Rate this Novel
Episode 18
اسے لگ رہا تھا اسنے ملک لموت دیکھ لیا ہو اسکی فق پڑتی رنگت پہ ولی بھی پریشان ہوا۔۔۔
کیا ہوا علیزے؟کسکی کال ہے؟ اسنے پوچھا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کے موبائل اٹھایا تو سکرین پہ نظر آتے نمبر نے اک پل کو اسکے بھی اعصاب شل کر دیے، ۔۔۔۔لاونج میں جیسے مردنی سی چھا گئی تھی اس پل۔۔۔۔
یہ کیوں فون کر رہا؟ اور ایسے اس وقت؟ ولی کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا بات کرے۔۔۔
یہ پھر سے آگیا۔۔۔ مار دیگا سب کو۔۔۔ مجھے۔۔مجھے لے جائیگا۔۔۔ پھر سے آگیا۔۔۔ وہ غیر مرئ نقطے پہ فوکس کیے ہذیانی انداز میں یہی بولے گئ تو ژالے نے بے اختیار اسے سینے سے لگایا۔۔۔
میں جہان بھائی کو کرتا کا۔۔۔۔۔۔ ولی ابھی بول ہی رہا تھا کہ وہ چیخ اٹھی۔۔۔
نہیں۔۔۔نہیں بتانا انہیں۔۔وہ مار دیگا انہیں، اسے پتہ چل گیا ہوگا اسی لیے وہ کال کر رہا۔۔ نہ بتانا انہیں۔۔نہیں۔۔۔ وہ پاگل ہو رہی تھی۔۔۔
پاگل مت بنو علیزے ، بھائی نے خود کہا تھا کہ جب بھی اسکا سراغ ملے مجھے بتانا۔۔ ولی نے پھر سے موبائل پکڑنے کی کوشش کی۔۔۔
کیوں دشمن بنے وہ خود اور آپ سب بھی انکی جان کے، مینے منع کیا تھا شادی مت کریں لیکن کر دی۔۔اب. اب یہ سب بالکل نہیں بتانا ختم ہوجائیگا سب۔۔مجھے شادی کرنی ہی نہیں تھی۔۔ اسکی کال نے اس پہ پھر سے ہذیانی کیفیت طاری کر دی تھی وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔
اس نے مرینہ کی طرف دیکھا جو آنسو بہائے جا رہی تھی تو اسکی ذہنی رو بھٹکی۔۔۔وہ انکی طرف ہوئی۔۔
نفرت نہیں ہوتی آپکو مجھ سے، میرا یہ چہرہ بھسم کرنے کو جی نہیں چاپتا؟اسی چہرے کی وجہ سے وہ آپ سے ہم سب سے دور ہے، وہ اسے بھی لے گیا۔۔نفرت ۔۔ نفرت کریں نا مجھ سے، بری۔۔ میں بری ہوں نا۔۔ وہ انکے گھٹنے کو جھنجھوڑتی بولی تو انکا سینہ شق ہوا انہوں نے تڑپ کے اسے گلے لگایا۔۔
نہیں۔۔ نہ میری جان ایسے نہیں کہتے، تم میری سب سے پیاری بیٹی ہو ، اس سے بھی پیاری۔۔۔ وہ روتے ہوئے اسے پچکار رہی تھی جو اب صدمے اور دکھ سے حواس کھو چکی تھی۔۔۔۔
علیزے۔۔ اٹھو میری جان ۔۔ انہوں نے اسکا گال تھپتھپایا تو ولی نے اٹھا کے صوفے پہ لٹایا اور اسکے پاوں کے تلوے ملنے لگا۔۔۔
جہان بھائی کو بتانا بہت ضروری ہے۔۔ اسکا ڈر وہی ختم کر سکتے اور شاید اس کال سے اسے ڈھونڈ بھی سکیں۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ سر ہلا گئیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں موجود ایش ٹرے سیگریٹوں کے ٹوٹوں سے بھری پڑی تھی کمرے میں چاروں اور سگریٹ کا دھواں اور سمیل تھی۔۔ لیکن وہ پھر بھی لگاتار سگریٹ پہ سگریٹ سلگاتے خود بھی سلگ رہا تھا۔۔۔
