Rate this Novel
Episode 14
ان کا بھی وہی حال ہوتا ہے جو آپ کا ہوتا ہے جب آپکے شوہر ٹائ بندھواتے رومانس کرتے اور۔۔۔۔۔ معاویہ نے آتے ہی انکی بات اچک کے انکی ٹانگ کھینچی۔۔۔ صبح بدقسمتی سے وہ موحد کو ٹائی باندھ رہی تھیں اور کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور معاویہ نے سب کچھ دیکھ لیا اب بار بار انہیں زچ کر رہا تھا۔۔۔
تم بہت بے شرم ہو معاویہ!لوگوں کی پرائیویسی میں ٹانگ اڑاتے تھوڑی سی شرم کرتے۔۔۔ وہ جھینپتی اسکے کندھے پہ مکے برساتی اسکو لتاڑ رہی تھی۔۔
لیں جی۔۔ لوگوں کو بھی خیال کرنا چاہیے کنواریں لوگوں پہ دروازے کھول کے رومانس کر کے نمک چھڑکتے۔۔۔ وہ ڈھیٹ بنا بولے جا رہا تھا۔۔۔جبکہ اسکا ہنس ہنس کے برا حال ہو رہا تھا تبھی زینی پاس آئی اور اسکی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔۔
آہاں،،زوجہ محترمہ۔۔۔ اسنے ہانک لگائی۔۔۔
بس خبردار آج کوئی فضول گوئی کی تو لالے کس شکایت لگاوں گی۔۔ وہ جو اسکی بے باک حرکتوں سے زچ ہو چکی تھی اسنے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔۔۔
دیکھیں بھابھی!شوہر اور اپنی پرسنل باتیں بھائی کس بتانا آچھی بات ہوتی ہے کیا؟ اسنے دونوں سے تائید لی۔۔
بلکل بہت اچھا ہوتا ہے۔۔ دونوں زوروشور سے بولی تب ہی جہان اور خان اندر آئے دونوں بہت جلدی میں تھے۔۔اسکے گھنیرے بال اسکی پیشانی پہ پڑے تھے اور گھنی مونچھوں تلے بھینچے لب اسکے زہنی انتشار کو ظاہر کر رہے تھے۔۔ السلام علیکم ۔۔ اسنے ایک نظر سب کو دیکھ کے سلام کیا اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔ معاویہ!اوپر آو جلدی اسنے معاویہ کو بنا دیکھے آواز دی اور اسکے موڈ کو دیکھتے وہ بنا تنگ کیے اٹھا اور اسکے پیچھے لپکا وہ اسکی پشت کو ہی دیکھ رہی تھی جب بچوں نے اسے آکے بلایا تو وہ سر جھٹکتی انکے ساتھ باہر نکلی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
میں آج اس تک پہنچ کے ایک قدم پیچھے رہ گیا۔۔ وہ میز پہ ہاتھ مارتا غصے سے بولا۔، اسکے غصے کی وجہ ہی یہی تھی کہ وہ منزل تک پہنچ کے اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکآ۔۔۔
Relax Jay!calm down… And what do u think about other target??
