55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

اسکی نظروں میں نہ جانے کیا تھا کہ وہ پگھلنے لگی اور بے اختیار اپنا رخ بدل گئی۔۔۔
اوہ لالہ آپ کب آئے؟؟ تاشے کی نگاہ اس تک گئی تو فوراً چہکی۔۔۔
بھآبھی کیسی لگ رہی ہیں؟ سب نے کورس میں پوچھا تو وہ ہلکا سا سر ہلا کے بولا
‘اچھی’ ۔۔۔ جبکہ بھابھی کی جان آدھی ہو رہی تھی۔۔
بس لالہ اتنی تعریف؟؟ مہرو منہ بسوری کیونکہ زیادہ کام اسی نے کیا تھا۔۔۔
اب آپ لوگوں کی موجودگی میں تو یہی کہہ سکتا، وہ تو آپکی بھابھی کو بتاٶنگا کہ کیسی لگ رہی ہیں۔۔۔
اسکے دھیمے لہجے میں آگ سی لپک تھی اسکی بات سے اسکے رگ و پے میں سنسنی سی جاگ گئی جبکہ باقی سب منہ پھاڑے اسے دیکھ رہی تھیں کہ آیا یہ سب واقعی جہان نے کہا ہے نا؟؟
رئیلی لالہ۔۔۔
زینی نے حیرانگی سے استفسار کیا تو وہ کندھے اچکا گیا
تو آیت ہنستے ہوئے علیزے سے بولی۔۔۔
علیزے یہ شال بازووں پہ لے لینا جب نکلنے لگو ۔۔
انہوں نے بیڈ پہ پڑی بلیو اینڈ بلیک بارڈر سے سجی شال کی طرف اشارہ کیا تو وہ سر ہلا گئی۔۔۔ اور وہ سب کو اشارہ کرتی باہر نکلیں۔۔
چلیں جہان بھائی!آپ تعریف کر کے اچھی طرح علیزے کو لے آئیے گا،۔۔
شرارت سے جہان کو کہتی وہ باہر نکلیں تو وہ بوکھلا گئی۔۔۔
وہ باہر نکلنے کو پر تول رہی تھی جب وہ اسکی طرف آیا
وہ دھیرے دھیرے پیچھے سرکنے لگی تو اسنے ہاتھ بڑھا کہ اسے قریب کیا۔۔۔
اور اسکی نیک کی ابھری ہوئی کالر بون پہ نظر جمائی اور وہاں سے تھوڑا سا نیچے لٹکتے لاکٹ پہ نظر گئی وہ ہلکا سا جھکا اور اسکے لاکٹ پہ اپنے لب جمائے تو وہ لڑکھڑا گئی شدتِ ضبط سے اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے اوراس سے دور ہونے لگی تو اس پہ گرفت مضبوط کرتا اسکے کان میں سرگوشی کے سے انداز میں بولا
مجھے آج بھی یہ آپکی گردن کی زینت بنے دیکھ کے اتنی ہی خوشی ہوئی ہے جتنی پہلی دفعہ پہناتے ہوئے ہوئی تھی۔۔۔
وہ تڑپ کے اسکی گرفت سے نکلی اور رخ موڑ کے سختی سے بولی۔۔
جانا ہے تو چلیں نہیں تو میں نہیں جاوں گی۔۔
اسکی معصوم دھمکی پہ اسکے حلق سے قہقہ نکلا تو وہ حیرت سے دیکھنے لگی اسنے بہت کم اسے مسکراتے دیکھا تھا کجا کہ قہقہ۔۔
اسنے مسکراتے ہوئے شال اٹھائ اور دھیرے سے اسکے بازووں پہ ٹکانے لگا۔۔ اسکے اس انداز پہ اسکا دل کہیں اندر کرلایا،
کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا؟آپ کی اس محبت کے میں قابل نہی، آپکو مجھے چھوڑنا ہی ہوگا ، اپنے لیے ،میرے لیے اپنی فیملی کیلیے۔۔۔ بھیگی آنکھوں سے اسے جھکے سر کو دیکھتے وہ سوچتی گئی۔۔۔
چلیں۔۔ شال اوڑھانے کے بعد اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھا وہ نظریں جھکا گئی اور سر ہلا کے بڑھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللّه ۔۔ میرے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہیں ،بانو جلدی سے ادھر آو۔۔ جب وہ قدم سے قدم ملا کے سیڑھیاں اترتے نیچے آئے تو آسیہ پھوپھو نے دیکھتے ہی کہا اور پیسے وار کے بانو کو دیے اور ان دونوں کا ماتھا چومتے دعائیں دینے لگی۔۔۔
