55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

کیسی بے مروت بھابھی پلس بہن ہیں آپ؟ کال اٹھاتے ہی معاویہ کی افسوس بھری آواز گونجی۔۔۔
اسکی بات سے وہ اک پل کو ہونق ہوئی کے آیا کہ رات کے اس پہر وہ یہ طعنہ کیوں دے رہا۔۔۔
وہ جو آپ کا جلاد شوہر ہے، اس سے تو مجھے کوئی امید ہی نہیں تھی لیکن آپ کس خوشی میں مجھے وش کرنا بھولیں ہیں. .۔۔۔۔ اسکی بات پہ وہ اپنی عقل کو ہاتھ مارتی رہ گئی۔۔۔۔
اب چپ کیوں ہیں آپ؟ اور وہ دیو کہاں ہے؟ مجھے بتائیں وش کیوں نہیں کیا؟ اسکے سوال پہ اسکی بے ساختہ نظر پاس کہنی کے بل دراز ہوئے جہان سے ٹکرائی۔۔۔
اسکا دل دھڑکا، اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اس دیو نے چند پل کو اسے رات کو اپنے بس میں کر کے ساری دنیا سے بیگانہ سا کر دیا تھا۔۔۔۔۔
سوری بھائی۔۔۔ مجھے یاد تھا لیکن مجھ۔۔مجھے۔۔۔ نیند آ گئی۔۔۔۔۔ وہ بے ربطگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
یہ کس خوشی میں تم رات کے اس پہر میری بیوی کو تنگ کر رہے؟؟ اسکی خشونت بھری آواز پہ وہ گڑبڑائی جبکہ وہ چہک کے بولا۔۔
توبہ کرو جسکا تم جیسا ڈیول شوہر ہو گا وہ کیونکر کسی سے ڈرے گی. ۔ . . . . اسنے تپانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔
افسوس کے بھابھی اتنی معصوم ہیں وگرنہ اتنے عرصے میں تو انہیں تم پہ بھی حکم چلانا چاہیے۔۔۔۔ اسنے پھر سے بک بک کی۔۔۔
بھآبھی۔۔۔۔ اسنے اسے پکارا۔۔۔
جج۔۔جی بھائی۔۔۔ وہ فورا بولی
آج کے بعد وعدہ کریں اس سے ڈرنا نہیں بلکہ اسے ڈرا کے رکھنا ہے۔۔۔ اوکے۔۔۔ اسنے وعدہ لینا چاہا۔۔
وہ تو بری پھنسی تھی اسے پتہ تھا وہ دونوں ایک پل کو دشمن بنے ہوتے اور دوجے پل ان سے اچھا دوست کوئی نہیں ہوتا۔۔ لیکن ابھی جو وہ اسے کہ رہا تھا وہ گویا کنویں میں چھلانگ لگانے کے مترادف تھا۔۔۔
بولیں نا۔۔۔۔ اسنے اصرار کیا۔۔
اوکے۔۔۔ وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتی ہار مانتی بولی۔۔۔ جبکہ وہ ابرو اچکا کے اسے دیکھتا رہا۔۔”رئیلی”۔۔۔
وہ جھینپی لیکن اپنادھیان مکمل معاویہ کی طرف لگایا۔۔۔
گریٹ بھابھی ۔۔۔ اب چلیں مجھے وش کریں۔۔۔
ایویں ہی اب کیوں وش کروں؟ اور یہ کونسی وش ہے جو خود بول کے لی جا رہی۔۔۔ اسنے مسکراٹ دباتے اسے تنگ کیا۔۔۔
بھابھی ی ی۔۔۔۔ وہ صدمے سے چلایا۔۔۔۔
اوکے اوکے سوری۔۔۔ اسنے سیزفائر کیا جبکہ وہ پرسکون سا دونوں کی گفتگو ملاحظہ کر رہا تھا۔۔۔
Wishing a very happy birthday bhai….
اسنے دھیمے سے گنگنا کہ کہا کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسکی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔۔
ہو گیا تمہارا؟ چلا اب سو اور ہمیں بھی سونے دو۔۔۔ اسنے کہنے کے ساتھ ہی اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر کاٹتے اسکی ساری باتوں کا بدلہ لیا۔۔۔۔
اسکے کال آف کرتے ہی وہ کمبل میں چہرہ چھپا گئی، اسکی اس حرکت پہ اسکے لبوں پہ مسکراہٹ بکھری۔۔۔
آپ کی یہ معصوم حفاظتی سرگرمیاں۔۔۔۔ اسکی گھمبیر آواز گونجی اسنے کمبل کو اور مضبوطی سے جکڑ لیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . .
