Rate this Novel
Episode 24
آپ کو کمرے میں آئے کتنی دیر ہو چکی ہے؟ اسنے سنجیدگی سے سوال کیا اسکے بے موقع سوال پہ وہ حیران ہوئی لیکن پھر بول دی۔۔
آدھآ گھنٹہ۔۔۔
اسکی بات کے جواب پہ اسنے دروازے کو دیکھا جو ادھ کھلا تھا کہ اندر کا سب منظر باہر کو نظر آسکتا تھا۔۔۔
اسکا مطلب کے وہ آپ کو بلانے والے ہوں گے۔۔۔ اسکی پرسوچ آواز گونجی ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی باہر سے آوازیں آنے لگی۔۔ جسکا مطلب تھا اسے بلایا جا رہا تھا۔۔ اسنے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا جو آوازیں سن کے چوکنا ہو گیا تھا اور اس سے پہلے کے کوئی کمرے میں داخل ہوتا اس نے پھرتی سے اسکا بازو پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
فائل کے سب پیپرز ہوا میں بکھر گئے جبکہ وہ اس اچانک افتاد پہ گھبرا گئی۔۔۔۔ اسنے اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر بیڈ پہ دھکا دیا اور خود اس پہ جھکا۔۔۔
وہ اس سب سچویشن پہ حواس کھونے لگی ان دونوں کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھیں جبکہ وہ خود اس پہ جھکا تھا۔۔۔
کک۔۔کیا۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی اسنے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
شش۔۔ ڈونٹ موو۔۔۔ آپ نے باہر کی طرف نہیں دیکھنا جو بھی آے۔۔آپ کا سب فوکس کمرے میں ہونا چاہیے۔۔۔ اسکے ساتھ ہی اسنے اسکی گردن میں منہ چھپایا۔۔۔
جبکہ وہ ہکابکا رہ گئی کہ وہ جان بوجھ کے ایسا کیوں کر رہا لیکن جب اسنے دروازے میں کسی کو محسوس کیا تو ان سے اپنا چہرہ چھپانے کو بازو اپنے چہرے سے گزارتی اسکی گردن میں حمائل کر گئی۔۔۔
اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں جبکہ ہارٹ بیٹ اتنی تیز تھی کہ اسے لگ رہا تھا کہ باہر کھڑے نفوس بھی سن لیں گے۔۔۔
جبکہ باہر کھڑے نفوس کا حیرت سے برا حال ہو رہا تھا ، انہیں یقین کرنے میں تامل ہو رہا تھا کہ واقع ہی یہ جہان ہی ہے اور اس طرح۔۔۔ انہوں نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے جھرجھری لیتے دروازہ آرام سے بند کیا اور نیچے دوڑ لگائی۔۔۔
دروازہ بند ہونے کی آواز سن کے بھی اسکے حواس بحال نہ ہوئے وہ بےجان پڑی تھی۔۔ پھر آہستہ سے اپنا بازو اسکے گرد سے ہٹایا اور پھر ہولے سے بولی۔۔۔
بب۔۔بس۔۔ کریں۔۔۔ اسکی آواز پہ اسنے سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں سے چھلکتے منہ زور جذبات نے اسے بوکھلا دیا اور اسی بوکھلاہٹ کو دور کرتی وہ اس پہ چڑھ دوڑی۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ کیا طریقہ؟؟ وہ اسکی طرف دیکھنے سے گریز کرتی بولی۔۔۔
کیسا طریقہ؟ اسکی پرسکون آواز نے اسے اور تپایا۔۔۔
ان کے سامنے یہ سب۔۔۔ وہ شرم سے بات ادھوری چھوڑ گئی۔۔
میں اب انکا سامنہ کیسے کرونگی؟؟ وہ شرمندگی سے بولی۔۔۔
رِیلیکس آپ عبایا یوز کر لینا زیادہ پرابلم ہوئی تو۔۔۔ اسکے اس مشورے پہ اسے طیش آگیا اسنے پورا زور لگایا گرفت سے آزادی کیلیے۔۔۔
