Rate this Novel
Episode 16
اسنے ناسمجھی سے اپنے سامنے پھیلے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اسکی طرف ہلکی سی نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا جیسے مطلب جاننا چاہتی ہو، اسنے آنکھ سے اشارہ کیا گویا ہاتھ تھامنے کو کہا ۔۔ وہ مٹھیاں دبوچ گئی سختی سے اور اسکی پلکیں لرزنے لگیں وہ اسکا ہاتھ دھتکارنا چاہتی تھی لیکن ناجانے اسکی آنکھں میں کیا کیفیت تھی کہ اسنے ٹرانس سی کیفیت میں اپنا پسینے میں بھیگتا ہاتھ اسکی ہتھیلی پر رکھا اسنے سر خم کر کے ایک جاذبیت سے اسکا ہاتھ دبا کے کھڑا کیا۔۔۔
I am blessed my sweet lady….
اسکے کانوں میں سرگوشی ہوئی اسکا دل کانپا وہ ابھی تک اسکا مقصد نہ سمجھ پائی۔۔ اسے اپنی فلم بھولی ہوئی تھی اسکے ساتھ چلنے کی وجہ سے اسکی شال بھی صوفے پہ رہ گئی تھی ۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے اسٹیریو کے پاس گیا اور دوسرے ہاتھ سے اس میں محبتیں کا ہی back ground میوزک سیٹ کیا اور اسکی طرف ہاتھ کیا وہ پیچھے ہوئی اسنے ہاتھ بڑھا کے اسکا کیچر نکالا اور اسکے بال اسکے شانوں پہ بکھیرے ۔۔ اسکی ان جانلیوا حرکتوں پہ اسکی جان لبوں پہ اٹکی تھی اسکی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہو رہی تھیں۔۔۔۔
اسکا ایک ہاتھ پکڑ کے اسنے اپنی کمر کے گرد رکھا اور ایک ہاتھ اپنے شانے پہ جمایا۔۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکی کمر میں حمائل کرتے اسے ہولے سے قریب کھینچا ۔۔۔۔
اسکا سانس سینے میں اٹکا اور حلق خشک ہوا ، وہ اسے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کو کہہ رہا تھا۔۔۔ اسنے پیچھے کو ہٹنا چاہا لیکن اسکی مضبوط گرفت میں ایسا ہو نہ سکا۔۔ مج۔۔مجھ۔۔مجھے نہیں۔۔ جانے دیں ،۔۔۔وہ ٹوٹے پھوٹے انداز میں اپنی رہائی کیلیے کوشش کرنے لگی۔۔ وہ اسکی قربت میں کھل کے سانس نہی لے پاتی تھی کجا کہ اسکے ساتھ ملکر کپل ڈانس۔۔۔۔ مجھے نہی آتا پلیز۔۔۔ وہ روہانسی ہوئی۔۔
ڈونٹ وری میں ہوں نا!دونوں ملکے کوشش کرتے۔۔ وہ اسکے کانوں میں بولا اور ہلکا سا اسکے کان کی لو کو چھوگیا۔۔۔ وہ اگر اسکے سہارے نہ کھڑی ہوتی تو اب تک گر چکی ہوتی۔۔
اسنے اسکی کمر کے گرد جمائے ہاتھ کی مدد سے اسکی کمر پہ دباو ڈالا گویا اشارہ دیا ہو۔۔۔ اور ہلکا سا حرکت کرنے لگا وہ بہت دھیمے انداز میں موو کررہا تھا تاکہ وہ ریلیکس ہو سکے ۔۔۔ اسنے اسکا بازو پکڑا اور ہلکا سا اسے گھمایا اب اسکی کمر اسکے سینے سے لگی تھی۔۔ اسے لگ رہا تھا دونوں کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے تال میل کر رہیں ہیں۔۔۔ وہ دھیرے دھیرے پاوں کو حرکت دیتا اسے موو کروا رہا تھا۔۔۔ فیورٹ مووی کا میوزک، رات کا فسوں، رگ وجان میں بستے شخص کا ساتھ ، اسکی بے پناہ محبت سب اسے ملکے کمزور کر رہے تھے آخرتھی تو ایک نازک و کمزور لڑکی ۔۔
