55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

آپ۔۔۔ آپ کب آئے؟؟
اسنے اسکا دھیان بٹانے کو پوچھا لیکن وہ ہوش میں ہوتا تو بولتا نا۔۔وہ اسکے بالوں کو اسکے کندھوں پہ بکھیرتا اسکی سمت جھکا
تو فوراً بولی۔۔۔ مم۔۔ مجھے واش۔۔ واش روم جانا۔۔
اسنے بمشکل چہرہ پرے کرتے بات مکمل کی تو وہ سیدھا ہوتا اسکی طرف ایک بھرپور گہری نگاہ ڈال گیا
اسکے لبوں پہ ایک جانداز مسکراہٹ بکھری جس نے اسے خفت زدہ کیا وہ سرعت سے پیچھے ہوتی اٹھی اور الٹے سیدھے ہاتھ مارتے جو بھی سوٹ ملا وہ پکڑے واش روم گھسی۔۔۔
وہ جب باہر نکلی تو وہ اسی طرح نیم دراز تھا اور نگاہیں اسکے بھیگے سراپے پہ مرکوز تھیں جو پیلے رنگ کی شرٹ اور وائٹ ییلو کڑھائی سے مزین فلیپر میں ملبوس تھی اور ڈوپٹہ بھی شاید اسکے ڈر سے گلے میں پھیلایا تھا
چونکہ وہ فریش ہو چکا تھا اسلیے پرسکون تھا۔۔۔
یااللہ خان بھائی جلدی آئیں اور انکی تیاری شروع کروائیں۔۔
اسنے دل میں دعا کی اور ساتھ کن انکھیوں سے اسکو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکا دل اب سپیڈ پکڑ چکا تھا ۔۔
وہ آہستہ سے ڈریسنگ کے پاس آئی اور برش لے کے ڈریسنگ روم میں گھس گئی وہ اسکے سامنے ڈوپٹے سے بے نیاز ہو کے بال سمیٹنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی جبکہ ڈوپٹہ لے کے ویسے کام نہیں ہو گا ۔۔
وہ جب باہر نکلی تو وہ بیڈ سے کھڑا ہو چکا تھا اور موبائل ہاتھ میں لیے وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا تبھی دروازے پہ دستک ہوئی تو اسکے لبوں سے تشکر بھرا سانس نکلا اسنے بہت غور سے اسے دیکھا۔۔۔
YeS come in…
اسنے دروازے کو دیکھتے کہا تو خان اندر آیا۔۔۔
Morning sir… Morning bhabi mam!
And welcome back to home….
اسنے دونوں کو وش کیا تو وہ مسکرا کے بولی
morning and thank u…
کیسے ہیں آپ بھائی؟
الحمداللہ میں ٹھیک ہوں.
وہ سر جھکا کے بولا اور واڈروب کی جانب قدم بڑھائے اور جہان کی بلیو جینز اور پیل کلر کی شرٹ اور جیکٹ نکال کے بیڈ پہ رکھی اور اسکا گن ہولسٹر نکالنے لگا۔۔۔
خان!
اسنے اسے پکارا نظریں ہنوز موبائل پہ تھیں جبکہ وہ کمرے سے باہر جانے کی تیاری میں تھی۔۔۔
جی سر!
آج سے میری تیاری تمہاری بھابھی میم کروائیں گیں اسلیے تم اس کام سے فری ہو اسلیے تم جاو۔۔۔
اسنے سنجیدگی سے کہا۔۔
ہِیں؟؟
اسنے ہونق انداز میں سر اٹھا کے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کی جبکہ خان مسکراہٹ دباتا باہر نکل گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . .
