Rate this Novel
Episode 20
کوئی مجھ سے سب کچھ لے لے لیکن یہ آپ کی جدائی کا ڈر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔ مر جاٶنگا میں، کیوں نہیں سمجھتی آپ مجھے ، میرے عشق کو۔۔۔۔ وہ اسکے کندھے پہ سےسر ٹکائے بے بسی سے تڑپ رہا تھا جبکہ وہ تو بے جان اسی کے سہارے اسی سے لپٹی کھڑی تھی۔۔۔۔۔
اسے بس اسکے آنسو محسوس ہوتے یہی سرگوشی سنائی دے رہی تھی
نہیں رہ سکتا میں آپ کے بغیر، مت دیں مجھے اتنی آزمائش میں اسے پورا نہیں کر سکتا۔۔۔ آپ نہ ملیں مجھ سے، پیار بھی نہ کریں لیکن مجھے اپنی خوشبو سے ، وجود سے اور اپنے چہرے سے محروم نہ کریں۔۔۔
نہیں کرنا آپکو مجھ سے شادی نہ کریں۔۔۔ لیکن باخدا مجھے یہ سزائے ہجر مت دیں۔۔ اپنے آپ سے محروم مت کریں، مجھے اس شہر سے دور مت کریں جس میں آپ سانس لیتی ہیں۔۔ مت بنیں اتنی ظالم۔۔۔۔۔
اسے لگا وہ ان سرگوشیوں سے ان آوازوں سے گھٹ گھٹ کے مر جائیگی۔۔۔
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا کہ وہ دونوں آج بھی اسی مقام پہ تھے جہاں سے چلے تھے۔۔۔
آج بھی اسکے بھیگتے کندھے نے اسے باور کروا دیا تھا کہ یہ شخص اس سے محبت کر کے خسارے میں رہا ہے اسی لیے تو اسے اس محبت کی قید سے آزاد کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اسے یہ خیال کندچھری کی مانند کاٹ رہا تھا کہ اسے سینے سے لگائے، اسکے کندھے میں من چھپائے ، اسکے عشق میں آنسو بہاتے اس شخص کی ہر ازیت کا باعث بنی ہے۔۔۔
اسکی بھابھی ہمیشہ کہتی تھی کہ خوشنصیب ہوتی وہ عورت جسے پانے کیلیے مرد روئے لیکن اب اسے احساس ہوا تھا کہ یہ ایک جان لیوا منظر و احساس تھا۔۔۔۔
اس نے اس شخص کی آنسو کبھی نہیں دیکھنے چاہے لیکن اسکے ہر آنسو کا سبب وہی بنی تھی ۔۔۔ اسلیے اس نے اسے اور خود کو ازیت سے نکالنے کیلیے ایک پل کو آنکھیں بند کرتے کچھ سوچا اور پھر۔۔۔
ہمت یکجا کرتی اسکے سینے سے سر اٹھاتی اسکا چہرہ کانپتے ہاتھوں سے تھام کے اوپر کیا اور پھر دھیرے سے صاف کرنے لگی۔۔۔۔
اس ادا پہ اسکا دل رکا اور تھم سا گیا اور اسنے آنکھیں میچتے کچھ سوچا۔۔۔
اگر میں آپ سے کچھ مانگوں تو دینگے؟؟ وہ ضبط کرتا آنکھیں کھول گیا اور اس تکلیف دہ منظر سے جان چھڑائ اسے دیکھتے اسکا دل ڈوبا۔۔۔۔
تو کیا آج بھی۔۔۔۔
آج بھی وہی سب ہوگا؟ وہ کیا کرنے والی تھی؟ اسنے اپنے بال سمیٹتی علیزے کو دیکھتے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا جو کانپتے ہاتھوں سے اسکے ماتھے پہ بکھرے بال سمیٹ رہی تھی۔۔۔
اسے لگا وہ کچھ دیر یونہی لگی رہی تو اسکا دل دھڑکنا بھول جائیگا۔۔۔
کیوں مارنا چاہتی ہیں آپ مجھے؟؟ اسکی گھمبیر خاموشی پہ اسکا ہاتھ لرزا، اسنے تڑپ کے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
