Rate this Novel
Episode 11
علیزے آج آپ کے ان لاز نے آنا ہے ڈنر کے لیے تو دھیان رکھنا۔ ۔۔ حنین نے اسے صبح ناشتے میں تنبیہ کی، معاز اور زجاح بغیر ناشتے کے جا چکے تھے۔ ۔
جی بھائی۔ ۔۔وہ سر جھکا کے بولی۔ ۔۔
آج ولی کو گھر رکنے کا بولا ہے تاکہ علیزے فریسٹریٹڈ نہ رہے۔ ۔ وہ اٹھتے ہوئے آہستہ سے اپنی بیگم کے کان میں بولے تو وہ سر ہلا گئیں۔ ۔۔
وہ گھر سے نکل رہے تھے کہ ہدیٰ کی اینٹر ہوئی۔۔۔
السلام علیکم حنین بھائی۔۔ آپ کدھر؟ آج اتنی وی آئ پی پارٹی آرہی اور آپ غائب ہو رہے؟
وہ شرارت سے بولی۔۔۔
آپ لوگ کس لیے ہو ہمارے آنے تک کمپنی دو۔۔ وہ مسکائے۔۔ یس باس۔۔ وہ ہنستی اندر چلی گئی۔۔
یہ اتنی تیز ہوائیں کیوں چلنے لگی ہیں، بادل بھی گرجنے لگے اور عجیب سی سمیل بھی ہے ، ایسے لگ رہا ہے یہاں کوئی کالی چڑیل آنے والی ہے۔۔
ولی جو اسے باہر دیکھ چکا تھا اور اسکے آتے ہی کمنٹری شروع کر دی اور اسکو سلگاتے اسکا خون جلایا۔۔۔
تم انتہائی بے ہودہ انسان ہو، تمہیں پتہ نہیں لڑکی کی تعریف کیسے کرتے اور تم مجھے چڑیل کہہ رہے۔۔۔
وہ دانت پیستے آگے آئی تو سب بچوں سمیت بڑوں نے سر پکڑے۔۔۔
ہِیں؟؟؟اسنے خاصی حیرت کا مظاہرہ کیا۔۔ میں تو چڑیل کی پیشین گوئی کی تھی اب یہ اور بات ہے تم خود کو چڑیل نہیں سمجھتی ہو۔۔۔ وہ معصومیت سے کہتا اسے کلسا گیا۔۔۔
تم۔۔تم۔۔۔اسے سمجھ نہ آئی کیا کہے تو بولی
تمہارا قتل میرے ہاتھوں میں لکھا ہے۔۔۔
لوجی چڑیل ہونے کا ثبوت بھی دینے لگی۔۔۔ وہ چڑا کے کہتا اچھل کے بھاگا۔۔
ولی۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چلائی جبکہ سب کے قہقہے چھوٹ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . . . ۔۔۔
جب شاہ مینشن والوں کی گاڑیاں سکندر ولا آکے ٹھریں تو وہ اس وقت وہاں انکی موجودگی سے بے خبر بلیو لوز ٹراوزر اور بلیو اینڈ بلیک شرٹ ، بلیک لیدر جیکٹ ، بلیو مفلر گلے میں لٹکائے ، بالوں کو عجیب توڑ موڑ کے اوپر اکٹھا کیے ہوۓ جنکی لٹیں چہرے پہ پھیلیں تھیں اور پاوں میں بلیک ہی جوگرز پہنے وہ ولی،ہدیٰ ، علینہ اور بچوں کے ساتھ باہر گانے کو انجوائے کرتی کھیل رہی تھی۔۔۔۔
وہ دیکھو زرا پربتوں پہ گھٹائیں
یماری داستان ہر اک کو سنائیں۔۔۔
سنو تو ذرا یہ پھولوں کی وادی
ہماری ہی کوئ کہانی ہیں سناتی۔۔۔
سپنوں کے اس نگر میں ، یادوں کی راہ گزر میں۔۔
یہ ہم آگئے ہیں کہاں۔۔۔ یہ ہم آگئے ہیں کہاں۔۔
وہ سب لاونج میں آکے بیٹھے تو سامنے گلاس وال سے انہیں سامنے کا منظر اور آوازیں سنائ دیں جہاں وہ گانا سننے کے ساتھ خود بھی گنگنا رہی تھی۔۔۔اسکا ایسا کھلکھلاتا اور بچگانہ روپ انکی لیے شاکنگ نیوز ہی تھی۔۔۔
سوری میں ابھی بلاتی ہوں اسے،بس بچوں کے ساتھ لگی ہوں تو پتہ نہیں چلتا۔۔۔
