55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

تم پاگل تو نہی ہو گئی؟ تم جانتی ہو تم کسے زک پہنچانے کی بات کر رہی؟ جہان شاہ طوفان کھڑا کر دےگا۔۔ اسنے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔۔
جب وہ منظر سے ہٹے گی تو وہ سب بھول جائیگا، اسے میرا ہونا ہی پڑے گا۔۔۔ وہ ایک ہی بات دہرائے جا رہی تھی جب وہ پیر پٹختی باہر چلی گی جبکہ وہ مکارانہ مسکراہٹ سجائے ایک ہی بات سوچے جا رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخ ہاسپٹل میں غیر معمولی ہلچل تھی وجہ وہاں جہان کا آنا تھا جو کہ اپنے گارڈ کے جلو میں بلیک شلوار سوٹ اور بلیک ہی شال کندھوں پہ ڈالے پروقار انداز میں روم ١٢ کی طرف جا رہا۔۔۔دروازے کے پاس پہنچ کے اسنے گارڈز کو اشارے سے باہر رکنے کا کہا اور خود خان کے ساتھ اندر بڑھا۔۔۔
آریان اور دو نرسز اس پہ جھکے اسے ٹریٹ کر رہے تھے جب دروازے کی آواز پہ مڑے تو آریان کے اشارے پہ نرسز ناہر نکل گئیں جبکہ وہ سیدھا ہوتا پیچھے ہٹا۔۔۔۔
کیسی ہو؟ اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے اسنے پوچھا تو اسکی آنکھوں میں آنسو آے ۔۔۔ وہ سر جھکا کہ اثبات میں سر کو ہلا گئی۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے ، یہ ڈاکٹر نہی جانے دے رہا۔۔ اسنے گویا شکایت لگائ تو آریان کا منہ کھل گیا۔۔۔
یہ مت بھولو میں تمہارا دوست ہوں۔۔ اسنے جتایا
اونہوں ۔۔۔۔ جہان نے تنبیہ کی تو وہ منہ پھلا گیا۔۔۔
اوکے تو بتاوں گھر میں کس کے پاس جانا ہے؟وہ ہولے سے اسے اس موضوع پہ لانا چاہتا تھا۔۔
کوئ نہی بس وہ ہوتا ہے، ایک آدمی۔۔۔ وہ ہچکچا کے بولی۔۔
ایسے تو ایک آدمی کے پاس جانے نہی دے سکتا ، تمہارے پیرنٹس۔۔۔۔ اسنے سوالیہ اسے دیکھا تو اسکے چہرے پہ وحشت در آئ۔۔
نہیں ہیں۔۔کوئ نہی ہے۔۔سہ کہتا ہے میں ہی سب کچھ ہوں۔۔ پیرنٹس نہیں ہیں، خدارا مجھے اسکے پاس جانے دو نہی وہ جلا دیگا۔۔۔ وہ ہذیانی انداز میں چٹخی۔۔
سب کچھ ہے تمہارا، پیرنٹس بھی ہیں کیونکہ سب کے ہوتے۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔
نہیں میرے نہیں ہیں۔۔۔ نہی ہیں۔۔۔ وہ یہ دہراتی بیہوش ہوتی پیچھے کو لڑکی۔۔۔
اسی طرح اسے اس موضوع پہ لے کے آو ، جتنی جلدی یہ حقیقت کو فیس کرتی اتنا ہی اچھا۔۔۔ اسنے اسے سمجھایا تو وہ سر ہلا کہ رہ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ .
مما مما! وہ زور سے بولتی پورے گھر میں گھوم رہی تھی۔۔ بھابھی کیا ہو گیا ہے؟۔۔ کاشان کے حیرانگی سے پوچھنے پہ وہ جھینپ گئی۔۔
مما کدھر ہیں؟ وہ بولی۔۔
دادو کے روم میں۔۔ اسکے جواب دیتے ہی وہ بھاگتی اس روم میں گئی۔۔
میں کب سے آپکو ڈھونڈ رہی۔۔ انہیں دیکھتے وہ خفگی سے بولی تو وہ مسکرا اٹھیں۔۔۔
ادھر آو میرے پاس انہوں نے پا بلایا تو وہ انکے پاس جا کے بیٹھی۔۔ اب بولیں کیا ہوا۔۔ انہوں نے اسکے ماتھے کے بکھرے بال سمیٹے۔۔
گھر جانا تھا مجھے تو آپ سے پرمیشن لینی تھی۔۔ اسنے اب کے آرام سے بتایا تو سب کھل کے مسکرا اٹھیں۔۔
بیٹا ہماری رو اجازت ہی اجازت ہے۔۔ اپنے میاں جی سے پوچھا؟؟ ماما کے کہنے پہ اسنے تھوک نگلا ۔۔
جج۔۔جی ماما ان سے لے لی تھی۔۔۔کہتے۔۔چلی جاو۔۔ اسنے نگاہیں جھکا کے جھوٹ بولا۔۔
تو بیٹا پھر کیا ایشو تیار ہو جائیں میں کہہ دیتی ڈرائیور کو ساتھ کوئی اور بھی چھوڑ آتا۔۔۔ مما کے کہنے کی دیر تھی وہ فوراً ان کے گلے لگی۔۔۔