میں۔۔ آپ۔۔ آپ۔۔ سس۔۔۔ اسنے کچھ بولنا چاہا لیکن اسنے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پہ رکھی۔۔۔
نہیں۔۔ میں آج کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔ آپ مجھ سے میرا سب کچھ لے لیں لیکن میں آج آپکو وہ نہیں دے سکتا جو میں پانچ سال پہلے دے چکا ہوں، مجھ میں پھر سے ہمت نہیں آپکو خود سے دور کرنے کی۔۔ میں اپنی محبت کی پھر سے آزمائش نہیں دے سکتا۔۔ ترس کھائیں مجھ پہ۔۔نہیں سہہ سکتا اب میں یہ سب نہیں جل سکتا اب میں مزید اس آتشِ ہجر میں۔۔۔ اسکا حرف حرف کرلا رہا تھا۔۔۔
شش۔۔ شاہ۔۔ مم۔۔ اسکے لب پھر سے لرزے لیکن وہ اسکو سینے میں بھینچ گیا۔۔۔
اسکی گرفت میں اتنی شدت تھی کہ اسے لگا اسکی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔۔۔
کیسے؟ کیسے کریں گی یقین۔۔ کب بخشیں گی محبت کو اعزاز۔۔۔ بخدا یہ دور جانے کی ضد چھوڑ دیں۔۔۔ اسنے اسے اپنے سامنے کیا
میرے جیتے جی تو آپ اب دور جا نہیں سکتی۔۔اسلیے یہ بات اب زبان پہ مت لائیے گا۔۔۔۔ اسے چھوڑ کے وہ پلٹا لیکن دروازے کے پاس جا کے رکا۔۔۔
اگر آپ واقعی مجھ سے دور جانا چاہتی ہیں تو پہلے مجھے اپنے ہاتھوں سے ماریں۔۔۔ اسے لہو لہو کر کے وہ کمرے سے نکلا۔۔۔
قصہ مختصر جاناں!!
مجھے مرنا ہے تیری چاہ میں۔۔۔۔
وہ ابھی تک اسکے زہریلے لفظوں کے حصار میں تھی ۔۔۔ بے جان ہوتی وہ وہی پہ گھٹنوں کے بل زمیں پہ بیٹھ گئی اور گھٹ گھٹ کے رونے لگی۔۔۔ اسکے الفاظ کی بازگشت اسے مارنے تڑپانے کو کافی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیو پینٹ ، وائیٹ شرٹ اور بلیو ویسٹ پینے وہ غصے سے ادھر آدھر ٹہل رہا تھا۔۔۔
اسکے سامنے کھڑے افراد اسکا یہ روپ دیکھ کے بار بار اپنا حلق تر کر رہے تھے۔۔۔
س۔۔سر وہ۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ وہ دھاڑا۔۔۔
وہ کبھی اسطرح سے گفتگو کا عادی نہ تھا ۔۔ بے تحاشا غصے میں بھی لہجے کو کنٹول رکھتا تھا لیکن آج ہونے والے واقعہ نے اسکا دماغ گھمایا ہوا تھا۔۔۔
جو وقت میں نے دیا تھا اس میں اسے ڈھونڈنا تھا لیکن اتنے وقت میں تم سب اسکا سراغ بھی نہ لگا سکے۔۔۔ اسنے ایک طیش بھری ٹھنڈی نظر سب پہ ڈالی۔۔۔
سر۔۔ ہم نے پوری کوشش۔۔۔ ایک نے بولنے کی کوشش کی لیکن اسکے تاثرات نے اسے منہ بند رکھنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔
صرف چوبیس گھنٹے۔۔۔ ان چوبیس گھنٹوں کے بعد بھی مجھے کوئی رسپانس نہ ملا تو تم سب اس فیلڈ کیلیے نااہل ہو جاٶ گے۔۔۔ اسنے سب کو وارننگ دی تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔
اٹس دیٹ کلیئر۔۔۔ اسنے اب کے سرد آواز میں پوچھا تو وہ چونکے اور یک زبان بولے۔۔۔