ژالے خجالت سے کہتی انہیں بلانے کو اٹھی تو سب فوراً بولے۔۔۔
نہیں رہنے دیں ایسے۔۔ اچھے لگ رہے۔۔بچی بہت دنوں بعد خوش ہے۔۔۔
تو وہ رک گئیں اور دعا کرنے لگیں کہ وہ خود ہی جلدی سے اندر آجاۓ کیونکہ انہیں انکے آنے کا بتا دیا تھا۔۔ وہ سپاٹ انداز سے گلاس وال کو دیکھ رہا تھا جہاں باہر والوں کو اندر کی نہ آوازیں آتی نہ منظر نظر آتا۔۔۔
یہ ہم آگ۔۔۔۔۔۔
خدا کا واسطہ علیزے ۔۔بس کرو اسکے گانے کو بندر تمہیں پسند ہے ہمیں نہیں ،ہمیں کس جرم کی سزا ہے کہ اسکے ساتھ تمہارے بے سرے سر بھی سنے۔۔۔ولی نے ہاتھ جوڑے۔۔۔
بندر کس کو بولا؟وہ کڑے تیوروں سے بولی۔۔
شاہ ر۔۔۔۔میرا مطلب کے بندر کو۔۔ اسنے فوراً بات پلٹی۔
آپ نے خبردار ایسا کچھ کہا تو۔۔میں اسی کے گانے سنوں گی ،اسنے سونگز سیٹ کیے اور اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تو سب افسوس میں سر ہلانے لگے۔۔
ویسے پھوپھو اگر جہان چاچو کو یہ آپ کے کرش پسند نہ ہوئے تو۔۔۔شہری دور کی کوڑی لایا۔۔
وہ رکی سانس بحال کی اور بولی۔۔۔
انہیں نہیں پتہ کہ مجھے یہ پسند اور خبردار آپ لوگوں نے بتایا تو۔۔ اسنے وارن کیا تو سب کی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔۔
اندر سب لوازمات سے لطف اندوز ہو رہے تھے ،ڈنر میں ابھی ٹائم تھا سو سب گپوں میں مصروف اور باہر والوں کی نوک جوک انجوائے کر رہے تھے جہاں اب وہ سائیکل پہ بیٹھی بچوں کے ساتھ ریس لگانے لگی تھی۔۔۔
آہستہ سے چلانا اور میرے ساتھ رہنا۔۔ وہ انہیں بولی تو ہدیٰ بولی بی بی تم نہ ان سے دھکا لگوا کے بس چلاٶ۔۔
تو وہ منہ بسور کے رہ گئی اور پھر فوراً کھلکھلائی۔۔۔
ولی بھائی یہ ہدیٰ تو واقعی چڑیل لگتی۔۔ اور کھلکھلاتی اسکا گال چومتی سائیکل بھگا لے گئی۔اور وہ انکے قہقہے سنتی دانت کچکچا کے رہ گئی۔۔۔
کچھ لمحوں بعد وہ ہار کے منہ بسورتی پلٹی اور تھپ سے نیچے بیٹھی،،
نہ میرا بچہ فکر نہی کرو ابھی تمہارے شوہرِنامدار آتے ہیں نا تو انہیں کہتے ہیں کہ تمہیں بائیک پہ بٹھا کہ ریس لگائیں وہ تو تمہیں ہارنے نہیں دیں گے۔۔علینہ اسے ساتھ لگا کہ پچکارتے ہوئے شرارت سے بولی تو خجالت اور شرم سے سرخ پڑتی پیچھے ہوئی۔۔۔
جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہارنے والے کو سزا ملتی ہے تو علیزے تمہاری سزا یہ ہے کہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب اسکے کان میں گھسے،جیسے جیسے وہ سنتی گئی اسکا منہ کھلتا گیا۔۔۔
نہیں ۔۔ ایسے نٸی میں یہ نہیں کرنا۔۔وہ زوروشور سے بولی
سوچ لو نہیں تو ہم جہان بھائی کو بتا سکتے کہ تمہیں وہ ۔۔۔۔پسند۔۔۔ ہدیٰ نے دھمکی دی تو کھاجانے والی نظروں سے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئ اسکے ساتھ باقی سب بھی کھڑے ہو گئے۔۔۔
