Rate this Novel
Episode 02
لیکن جہان اسکی طرف متوجہ نہیں تھا، اسکا سارا فوکس وہ پانچ لڑکے تھے۔ ۔۔
اس میں سے ایک نے ‘علیزے’ کی طرف ہاتھ بڑھا کے اسے ڈھال بنانے کی کوشش کی۔ ۔۔
اگر اب تم نے ادھر ہاتھ بڑ ھانے کی کوشش کی تو تمہاری میت پہ رونے والا کوئی نہیں بچے گا۔ ۔
اس نے غراتے ہوئے کہا۔ ۔۔
اس لڑکے کا رنگ فق پڑا اور اسکی دھاڑ سن کے علیزے کا سانس سینے میں اٹک کے رہ گیا۔ ۔۔۔
تب تک “معاذ سکندر” جو علیزے کے بڑے بھائی تھے وہ بھی خان کے ساتھ وہاں پہنچ گئے لیکن علیزے کا سارا دھیان تو اسکی طرف تھا ، جس نے ایک نظر خان کو دیکھا تو سب سمجھتا باڈی گاڈز کو اشارہ کرتا ان پانچوں کو وہاں سے لے گیا۔ ۔
خان نے ان کو باہر لے جا کے ان میں سے ایک کو پکڑ کے صرف ایک سوال کیا، “یہ سب تم نے کس کے کہنے پہ کیا؟”
وہ گڑگڑانے لگا م۔ ۔۔مج۔ ۔۔مم۔ ۔۔ مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔ لیکن اس کے ایک ہاتھ نے ہی اسے منہ کھولنے پہ مجبور کر دیا۔ ۔۔ اسکے منہ سے وہ نام سن کے ایک پل کو خان بھونچکا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن فورا سنبھل کے گاڈز سے بولا انہیں لے چلو یہاں سے۔ ۔۔ اور خود اپنے کان میں لگے آلے سے کسی کو کوئی میسج چھوڑنے لگا اور پھر اندر کی جانب بڑھ گیا۔ ۔۔۔۔
———————————؛ -؛
انکے جانے کے بعد جہان نے پہلی نظر اسکے چہرے پہ ڈالی اور اسکی طرف بڑھتے ہوئے اپنی شال اسکے گرد لپیٹنے لگا اور تب
وہ اپنا ضبط کھوتی اسکے کشادہ سینے سے جا لگی۔ ۔۔
اسکو ایک جھٹکا لگا، ایسا ہی ایک جھٹکا وہاں داخل ہوتے خان کو بھی لگا وہاں اگر کوئی پر سکون تھا تو وہ معاز سکندر تھا ۔۔۔
وو اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ۔۔ش۔۔۔شش ۔۔۔۔ شاہ ۔۔
ڈسا ہے ہجر نے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کو!
ھمارے سانس۔۔۔۔۔۔۔نیلے ہیں!
اسکے ہونٹوں سے اسکا نام ایک خوشنما سرگوشی کی مانند نکلا۔ ۔۔
اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ بس اسکے نام کا ورد کر رہی تھی۔ ۔۔
میں نے اک عرصے سے تجھے ودر میں رکھا ہے۔۔۔
میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کے چھالے ہیں بہت! !!