علیزے کی اس طرح بغیر بتا کے جانیوالی حرکت نے اسے طیش سے بھر دیا تھا۔۔۔ وہ کیوں بار بار اس سے دور جانے کی کوششوں میں لگی ہے؟ کیوں اپنے اور اسکے ساتھ زیادتی کر رہی ہے ؟ کیوں نہیں سمجھ رہی کہ وہ اسے وہاں رکنے کیوں نہیں دے رہا؟ کیوں؟؟ اسنے جنونانہ انداز میں ایش ٹرے اٹھا کے دور پھینکی۔۔۔
نو علیزے اب نہیں۔۔ تم ہر بار ایسا نہیں کر سکتی، تم ہر بار مجھے ہجر کی اذیت سے دوچار نہیں کر سکتی۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ اسنے سرخ آنکھوں سے کمرے میں سجی اسکی نکاح کی تصویر پہ نظر جمائی۔۔۔ اور پھر نجانے دماغ میں کیا آیا کہ اٹھ کے سٹڈی کی جانب بڑھا۔۔۔
دھیرے سے اسکا دروازہ کھول کے وہ اندر داخل ہوا۔۔ بلیک شلوار قمیض، جسکے کف فولڈ کیے ہوئے تھے، بکھرے بالوں ، سرخ آنکھوں اور سگریٹ نوشی سے سیاہ پڑتے لبوں کو پیوست کیے وہ ایک ریک کی جانب بڑھا اور ہولے سے وہاں موجود میرون کتاب کو کھینچا تو ریک کے پیچھے سے ایک دروازہ کھلا۔۔۔۔۔۔
وہ ڈھیلے قدموں سے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . ۔۔۔
وہ علینہ کے ساتھ اپنے کمرے میں لیٹی تھی، جب باقی بھائی آئے تو نجانے ان سب کی آپس میں کیا بات ہوئی ، وہ کچھ نہیں جانتی تھی کیونکہ وہ تو خود سے بھی بیگانہ ہوئی تھی۔۔۔
معاذ نے اسکے کمرے میں آکے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور شاید اسے تسلی دینے کو لفظ تلاشنے لگے۔۔۔جبکہ وہ جانتی تھی ان تسلیوں تشفیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ جب وہ پہلے اپنی عزیز ہستیوں کو نہ بچا سکے تو اب کیا کر سکتے تھے۔۔ اسنے انکا ہاتھ لے کے چوما اور رو دی۔۔۔ تب سے لیکے اب تک وہ کمرے میں بند زہر آلود یادوں میں کھوئی تھی۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس لمحے جہان کو سوچنے لگ گئی، اسکا دل کہہ رہا تھا کہ وہ ابھی اسکے سامنے آئے اور وہ اپنے سب دکھ درد اسکے سامنے کھول کے رکھ دے ، اسکو سب دکھ درد سونپ کے اسکے کندھوں پہ اپنا سب درد بہا دوں لیکن وہ چاہ کے بھی اسکی جان کے بدلے ایسا نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ اسکی یادوں میں کھوئی تھی جب کال رنگ ہوئی اسے لگا کہ اس وقت وہ ہی اسے کال کر سکتا۔۔۔ آج پہلی بار اسے اسکے فون کا انتظار تھا اسلیے اس نے بغیر انتظار کیے بغیر دیکھے کال اٹھا لی۔۔۔
زہے نصیب۔۔۔ دوسری جانب سے آتی مکارانہ آواز نے اسے منجمند کر دیا۔۔۔
آہاں مسز جہان حیدر شاہ۔۔۔ تو شادی کر لی تم نے۔۔ وہ بھی میرے منع کرنے کے باوجود۔۔۔ وہ غرایا تو وہ کانپی ۔۔۔ اسنے بے بسی سے علینہ کی جانب دیکھا جو سو رہی تھی، اسنے اسے پکارنا چاہا لیکن آواز کہیں حلق میں ہی اٹک چکی تھی۔۔۔
