55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

کیا؟ ؟ اسنے بے اختییار پلٹتے ہوئے پوچھا ، اسے لگا اسنے سننے میں کوئی غلطی کی ہے۔ ۔۔
مجھے طلاق چاہیے ۔۔ اسکی بات پہ اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگا جبکہ آنکھیں انگارہ ہونے ۔۔لگیں۔
مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ، وحشت ہوتی مجھے کسی اور س۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ سر جھکائے بول رہی تھی جب اسکی دھاڑ پہ لرز گئی۔ ۔۔
بکواس بند کریں اپنی۔ ۔۔ مار ڈالوں گا میں سب کو، خود د کو ، آپکو۔ ۔۔ وہ اسکے پاس آکے اسکے بازو جھکڑے وحشت سے چلایا۔ ۔۔
اسے لگا اسکے بازو الگ ہو جائیں گے۔ ۔ اسکی آنکھوں اسکی آواز میں اتنی خشونت تھی کہ اسے لگا وہ کچھ دیر اسے یونہی تھامے رہا تو وہ مر جائیگی۔ ۔۔
شش۔ ۔۔شاہ۔ ۔ چھوڑیں مجھے۔ ۔ آپ ہمیشہ زبردستی کرتے، کہا نا چھوڑیں مجھے۔ ۔۔ وہ خود پہ ضبط کرتی بمشکل مزاحمت پہ آئی۔ ۔۔
جانتی ہیں زبردستی کسے کہتے، اگر میں نے کوئی زبردستی کر لی ہوتی تو آج آپ یہ فضول لفظ زبان پہ لانے سے پہلے سو بار سوچتی۔ ۔۔۔ اسنے اسی سرد انداز میں اسے جتایا اور اسے جس لمحے اسکی بات کی گہرائ کا ادراک ہوا اسکا رنگ سفید پڑا۔ ۔۔۔
وہ جھٹکے سے خود کو چھڑواتی دور ہٹی اور چلائی۔ ۔۔
آپ کیوں نہیں سن رہے نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ، شادی کرنی کہیں اور ممم۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے چلائی۔ ۔۔
علیزےےےےے۔ ۔۔ اسکا ہاتھ بلند ہوا لیکن اسکے چہرے پہ پڑنے سے پہلے ہی اسنے مٹھی بند کی جبکہ۔۔
وہ دل پہ ہاتھ رکھے ساکت کھڑی تھی ، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ہاتھ جو اسے سہارا دیتے، ہر بری آفت سے اسے بچاتے وہ اس پہ کیسے اٹھے۔ ۔۔ دونوں اپنی جگہ منجمند تھے۔ ۔۔
وہ تھپڑ بیشک اسکے چہرے پہ نہیں پڑا لیکن اسکا اٹھ جانے کا احساس جہان اور علیزے دونوں کو ہوا۔۔۔۔
آ۔۔آپ نے مجھے؟ ؟ وہ حیرانگی سے استفسار کر رہی تھی۔ ۔۔ آپ نے کیسے کیا یہ۔ ۔۔ وہ صدمے سے چلائی۔ ۔۔
ہاں کیا میں نے یہ سب، آپ کو خود سے دور جانے سے روکنے کےلیے مجھے مارنا پڑا تو میں ایسا ہی کروں گا۔ ۔۔ آپ جن دھمکیوں سے ڈر رہی ہیں میں انہیں خود سچ ثابت کرونگا۔۔ میں خود سب ختم کرونگا۔ ۔۔۔ وہ مجنونانہ انداز میں بولا۔ ۔۔
لِیکن وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی وہ بس اسی کیفیت میں تھی۔ ۔
کیوں کیا آپ نے ایسے؟ کیسے کر سکتے آپ؟ ؟ وہ اسکا گریبان جھنجھوڑتی بولی تو وہ اسے سینے میں بھینچ گیا۔ ۔۔۔۔