تھینک یو سویٹ مما۔۔۔ اور پھر باقی سب سے بھی ملتی روم میں بھاگی۔۔۔
اسنے دانستہ ان سے جھوٹ بولا تھا کہ کچھ دن پہلے جہان سے پوچھا تو اسنے رکنے کو منع کر دیا اسلیے آج وہ بغیر اسے بتائے جا رہی تھی۔۔ پستائی ہلکی سی کڑھائ سے مزین کیپری شرٹ اور اسکے ساتھ لائٹ پنک ڈوپٹہ لیے وہ تیار کھڑی تھی جب کچھ یاد آنے پہ وہ واپس وارڈ روب میں گھسی اور سکن کلر کی سٹائلش کی شال کو نکالا جسے سنبھالنا اسے دنیا کا مشکل ترین کام لگتا تھا۔۔۔
شال کو اوڑھے اور زمین میں رگڑا دیتے جب وہ لاونج میں آئی رو وہاں بیٹھی مخلوق کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔۔ اسنے دونوں ہاتھوں سے شال کو سمیٹا تھا پھر بھی وہ سنبھلی نہی جا رہی تھی ۔۔۔
اسکی حالت دیکھ کے لاریب اٹھی اور اسکو ٹھیک سے شال اوڑھائ تو وہ سب سے ملتی گاڑی میں بیٹھی جہاں کاشان اور محرم اسے ڈرائیور کے ساتھ چھوڑنے جا رہے تھے۔۔۔ ان سے کچھ فاصلے پہ مسلح گارڈز کی ایک گاڑی بھی تھی ۔۔۔ سٹارٹ میں وہ یہ سب دیکھ کے خوفزدہ ہوئی تھی لیکن اب وہ اس سب کی عادی ہو چکی تھی۔۔۔ وہ ان دونوں کے ساتھ گپیں ہانکتی بہت خوش تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے وہ جب گھر آیا تو بہت تھکا ہوا تھا ، سب کو سلام کرتے اسنے ایک طائرانہ نگاہ سب پہ ڈالی تو وہ نہیں تھی ، اسنے سر جھٹکا۔۔۔
یہیں ہوں گی۔۔۔ لیکن وہ حیران ہوا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ انکے ساتھ ہوتی تھی گویا اس گھر میں وہ انکے ساتھ گپیں لگانے آئ ہو۔۔۔
فریش ہونے کے بعد وہ کھانے کیلیے نیچے آیا تو تب بھی وہ اسے کہیں نظر نہ آئی ، اسنے لب بھینچتے ہوئے سامنے رکھا کھانا کھانا شروع کیا کہ کچھ دیر میں آ جاتی ۔۔۔
کھانے کے بعد اسنے ہر چیز بلائے طاق رکھتے پوچھا۔۔ بھابھی علیزے کدھر ہے؟ اسکی بات پہ انہیں اچنبھا ہوا ۔۔
ارے وہ تو اپنے گھر گئی ہے کاشان اور محرم بھی گئے تھے۔۔ اپکو بتا کے تو گئی۔۔۔ انہوں نے اس کو بتایا تو وہ طیش سے لب بھینچ گیا۔۔۔
اوہ۔۔ ہاں میرے مائنڈ میں نہ تھا کہ آج جانا انہوں نے، بات تو کی تھی۔۔ انکی تسکی کرواتا اٹھا تو اسکا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آ کے وہ وہی پرانی علیزے بن گئی ہنستی کھلکھلاتی لیکن جب بھی کوئی جہان کا نام لیتا تو اسکے مسکراتے لب جڑ جاتے۔۔ وہ اس سے پچنے کو یہاں آئی تھی لیکن وہ ہر جگہ ہی چھایا ہوا تھا۔۔۔
حتی کہ نہ چاہتے ہوئے اسکی روح تلک میں بھی۔۔۔۔
وہ سوچتی تھی کہ وہ اس سے دور جائیگی تو سب ٹھیک ہو جائیگا، اسے بھولنے میں آسانی ہو گی لیکن وہ تو رگوں میں دوڑتے لہو سا محسوس ہوتا تھا۔۔۔
بھابھی ولی بھائ کیلیے لڑکی دیکھیں ، انکی شادی کریں پھر ہم خوب مزہ کریں۔۔۔
آپ سب کی شادیوں میں میں چغوٹی ہوتی تھی رو انجوائے کم کیا اب ولی بھائی کی شادی پہ مزے کرنے۔۔۔۔ وہ جوش سے بولی۔۔
بس کرو لڑکی مجھے شرم آرہی ہے۔۔۔ ولی کی شرم میں ڈوبی آواز پہ اسکی طرف دیکھا تو وہ اسکا دوپٹہ منہ میں لیے اسے چبانے میں مگن تھا۔۔۔۔اسکی اس فضول اداکاری پہ اسکا حلق تک کڑوا ہوا
آخ تھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے ڈوپٹہ چھیننے ہی والی تھی جب اس کے موبائل کی رنگ بجی۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کے دیکھا تو سکرین پہ چمکتے نام نے اسے منجمند کر دیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