وہ سب بچوں کو ساتھ لیے انہیں ناشتہ کروا رہی تھی۔۔وہ جب سے ادھر آئی تھی یی اسکا معمول تھا وہ آدھے سے زیادہ ٹائم بچہ پارٹی میں صرف کرتی تھی۔۔۔
جہان آج بغیر ناشتے کے ہی اسکے سوتے ہوئے ہی کہیں جا چکا تھا جس سے وہ لاعلم تھی۔۔
بھاؑبھی آ جائیں سپیشل ناشتہ کریں معاویہ کی برتھڈے کی خوشی میں کیونکہ وہ آج رات کو گھر نہیں ہوگا پپا نے کراچی بھیجنا اسلیے زرا ناشتے سے اسکا موڈ فریش کرنے لگے۔۔۔ زینی نے پرجوش آواز میں آکے اسے بلایا کیونکہ وہ بچوں سے فارغ ہو چکی تھی اسلیے ڈائیننگ ٹیبل تک آئی لیکن میز پہ نظر ڈال کے وہیں رک گئی۔۔۔
حلوہ پوری، پراٹھے، پائے، چنے، اچار، آملیٹ اسی طرح کے لوآزمات سے میز بھری تھی گویا کے کافی دمدار ناشتے کا اہتمام تھا۔۔۔
آو بیٹا رک کیوں گئی؟ بیٹھو۔۔۔ ہھوپھو نے اسے بٹھایا اور پوری اسکے سامنے رکھی۔۔ تیل میں نچڑی پوری دیکھ کے وہ چکرا رہی تھی۔۔۔
میں ایسا ہیوی ناشتہ نہیں کر سکتی، آپ مجھے آملیٹ دیں۔۔۔ اسنے خود کو روکتے کہا۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا کھاو آج۔۔۔اپنی صحت اچھی ہو گی تب ہی کل کو بچے صحت مند ہونگے۔۔۔ انہوں نے اسکے چھکے چھڑوائے وہ کانوں تک سرخ پڑی، سبکا دھیان انکی طرف تھا۔۔۔۔
پھر زبردستی انہوں نے اسے ہر چیز کھلائی۔۔۔ وہ بمشکل کھا رہی تھی اسکا سر چکرا رہا تھا اور اسے لگ رہا تھا کہ اب کہ بس نہ ہوا تو وہ سب باہر اگل دے گی۔۔۔
بس میں کھا چکی۔۔ مجھے جوس دیں پلیز۔۔ وہ بمشکل بولی۔۔
جوس کے کچھ سپ لے کے وہ اٹھ گئی۔۔۔ کچھ قدم چلی ہو گی کہ چکراہٹ سے دونوں ہاتھوں سے سر تھام گئی۔۔۔
کِیا ہوا علیزے؟ وہ سب اسکی طرف متوجہ ہوئے۔۔
پتہ نہیں مما!میرا سر چکرا رہا۔۔ وہ بھیگتی آواز میں بولی ، اس سے پہلے کے وہ اسے ساتھ لگاتی وہ بھاگتی واش بیسن پہ جھکی اور کھایا پیا سب اگل دیا۔۔۔
سب پریشان اسکی طرف لپکے جو حال سے بے حال ہوئی جا رہی تھی اور روئے جا رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا میرا بچہ؟ ماما نے اسے ساتھ لگاتے پچکارتے پوچھا۔۔
ک۔۔کل سے ہی سر ایسے چکرا رہا اور ابھ۔۔۔۔ وہ ابھی بول رہی تھی جب انہوں نے جوش سے اسے بھینچا اور اسکا ماتھا۔۔
تو کل کیوں نہیں بتایا؟ یہ چھپانے والی بات نہیں ہے۔۔ اللّہ نے بہت کرم کیا۔۔۔ وہ خوشی سے چور لہجے میں بولیں جبکہ وہ آنکھیں پھاڑے انکی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ اس میں کونسی خوشی کی بات ہے۔۔۔
سچ میں بھابھی۔۔۔ مما نے پوچھا جبکہ باقی سب بھی خوشی سے لبریز چہرے لیے کھڑے تھے اک سوائے اسکے۔۔۔
ہاں اللّہ کا شکر ہے اسنے میرے جہان اور علیزےپہ کرم کیا۔۔ اب میں دادو بنوں گی۔۔۔ انکی بات پہ اسے جھٹکالگا۔۔۔
نن۔۔ نو ماما۔۔ اسنے بولنا چاہا لیکن نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا۔۔۔۔
بس آپ نے پریشان نہیں ہونا۔۔ میں ابھی جہان کو کال کرتی ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے یا اسے گھر بلاتے۔۔۔ آپ جائیں تیار ہوں. . . اسکی کچھ بھی سنے بغیر انہوں نے روم میں بھیبجا۔۔۔