تم کیوں چاہتی ہو میں تمہارے لیے لاشوں کے ڈھیر لگاوں۔۔۔ کیوں بھول جاتی ہو تم۔۔ وہ پھر سے چلایا ۔۔۔ اسکا کان پھٹنے لگا، سلگنے لگا۔۔۔
مرے گا وہ بھی ضرور مرے گا ۔۔۔۔ اسکی بات پہ وہ چلا اٹھی۔۔۔
نن۔۔نہ۔۔نہیں کبھی نہیں تم اسے نہیں ماروں گے۔۔ پلیز نہیں ماروں گے۔۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔۔ اسکی چیخ پہ علینہ بھی جاگ گئی۔۔۔
تو تم چاہتی ہو اسکی جان بخشی ہو جائے ہے نا؟؟ اس نے شاطرانہ انداز میں کہا۔۔۔
ہہہہا۔۔ہاں۔۔۔ وہ تڑپی۔۔
چلو ٹھیک ہے چھوڑ دونگا لیکن اس سے پہلے تم اسے چھوڑو گی،، اس سے طلاق لے کہ تمہیں میرے پاس آنا ہو گا۔۔ اسنے اسکی سانسیں کھینچی
اور اگر۔۔۔
تم نے ایسا نہ کیا تو میں اسے عبرتناک موت ماروں گا۔۔۔ اسنے اسکے کانوں میں صور پھونکا۔۔۔۔
وہ کال بند کر چکا تھا لیکن وہ ابھی بھی ویسے ہی ساکت بیٹھی تھی۔۔۔
علیزے ۔۔۔ علیزے۔۔ اسنے اسے ہلایا تو فون چھوٹ کے اسکی گود میں آ گرا جس کے والپیپر پہ جہان کی چمکتی آنکھوں والی تصویر تھی۔۔۔
اس پہ نظر پڑتے اسکے دماغ میں ہفتہ پہلے کا واقعہ گھوما، جب اسنے زبردستی اسکے موبائل پہ اپنی پک سیٹ کی۔۔
I want that u see me everywhere, in your eyes , in yours thoughts , in ur dreams, in ur mobile and ……………..
In your heart…..
اسکے احتجاج پہ اسنے اسکے کان میں دھیمے سے کہا۔۔
I can’t bear that u forgotten me even a single moment ….
اسکے چہرہ پہ آنسووں کی لڑی تھی۔۔ وہ اسکی تصویر کو دیکھتے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔۔ اس نے اسے ساتھ لگایا۔۔
کیوں؟کیوں مجھے مکمل خوشی نہیں ملتی؟کیوں میں انکے ساتھ نہیں رہ سکتی کیوں؟؟ وہ سسکتے ہوئے بولی تو وہ خود بھی بھی اسکی تڑپ پہ رو پڑی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے قدم اندر رکھا تو سامنے کے مناظر دیکھ کے اک پل کو اسکی آنکھوں کو سکون ملا۔۔ اسکے کرلاتے تڑپتے دل کو آرام آیا۔۔۔
وہ سارا کمرہ علیزے کی تصویروں سے بھرا پڑا تھا۔۔ کچھ تصویروں میں وہ اسکے ساتھ تھا اور کچھ اسکی اکیلے اور بے خبری کی تصویریں تھیں۔۔۔ وہ چلتا ہوا ایک تصویر کے سامنے آیا۔۔ اس میں اسنے وائیٹ کلر کا ٹراوزر اور وائیٹ ہی شرٹ پہنی تھی۔۔
اسکی آنکھوں میں پہلی کی ملاقات کا منظر جاگنے لگا اور اسکے اعصاب سرشار ہوئے۔۔ اسے پتہ تھا اب اسے پوری رات یہیں گزارنی ہے اور ہر تصویر کو دیکھتے اسکے ساتھ بیتے لمحات کو سوچنا ہے۔۔۔۔
وہ جب بھی بے سکون ہوتا تھا وہ اسکی تصویروں سے بلکتے ہوئے دل کو سنبھالتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی مجھے گھر چھوڑ دیں گے؟ اسنے صبح ناشتے میں کہا تو سب حیران ہوئے ۔۔
کیوں بیٹا کل ہی تو آئی ہو تو اتنی جلدی؟؟ انکے استفسار پہ اسے صبح کی فون کال یاد آئی جس نے اسے باور کروایا کہ وہ کسی کی جان اپنی وجہ سے جانے نہیں دیگی اسی لیے وہ جا رہی تھی۔۔