جیتی رہو صداسہاگن رہو۔۔ اسکا ماتھا چومتے وہ بولیں تو اسکی نگاہ فوراً اس تک گئی لیکن اسکو دیکھتے پا کے پھر سے سر جھکا گئی۔۔۔۔
لالہ رکیں رکیں۔۔۔ پکس بنواٸیں پہلے کچھ۔۔ مہرو بھاگتے آئی تو وہ گھبرا گئی لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور ریڈی ہونے کو کہا۔۔۔
اسنے ایک ہاتھ اسکے شولڈر پہ رکھا تو وہ چونک کہ اسکی طرف دیکھنے لگی اور وہ خوبصورت منظر کیمرے میں قید ہوا۔۔۔
بھآبھی لالہ کے شولڈر پہ ہاتھ رکھیں۔۔ پھر سے مشورہ آیا اسنے سب کو دیکھا اور پھر جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے سینے پہ رکھ دیا۔۔۔ اسطرح کے کچھ فوٹوز کے بعد انہیں رہائی ملی تو وہ اپنی منزل کی طرف گامزن ہوئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر وہ روم نمبر ١٢ کے پیشنٹ نے توڑپھوڑ شروع کی ہوئی ہے۔۔۔
وہ جو گھر جانے کی تیاری میں تھا نرس کی بوکھلائی آواز سن کے ٹھنڈی سانس بھرتا اسکے ساتھ اس روم کی طرف گیا۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کے ایک دم چکرا سا گیا وہ بپھری شیرنی بنی سب کو نچا رہی تھی اسنے کمرے کی ایک ایک چیز توڑ دی تھی اسے دیکھ کے اسکے ہاتھ ایک پل کو تھمے لیکن پھر ہاتھ میں پکڑا تکیہ اسکی طرف پھینکا وہ فوراً جھکائی دے گیا ورنہ ناک پہ نشانہ پکا تھا۔۔۔
تم جھوٹے ہو مجھے میڈیسن نہی دیتے نہ گھر چھوڑ کے آتے ہو میں تمہارا خون پی جانا۔۔۔
اس پہ آج گویا جن آیا ہوا تھا۔۔۔ اسے آج پھر سے خود پہ ترس آیا اور جے پہ طیش۔۔۔
وہ آگے بڑھا اور اسکے کچھ اور پکڑنے سے پہلے اسکے ہاتھ پکڑ گیا۔۔۔
پاگل تو نہیں ہو۔۔۔ میں یہاں ڈاکٹر ہوں کھلم کھلا تو تمہیں تمہاری میڈیسن نی دے سکتا اسلیے تو تمہیں میڈیسن انجیکشن کے زریعے دیتا ، خود بتاو انجیکشن کے بعد تمہیں ضرورت ہوتی؟وہ سختی سے بولا۔۔۔
چھوڑو مجھے میں خون پی جاٶں گی مجھے گھر چھوڑ کے آٶ۔۔۔ وہ پھر سے جھپٹی۔۔
تم بلکل اچھی دوست نہیں ہو ، تمہیں یاد ہے ہم نے دوستی کی تھی میں اور تم نے پرامس کیا تھا کہ میری ہر بات مانو گی اور جب تمہاری طبیعت ٹھیک ہوئی تو میں تمہیں گھر چھوڑ آوں گا۔۔۔
اسنے کچھ سختی اور سنجیدگی سے بات مکمل کی تو وہ کچھ ڈھیلی پڑی۔۔۔
لِیکن تم مجھے جلدی سے ٹھیک کر کے گھر بھیجو نہیں تو وہ مجھے مارے گا اور مجھے سزا دیگا۔۔۔ اسنے روتے ہوئے خوف سے کہا۔۔ اسکے چہرے پہ سراسمیگی جاگ اٹھی تو وہ چونکا۔۔۔
تم ٹینشن کیوں لیتی ہو میں خود گھر چھوڑ کے آوں گا تمہیں اور میرے ہوتے کوئی میری دوست کو ہاتھ لگا کہ تو دیکھے ۔۔
اسکی بات پہ اسنے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا تو اک پل کو وہ ان نینوں میں ڈوب گیا لیکن فوراً ہڑبڑا کے اسے چھوڑتا پیچھے ہٹا اور نرس کو اسے لٹانے کا اشارہ کرتا باہر نکلا۔۔۔
جہان بھائی اللّہ پوچھے آپکو ایک ہوشربا دوشیزہ کی دیکھ بال پہ مجھے رکھا۔۔۔ کیا میرے اندر جذبات نہیں ہیں؟
وہ بڑبڑاتا پورچ کی طرف گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . .
اسکے ہاتھوں میں ہاتھ دیے جب وہ فنکشن میں اینٹر ہوئے تو بہت سی نگاہیں انکی طرف اٹھیں۔۔۔ رشک، ستائش ، محبت اور حسد سے ملی جلی نظریں انکی طرف اٹھی۔۔ وہ بہت گھبرا رہی تھی اسنے اسکے بازو کو مضبوطی سے پکڑا وہ پروقار انداز میں چلتا اشعر کی طرف بڑھا جس نے یہ فنکشن آرگنائز کروایا تھا ساتھ اسکی مسز منشا بھی تھی۔۔۔
ویلکم کیسے ہیں آپ جہان بھائی؟ بھابھی کیسی ہیں آپ؟ منشاء نے ایک ساتھ دونوں سے پوچھا تو وہ سرہلا کے مسکرائی۔۔۔
جہان بھائی آپکی مسز بہت کیوٹ ہیں اینڈ شی از بلشنگ ہیویلی۔۔۔
اسنے اسکو پھر سے ساتھ لگا کہ کمنٹ کیا تو وہ شرما گئی جبکہ اسنے سر خم کرکے گویا اسکی تعریف کو حق سمجھ کے قبول کیا۔۔۔
اوکے جہان بھائی میں آپکی مسز کو چرا کے لے جانے لگی۔۔ وہ شرارت سے بولی تو اسنے گھبرا کے جہان کی طرف دیکھا تو اشعر فوراً بولا۔۔۔
ریلیکس بھابھی پریشان نہ ہوں بس آپکو سب سے ملانے لگی ہے۔۔۔
اسنے اسے تسلی دی تو وہ خفت سے سر ہلا کے منشاء کے ساتھ گئی۔۔۔
اسطرح ایسی پارٹیز اٹینڈ کرنا اسکیلیے بہت مشکل تھا وہ بہت کنفیوزڈ تھی منشاء اسے لیے سب سے ملانے لگی سب نے بہت اچھی طرح وارملی ویلکم کیا وہ سب کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی کہ گولڈن سلیولیس میکسی میں ملبوس ایک طرحدار حسینہ انکے پاس آئی ۔۔
اسکی باتوں سے پریشان نہ ہونا یہ جہان کے پیچھے پاگل ہے۔۔ منشاء اسکے کان میں بڑبڑائی تو وہ چونکی۔۔۔
اوہ تو یہ ہیں مسز جہان حیدر شاہ۔۔۔
وہ چبا چبا کے اسے گھورتے بولی تو وہ گھبرا گئی۔۔۔
جی یہی ہے مسز شاہ خیریت؟
منشا نے بظاہر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔
کیسی ہو سارہ؟
وہاں کھڑی باقی لیڈیز اس سے حال احوال پوچھنے لگیں لیکن وہ اسے ہی عجیب انداز میں گھورے جا رہی تھی وہ اسکی چبھتی ہوئی نظروں سے بہت پریشان ہو رہی تھی ۔۔
میں انکو دیکھ کے حیران ہوں کہ اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں ہے جو جہان نے اسے چوز کیا ۔۔۔
اسکی بات پہ اسکا رنگ فق پڑا اور دل ڈوبا تو یہ جہان کو۔۔۔ اس سے آگے سوچنے سے ہی اسکا دم گھٹنے لگا۔۔۔
سارہ پلیز بیہیو یورسیلف۔جہان نے سنا تو بہت برا ہوگا۔۔ اسکی دوست نے اسے وارن کیا لیکن وہ حسد میں پاگل ہو چکی تھی۔۔
شاید اسکی یہ مصنوعی معصومیت اور کم عمری نے جہان کو ورغلایا ہے جو وہ مجھ جیسی کو چھوڑ کے اسکے پیچھے پڑا۔۔۔
اسنے پھر سے حسد میں جلتا تیر چھوڑا اس سے پہلے کہ اسکے آنسو چھلکتے اسنے سارہ کا رنگ فق ہوتے دیکھا وہ حیران رہ گئی وہ کیوں ڈری اور سہمی ہوئی سی لگنے لگی تھی۔۔۔
اسنے نگاہ اٹھائی تو سامنے کھڑے جہان پہ نظر گئی اسکی آنکھوں سے نکلتے شعلے دور کھڑے بھی نظر آ رہے تھے وہ ڈر گئی تھی اسطرح کی حالت اس نے بہت سال پہلے اسکی دیکھی تھی اور تب جو تباہی اسنے مچائی تھی وہ سوچ کہ وہ آج بھی لرز جاتی تھی لیکن آج ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ ایسے طیش میں تھا اسنے باقی کو بھی دیکھا تو سب بھی بھی اڑی رنگت کے ساتھ کھڑی تھیں۔۔۔
اوہ ج۔۔جہان تم کب آۓ؟ میں تمہاری بیوی سے ملی بہت پیاری ہے۔۔