وہ پریشان سی کمرے میں چکر لگا رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ انہیں کیسے سمجھائے کہ کل زیادہ رونے اور ابھی اس ہیوی ناشتے سے اسکی یہ حالت ہوئی ہے وہ پریشانی سے رونے لگی۔۔۔۔
اور پھر ایک خیال آتے ہی لپک کے موبائل پکڑتے ایک نمبر ملانے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . . ۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھی اسلیے اسکے ایک بار کہنے پہ باہر لان کا چکر لگا کے آئی تھی بلکہ اسکے ساتھ پورا وارڈ بھی گھوم کے آئی تھی اور اب اسکے ساتھ بیٹھی گیم کھیل رہی تھی۔۔۔
میں اگر آپ سے کچھ کہوں تو آپ روئیں گی تو نہیں؟ اسنے اس سے اچانک پوچھا۔۔
خیریت۔۔ وہ مگن سی بولی۔۔
ہاں ایکچوئلی مجھ سے تمہیں روتا ہوا نہی دیکھا جاتا۔۔ اسکی بات پہ اسکا ہاتھ تھما اور ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔۔۔
نہیں آپ کریں بات۔۔۔ اسنے آہستگی سے کہا۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ ہولے سے تھامتا بولا۔۔۔
تھوڑا سا یاد کرنے کی کوشش کریں اپنا ماضی۔۔۔ کچھ ہلکا سا تو یاد ہو گا کسی کی کوئی پرچھائی۔۔۔ اسکے ہاتھوں پہ دباو ڈالتا وہ اسے اکسانے لگا۔۔۔
وہ سسکی لیکن اپنی آنکھیں بند کر لیں جب ہاتھوں پہ مزید دباو محسوس ہوا تو بڑبڑائی۔۔۔
ز۔۔۔زی۔۔۔ زی پھوپھو۔۔۔۔ اسنے بلاخر ایک لفظ ادا کیا جسے سنتاوہ چونکا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملاتے فون کان سے لگایا اور گہری سانس لیکے خود کو پرسکون کیا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔ بھابھی میم! خان کی آواز گونجی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ شاید بزی ہے لیکن وہ اس وقت سب حد بندیاں ختم کیے بیٹھی تھی۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔ خان شاہ کدھر ہیں۔۔ اسنے جلدی سے پوچھا کہ وقت کم تھا۔۔۔
سر تو میٹنگ میں ہیں،۔۔ وہ جوابا گویا ہوا۔۔۔
مجھے بات کرنی ابھی۔۔۔ وہ بھیگے لہجے میں بولی۔۔۔
لِیکن م۔۔۔۔ اسنے کچھ کہنا چاہا تو وہ ہلکا سا چیخی۔۔۔
خان پلیز۔۔۔۔۔
اوکے میم ۔۔ وہ فورا بھاگا۔
دروازہ کھول کے جب وہ اینٹر ہوا تو اسکے ماتھے پہ بل پڑے کیونکہ وہ کبھی بھی ایسے نہ آیا تھا۔۔۔ اسنے استفہامیہ انداز میں اسے دیکھا تو اس نے فون سامنے کیا اور چمکتی سکرین پہ اسکی پک دیکھ کے وہ فورا اٹھا اور ایکسکیوز کرتا باہر بھاگا۔۔۔
علیزے کیا ہوا؟ اسنے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
آپ کدھر ہیں؟؟ گھر آ جائیں پلیز ابھی۔۔۔ اسکی آواز پہ ضبط کھوتی وہ رو پڑی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے؟؟ اسکا دل پریشانی سے ڈوبا۔۔۔
آپ بس آ جائیں ، کسی کی کوئی بات نہیں سننی بس سیدھا میرے پاس آئیں۔۔۔ ابھی پلیز۔۔۔۔ وہ بولتی جا رہی تھی. اور اسکی باتوں نے اسے پریشان کر دیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