آپ۔۔آپ بہت بے شرم ہیں۔۔اٹھیں۔۔ یہ ۔۔کک۔۔ کوئی طریقہ پرابلم سولو کرنے کا۔۔۔ وہ کڑھی۔۔۔
ایک اور آسان طریقہ بھی تھا۔۔۔ اسکی مزاحمت کو رد کرتا وہ اسکے چہرے پہ نظریں گاڑھتا بولتا۔۔۔
کونسا۔۔ اسنے اسکی شرٹ پہ نگاہیں جماہیں۔۔۔
وہ ہولے سے اسکے کان میں جھکا اور کچھ کہا جسے سنکے اسکے سارے وجود میں دھواں سا بن گیا اور جسم کا سارا خون چہرے پہ آسمٹا۔۔۔
وہ دلچسپی سے اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
آ۔۔۔آپ۔۔۔آپ انتہائی ۔۔۔برے انسان ہیں۔۔۔ حیا سے لڑکھڑاتی آواز میں کہتی وہ پوری جان لگاتی اسے پرے کرتی اٹھی اور گہری سانسیں لینے لگی۔۔۔
مجھے برا بننے پہ آپ اکساتی۔۔ اسکے الزام پہ اسکی سبز آنکھیں پھیلیں۔۔۔جس میں اسے لگا کہ وہ مزید ڈوب جائیگا۔۔ اسی خطرے کے پیش نظر وہ نظریں ہٹاتا بولا۔۔۔
جآئِیں جا کے ریڈی ہوں۔۔ میں سب ٹھیک کرتا۔۔۔ اسے کہتا وہ اٹھ کے باہر چلا گیا جبکہ خود کو سنبھالتی وہ بھی واشروم کی طرف گی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سوال پہ وہ کرنٹ کھا کہ پلٹا تو وہ شرمندہ ہوئی۔۔
نن۔۔نہی میرا مطلب ہے کہ۔۔مجھ سے ملیں گے۔۔ آپ جسطرح مجھے سب سے ملانے کی تگ ودو میں ہیں لگتا کہ۔۔ مجھ سے اکتا گئے اور مجھے انکے حوالے کر کے چھوڑنا چاہتے۔۔۔ وہ بات کور کرتی پھر سے اسی فیز میں جا پہنچی۔۔۔
اسکی باتیں سن کے وہ سنجیدہ تیوروں سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔
تم ہمیشہ نیگیٹو پہلو کیوں دیکھتی یا سوچتی؟ میں نے دوستی کی ہے نا تم سے؟ سب سے اچھی دوست ہو میری۔۔ میں کیسے جان چھڑا سکتا تم سے یا تمہیں بھول سکتا۔۔۔ اور اللّہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے۔۔ جو تمہارے ساتھ ہوا وہ تم نے خود نہیں کیا اور دعا کیا کرو اپنے لیےاور شکر ادا کیا کرو کہ اسنے کرم کیا۔۔۔ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
اسکی باتوں کو دل میں اتارتی وہ اسکی دوست والی بات پہ رکی۔۔۔
سمجھ رہی ہونا جو میں کہ رہا۔۔۔ اسنے اسکی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔۔
جی۔۔ اسنے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
گڈ چلو۔۔اب آرام سے سو جاو اور اچھی اچھی باتیں سوچا کرو اور اگر بور ہونے لگو تو مجھے کال کر لینا۔۔۔ اوکے۔۔
ہلکے پھلکے انداز میں کہتا وہ اسے ریلیکس سا کر گیا۔۔۔
اوکے۔۔۔ اسنے سر ہلایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا گفٹ دے رہی ہو مجھے زوجہ محترمہ؟ وہ کچن میں گلاس رکھنے آئی جب وہ پیچھے پیچھے آگیا۔۔۔
وہ صبح سے سب سے گفٹ بٹور رہا تھا کہ رات کو میں گھر نہیں ہونا مجھے ابھی گفٹ دو۔۔۔ اور سب نے ایسے ایسے گفٹ دیے کہ اگر کوئی اور ہوتا تو کبھی گفٹ کا نام نہ لیتا لیکن وہ معاویہ تھا۔۔۔ معاویہ ڈھیٹ۔۔۔۔
اور اب وہ مسلسل اسکے پیچھے پڑا تھا جسکا کہنا تھا کہ وہ گفٹ تو بھول چکی ہے انفیکٹ اسے تو یاد بھی نہی کہ آج اسکا برتھڈے ہے۔۔۔