اسنے ابکے اسکا رخ اپنی طرف کیا اور اسکا چہرہ اوپر اٹھایا۔۔ بند آنکھیں ان پہ سایہ فگن پلکیں، سرخ لہوچھلکاتے رخسار، اونچی کھڑی ناک، اسکی نگاہ اسکے اسکے کپکپاتے سرخ ہونٹوں تک گئی ، اسکا حسن کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتا تھا اور اس وقت یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے جب اپنی ملکیت کا احساس بھی زوروں پہ ہو۔۔ وہ خود پہ ضبط کھوتا اسکے ہونٹوں کس فوکس کرتا اس پہ جھکا۔۔۔
وہ جو آنکھیں موندھے اسکی شدتوں سے بھری نظروں سے بچ رہی تھی اپنے ہونٹوں پہ اسکی گرم سانسیں محسوس کر کے اس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑا اسنے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا وہ اس سے بال بھر کی مسافت پہ تھا اس سے پہلے کے وہ کوئی مزاحمت کرتی یا وہ ہر حد پار کرتا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتے معاویہ جلدی میں بولا۔۔
جے !وہ م۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ایم سوری۔۔ اسنے جھٹکے سے رخ بدلا اور اسکے ساتھ کھڑے آریان نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا۔۔۔ جبکہ اسکا دل کر رہا تھا کہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے وہ ایک جھٹکے سے ہٹی اور بھاگتی ہوئی ڈریسنگ روم میں گھسی اسے لگ رہا تھا وہ اب کبھی بھی انکا سامنہ نہیں کرسکتی وہ سینے پہ ہاتھ رکھے اپنی دھڑکنیں شمار کرنے لگی۔۔۔
اور جہان اسکا دل کر رہا تھا کہ ان دونوں کو الٹا لٹکا دے وہ کڑے تیوروں سے انکی طرف مڑا۔۔۔ رئیلی بھائی مجھے نہیں تھا پتہ بھابھی بھی ساتھ ہیں میں معاویہ کو بولا تھا کہ ابھی نہیں صبح بات کرتے لیکن یہ۔۔۔۔ آریان نے صفائی دینا چاہی۔۔۔
تم لوگوں کو اتنے گٹس نہیں ہیں کہ کسی کے روم میں ناک کر کے آتے۔۔۔ وہ غرایا۔۔
قسمے جے بھول گیا تھا کہ تو شادی شدہ ہو گیا ہے، میں تو پہلے کی طرح ہی آ گیا۔۔ سوری یار۔۔ وہ واقعی شرمندہ ہوا۔۔
دفعہ ہو تو اب تم لوگوں کی وجہ سے میری بیوی مجھ سے نجانے کتنے دن منہ چھپائے گی اوع تم لوگ تو اسکے سامنے بھی مت آنا۔۔۔ وہ پھر سے طیش میں بولا۔۔ وہ لب دانتوں تلے دبا گیا لیکن اک نظر کمرے کے ماحول کو دیکھ کے اسکی زبان میں پھر سے کھجلی ہوئی۔۔۔
ویسے جے ہم نے کچھ زیادہ ہی سپیشل مومنٹ خراب کر دیس ہے رومنٹک مووی، اسٹیریو پہ بجتا رومانٹک میوزک، یہ ہلکی سی روشنی اور بہکے ہو۔۔۔۔۔ آنکھوں میں شرارت لیے وہ بکے جا رہا تھا جب گدی پہ پڑتے ہاتھ سے کراہ کے خاموش ہوا۔ جبکہ آریان منہ پھیرے مسکراہٹ دبائے جا رہا تھا ، جہان کو جھینپتے دیکھنا انکیلیے پہلی دفعہ کا کارنامہ تھا۔۔۔۔ بکو کس کام کیلیے تشریف آوری ہوئی ہے۔؟۔
اسکی بات پہ وہ کچھ سنجیدہ ہوا۔۔۔ جے باہر چل کے بات کرتے اسنے ڈریسنگ روم کی طرف اشارہ کیا تو وہ بھی سمجھتا انکے ساتھ باہر نکلا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔
کیا ہوا؟ اسنے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
