کیلیے بال بھی کھول رکھے تھے۔ ۔۔ اسنے جسطرح ساڑھی کا پلو پکڑا تھا اس سے اسکا اناڑی پن ظاہر ہو رہا تھا۔ ۔۔۔
وہ اسکے ڈریس سے زیادہ اسکے چہرے کی مسکراہٹ سے حیران ہوا تھا جو تھوڑا قریب آنے پہ پتہ چلا کے زبردستی ہونٹوں کو پھیلایا گیا ہے۔ ۔۔
آپ۔۔آپ ۔۔۔ آ گئے۔ ۔۔ اسنے اسی مسکراہٹ سے پوچھا۔(اور سب ٹوٹکے دہرائے۔ ۔ مسکرا کے دیکھنا، پیار سے اندر بلانا، پانی کا پوچھنا۔ ۔۔ اور) ۔۔ تو وہ فقط سر ہلا گیا۔ ۔۔
آ۔۔۔آئین نا ادھر کیوں کھڑے۔ ۔۔ اسنے اسکی جیکٹ پکڑ کے اسے جھٹکا دیا اور تھوڑا قریب کیا۔ ۔۔
کک۔ ۔ کتنی دیر۔ ۔۔ لگا دیتے۔ ۔۔ مم ۔ میں روز انتظار۔۔۔ کرتی آ۔ ۔آپکا۔ ۔۔ وہ زبردستی لبوں کو پھیلاتی اسکی شرٹ پہ نظریں جماتے بولی تو وہ ابرو اچکاتا گھڑی کی طرف نگاہ کرتا رہ گیا جسکے مطابق وہ آج جلدی آیا تھا لیکن۔ ۔۔۔
کک۔ ۔کتنی گرمی ہے۔ ۔ کتنا کام ۔۔۔ کرتے آپ۔ ۔۔ اسنے دسمبر کے مہینے میں بھی گرمی کا کہتے اسکے چہرے سے نادیدہ پسینہ صاف کرنا شروع کر دیا۔ ۔۔ وہ اپنے پاوں اچکائے پلو سے اسکا چہرہ یوں رگڑ رہی تھی گویا سالوں کی کلنک لگی ہو۔ ۔۔
اسی تگ ودو میں اسکا پیج گر گیا لیکن وہ بے خبر تھی جبکہ جہان کی نظروں نے فوراً کیپچر کیا۔ ۔۔
اسنے چور نگاہ ٹیرس پہ ڈالی تو سب نے کیری آن کا اشارہ کیا۔ ۔۔ وہ تھوک نگلتی سانسیں کنٹرول کرتی بولی۔ ۔۔
آ۔ ۔آپ۔ ۔ بب۔ ۔ بہت اچھ۔ ۔اچھے لگ رہے۔ ۔ اسنے نظریں جھکاتے گویا جرم کا اعتراف کیا۔ ۔۔
اب کے اسے یقین ہو گیا کہ یقیننا کوئی بات ہے اسنے ایک نظر خود پہ ڈالی۔ ۔۔ بلیک جینز، وائیٹ شرٹ اور بلیک ویسکٹ اور لیدر جیکٹ میں وہ روز کے حلیے میں تھا پھر آج۔ ۔۔۔۔۔
اچھآ۔ ۔۔شکریہ۔ ۔۔ اسکی بھاری آواز پہ اسکی سانسیں اتھل پتھل ہوئیں۔ ۔۔ اسنے بمشکل مسکراتے اگلا سین یاد کرنے کی کوشش کی( بہت ناز سے، اٹھلاتے ہوئے اپنی تعریف کروانی)
مم۔ ۔ میں کک۔ ۔۔ کیسی۔ ۔لگ رر۔ ۔ رہی؟ ؟