معاویہ نے اسے دوسری سوچ پہ لگایا۔۔
وہ پاس ہی ہے لیکن ہاسپٹل ہے لیکن تھوڑا کنفیوزڈ ہوں کہ ادھر کون اسسٹ کرے گا۔۔۔ وہ پیشانی مسلتا بولا۔۔
یہ کونسا بڑا مسئلہ آریان کے ہاسپٹل شفٹ کرو اور اسے سب بات اچھی طرح سے سمجھاو تو وہ اسسٹ کر لے گا۔۔ اسنے آسانی سے حل بتایا تو وہ خان کو دھیمے سے کچھ سمجھانے لگا تو وہ بھی انکی طرف متوجہ ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب باہر لان میں کرکٹ کھیل رہے تھے آسیہ پھوپھو اور دادو ایمپائر بنی تھیں جنکہ آیت بھابھی کیپپر جبکہ باقی تینوں بڑی خواتین بیٹھ کے انجوائے کر رہی تھیں اور وہ سب بچہ پارٹی اور لڑکیاں کھیل رہی تھیں۔۔ ابھی اسکی ٹرن تھی بیٹنگ کی وہ چونکہ گھر میں کھیلتی تھی اسلیے ادھر بھی وہ بہت اچھا کھیل رہی تھی ۔۔۔ مہرو کی کروائی گئی بال پہ اسنے بیٹ گھمایا تو بال اڑتی ہوئی باہر آتے جہان کی کنپٹی کو سلامی دے گئی وہ جو پہلے ہی بہت برے موڈ میں تھا اس سواگت پہ اسکا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا۔۔۔
ان سب نے جب یہ سب دیکھا تو اپنی سانسیں تک عوکیں کیونکہ اسکے غصے سے پورے گھر کی جان جاتی تھی اسے غصے میں سنبھالنا کسی کے بس کا کام نہ تھا۔۔ ۔
اسنے نے سر گھما کہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے کس دیکھنا چاہا تو ساکت کھڑی علیزے کے ہاتھ میں بیٹ دیکھا تو غصے سے اسکی طرف بڑھا، بیٹا خیر ہے کھیل میں ہو جاتا۔۔ دادو اور مما نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا لیکن وہ نظرانداز کرتا اسکی طرف بڑھتا گیا۔۔وہ جو بت بنی کھڑی تھی اسے اپنی آتے دیکھ کے بیٹ پھینکتی اپنے پیچھے کھڑی آیت کے پیچھے جا چھپی۔۔۔۔
اسکی ڈھال دیکھ کے سب نے ماتھے پہ افسوس سے ہاتھ مارا اور معاویہ اور خان نے بمشکل ہنسی چھپائی جبکہ اسکی اس حرکت پہ آیت خود ہونق تھی۔۔۔ ہائے علیزے ہم تو تمہیں خود ان سے بچنے کیلے لیکر آئے تھے اور تم ہمارا سہارا لے رہی ۔۔۔ وہ منہ میں بڑبڑائی اور آنیوالی سشویشن کیلیے خود کو تیا ر کیا وہ اب بلکل پاس آگیا تھا علیزے نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھایا اور آیت کے پیچھے کھڑی علیزے کی طرف بڑھایا تو وہ فوراً چیخ پڑی۔۔اسنے ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔
مما۔۔۔ نو۔۔۔حیدر۔۔۔۔مما۔۔ وہ چیختی رہی جبکہ وہ ہاتھ باتھ کے کھڑا ہو کہ اسے ملاحظہ کرتا رہا جب اسنے کوئی کاروائی نا کی تو وہ آنکھیں کھول کے دیکھنے لگی جب اس پہ نظر گئی تو شرمندگی سے سرخ پڑ گئی۔۔۔
دھولن مامی آپ نے ماموں کو ہٹ کیا ہے نہ بال کے ساتھ انہیں پین ہو رہا اسلیے آپ انہیں ہگ کر کے پیار کریں پین فنش ہس جائے گا مجھے بھی مما ایسے کرتی۔۔۔ روحان نے معصومیت سے مشورہ دیا تو سب کے حلق پھاڑ قہقہے نکلے جبکہ وہ ہاتھوں میں چہرا چھپا گئی اسکا پورا وجود کانپنے لگا۔۔ جہان نے دلچسپی سے اسکی اس ادا کو دیکھا اور پھر بہت مشکل سے نفس پہ قابو پاتا ادھر سے ہٹ کے ان دونوں کو اشارہ کرتا باہر نکلتا گیا۔۔۔۔ جبکہ وہ ابھی تک اپنی منتشر دھڑکنوں پہ قابو پانے کی کوشش کرتی ان سب کی شریر نظروں سے بچنے کو مما کے پہلو میں جا بیٹھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل کے اس سپیشل کمرے میں آج پھر سے شور مچا ہوا تھا اسکے اندر موجود وجود پھر سے بے قابو ہو کے چیخ رہا تھا اور خود کو نوچ رہا تھا۔۔ اسکی یہ حالت دیکھ کے نرس جلدی سے آریان کو بلا لائی تو اندر آکے اسکی حالت دیکھ کے ایک پل کو وہ بھی چکرا گیا۔۔۔۔