سارہ نے پینترا بدلتے گھبراتے ہوئے کہا تو وہ حیران ہوئی وہ غصے سے غراتے ہوئے اسکے پاس آیا۔۔۔
سوری کرو۔۔۔
سارہ کا رنگ ہتک سے سرخ پڑا اور اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اسکی حالت کیوں ہوئی ہے۔۔۔
میں نے کچھ کہا ہے ۔۔
وہ پھر سے دھاڑا تو علیزے کانپ گئی لیکن اسکو دیکھتے اور وہاں کا ماحول دیکھ کے منمنائی۔۔۔
شاہ۔۔۔
لیکن وہ متوجہ نہ تھا وہ سارہ کو دیکھ رہا تھا وہ سوری کر کے خود کی انسلٹ نہیں کروانا چاہتی تھی اسنے اردگرد دیکھا جب وہ اسکی طرف بڑھا تو علیزے نے بناسوچے سمجھے اسکا بازو تھاما۔۔۔
اسکا نرم لمس محسوس کرکے وہ ذرا تھما ،
پلیز رک جائیں، وہ میرے ساتھ نارملی بات کر رہی تھیں، پلیز آپ پارٹی خراب مت کریں۔۔۔
وہ ہولے سے بولی تو وہ رک گیا اور اسکا ہاتھ تھامتا غصے سے وہاں سے چلا گیا۔۔۔
کدھر جا رہے ہیں؟ایسے گھر نہیں جائیں اشعر بھائی کا سوچیں۔۔۔
اسنے پھر سے اسے ٹھنڈا کیا تو اسکی آنکھوں میں التجا سی تھی جسے دیکھتے وہ رک گیا اور گہری سانس لے کہ خود کو کمپوز کیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب گاڑی گھر میں آکے پورچ میں رکی تو اسکا سیل وائبریٹ ہوا اسنے چیک کیا تو ولی کا میسج تھا جسے پڑھ کے اسکا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑا ۔۔۔ اسنے اپنا ڈریس دونوں اطراف سے چٹکیوں میں اٹھایا اور اندر کی طرف دوڈی۔۔ وہ کافی حیران ہوا کہ اسے اچانک ہوا کیا ہے جو وہ اسطرح سب بھول کے بھاگ پڑی تھی۔۔۔ وہ اسی طرح بھاگتے جا رہی تھی اسکا ڈریس اور اسکی شال کا ایک پلو زمین پہ رگڑ رہا تھا لیکن وہ اسی طرح بھاگتی روم میں چلی گئی۔۔۔
جب وہ روم میں گیا تو وہ بہت مگن انداز میں مووی ریکھ رہی تھی شال کا سرا زمین پہ لٹک رہا تھا، بالوں کی لٹیں چہرے پہ بوسے دے رہیں تھیں وہ بہت بے پرواہ انداز میں بیٹھی تھی اسکا ایسا روپ اسے بے قابو کر رہا تھا لیکن وہ ضبط کرتا پاس گیا۔۔۔
“محبتیں” کا ڈانس سین دیکھتے وہ اردگرد سے بیگانہ تھی۔۔۔ اسنے اسکے پاس پڑا موبائل اٹھایا اور دیکھا تو ولی کا میسج تھا
‘ لیزے تمہارے فیورٹ بندر کی مووی آ رہی ہے’۔۔
میسج پڑھ کے اسکے لبوں پہ بے ساختہ مسکراہٹ آئی ۔۔
اوہ تبھی محترمہ اتنی بے چین ہورہی تھیں۔۔۔
آپ کو پسند ہے یہ ایکٹر؟؟ اسکی سنجیدہ آواز پہ وہ اچھلی اور ایک نظر اسے اور پھر سکرین کو دیکھا۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے بہت احتیاط کرتی تھی ابھی بھی پارٹی میں اسکا جو رویہ تھا اور ابھی بھی اسکا سنجیدہ بیہیو اسے گڑبڑا گیا وہ ڈر کے انکاری ہوئی۔۔۔
نں۔۔نہیں تو۔۔ مجھے ڈانس پسند۔۔۔
اسنے بوکھکاہٹ میں ایک اور عظیم غلطی کی۔۔۔
مجھے ڈانس پسند ہے میں وہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ پھر سے بولی جیسے اس سے زیادہ خود کو یقین دلا رہی ہو۔۔۔۔
اوکے تو اپکو ڈانس اچھا لگتا۔۔۔ اسنے محظوظ ہوتے پوچھا۔۔ ہاں بلکل۔۔۔ وہ فوراً بولی۔۔۔
اوکے اٹھیں پھر۔۔۔ اسنے اسکے سامنے کھڑے ہو کے اپنا ہاتھ پھیلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