لالہ وہ بہت ہائپر ہو جاتیں ہیں اور گھر جانے کی ضد کر رہی ہیں انفیکٹ وہ اس سے بہت سہمی ہے کیونکہ اسکے اندر یہ ڈر ہے کہ وہ گھر نہ گئی تو وہ اسے پنش کرے گا اور بھوکا رکھے گا۔۔۔ اسکی بات سن کے اسکے ماتھے کی محسوس رگ پھولنے لگی جو اسکے شدید طیش کی نشانی تھی۔۔۔
اور ڈرگ ایڈکشن؟؟ اسنے لب بھینچتے سوال کیا۔۔
وہ تو کافی حد تک کنٹرول ہو ہی گیا ہے اتنی مشکل سے بہلا پھسلا کے ڈرگ کا ہی لالچ دے کے انجیکشن اور باتوں سے قابو کیا ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے چھوٹی عمر سے ہی انہیں دیے جا رہے ہیں جسکی وجہ سے وہ اتنی چڑچڑی اور جنونی ہوجاتی ہیں۔۔۔ اسنے تفصیلاً اسے آگاہ کیا۔۔
اوکے تم ابھی اسے ادھر ہی رکھو جب تک وہ ٹھیک طرح سے کور اپ نہی ہوتی اسے گھر نہی لے جایا جا سکتا اور اس سے پہلے ایک ضروری کام مجھے ختم کرنا ہے ۔۔
تم اسکا اعتماد ڈیویلپ کرو اسے مکمل ٹھیک کرنا اب تمہاری زمہ داری ہے۔۔ اسنے اسے آگاہ کیا
لالہ وہ مجھے مارتی ہے۔۔ اسنے بسورتے شکایت لگائی۔۔۔
اور اگر وہ ٹھیک نہ ہوئی تو میں تمہیں مارنا۔۔۔ اسنے اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو معاویہ کا قہقہ نکلا جبکہ اسکا منہ کھل گیا۔۔۔۔
معاویہ لالہ قسم سے بہت جلاد ہیں۔۔ اللّہ کرے بھابھی انہیں سیٹ کریں۔۔۔ اسنے عورتوں کی طرح بددعا دی لیکن پھر اسکے حلق پھاڑ قہقہے پہ خجل ہوا۔۔۔
بس کرو کیوں مردے اٹھانے کا ارادہ ہے۔۔ وہ دبے لیجے میں معاویہ کو گھرکتا بولا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . . . . . . . . . . . .
جب کمرے سے آوازیں آنا بند ہوئیں تو اسنے محسوس کیا کہ شاید وہ جا چکے ہیں۔۔ اسکی دھڑکنیں ابھی بھی معمول پہ نہیں آئی تھی وہ اسی لیے چھپ کے بیٹھی تھی کہ وہ ان سب کا سامنا نہیں کر سکتی تھی اب جب اسے ان کے باہر جانے کا یقین ہوا تو ہولے سے دروازہ کھولتی باہر نکلی۔۔۔ جہان کو بھی ناموجود پا کے اسنے سکون کی سانس لی اور فوراً چینج کیا اور آپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس باہر آئی تو کوئی چھوٹی سی بچی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔ آئینے میں دیکھتے اسنے جلدی سے بال سلجھائے اور lcd آف کی کہ مووی ختم ہو چکی تھی اور جلدی سے کمبل میں کھسی اور اسے اچھی طرح اپنے گرد لپیٹا ابھی وہ کمبل سیٹ کر ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پہ اسکا ہاتھ جہاں کا تہاں رہ گیا وہ بلکل ساکت ہوئی۔۔۔۔وہ اندر آیا کوٹ اتار کے صوفے پہ پھینکا اور شوز بدل کے کپڑے لیے واش روم گھسا ۔۔۔
وہ چپ چاپ لیٹی خود کو کمپوذ کر رہی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی پاس لیٹا ہے اسکا دل پھر سے گہری کھائیوں میں اترا۔۔۔
علیزے۔۔۔۔ اسکی گھمبیر پکار پہ اسنے سانس روکی۔۔
مجھے پتہ ہے آپ جاگ رہیں ہیں۔۔۔ اسنے پھر سے کہتے اسکے ڈھکے وجود پہ نگاہ ڈالی۔۔۔