آپ کیوں پیچھے پڑے۔۔ میں نے بتا تو دیا کہ میں نے گفٹ نہیں لیا۔۔ میں کیوں لیتی گفٹ؟؟ کوئی سپیشل بات تھوڑی ہے۔۔۔ اسے تپانے کو آرام سے کہتی وہ سب باتوں کا گویا بدلہ لے رہی تھی۔۔۔
ہیں۔۔۔۔ تم نے واقع ہی کوئی گفٹ نہیں لیا؟؟
وہ صدمے سے بھرپور آواز میں بولا۔۔۔
ہاں تو صبح سے کہہ رہی۔۔ کیا ہوا اردو سمجھ میں آنا بھول گئی؟؟
اسکے بھولپن سے کہنے پہ اسے آگ لگی لیکن پھر اس پہ نظر ڈالتے اسکی آنکھیں جگمگانے لگیں۔۔۔
اوہ۔۔ تو گویا آپ میرا گفٹ لینا بھول گئی۔۔۔ وہ دھیرے سے کہتا اسکی طرف بڑھا جو رخ موڑے گلاس سیٹ کر رہی تھی۔۔۔
بلکل۔۔۔ اسنے گردن اکڑائی۔۔۔
کوئی بات نہیں میں اپنی مرضی کا گفٹ لے لیتا۔۔۔ اسکی بات پہ وہ ہلکی سی گردن موڑتی بولی۔۔۔
اچھااااااا۔۔۔ کیسا گفٹ؟ وہ تمسخرانہ بولی لیکن اسکی ہر بات دھری کی دھری رہ گئی جب وہ اسکا رخ اپنی طرف موڑتا اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اپنے لبوں سے اسکی پیشانی اور رخسار چھو گیا۔۔۔۔
ایسا گفٹ۔۔۔۔ اسے آنکھ مارتا وہ پیچھے ہٹا جبکہ وہ سانسیں بحال کرتی آنکھیں پھاڑتی اسے تکتی گئی۔۔۔
ویسے یی سپیشل گفٹ تھا تھینک یو۔۔۔ معنی خیزی سے کہتا اس پہ ایک نظر ڈالتا وہ چلا گیا۔۔ جبکہ وہ پیچھے نیچے بیٹھتی اپنی بکھری سانسیں سنبھال رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ تیار ہو کہ نیچے آئی تو وہ ماما کے پاس کھڑا تھا۔۔ اسنے آیت اور لاریب بھابھی سے نظریں چرائیں جو معنی خیزی سے اسے تک رہی تھیں۔۔۔
بہت دیر لگائی علیزے؟ انکی شریر آواز نے اسے شرمانے لجانے پہ مجبور کیا وہ چہرہ چھپاتی مما کے پہلو میں آ گئی۔۔۔۔
جلدی چھوٹ دے دی میاں جی نے۔۔۔ جبکہ انکے ارادے تو خطرناک لگ رہے تھے۔۔۔
لاریب کی سرگوشی پہ اسکا چہرہ بھاپ چھوڑنے لگا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دو قدم کے فاصلے پہ کھڑا وہ بھی اس سرگوشی سے مستفید ہوا تھا۔۔۔
بھابھی پلیز۔۔۔ وہ ملتجی ہوئی تو وہ ہنستے ہوئے گلے لگا گئی۔۔۔
کہیں جا رہے ہیں آپ لوگ؟؟ اسنے لاعلمی کا مظاہرہ کرتے پوچھا جبکہ اسکا دل دھک دھک کرنے لگا کہ نجانے کیا ہو گا۔۔۔
ہاں ہاسپٹل جا رہے ادھر سے آپ کیلیے سپیشل سرپرائز لیکے آئیں گے۔۔۔ ماما نے خوشی سے بتایا۔۔۔
تو ہاسپٹل انکو میں ہی لے جاتا اور ساتھ جا کے سرپرائز چیک کرتا۔۔۔ اسنے ایک نظر اسے دیکھتے بات مکمل کی۔۔۔۔
اوکے بیٹا جی آپ چلیں جائیں۔۔ ماما کی بات پہ اسنے تشکر بھرا سانس لیا تو وہ اسے اشارہ کرتا باہر نکلا جبکہ ماما اسے ہدایات دیتی گاڑی میں بٹھا گئی۔۔۔
اب۔۔۔ اب آپ کیا کریں گے۔۔۔ اسنے گاڑی گھر سے نکلتے ہی سوال کیا۔۔۔
میں اب بہت کچھ کر سکتا آپ بتائیں کیا کروانا ہے مجھ سے۔۔۔
جتنا اسکا بے تکا سوال تھا اس سے زیادہ اسکا جواب آیا۔۔۔ اسکی بات پہ وہ ہاتھ ملنے لگی اور پھر بولی
آپ پتہ نہی کیسی باتیں کرتے؟ میں اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔
وہ نروٹھے انداز میں کہتی رخ بدل گئی۔۔۔
تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا اسنے فون کان سے لگایا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ڈاکٹر سومرو۔۔۔ جہان شاہ سپیکنگ۔۔۔