کہاں پھسا دیا ہے جہان لالہ؟ وہ کرلایا۔۔۔
ریلیکس بےبی۔۔ ریلیکس اسنے پاس آتے اسکے دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھامے اور اسکے سامنے بیٹھا۔۔۔
مینے پہلے بھی کہا تھا نا کہ کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے بتانا خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ وہ دھیمے انداز میں کہتا اسکے ہاتھوں پہ گرفت مضبوط کر گیا کیونکہ وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔۔۔
مجھے۔۔گھر جانا ہے ۔۔مجھے تم میری میڈیسن بھی نہیں دے رہے میں تمہیں مار ڈالوں گی۔۔ ہاسپٹل جلا دوں گی۔۔۔ مجھے دو میڈیسن۔۔ وہ اسکا منہ نوچنے کی کو شش میں اس پہ جھپٹی لیکن کامیاب نہ ہو سکی کہ ہاتھ اسکی قید میں تھے۔۔۔
اوکے ریلیکس میں تمہاری میڈیسن دوں گا پہلے مجھ سے دوستی کرو۔۔میری بات مانو جو میں کہوں وہ کرو تو میں تمہیں میڈیسن بھی دوں گا اور گھر بھی چھوڑ کے آوں گا۔۔۔ اسکی بات پہ اسنے اسکی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
بولو منظور ہے؟؟اسنے دوبارہ پوچھا۔۔
اسنے اسکی آفر پہ غور کیا تو فوراً اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اوکے گڈ۔۔چلو اب ایک انجیکشن لگواو پھر میڈیسن دوں گا۔۔اسنے نرس کو اشارہ کیا تو اسنے چپ چاپ انجیکشن لگوایا اسکے کچھ سیکنڈز بعد وہ حواس کھوتی اس پہ آ گری۔۔ اسنے اسے پیچھے کو لٹایا اور کمبل ٹھیک کرتا نرس کو ہدایاے دیرا باہر نکلا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی۔۔۔ علیزے بھابھی!وہ دادو کے کمرے میں بیٹھی ان سے سر میں مالش کروا رہی تھی جب مینہ اسے آوازیں دیتی کمرے میں آئی۔۔۔ آپ کا سیل کدھر ہے لالہ کی کالز آ رہیں ہیں ابھی انہوں نے لینڈ لائن پہ کال کی ہے یہ مالش چھوڑیں ریڈی ہوں لالے ساتھ کہیں جانا ہے۔۔۔ اسنے جلدی جلدی اطلاع دی۔۔
کدھر؟اسنے حیرانگی سے پوچھا۔
شاید کہیں فنکشن پہ جانا آپ جلدی سے اٹھیں۔۔ اسنے اسے فوراً اٹھایا اور کمرے میں لے آئی جہاں باقی سب بھی اسکی چیزیں ریڈی کیے اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔
جلدی سے شاور لیں۔۔لالے کی سٹرکٹ آڈر آئے ہیں گھنٹے میں تیار ہونا ہے انہوں نے اسے واش روم میں دھکیلا…
جب وہ باہر نکلی تو رائل بلیو کلر کے میکسی نما ڈریس میں ملبوس تھی۔۔ وہ ان کے سامنے بیٹھی تو سب اس پہ اپنے تجربات کرنے لگیں۔۔
بالوں کو ہلکا سا کرل کر کے نیلے اور سفید رنگ کے پتھروں سے مزین کیچر لگا کے پیچھے کی طرف کھلا چھوڑ دیا، کانوں میں میچنگ جیولری اور ہلکی سی لپ اسٹک کے ساتھ وہ تیار تھی جب دروازہ کھلا اور اسنے اندر قدم رکھا جو اسے دیکھتے ہی مبہوت ہو گیا تھا اور وہ اسے دیکھ کے رخ بدل گئی کیونکہ اسکی نظروں سے اسے لگ رہا تھا کہ اسکا دل کانوں میں دھڑک رہا ہو۔۔۔
تب ہی مہرو نے اسکے گلے کی زینت بنے H اور A جنکی ڈیزائنگ اور ان میں جڑے ڈائمنڈ چھوٹے چھوٹے نگ دور سے دیکھنے والے کو ایک خوبصورت ڈیزآئن ہی نظر آتے لاکٹ کے بارے میں استفسار کیا۔۔
بھابھی نے لاکٹ آپکو کس نے دیا؟یہ ہم نے ہمیشہ آپکے گلے میں دیکھا ہے ، شاید کسی بہت سپیشل نے اتنا قیمتی پریزنٹ دیا ہے۔۔۔ وہ شرارت سے بولی۔۔ اسکی غیر ارادتاً نگاہ اس سے ملی جو اسے ہی پرتپش نظروں سے دیکھ رہا تھا اچانک ہی اسے اپنے گردن پہ اسکی سلگتی ہوئی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