اپنے اس معصوم حفاظتی حصار کو پرے کریں کیونکہ یہ بات آپ بھی جانتی ہیں کہ جب میں اپنی کرنے پہ آیا تو ایسے کسی حصار کی کوئی وقعت نہ ہو گی۔۔ اسکی سرد لیکن جذبات سے بوجھل اواز پہ اسکی سانسیں اتھل پتھل ہوئی ۔۔۔
اسنے ہاتھ اسکے کمبل کی طرف بڑھایا تو کمبل سے آواز آئی مجھے نیند آئی۔۔۔ اسنے اتنی دھیمی آواز میں کہا کہ اگر وہ متوجہ نہ ہوتا تو سننے سے محروم رہتا۔۔۔اسکی بات نے اسکے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیری اور اسنے اسکے چہرے سے کمبل ہٹایا تو وہ ہڑبڑا گئی۔۔۔ بکھرے بال ، مٹے مٹے میک اپ سے سجے نقوش اور دلکش سراپا۔۔۔ وہ کیوں نہ بہکتا؟؟
آ۔۔۔آپ نے مجھے اب تنگ کیا تو۔۔۔ تو میں صوفے پہ چلی جاوں گی۔۔۔ اسکی معصوم سی دھمکی پہ وہ بمشکل قہقہ روک سکا۔۔
ڈونٹ وری ڈیئر۔۔۔ہم دونوں ملکے ادھر سو جائیں گے۔۔ وہ متبسم لہجے میں بولا جبکہ اسکا منہ کھل گیا اسنے ایک نظر صوفے کو دیکھا، اس پہ تو جہان اکیلا ایڈجسٹ نہ ہوتا اور وہ دونوں کی بات کر رہا تھا۔۔۔
اٹس اوکے ہم ایڈجسٹ کر لیں گے۔۔ اسکی سوچ پڑھتے اسنے پھر سے شرارتاً کہا۔۔
کیسے؟ اسنے تجسس سے فقط سوالیہ نظریں اٹھائیں تو اسکی آنکھوں میں چھپے سوال کو دیکھتے وہ ہلکا سا اسکے کان کی طرف جھکا اور بولا۔۔
اوپر نیچے۔۔۔ یونو۔۔۔ کیسے بھی بٹ کریں گے۔۔۔ اسکی اس بے باک سرگوشی پہ وہ کان لووں تک سرخ پڑی ۔۔۔
ہ۔۔ہٹ۔۔ہٹیں پیچھے شرم نہی آتی آپکو؟؟ اسنے اسے پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔
نہیں. . ۔۔ اسکے سنجیدگی سے دیے گئے جواب پہ وہ شرم سے روہانسی ہو گئ۔۔
مم.۔۔۔۔مما کو بتاوں گی آپ سونے نہیں دیتے۔۔وہ بھیگتی آواز میں بولی۔۔
کیا بولیں گی مما کو؟؟ اسکے سوال میں پوشیدہ معنی نے اسے کانپنے پہ مجبور کیا۔۔۔۔ وہ نہیں سمجھ پاتی تھی وہ اسکے سامنے بے بس کیوں ہو جاتی تھی کیوں اسکی شدتوں پہ بندھ نہیں باندھتی تھی وہ یہ نہ سمجھتی تھی کہ محبت کو روکنا نہایت مشکل ہے اور تب اور بھی زیادہ جب وہ عشق کی معراجوں کو چھو رہا ہو۔۔۔۔
بولیں نا؟؟ اسنے اوپر مزید جھکتے اسے اکسایا تو اسکے سبز نین کٹورے پانی سے بھرنے لگے اور ہونٹ کپکپانے لگے، اسنے گویا ترس کھاتے پیچھے ہوتے اس پر کمبل ٹھیک کیا اور اسکا سر اپنے سینے پہ رکھا تو وہ مچلی ، اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں کچھ ایسا نہ کروں کہ آپ مجھ سے نظریں نہ ملا پائیں تو چپ چاپ سو جائیں۔۔ اسکی سرد آواز پہ وہ ٹھٹھری اور خامشی سے سر رکھ کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کی وجہ سے جہان نے میری انسلٹ کی ہے میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گی۔۔۔ وہ چیخی
فارگاڈسیک سارہ بھول جاو سب ، جہان چھوڑے گا نہیں اگر اسکی بیوی کو کچھ ہوا تو۔۔۔ اسکی دوست نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
نہیں۔۔۔وہ چلائی، اسے مرنا ہوگا،۔۔۔ اور اسے میں ماروں گی ۔۔ اسکی وحشیانہ آواز پہ اسکی دوست بھی ساکت ہوئی۔۔۔۔