یس سر۔۔ اور باہر کو نکلے جبکہ اسنے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔
شاہ اسپیکنگ۔۔۔ اور دوسری طرف کی بات سننے لگا جوں جوں بات سنتا گیا اسکے ماتھے کے بل گہرے ہوئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک وہی پڑی سسک رہی تھی جب ادھ کھلے دروازے سے اندر کا منظر دیکھ کے بوکھلاتی مما اندر داخل ہوئیں۔۔۔
علیزے کیا ہوا میرا بچہ؟؟ اسنے اسے ساتھ لگا کے پوچھا جبکہ وہ تو کچھ محسوس کرنے سے قاصر تھی ۔۔
علیزے میرا بیٹا کچھ تو بولو۔۔ میرا دل ہول رہا ہے۔۔ انہوں نے اسے جھنجھوڑا تو وہ چونکی۔۔۔
وہ۔۔ وہ شاہ۔۔۔
کیا ہوا شاہ کو۔۔۔ وہ گھبرا گئیں۔۔
انہوں نے ایسا کیسے کہا؟ وہ یہ سب کیوں کہ گئے ؟ ۔۔۔ مجھے کہتے دور جانے کی باتیں نہ کرو پھر خود کیوں یہ سب کہا۔۔۔ وہ سسک پڑی۔۔
کیوں نہیں سمجھتے سب مجھے۔۔ اگر وہ میرے ساتھ رہے تو ۔۔۔ مما میں مر جاٶنگی ایسے۔۔ اس خوف سے۔۔۔ وہ بلک پڑی انہوں نے اسے سینے میں بھینچا۔۔۔
اکتا گئے ہیں مجھ سے، نہیں کرتے وہ مجھ سے پیار۔۔ بلکل نہیں کرتے۔۔۔ اسکی زہنی رو بھٹکی ہوئی تھی وہ بولتی جا رہی تھی۔۔۔
نہ میرا بچہ ایسے نہیں کہتے۔۔ اٹھو فریش ہو ۔۔ نیچے آو میرے ساتھ۔۔۔ آ لینے دو اسے میں پوچھتی ہوں اسے رلایا کیسے اسنے میری بیٹی کو۔۔۔ اسی طرح بہلاتے پھسلاتے وہ اسے فریش کرتیں نیچے لے گئیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالہ وہ کافی حد تک کور کر چکی ہیں اب آپ نیکسٹ سٹیپ لے لیں۔۔۔ ہاسپٹل کے روم میں آریان کے سامنے بیٹھا وہ مٹھی ہونٹوں پہ جمائے اسے سن رہا تھا جبکہ معمول کے مطابق خان ساتھ تھا۔۔۔
اب آپ اسے اسکے پیرنٹس کے مطلق کچھ لنک تو دیں کوئی اشارہ۔۔۔ وہ دوبارہ بولا۔۔۔
یہ کام تو تم بھی کر سکتے۔۔ اسنے دھیمے سے کہا۔۔
نہیں لالہ۔۔ اس ٹاپک کے آتے ہی وہ رونے لگتی ہے اور مجھ سے اسکا رونا دیکھا نہیں جاتا۔۔۔ وہ بے ساختہ بولا۔۔۔
اسنے بہت گہری نظروں سے بغیر چونکے اسکا جائزہ لیا۔۔ اسکی زندگی میں بہت کم ایسے موقعے آئے جو اسے چونکانے کا باعث بنے ہوں۔۔۔
اسکی گہری نظروں سے وہ گڑبڑا گیا۔۔
میرا مطلب ہے کہ لڑکی ہیں نا تو انکا رونا دیکھنا مشکل۔۔۔ اسنے بہت بودی دلیل دی۔۔۔
اچھی بات۔۔ لیکن یہ کام اب تمہیں ہی کرنا ہے۔۔ اور اچھے طریقے سے۔۔۔ اگر اسکیلیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو پہلے یہ کرو۔۔۔ اسنے دوٹوک انداز میں بات ختم کی اور اسے بولنے کا موقع دیے بغیر باہر نکلتا گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کے ساتھ نیچے بیٹھی انجوائے کرتی بہت حد تک بہل چکی تھی ۔۔مما مسلسل اسکے ساتھ تھیں۔۔۔ کچھ نہ کچھ ڈسکشن چل رہی تھی۔۔ معاویہ کی برتھڈے آ رہی تھی سو سب اسے جلانے کا پلان بنا رہے تھے۔۔