رناں والیآں دے پکن پراٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نا بلے
وہ ٹیبل کو انگلیوں سے بجاتا زاویار کو ناشتہ سے لطف اندوز ہوتا دیکھ کے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا۔۔۔
تمہیں کیا مسئلہ ہے کیوں میرے نوالے گن رہے ہو؟ چھڑے تو اب تم بھی نہیں ہو۔۔۔۔
ویسے بیوی کے ہاتھ کا بنا ناشتہ کرنے کا سواد شادی شدہ چھڑے لوگ کیا جانیں۔۔ اسنے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے اسے آگ لگائی تو وہاں موجود آریان، تاشہ، کاشان اور مروہ کی ہنسی نے اسے صحیح معنوں پہ آگ لگائی۔۔۔
ذینی۔۔زینی۔۔۔ اسنے اسے زور سے پکارا تو سب سر جھکا کے لب دبائےمسکرا دیے۔۔۔
جی کیا بات؟وہ حیرانگی سے بولی۔۔
وہ۔۔۔میرے لیے ناشتہ بنا دو۔۔ وہ التجائیہ بولا کیونکہ وہ سب کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اتنا بھی چھڑا نہیں ہے۔۔
ہیں۔۔ کیوں؟وہ حیران ہوئی۔۔
بھابھی بنا رہی نا۔۔۔ وہ سب کے مسکراتے چہرے دیکھتی بولی۔۔
نہیں مجھے تمہارے ہاتھ کا بنا کرنا۔۔۔ وہ ٹھنکا تو اسی وقت فوزیہ چچی نے ناشتہ اسکے سامنے رکھتے اسے گھورا اور چپت لگائی۔۔۔
بدمعاش۔۔ آرام سے ناشتہ کرو۔۔
کوئی نہیں۔۔میرا احتجاج ہے میری مکمل شادی کرو تاکہ میں ناشتہ ،کھانا سب بیوی کے ساتھ اسکے ہاتھ کا کروں۔۔ وہ اتنے آرام سے بولا کے سب کو اچھو لگ گیا جبکہ وہ آنکھیں کھولے اسکی جرات ملاحظہ کر رہی تھی جو اسے تپا کے اب سکون سے ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔
تم جاو اب،معصوم شوہر کو ایسے نہیں دیکھتے ،خون ہلکا ہوتا انکا نظر لگ جاتی جانم۔۔ وہ ایک آنکھ دبا کے بولا تو چچی کی آنکھیں پھٹنے والی ہوئیں۔۔
آپ۔۔آپ بہت بیہودہ انسان ہیں ۔۔میں لالے لو بتاتی آپکا۔۔ وہ لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ کہتی مڑی۔۔
ویسے کیا کہو گی اس کو، میں تو شادی کی بات کی۔
کہیں وہی سفارش تو نہیں کرنی؟؟ اسنے پیچھے سے ہانک لگائی
تم بہت بدتمیز ہو بچی کو اتنا تنگ کرتے ہو بے شرم۔۔۔۔ چچی نے اسے لتاڑا جبکہ باقی سب اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے اسکے ہونق زدہ چہرے کو دیکھا تو مسکراہٹ دباتے اسکے پاس آیا اور اسکے بالوں کو سہلایا تو ہوش میں آٸی اور تھوڑا پیچھے کو ہٹی۔۔
Right honey are u ready for this???
اسکی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا
اور اسکا دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا کہ اسے لگا پاس کھڑا جہان بھی وہ دھڑکنیں سن سکتا ہے۔۔
م۔۔مجھے نہیں کرنا آتا۔۔ وہ منمنائی۔۔۔
اٹس ناٹ آ بگ ڈیل۔۔میں ہوں نا۔۔۔
وہ اسی تاثر سے بولا تو وہ سرخ ہوئی۔۔ وہ ڈریسنگ روم میں گیا اور ڈریس چینج کر کے آیا اور اسکی سمت دیکھا گویا اشارہ ہو کے شروع کرو۔۔ وہ مرے مرے قدموں سے ڈریسنگ کی سمت بڑھی وہ روز خان کو اسکی تیاری میں ہیلپ کرتا دیکھتی تھی لیکن جانتی نہ تھی کہ یہ وقت خود پہ بھی آئے گا۔۔۔
وہ اسکے سامنے کھڑی ہوئی اورپہلے اسکے کف لنکس میں سے میچنگ اٹھا کے کانپتے ہاتھوں سے اسکے کفس میں لگانے لگی وہ پرسکون سا اسے دیکھ رہا تھا اور اسکی یہ جذبات سے بھرپورنظریں اسکے کان کی لو تک سرخ کر گئیں تھی۔۔۔
اسکے بعد وہ برش پکڑ کے پنجوں کے بل اوپر ہوئی اور اسکے بال بنانے لگی وہ اس کے سامنے بلکل گڑیا لگتی تھی ابھی بھی بہت مشکل ہو رہی تھی بال بنانے میں ۔۔ وہ اسکی مشکل کو دیکھتا آرام سے اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا اسکو اوپر کر گیا اسکے ہاتھوں سے برش چھوٹنے لگا تو اسنے دوسرا ہاتھ اسکے ہاتھ پہ رکھا اور اشارہ کیا وہ دھڑکتے دل سے جلدی جلدی بال بنا کے جھٹکے سے اسکا بازو ہٹاتی پیچھے ہٹتی گہرے سانس لینے لگی جیسے کہ اپنی سانس بحال کر رہی ہو۔۔
وہ اسے ایک نظر دیکھ کے بیڑمڈ پہ بیٹھا اور شوز پہننے لگا اس سے فارغ ہو کہ اسنے اسکی طرف دیکھا تو وہ فوراً گن ہولسٹر اور جیکٹ پہنانے لگی ، پہنا کے جب وہ پیچھے ہٹی تو شانوں پہ جمے ہاتھوں نے رکاوٹ پیدا کی اسنے گھبرا کے اسکی طرف دیکھنا چاہا تو نظر گریبان سے پلٹ آئی۔۔۔
thanks my lady….