میں ابھی آپکو جو میسج دیا اس کے حساب سے ایک رپورٹ فائل ریڈی کریں۔۔۔ اور پھر دوسری طرف کی بات سننے لگا۔۔۔
نہیں چیک اپ نہیں کروانا۔۔۔ آپ جسٹ ویکنیس کی فائل تیار کریں۔۔نل پریگنینسی کے ساتھ۔۔۔ اسنے سنجیدگی اور دوٹوک انداز میں بات پوری کرتے موبائل رکھا۔۔۔
اور وہ جو پوری توجہ سے اسے سن اور سمجھ رہی تھی اسکے موبائل رکھتے ہی رخ موڑ گئی۔۔ اسکی اس حرکت پہ وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔۔۔
کچھ لمحوں بعد جب وہ ہاسپٹل کی بلڈنگ کے پاس پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود خان نے فائل اسے پکڑائی جسے تھامتا وہ علیزے کی گود میں رکھ گیا۔۔۔۔
اسنے گود میں رکھی فائل کو دیکھا جس پہ جعلی حروف میں لکھا تھا۔۔۔
Mrs.Jahan Haider Shah….
وہ کچھ پل مسمرائز ہوتی اس نام پہ ہاتھ پھیرتی رہی اور سپیڈ بریکر سے چونکتی وہ حواسوں میں آئی اور اسے کھول کہ دیکھا تو وہ اسکی میڈیکل فائل تھی۔۔۔۔
یی۔۔یہ کیسے؟ اسے سمجھ نہ آئی کہ کیسے پوچھے۔۔۔
یہ میں گھر میں ریڈی کروا چکا تھا لیکن ساتھ لانا اسلیے ضروری تھا کہ سب گھروالے تھے انہیں بھی ڈیل کرنا تھا۔۔۔ اسنے اسے بتایا۔۔۔
لِیکن ہاسپٹل جائے بغیر یہ۔۔۔۔ وہ پھر اٹکی۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ ڈاکٹر کے چیک اپ سے ہی تو ڈر رہی تھی۔۔۔۔
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا۔ کہ وہ ایسے چیک کر کے سوال کریں۔۔۔۔ اسنے دوٹوک انداز میں اسے سمجھانا چاہا تو اس نے تشکر بھرا سانس لیا اور ایک چور نظر اس پہ ڈالی جو بن کہے اسکی ہر بات سمجھ لیتا تھا۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔ اسنے دھیرے سے کہا جب اس نے اپنی نظریں اٹھائیں۔۔۔۔
علیزے پلیز ہوا کیا ہے؟کیوں جان نکال رہی ہیں میری؟
وہ بے بسی سے بولا۔۔۔
آپ بس گھر آئیں کسی کی بات نہیں سننی۔۔۔ وہ ایک ہی بات کیے گئی۔۔۔ اسنے خان کو اشارہ کیا کہ گاڑی نکالے۔۔۔
اور آپ کسی کو کہنا مت کہ میں نے بلایا۔۔۔ کال بند کرتے اسکی دھیمی آواز گونجی وہ اور پریشان ہوا اور باہر کو لپکا جب خان نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔
سر میٹنگ۔۔۔۔۔ اسنے بات مکمل کرنی چاہی لیکن اسکی سرد آنکھیں دیکھ کے چپ چاپ چل پڑا کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اب کسی بھی قیمت پہ رکے گا نہیں۔۔۔
سب کو پیچھے کر کے وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا جبکہ خان اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ تھا۔۔ اور پھر آندھی کی رفتار سے وہ دس منٹ میں مینشن پہنچا۔۔۔
تیز قدموں سے وہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھا جب آیت کو دیکھ کے بمشکل خود کو کمپوز کیا۔۔۔
ارے جہان بھائی آپ؟ خیریت اس وقت؟ انہوں نے اچنبھے سے پوچھا۔۔
جی مجھے فائل چاہیے تھے۔۔ انہیں جواب دے کے ایکسکیوز کرتا وہ جلدی سے سیڑھیاں عبور کرتا اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زی پھوپھو کون ہیں؟ اسنے خود پہ قابو پا کے پوچھا۔۔
