Rate this Novel
Episode 12
اسکے سرد تاثرات دیکھ کے ژالے اور علینہ بھی جھجھک گیئں اور کمرے سے باہر نکل گیئں ۔۔۔
وہ انہیں تاثرات سے اسکی طرف بڑھنے لگا جبکہ اسکی خوفناک خاموشی سے اسکا حلق خشک ہو رہا تھا۔۔۔
تیار ہوں جلدی سے،
اسکے قریب بہت قریب آکے وہ رکا اور حکمیہ کہا۔۔
مم۔۔مجھے کہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتی اسنے درشتگی سے اسکا بازو پکڑ کے اسے اپنے حلقے میں لیا تو اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔
مجھے مجبور مت کریں مسز کہ میں خود کپڑے چینج کروا کے تیاری میں مدد کرواوں۔۔ اسکے چہرے سے بال پیچھے کرتا وہ اسکے کان میں پھنکارتا اسکی جان نکال گیا۔۔
نن۔۔نہیں آپ ۔۔ایسا نہیں۔۔۔ وہ تڑپی،چیخی اور جھنجھلائی۔۔
میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔ اسنے کہنے کے ساتھ اسکی گردن میں لپٹا مفلر ایک جھٹکے سے نکال کے پھینکا وہ شاکڈ ہوئ۔۔
آپ نے میری محبت کو مزاق بنایا ،آپ کو میری محبت پہ یقین نہیں؟آج اس مقام پہ بھی آپ مجھے چھوڑنے کی بات کر رہیں؟؟
اسنے ہاتھ بڑھا کے تندہی سے اسکے بال کھولے وہ سسکنے لگی اور اسکی گرفت سے نکلنے کیلیے مچلنے لگی لیکن ناکام رہی۔۔
میں محبت کے بھرم میں مقید تھا کہ شاید آپ کبھی تو مجھ پہ، میری محبت پہ یقین کر کے اسے اعزاز بخشیں گی لیکن یہ آج بھی آپ کے دردل پہ دستک نہ دے سکی۔۔
وہ اسکے کانوں بول نہیں پھنکار رہا تھا ۔۔
وہ روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلاتے کچھ بولنے کی کوشش میں ہونٹوں کو مسل رہی تھی پر وہ آج بے پرواہ بنا تھا۔۔
اب نہیں علیزے شاہ۔۔ اب نہیں اب وہ بھرم ٹوٹ چکا ہے اب آپ کو اس رشتے کو، اسکی نزاکتوں کو اور ۔۔۔
وہ اسکی کھلی آنکھوں میں جھانکتا بات مکمل کرنے لگا
مجھے محسوس کرنا ہے ۔۔۔اسے لگا وہ مر جائے گی وہ اسے روکنا چاہتی تھی، اسکی بس باتیں ہی اسکی جان نکال رہی تھیں۔۔
اسنے اسکی شرٹ کے اوپری بٹن پہ ہاتھ رکھا تو وہ تڑپ کے ہاتھ پکڑتی بولی۔۔۔
ممم۔۔میں تیار ہوتی ہوں ۔۔
گڈ۔۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا اسکی گردن پہ جھکا اور اپنے سلگتے لب اسکی گردن پہ رکھے ۔۔۔ وہ اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ گی۔۔
شاہ۔۔۔
وہ اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑے شدتِ جذبات سے سسک پڑی۔۔ وہ سیدھا ہوا اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا اپنی گرفت سے آزاد کر گیا۔۔ وہ سرعت سے دور ہٹتی بیڈ پہ پڑا ڈریس پکڑ کے واش روم گھس گئی۔۔۔
واش روم جا کے وہ واش بیشن کو مضبوطی سے جکڑے روۓ گئی ، وہ اسکے اس روپ کو سوچتی مرنے کو ہو گئی اسے لگا کہ اسنے بچھڑنے کی بات کر کے خود مصیبت مول لی ہے، اسکی شدتیں اسے رلائے جا رہی تھیں اسے اپنی گردن ابھی بھی اسکے لمس سے سلگتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ جب واش روم سے واپس آٸی تو ڈارک گرے اور پنک کلر کے کامبینیشن کے سوٹ میں ملبوس تھی ۔۔اس وقت کمرے میں صرف ژالے تھی جو شاید اسے تیار کرنے آی تھی وہ چپ چاپ تیار ہونے لگی۔۔