وہ بھول چکی تھی کے وہ کہاں ہے ،
وہ بھول چکی تھی کے خود سے کیے گئے عہد، وہ بھول چکی تھی اس سے لئے گئے عہد۔۔۔
اس پل وہ بھول چکی تھی کہ وہ اس سے نفرت کی دعویدار ہے اور اسے خود سے دور کرنے کے فیصلے بھی اسی کے تھے، وہ بس پانچ سال سے جس ڈھال کی تلاش میں تھی اسکے سامنے آتے ہی وہ ضبط کھو کے اپنا غبار نکالنے لگی۔ ۔۔۔۔۔
وہ اپنے سکتے سے باہر نکلا اور اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے اسے چپ کروانے لگا۔ ۔۔۔
ششش۔ ۔۔ شش۔۔۔ چپ، ریلیکس کچھ بھی نہیں ہوا!! سب ٹھیک ہے ، سب ٹھیک ہے۔ ۔۔۔
وہ ابھی تک معاز سکندر کی وہاں موجودگی سے بےخبر تھا۔ ۔۔
اسے ہوش تب آیا جب وہ روتے روتے بیہوش ہو کر اسکی بانھوں میں جھول گئی وو ہڑبڑا کے اسکے گال تھپتھپانے لگا
علیزے ۔۔۔علیزہ ہوش میں آو ۔۔۔۔
اور زور سے دھاڑا خان گاڑیاں” سکندر ولا” کی طرف تیار کرو۔ ۔۔
اسکی بات سن کر وہاں دوڑ کے آتے معاز کے قدم ایک پل کو ٹھٹکے لیکن۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ علیزے تک پہنچتے وہ اسے بازوٶں میں اٹھائے انکی طرف مڑا اور ٹھٹک گیا لیکن پھر ‘ایم سوری’ کہتے اسے لئے باہر کی جانب دوڑ پڑا۔ ۔۔۔
————————————————————–
جب معاز سکندر کی گاڑی سمیت وہ گاڑیاں بھی ‘سکندر ولا’ کے سامنے رکی تو اب کی بار معاز نے اسکی گاڑی سے خود اسے باہر نکالا اور انہیں بھی اندر آنے کا کہہ کے اندر بڑھ گیا کیونکہ اسے اپنے کچھ سوالوں کے جواب چاہیے تھے۔ ۔۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ اندرونی حصے کی طرف قدم رکھتے اندر سے ‘ زجاح سکندر، حماس سکندر اور حنین سکندر’ تینوں بھائی باہر آتے دکھائی دیے جنہیں علیزے کے غائب ہونے کی خبر کچھ دیر پہلے ملی تھی۔۔۔۔۔
لیکن انکو آتا دیکھ کے وہ رک گئے۔۔۔۔ بھائی علیزے کو۔ ۔۔۔۔
ابھی کوئی سوال نہیں کرو زجاح اور مہمانوں کو لاونج میں لے کر جاو
اور خود علیزے کو لیے سامنے کمرے کی طرف بڑھ گیا انکے پیچھے ان سب کی بیویاں بھی۔ ۔۔۔۔
معاز یہ ایسے کیوں پڑی ہے ٹھیک ہے نا؟ ؟؟ انکی بیوی مرینہ سکندر نے روتے ہوئے ان سے پوچھا۔ ۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے بس سٹریس کی وجہ سے اور انکو کچھ کہتے باہر نکل گئے ۔ ۔ ۔
۔ ۔
جہان جانتا تھا کہ وہ اسے اندر کیوں لے کر آئے ہیں ، وہ انکے اندر پنپتے سوالوں کو بھی جانتا تھا لیکن وہ کچھ اور سوچے بیٹھا تھا اور وہ کیا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا حتی کہ خان بھی۔ ۔۔۔۔ جو اسکے صوفے کے پیچھے کھڑا تھا جبکہ گارڈز باہر لان میں اور گیٹ پہ تھے۔ ۔۔۔۔
کچھ دیر میں اسے معاز باہر آتا دیکھائی دیا ۔۔۔۔ اور اسکے سامنے موجود صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظار کےلئے معزرت ۔۔۔۔۔ شاہ صاحب! !!