اسکے ماتھے کو چومتا اسکے کانوں میں بولتا اسے ساکت چھوڑ کے کمرے سے نکلا جبکہ وہ اپنی دھڑکنیں گنتی رہ گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسلسل اسے بیک ویو مرر سے دیکھے جا رہی تھی جبکہ اسکی یہ مستقل مزاجی اسکے مزاج پہ گراں گزر رہی تھی اور اس بات کی گواہی اسکے ماتھے کی لکیریں دے رہی تھیں۔۔۔
خان لالہ۔۔اتنی خاموشی کی ہوئی ہے کوئی میوزک ہی لگا دیں۔۔ مینہ نے منہ بسورا۔۔
سوری مینے صبح صبح میں میوزک نہی سنتا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتا زور سے خطرناک یو ٹرن لے گیا وہ سب ایک دوسرے کے اوپر گریں۔۔۔
اوہو ۔۔لالہ آج اتنے غصے میں کیوں ہیں؟مارنے کا ارادہ ہے کیا؟؟ زینی نے سوال کیا۔۔۔ وہ چپ رہا
وہ جانتی تھی اس کے غصے کی وجہ اور اسکی خاموشی کی کیونکہ آج اسی کی ضد پہ جہان کے کہنے پہ وہ انہیں ڈراپ کرنے آیا تھا لیکن اسکا یہ بے مہر اور سرد رویہ اسے کرب آمیز درد دے رہا تھا لیکن وہ بھی کیا کرتی وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔
اگر یہ سب پتہ ہوتا یا دل پہ زور چلتا تو اس بے مہر کو کبھی دل نہ دیتی۔۔۔
دل کے درد کو دباتے دباتے اسکے اندر آنسووں کا گولا بنا جسے اسنے بمشکل بہنے سے روکا اور کھڑکی سے سر ٹکا دیا۔۔۔
اسکو ایک نظر اسطرح ٹوٹا ہوا دیکھ کے اسنے لب بھینچتے ہوئے زور سے سر جھٹکا اور سپیڈ بڑھا دی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھولن مامی۔۔۔ روحان اسے پکارتا لاونج میں آیا پیچھے ساری بچہ پارٹی بھی تھی۔۔۔
جی کہیں۔۔۔ وہ اسے گود میں بٹھاتی بولی۔۔
آپ ہمارے ساتھ کھیلیں گی؟؟ اسنے اسکی طرف منہ کر کے پوچھا۔۔
ہاں ضرور کیوں نہیں۔۔ اسنے ان سب کی طرف دیکھ کے مسکرا کے کہا تو سب مسکرا اٹھے۔۔۔ہم بیٹس اور بالز لیکر آتے ہیں۔۔
دھولن مامی یو آرسو سویٹ۔۔۔ روحان اس کا گال چومتا بھاگ گیا جبکہ وہ سرخ چہرہ جھکا کے مسکرا دی۔۔۔
لو جی بھانجے نے یہ حالت کر دی ہے ماما جی پتہ نہیں کیا کرتے ہوں گے بند کمر۔۔۔ لاریب نے شرارت کی تو وہ فوراً خجالت سے سرخ ہوتی اسکے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ گئ
بھابھی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