Rate this Novel
Episode 23
علیزے پلیز ہوا کیا ہے؟کیوں جان نکال رہی ہیں میری؟
وہ بے بسی سے بولا۔۔۔
آپ بس گھر آئیں کسی کی بات نہیں سننی۔۔۔ وہ ایک ہی بات کیے گئی۔۔۔ اسنے خان کو اشارہ کیا کہ گاڑی نکالے۔۔۔
اور آپ کسی کو کہنا مت کہ میں نے بلایا۔۔۔ کال بند کرتے اسکی دھیمی آواز گونجی وہ اور پریشان ہوا اور باہر کو لپکا جب خان نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔
سر میٹنگ۔۔۔۔۔ اسنے بات مکمل کرنی چاہی لیکن اسکی سرد آنکھیں دیکھ کے چپ چاپ چل پڑا کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اب کسی بھی قیمت پہ رکے گا نہیں۔۔۔
سب کو پیچھے کر کے وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا جبکہ خان اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ تھا۔۔ اور پھر آندھی کی رفتار سے وہ دس منٹ میں مینشن پہنچا۔۔۔
تیز قدموں سے وہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھا جب آیت کو دیکھ کے بمشکل خود کو کمپوز کیا۔۔۔
ارے جہان بھائی آپ؟ خیریت اس وقت؟ انہوں نے اچنبھے سے پوچھا۔۔
جی مجھے فائل چاہیے تھے۔۔ انہیں جواب دے کے ایکسکیوز کرتا وہ جلدی سے سیڑھیاں عبور کرتا اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زی پھوپھو کون ہیں؟ اسنے خود پہ قابو پا کے پوچھا۔۔
میری پھوپھو ہیں۔۔۔ بہت پیاری ہیں، جو بھی انہیں دیکھتا وہ بس انکا دیوانہ ہو جاتا۔۔۔ مجھ سے بہت بہت پیار کرتی تھیں۔۔۔ لیکن پھر سب ختم ہو گیا اور مم۔۔ میں سب سے دور ہو گئی۔۔۔ اب۔۔اب میں نجانے ان سے ملوں گی کہ نہیں اگر ملی تو کیا وہ پہچانیں گے۔۔۔ وہ ٹرانس میں کہتی آخر میں سسکنے لگی۔۔۔
وہ بوکھلا گیا اور بے ساختگی میں اپنی پوروں سے اس کے بکھرے موتی چننے لگا۔۔۔ اسکے لمس سے کرنٹ کھا کہ اس نے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
پلیز ایم سوری لیکن ایسے روئیں مت۔۔ وہ اب بھی آپ سے ایسے ہی محبت کرتے ۔۔ میں وعدہ کرتا آپ کو ان سے ضرور ملواٶں گا۔۔۔ اسے محبت سے کہتا وہ اٹھا کے پھر سے بے اختیاری میں کچھ کر نہ دے۔۔۔
آپ ان کے ملنے کے بعد مجھے چھوڑ دیں گے۔۔۔ پشت سے آتی اسکی دھیمی آواز پہ وہ ساکت ہوا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولتا جب وہ اندر داخل ہوا تو وہ ٹہلتی نظر آئی اس پہ نظر پڑتے ہی وہ ضبط کھوتی بھا گ کے اسکے پاس آئی اور اسکے کندھے پہ سر رکھتی شدتوں سے رو دی۔۔۔
علیزے پلیز۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے؟ کیا ہوا ہے؟
وہ خود کو بے بسی کی انتہا پہ محسوس کر رہا تھا لیکن وہ کچھ نہ بولی تو کچھ لمحے بعد اسنے اسے پکڑ کے سامنے کیا اور دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرا تھاما۔۔۔
مینے ک۔۔۔کچھ نہ۔۔۔نہیں کیا۔۔۔سب۔۔غلط سمجھ رہے۔۔ ایسا۔۔ایسا کچھ نہیں۔۔۔ وہ بے ربطگی سے بولی۔۔
مجھے پوری بات بتائیں۔۔۔ اب کہ اسکی آواز میں ناجانے کیا تھا کہ اسکے آنسو ٹھٹھرے اور وہ نظریں چراتی تھوڑا پیچھے ہٹی۔۔۔
وہ۔۔ میں کل بھی روتی۔۔ رہی تو سس۔۔سر چکرا رہا تھا اور اب۔۔ابھی اتنا ہیوی ناشتہ۔۔تھا تو۔۔تو مجھے وومٹ ہو گئی۔۔۔۔ وہ رکی۔۔
ہوں۔۔۔ اسنے ہنکارا بھرا اور گویا آگے بولنے کا اشارہ دیا۔۔۔
اب مما کہتی ڈاک۔۔ڈ۔۔۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔۔ وہ پھر اٹکی۔۔۔
اس میں رونے والی کونسی بات؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔
نن۔۔نہیں ماما غلط سمجھ رہے۔۔۔ وہ جلدی سے بولی۔۔۔
کیا؟؟ یک لفظی سوال آیا۔۔۔
آپ سمجھ کیوں نہی رہے؟ وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
آپ ٹھیک سے سمجھائیں ہوا کیا ہے کیوں رورہی آپ؟؟ اسنے سوال دہرایا۔۔۔
ماما۔۔۔ سمجھ۔۔۔ سمجھ۔۔رہے کہ۔۔۔آپ۔۔ میں میرا مطلب۔۔۔
وہ اس سے دور ہوتی سرخ چہرے کے ساتھ پلٹی۔۔۔
میں پپپ۔۔پر۔۔۔ آپ کو سمجھ نہی آ رہی؟؟ وہ جھنجھلائی۔۔۔
نہیں۔۔۔
انہیں لگتاکہ۔۔ وہ پھر اٹکی لیکن پھر آنکھیں بند کرتی ایک سانس میں بول گئی۔۔۔
کہ میں ایکسپیکٹ کر رہی۔۔۔ وہ بات مکمل کر کے کانپ رہی تھی
جب کہ اک پل کو شاکڈ رہنے کے بعد وہ ہوش میں آیا اور گہری سانس بھری۔۔۔
وہ دھیرے سے چلتا کچھ سوچتا ریک کے پاس گیا اور ایک فائل نکالی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