اس نے فقط سر ہلانے پہ اکتفا کیا ۔۔۔
آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں ، اسنے سامنے میز پہ پڑے لوازمات کی طرف اشارہ کیا۔ ۔۔۔
نہیں شکریہ! وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ ۔۔۔۔ اسنے بات کا آغاز کیا۔
جی کہیے۔ ۔۔۔ وہ سب اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
میں۔۔۔ علیزے سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
بلاآخر اس نے ان کے سروں پہ بم پھوڑ دیا۔ ۔۔ وہاں ایک خوفناک سی خاموشی چھا گئی وہاں آنے والا انکا پانچواں بھائی اسی دروازے پہ کھڑا رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ اس بات کی توقع کبھی نہیں کر سکتے تھے کہ ‘جہان حیدر شاہ’ علیزے سے شادی کا خواہش مند ہے۔ ۔۔۔ وہاں موجود دو نفوس اس بات سے بہت خوش دکھائی دے رہے تھے کہ وہ حقیقت سے آشنا تھے
ایک مرینہ سکندر
اور
دوسرا خان
کچھ لمحوں بعد معاز سکندر نے کچھ کہنے کی کوشش کی مم۔ ۔۔ میں۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں آپ کیا جاننا اور کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں۔ ۔۔۔ میں علیزے کو جانتا ہوں پہلے سے اور۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اور علیزے؟؟ اسکی بات کاٹ کے انہوں نے پوچھا۔ ۔۔۔۔
وہ بس اتنا جانتی ہیں کہ انہوں نے میرے پرپوزل کو ریجیکٹ کیا تھا جو میں انہیں انکے کالج فنکشن کے بعد دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ اسنے انہیں آدھی ادھوری سچائی بتائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پوری سچائی انکی مسز جانتی ہیں۔ ۔۔
اسکی ریجیکشن کے بعد میں پس منظر ہوا کی میں انہیں ٹائم دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ اس سارے عرصے میں یہ پہلا جھوٹ تھا جو اسنے بولا اور مرینہ اور خان یہ بات جانتے تھے اور شاید
علیزے بھی۔ ۔۔۔۔۔
لِیکن اب یہ شادی ناگزیر ہو چکی ہے میں اب اور انہیں ٹائم نہیں دے سکتا۔ ۔۔
اسنے دوٹوک الفاظ میں کہا۔ ۔
اور اگر ہم انکار کر دیں تو۔ ۔۔۔۔۔۔
حنین سکندر نے لب کشائی کی۔ ۔۔۔
تو بھی میں یہ شادی کرنا چاہوں گا ۔ ۔۔۔ اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔ ۔۔
سوری جہان یہ شادی نہیں ہو سکتی، علیزے نہیں مانے گی۔ ۔۔ معاز نے شائستگی سے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ سرکش ہے۔ ۔
وہ مان جائینگی ، انہیں ماننا پڑیگا۔ ۔۔۔۔ اس نے پرسکون لہجے میں کہا۔ ۔
وہ کبھی نہیں مان سکتی تم کچھ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔۔
جب میں نے یہ کہا کہ میں انہیں جانتا ہوں تو مطلب میں ان سے ریلیٹڈ ہر بات جانتا ہوں
وہ بات بھی جسکی بناء پہ انہوں نے انکار کیا اور اب آپ کر رہے ہیں۔۔
اور مجھے نہیں لگتا کہ کم از کم آپ لوگوں کو اس بات کو سر پہ سوار کرنا چاہیے ۔ اینڈ بلیو می میں انہیں، آپکو یا پھر خود سے جڑے کسی انسان کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔ ۔۔۔
آپ اس جمعہ کو نکاح کی تیاری کریں پلیز۔ ۔۔۔ اسنے نرمی لیکن دوٹوک انداز میں کہا۔ ۔۔
جہان بھائی آپکو نہیں لگتا کہ شادی کی بات لڑکے اپنے منہ سے کرتے اچھے نہیں لگتے۔ ۔۔۔
ولی سکندر جسکا سکتا ٹوٹ چکا تھا اسنے اندر آتے ایک شگوفہ چھوڑا تو وہ فقط اتنا بولا
صبح میری فیملی آئیگی تب سب طے ہو گا۔ ۔۔۔
حیدر ایک بار اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کر لو ہمارا اسٹیٹس ، فیملی۔ ۔۔۔۔۔
آپکو لگتا ہے کہ آپ مجھے ان فضول کے سوالوں اور مفروضات سے باز رکھ سکتے۔ ۔۔۔۔ اس نے انکی آنکھوں میں چیلیجنگ انداز میں دیکھا۔ ۔۔۔
تو ان سب نے ہتھیار ڈال دٸیے کیونکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ جو عزت اور حفاظت وہ اپنی بہن کے لئے ڈھونڈ رہے تھے وہ اسے جہان حیدر شاہ کے پاس ہی مل سکتی ہے۔ ۔۔۔
اوکے آپ اپنی فیملی کو بھیج دینا صبح سب فائنل کریں گے۔ ۔۔۔۔ معاز کی بات سن کے وہ سب بھائی اور انکی بیگمات بہت خوش ہوئے۔ ۔۔۔
مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔ ۔۔۔۔۔۔ علیزے کی سپاٹ آواز گونجی۔ ۔۔۔۔
جاری ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