وہ ہمیشہ سے مردانہ ٹچ کی ڈریسنگ کرتی تھی اسے ایسے ڈریسز اور ڈوپٹے کیری کرنے میں مسئلہ ہوتا تھا اسی لیے ژالے اسکی مدد کر رہی تھیں۔۔
ماشاءاللّه علیزے بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔
ژالے نے ماحول کو چینج کرنے کو کہا۔۔
آج جہان بھائی کی خیر نہیں۔۔
جبکہ جہان کا نام سن کے وہ سرخ پڑی خوف اور شرم سے۔۔
Wao u are blushing …
وہ اسکے گال چومتی کمرے سے باہر لے گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج گھر میں اتنی اچھی رونق لگی ہے میری بیٹی کی وجہ سے۔۔
دادو نے اسکے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے کہا،،، تو وہ مسکراتے ہوئے سر جھکا گی۔۔
گھر آنے سے پہلے ہی وہ اسکے کمرے سے نکلتے ہی ان سب سے اجازت لیکر وہ خان کے ساتھ کہیں نکل چکا تھا جبکہ وہ سب زہرہ بیگم کے روم میں بیٹھے ڈرائی فروٹس کھاتے گپ شپ کر رہے تھے۔۔۔
بھآبھی آپ کی فیورٹ ہابیز کیا ہیں ؟آپ نے کبھی بتایا نہیں نہ کبھی ہم سے پوچھا۔۔
آریان نے ایک چلغوزہ منہ میں ڈالتے سوال کیا۔۔
میری۔۔۔۔۔وہ سوچتے بولی۔۔
بہت سی ہیں۔۔ وہ شرارت سے بولی،
چلیں وہ بہت ساری ہی بتا دیں۔۔
میری ہابیز ہیں چاکلیٹس کھانا، کرکٹ کھیلنا ان فیکٹ بھائی اور بچوں ساتھ کھیلنا، موویز دیکھنا، سنگنگ کرنا، لانگ ڈرائیو پہ بائیک پہ جانا، گول گپے کھانا، سب کو تنگ کرنا اور۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہونٹوں کو شریر مسکراہٹ سے سجائے بولی جا رہی تھی کہ آریان نے ہاتھ اٹھاۓ۔۔
جبکہ باقی سب کھلکھلاتے محظوظ ہو رہے تھے
بس بھابھی۔۔آپکو پتہ ہے ہابیز فری ٹائم میں کرتے۔۔اسنے اطلاع دی ہو جیسے۔۔
ہاں تو بھابھی ہر ٹائم فری ہی ہوتی ہیں نا۔۔ کاشان اور تاشہ نے ایک ساتھ جوابی اطلاع دی تو ماحول زعفران ہو گیا۔۔
بس پھر ڈیسائیڈ ہو گیا ، آج کے بعد آپ ہمارے ساتھ بھی یہ ہابیز انجواے کریں گی۔۔ قسم سے آپکو اپنے گھر خوش دیکھ کے جھٹکا لگا کہ ہم آپ کے کچھ نہیں لگتے جو آپ ہمارے ساتھ انجوائے نہی کرتی۔۔۔
آریان نے ایموشنلی بلیک میل کیا۔۔
نہیں ایسی بات نہی ہے ، آپ سب بہت اچھے۔۔ وہ جلدی سے بولی۔
Oh thank u so much bhabhi begham….
وہ سب کورس میں بولے، وہ سب اس سے عمر میں بڑے تھے لیکن جہان کی وجہ سے سب عزت سے پکارتے تھے
سوائے موحد کے سب جہان سے چھوٹے تھے۔۔
چلو سب اٹھو اب سونے کی تیاری کرو دو بج گئے ہیں۔۔ چچی نے سب کا دھیان ٹائم پہ لگایا ،
علیزے کو بھی روم میں چھوڑ کے آٶ تھک گئی ہو گی۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں. ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی
کیونکہ کمرے میں جانے کے خیال سے ہی اسکی سانسیں رکنے لگی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھی وہ بہت غصے میں تھا۔۔
چلو اٹھو۔۔ جہان بھی آنیوالا ہو گا۔۔ ایک تو اس لڑکے کی کوئی قٙل سیدھی نہیں یہ کوئ ٹائم ہے نکلنے کا۔۔
وہ اٹھنے کا بول کے وہ آخر میں بڑبڑائیں۔۔
سب آہستہ آہستہ اٹھنے لگے تو اسکے مائنڈ میں ایک کلک ہوا وہ بھی جلدی سے آیت کے ساتھ روم کی طرف بڑھی۔۔
Night bhabhi..