تبھی خان اور وہ ہال میں داخل ہوئے اور سبکو سلام کیا۔۔ لیکن مما نے سلام کا جواب دینے کی بجائے منہ پھیر لیا۔۔ وہ حیران ہوتا انکے قریب چلا آیا۔۔۔
خیریت؟؟ اسنے استفسار کیا لیکن مما نے اسے جواب دینے کی بجائے سب لڑکیوں کو کسی نہ کسی کام سے لگایا۔۔۔
اٹھو کھانا لگاو۔۔۔ انہوں نے سب کو اٹھا دیا جب وہ بھی اٹھنے لگی تو اسکا ہاتھ دبا کے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ وہ ابھی تک چپ کھڑا مما کے تاثرات ملاحظہ کر رہا تھا۔۔۔
کیا کہا آپ نے میری بیٹی کو؟ انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا تو وہ بوکھلا گئی اب اسے احساس ہوا اسے مما کے سامنے کچھ بھی نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔
میں نے کیا کیا؟ اسنے اسی انداز میں پوچھا ۔۔
اب یہ بھی میں بتاو؟ بولیں کیا کہا ہے جو یہ کمرے میں پڑی سسک رہی تھی۔۔ اگر میں کمرے میں نہ جاتی تو نہ جانے کب تک ایسے پڑی رہتی۔۔۔ انکی بات پہ وہ اس پہ گہری نظر ڈالتا ایک سانس بھرتا صوفے پہ بیٹھا۔۔۔
میرا قصور مجھے پتہ نہیں چلا؟؟ اسنے مما کو جواب دیتے اسے فوکس میں رکھا جو انگلیاں چٹخاتی بھاگنے کو پرتول رہی تھی کیونکہ وہ بلکل اسکے قریب پڑے صوفے پہ بیٹھا تھا۔۔۔
قصور یہی ہے کے آپ نے ایسا کچھ تو کہا ہو گا۔۔۔ جس سے اسے لگا کہ آپ اس سے اکتا گئے اور کوئی پیار نہیں کرتے۔۔۔ مما نے آخری خطرناک بمباری کی جسکا خاطر خواہ اثر ہوا۔۔۔
رئیلی۔۔۔ انہیں یہ شکایت مجھ سے؟ اسنے اب کے لودیتی نظروں سے اسے دیکھتے محظوظ انداز میں پوچھا۔۔۔ جبکہ وہ کہیں چھپنے کو ایسا کونہ تلاش کرنے لگی جہاں اسکی نظروں سے چھپ سکے۔۔۔
ڈونٹ وری مما یہ شکایت میں دور کر دونگا۔۔۔ آج انہیں بتاوں گا کہ میں کتنا پیار کرتا اب یہ ان پہ ڈیپینڈ کرتا کہ یہ کتنا پیار برداشت کر سکتی۔۔۔ آج انکی سب شکایتیں دور کرونگا۔۔۔ پہلا جملہ مما کو بول کے وہ ہلکا سا اسکی جانب جھکتا بات مکمل کرتا اسکے چھکے چھڑا گیا،، اسکی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی۔۔ جسم کا سارا خون سمٹ کے چہرے پہ آگیا۔۔۔
وہ بوکھلاتی کھڑی ہوئی،اتنی ہی تیزی سے جہان نے اسکا ہاتھ پکڑتے نرمی سے پیچھے کو بٹھایا۔۔۔
بیٹھ جائیں۔۔۔ اسنے آرام سے کہا۔۔۔
میں کہہ رہی ہوں جہان آج کے بعد میری بیٹی کو رلایا تو میں ناراض ہو جانا۔۔۔ انہوں نے دھمکی دی۔۔۔
ڈیریسٹ مما جب ایسی شکل والے دیو کے ساتھ ایسی باربی کو رہنا پڑتا نا تو رونا خودبخود آجاتا۔۔۔ معاویہ نے اندر آتے ٹکرا لگایا تو اتنی ٹینشن کے باوجود اسکے ہونٹوں پہ ہنسی آ گئی جسے چھپانے کو وہ چہرا جھکا گئی۔۔۔
شرم کرو بڑا بھائی ہے تمہارا۔۔۔ مما نے لتاڑا۔۔۔