آپ کیوں کر رہیں میرے ساتھ ایسے؟ کیوں مجھے اس اذیت سے نکالتی نہیں؟ کب کریں گی مجھ پہ اعتبار؟ میں آج بھی اسی مقام پہ ہوں جہاں سے چلا تھا۔ ۔۔ خدا کیلیے مجھے یہ جدائ کی مار دینا دینا بند کریں۔ ۔۔ میں نہیں برداشت کر سکتا۔ ۔۔۔۔ وہ اسکے کندھے پہ سر رکھے بول رہا تھا اور وہ سر اسکے سینے پہ رکھے سانس روکے سن رہی تھی جب اسے اپنے کندھے پہ اسکے آنسو محسوس ہوئے۔ ۔۔۔
اسکا دل دھک سے رہ گیا۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاز پریشانی سے سٹڈی میں بیٹھے ہوئے تھے وجہ علیزے کے نمبر پہ آنیوالی کال تھی۔ ۔۔وہ روز اول کی طرح بے بس تھے وہ کچھ نہی کر سکتے تھے۔ ۔۔۔
آج بھی اندیکھی زنجیروں نے انکے ہاتھ جکڑے ہوئے تھے۔ ۔ وہ اپنے اندر کے ابال کو دبانے کی کوشش میں تھے۔۔۔ وہ صبح علیزے کو غیر معمولی انداز میں گھر جاتے ہوئے ہی سمجھ گئے تھے کہ کوئی بات ہو چکی ہے اسلیے انہیوں نے ایک فیصلہ کیا۔۔۔
جہان کو اسکی فون کال اور نمبر بتانے کا فیصلہ ۔۔۔ شاید وہ علیزے کے چہرے سے جان گئے تھے کہ وہ کسی ذہنی ازیت سے دوچار ہوتی ایسے فیصلے پہ مجبور ہوئی ہے جو اس کیلیے بلکہ ان سب کیلیے خطرناک ہوسکتا تھا۔۔۔ اب وہ وہاں بیٹھے جہان کے بتائے بندے کی کال کا ویٹ کر رہے تھے جسکے زمے بہت بھاری ڈیوٹی لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے مجھے اپنے پیرنٹس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کبھی؟؟ وہ جو آج اس سے دل کھول کے بنا کسی ہچکچاہٹ کے باتیں کر رہی تھی اس کے سوال پہ یکلخت خاموش ہوئ۔۔۔۔
انکی اتنی فرینکنس کے پیچھے آریان کا ہاتھ تھا جو اسے کسی بچے کی طرح ٹریٹ کرتا رہا۔۔ اسے سٹوریز سناتا رہا ، اسکے ساتھ مختلف گیمز کھیلتا رہا وہ دھیرے دھیرے اسکا اعتماد بحال کر رہا تھا۔۔۔
اسنے یہ سب سٹارٹ تو جہان کے کہنے پہ کیا تھا لیکن اب وہ یہ سب شاید
دل کے کہنے پہ کر رہا تھا۔۔۔
بتاو نا؟ اسنے زور دیا۔۔۔
وہ کہتا ہے نہیں ہیں۔۔ کہتا ہے تمہارا کوئی نہیں ہے۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی۔۔
تو تمہیں خود کچھ بھی یاد نہیں ، انکی پرچھائی یا انکے ساتھ بیتے لمحات۔۔۔۔ وہ اسے کھوج میں ڈال رہا تھا۔۔۔
مجھے کچھ یاد نہیں۔۔ وہ ہمیشہ۔۔۔ ہمیشہ یہی کہتا کہ تمہارا کوئی نہی ہے۔۔۔ وہ سسکی۔۔
اوکے پلیز رو مت ۔۔ ہم دونوں مل کے تمہارے پیرنٹس کو ڈھونڈیں گے۔۔۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تو وہ بدک گئ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ مجھے کسے کے پاس نہی جانا۔۔ نفرت کرتے سب مجھ سے ۔۔کیسے کریں گے پیار مجھے اور میرا کوئی نہیں ہے۔۔کوئی نہیں۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے۔۔ پریشان مت ہو آو گیم کھیلیں۔۔۔ اسنے اسے بہلایا۔۔۔
میں کتنا برا ہوں اپنی پیاری دوست کو رلا دیا۔۔۔ اسکے منہ بسور کے کہنے پہ وہ ہنس دی تو بھیگے چہرے پہ چمکتی ہنسی دیکھ کے مبہوت رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