میری پھوپھو ہیں۔۔۔ بہت پیاری ہیں، جو بھی انہیں دیکھتا وہ بس انکا دیوانہ ہو جاتا۔۔۔ مجھ سے بہت بہت پیار کرتی تھیں۔۔۔ لیکن پھر سب ختم ہو گیا اور مم۔۔ میں سب سے دور ہو گئی۔۔۔ اب۔۔اب میں نجانے ان سے ملوں گی کہ نہیں اگر ملی تو کیا وہ پہچانیں گے۔۔۔ وہ ٹرانس میں کہتی آخر میں سسکنے لگی۔۔۔
وہ بوکھلا گیا اور بے ساختگی میں اپنی پوروں سے اس کے بکھرے موتی چننے لگا۔۔۔ اسکے لمس سے کرنٹ کھا کہ اس نے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
پلیز ایم سوری لیکن ایسے روئیں مت۔۔ وہ اب بھی آپ سے ایسے ہی محبت کرتے ۔۔ میں وعدہ کرتا آپ کو ان سے ضرور ملواٶں گا۔۔۔ اسے محبت سے کہتا وہ اٹھا کے پھر سے بے اختیاری میں کچھ کر نہ دے۔۔۔
آپ ان کے ملنے کے بعد مجھے چھوڑ دیں گے۔۔۔ پشت سے آتی اسکی دھیمی آواز پہ وہ ساکت ہوا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولتا جب وہ اندر داخل ہوا تو وہ ٹہلتی نظر آئی اس پہ نظر پڑتے ہی وہ ضبط کھوتی بھا گ کے اسکے پاس آئی اور اسکے کندھے پہ سر رکھتی شدتوں سے رو دی۔۔۔
علیزے پلیز۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے؟ کیا ہوا ہے؟
وہ خود کو بے بسی کی انتہا پہ محسوس کر رہا تھا لیکن وہ کچھ نہ بولی تو کچھ لمحے بعد اسنے اسے پکڑ کے سامنے کیا اور دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرا تھاما۔۔۔
مینے ک۔۔۔کچھ نہ۔۔۔نہیں کیا۔۔۔سب۔۔غلط سمجھ رہے۔۔ ایسا۔۔ایسا کچھ نہیں۔۔۔ وہ بے ربطگی سے بولی۔۔
مجھے پوری بات بتائیں۔۔۔ اب کہ اسکی آواز میں ناجانے کیا تھا کہ اسکے آنسو ٹھٹھرے اور وہ نظریں چراتی تھوڑا پیچھے ہٹی۔۔۔
وہ۔۔ میں کل بھی روتی۔۔ رہی تو سس۔۔سر چکرا رہا تھا اور اب۔۔ابھی اتنا ہیوی ناشتہ۔۔تھا تو۔۔تو مجھے وومٹ ہو گئی۔۔۔۔ وہ رکی۔۔
ہوں۔۔۔ اسنے ہنکارا بھرا اور گویا آگے بولنے کا اشارہ دیا۔۔۔
اب مما کہتی ڈاک۔۔ڈ۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔۔ وہ پھر اٹکی۔۔۔
اس میں رونے والی کونسی بات؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔
نن۔۔نہیں ماما غلط سمجھ رہے۔۔۔ وہ جلدی سے بولی۔۔۔
کیا؟؟ یک لفظی سوال آیا۔۔۔
آپ سمجھ کیوں نہی رہے؟ وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
آپ ٹھیک سے سمجھائیں ہوا کیا ہے کیوں رورہی آپ؟؟ اسنے سوال دہرایا۔۔۔
ماما۔۔۔ سمجھ۔۔۔ سمجھ۔۔رہے کہ۔۔۔آپ۔۔ میں میرا مطلب۔۔۔
وہ اس سے دور ہوتی سرخ چہرے کے ساتھ پلٹی۔۔۔
میں پپپ۔۔پر۔۔۔ آپ کو سمجھ نہی آ رہی؟؟ وہ جھنجھلائی۔۔۔
نہیں۔۔۔
انہیں لگتاکہ۔۔ وہ پھر اٹکی لیکن پھر آنکھیں بند کرتی ایک سانس میں بول گئی۔۔۔
کہ میں ایکسپیکٹ کر رہی۔۔۔ وہ بات مکمل کر کے کانپ رہی تھی
جب کہ اک پل کو شاکڈ رہنے کے بعد وہ ہوش میں آیا اور گہری سانس بھری۔۔۔
وہ دھیرے سے چلتا کچھ سوچتا ریک کے پاس گیا اور ایک فائل نکالی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