وہ میں شاہ سے پوچھ کے نہیں نہ آئی تو اسلیے سوچا کہ ایک ہی دن کافی ہے۔۔۔ اسکے نارملی رویے پہ وہ پرسکون ہوئے۔۔۔
نیکسٹ ان سے پوچھ کے زیادہ دن رہنے آوں گی۔۔۔ اسنے انکے گلے میں بانہیں ڈالتے کہا تو وہ مان گئے۔۔
چلو پھر تیا ر ہو جاو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے آپ سب کو بہت مس کیا اسلیے میں جلدی آ گئی۔۔ وہ دادو کی گود میں منہ دیے بولی۔۔۔
اچھا کیا میرا بچہ جس آ گئ۔۔ ایک دن میں ہی بیمار لگنے لگی۔۔ میں تو خود آپکو کال کرنے لگی۔۔۔ انکی محبت اور فکر پہ اسکا دل کرلایا۔۔
اوہو دادو میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔ آپکی یاد نے یہ حال کیا۔ اسنے انکا دھیان بٹایا۔۔۔
دادو کی یاد یا پھر۔۔۔۔۔ آہم۔۔ مہرو نے شرارت سے بات ادھوری چھوڑی تو وہ درد چھپاتی سر جھکا گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کو کھانے پہ بھی نہ تھا ، اسنے ایک طرح سے شکر ادا کیا اس نے جو بات کرنا تھی اسکیلیے اسے ہمت درکار تھی جسے وہ اسکی موجودگی میں جمع نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ وہ چپ چپ تھی سب نے اسکی خاموشی کو اسکی تھکاوٹ اور طبیعت خرابی سمجھا اسلیے مما نے کھانے کے فوراً بعد اسے روم میں بھیج دیا۔۔۔
ایک بج چکا تھا وہ اسکے انتظار میں تھی لیکن وہ آ کے نہ دے رہا تھا۔۔۔ وہ آنکھیں موندنے لگی جب ڈور ناب کی آواز پہ اسکی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔۔۔
وہ اندر داخل ہوا تو سامنے بیٹھی علیزے نے اسے چونکایا کیونکہ اسے لگا وہ اب کچھ دن رہے گی لیکن جو بھی تھا اسے دیکھ کے اسکا دل سرشار ہوا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔ کیسی ہیں آپ؟
گہری نظروں سے مسٹرڈ اور بلیک کنٹراسٹ میں ملبوس علیزے کو دیکھتے اسنے پوچھا۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
اسنے حلق تر کرتے جواب دیا وہ اپنی ہنت کھونا نہیں چاہتی تھی اسلیے اسے دیکھے بغیر بولی۔۔۔
آپ کیسے ہیں؟
میں؟ آپ کے بغیر کیسا ہوسکتا ہوں؟؟ اسنے آنچ دیتے لہجے میں پوچھا تو وہ سر جھکاتی آنسو پیتی رخ بدل گئی تو وہ گہری سانس لیکے رہ گیا۔۔۔۔
میں چینج کر آوں۔ اورکپڑے لیتا واش روم گھسا۔۔۔
جب وہ باہر نکلا تو وہ وہی بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی وہ ڈریسنگ کے پاس آیا اور برش کرتے شیشے میں سے اسے دیکھتا بولا۔۔۔
جو کہنا چاہتی ہیں کھل کے کہہ لیں۔۔ اسکی بات پہ وہ چونکی اور اسے دیکھا تو وہ رخ موڑے بال بنا رہا تھا اسنے یہ موقع غنیمت جانا اور ساری ہمت یکتا کرتی بولی۔۔۔
ممم۔۔مجھے۔۔۔مجھے طلاق چاہیے۔۔۔۔ اسنے بلآخر بم پھوڑا۔۔۔۔۔