انہیں کہہ کے وہ روم میں گھسی اور جلدی سے ڈریس لے کےواش روم میں گھسی،
اسکا ارادہ تھا کہ وہ اسکے آنے تک سو جائے۔۔ اسی لیے باہر آتے ہی بالوں میں برش کیے بغیر ہی وہ لائٹ آف کرتے کمبل میں گھسی اور سونے کی کوشش کرنے لگی،
اسی طرح ڈرتے ڈرتے نجانے کب وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔
جب وہ گھر میں آیا تو پونے چار بج چکے تھے اسے ایک ضروری کام کی وجہ سے کہیں جانا پڑ گیا تھا ابھی تھکن سے سر پھٹ رہا تھا۔۔ وہ ڈھیلے قدموں سے کمرے کی طرف آیا، دروازہ آرام سے کھولتے کمرے میں داخل ہوا تو اندھیرے نے اسکا استقبال کیا وہ جھنجھلایا اور ساری لائیٹس ایک دم آن کیں تو نظر کمبل میں ڈھکے وجود تک گئیں وہ ایک منٹ میں سمجھ گیا کہ ساری لائیٹس کیوں آن تھیں ۔۔
جبکل ول فل اندھیرے میں سوتی نہ تھی۔۔
اس خیال نے نا چاہتے ہوتے ہوئے بھی اسکے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ بکھیری تو وہ لائیٹس آف کرکے نائٹ بلب جلا گیا ۔۔ کمرہ ہلکی سی روشنی سے جگمگانے لگا۔۔
وہ کندھے پہ لٹکی جیکٹ کو صوفے پہ پھینکتا اسکی سمت گیا۔۔۔
براون پینٹ اور آف وائٹ شرٹ کے بازو فولڈ کیے وہ اسکے پاس بیٹھ گیا اور ہلکے سے بال اسکے چہرے سے ہٹائے اور اسکے ہوشربا سراپے کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ ہوش کھوتا اس پہ جھکا۔۔۔
اور اپنے لب اسکی پیشانی پہ رکھے ۔۔۔وہ ہلکا سا کسمسائی اور پھر سو گئی۔۔۔
طلب اور بڑھی تو پیشانی سے ہوتا وہ آنکھوں تک گیا ۔۔۔۔
پھر ضبط کی حدوں کو پار کرتا وہ اسکے رخساروں پہ اپنے تشنہ اور سلگتے لب رکھ گیا۔۔
اسکی نظر اسکے سرخ قندھاری ہونٹوں پہ گئی اس سے پہلے کہ وہ اپنے تشنہ لب اسکے ہونٹ کی نرمی سے سیراب کرتا اسکا موبائل وائبریٹ ہوا وہ چونک کے پیچھے ہوا اور موبائل آف کرتا، اپنے نفس پہ قابو پاتا اسکے سامنے سے اٹھا اور سگریٹ سلگا کہ کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا۔۔ اسکی آنکھیں ضبط سے سرخ پڑ رہی تھیں اور نگاہیں ایک ہی نقطے پہ مرکوز تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ . . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح جاگی تو بہت فریش تھی اسکے دماغ میں پچھلے دن اور رات کی کوئی سوچ نہ تھی اسلیے وہ پرسکون انداز میں اٹھی اور معمول کے انداز توبہ شکن انگڑائی لی اور اسی طرح اپنے دائیں طرف نگاہ کی تو دل دھک سے رہ گیا۔۔
وہ بہت پرسکون انداز میں اسکے بالوں کو ہاتھوں میں لپیٹے نیم دراز اسے دیکھ نہیں بلکہ گھور رہا تھا۔۔۔
اسنے سرخ پڑتے ہوئے فوراً بازو نیچے کیے اور ڈوپٹے کے لیے نگاہ دوڑائی تو کہیں نظر نہ آیا۔۔ اسنے خجالت سے ایک چور نگاہ اس پہ ڈالی وہ اسی پوزیشن میں تھا
Morning dear..
وہ اٹھا اور اسکے پاس آتے اسکے بالوں کو ہلکا سا چومتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تو اسکا دل سکڑ کے پھیلا اسنے کمبل کو مٹھیوں میں بھینچا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