آپ میرے خیال سے اسے ڈانٹ رہی تھیں اب کیسے پارٹی بدل لی۔۔ اپنے ہسبیڈ کی بجائے آپکو سیاست میں ہونا چاہیے تھا ڈیریسٹ مما۔۔۔ اسکی اداکاری عروج پہ تھی جبکہ مما جھینپ گئیں۔۔۔
تمہاری حرکتیں دیکھ کے میں سوچ رہا زینی کی رخصتی لیٹ کروں۔۔ جہان نے اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
خبردار ایسا سوچا بھی تو خود شادی شدہ لائف انجوائے کر رہے سب جبکہ میرا خیال ہی نہیں ۔۔۔ اسکے ردعمل نے سب کے لبوں پہ بے ساختہ ہنسی بکھیر دی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مہرون شرٹ اور سکن کیپری میں ملبوس ڈریسر کے سامنے کھڑی بالوں میں جھنجھلاتی کنگھی کر رہی تھی جب دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔
لِیکن وہ اپنے ہی مسئلے میں الجھی رہی اسکا دھیان تب بھٹکا جب اسے اپنے سمت آتے دیکھا۔۔۔۔ اسکے ہاتھوں کی حرکت مدھم ہوئی۔۔۔۔
وہ ہنوز اسکی طرف آرہا تھا۔۔۔اسے اپنی غلطی کا اب احساس ہوا تھا وہ کیوں اسکی بات کو بھول گئی اور جلدی سونے کو لیٹی نہیں۔؟ اب اسے اس غلطی کا ناجانے کیا خمیازہ بھگتنا تھا۔۔۔
اسنے شیشے میں ہی دیکھتے اپنا ڈوپٹہ تلاشا لیکن بے سود ۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ایسے موقعوں پہ کیسے بندش لگائی جاتی۔۔۔
اچھا بھلا سب مجھے ٹوٹکے دینے لگتے مینے کیوں نہ کبھی سنے۔۔۔ ایک آدھ ہی سن لیتی۔۔ کیسے روکوں انہیں۔۔ اسکے ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہوئے۔۔۔
اسنے ایک پل کو کچھ سوچا اور پھر رخ موڑتے اسے مسکرا کے دیکھا۔۔۔ یہ اسنے بندش لگاتے انجانے میں پیش قدمی کر دی۔۔۔۔
یہ نہ سمجھی کہ محبوب اور شوہر میں فرق ہوتا۔۔ محبوب مسکراہٹ پہ سب کچھ مان جاتا جبکہ احساس ملکیت بھی ہو ، ایسا ماحول بھی ہو، سامنے محبت ہو تو ایسی بندشیں پیش قدمیاں ہی بنتیں۔۔۔
تھک۔۔تھک گئے ہونگے۔۔ آپ فریش ہو لیں، میں کپڑے۔۔۔ وہ الجھتی بولتی وارڈروب کی جانب لپکی جب اسنے اسے روکا، اسکی گرفت میں ایسی تپش تھی اسے لگا وہ جل کے خاکستر ہو جائیگی۔۔۔
نہ کریں میری جان۔۔۔ میرے بہکے جذبات کو مزید مت بہکائیں۔۔ برداشت نہیں کر پائینگی۔۔۔ اسکی بات پہ وہ پیچھے ہونے لگی لیکن گرفت مضبوط تھی۔۔۔
شش۔۔ ڈونٹ موو۔۔۔ہاں تھک گیا ہوں میں ۔۔ تھکن اتاریں میری ، سمیٹیں خود میں مجھے، بہت تھک گیا ہوں میں۔۔۔ اسکے بالوں میں منہ چھپاتے وہ اسے کانپنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔
کک۔۔ کیا۔۔ کیا کر ۔۔۔۔۔رہے ہیں؟؟ اسنے اٹکتے پوچھا تو وہ سیدھا ہوا اور چمکتی سیاہ آنکھیں اسکی سبز آنکھوں میں گاڑھتا دھیمے سے بولا۔۔۔
آپ کی شکایت دور۔۔۔ لودیتے لہجے میں کہتا وہ اسکی جان اٹکا گیا۔۔۔ اسکا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