یہ سب بہت غلط ہے۔۔
بس کرو ڈئیر تم ٹینشن نہ لو ،تمہارے شوہر کیلیے ہے علیحدہ سے، اب جلدی کرو۔۔۔
آپ سب ہر بات ان پہ کیوں لیکر جاتے؟وہ جھنجھلائی۔۔
اُن،۔۔۔۔۔ واٶ۔۔ سبکی آواز پہ وہ خجل ہو گئی۔۔
وہ کچن کی بیرونی کھڑکی کے پاس پہنچی اور آرام سے اسے کھولا اور پھر اپنے پیر اندر لٹکائے تو باہر سے لگنے والے دھکے کی وجہ سے اندر کودی۔۔۔
وہ سب اندر بیٹھے انکی حرکات ملاحظہ کر رہے تھے اور مرینہ بھابھی سو دفعہ ماتھے کو ہاتھ مار کے انکی عقل کو سلامی دے چکی تھیں جبکہ وہ سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔
اسنے آہستہ سے کیک نکالا اور واپس کھڑکی سے باہر نکلی اور گہرے سانس لینے لگی۔۔
میں بھابھی کو بتاوں گی۔۔
اور ہم جہان بھائی کو کہ تمہیں وہ شاہ رخ بندر۔۔۔۔
ہدیٰ خبردار!ایسے کہا تو۔۔۔وہ دانت کچکچا کے بولی۔۔۔ تو سب ہنسنے لگے انکو ہنستا دیکھ کے وہ بھی کھلکھلاتی ولی کے سینے پہ سر رکھ گئی تو سب نے پرسکون سانس لیا کیونکہ جب وہ بے تحاشا خوش اور ریلیکس ہوتی تھی تب ہی وہ ایسے کرتی تھی ،
وہ سب جو صبح سے اسے خوش کرنے کو لیے بیٹھے تھے سب ریلیکس ہو گئے۔۔
جب سب کیک کھانے میں مگن تھے تو اسنے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھوڑا سا کیک اٹھا کہ ولی کے چہرے پہ مل دیا۔۔ اب آیا اصلی ایڈوینچر کا مزہ اور ہنستی بوکھلاتی گلاس ڈور کی جانب لپکی کیونکہ وہ اٹھ کہ اسکے پیچھے آیا۔۔۔
لالہ۔۔بھابھی بچائیں مجھے اس ظالم سے۔۔۔
وہ چیختی ،ہنستی اور اس سے بچتی بھاگتے ہوئے اندر آئی اور اندر آکے ان سب کو سامنے دیکھ کے اسے چار سو وولٹ کا کرنٹ لگا، وہ یک ٹک انہیں دیکھ رہی تھی۔۔
آٶ بیٹا رک کیوں گئی؟
احمد شاہ نے آواز دی تو وہ چونکی اور ایک نظر خود پہ ڈالی اور ایک نظر ہاتھوں پہ ڈال کہ وہ خجالت سے سرخ پڑتی ہاتھ پیچھے چھپاتی ان کے قریب آٸی اور سب سے ملنے لگی ، اسے ان سب سے بہت شرم آ رہی تھی اپنے حلیے کی وجہ سے۔۔ اسنے پریشانی میں چہرے سے بال ہٹائے تو کیک چہرے پہ لگ گیا۔۔۔
بس بھابھی محترم سن لیں ۔۔آج کے بعد آپ گھر میں ایسے ہی رہیں گی، میں تو اتنا پریشان تھا کہ جیسا جے خود سڑیل ہے ویسے سڑو بیوی ڈھونڈی لیکن ابھی آپ سے ملکر بہت خوشی ہوئی۔۔ اب آپ ایسے ہی رہیں گی ،ہم گھر میں سائیکلنگ کریں گے، کرکٹ کھیلیں گے،سنگنگ کریں گے۔۔۔۔
معاویہ بنا بریک کے سٹارٹ ہوا اسے بریک انابی کی آواز نے لگایا جو کھانا لگنے کی اطلاع دے رہی تھیں۔۔۔
کھانا کھاتے وہ پھر شروع ہو گیا۔۔ اسی طرح خوشگوار باتوں میں کھانا کھایا گیا کیونکہ ولی اور معاویہ نے ملکر ان دونوں کا خوب ریکارڈ لگایا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں جانا بھابھی ان کے ساتھ۔۔۔
کھانے کے بعد جب اسکی واپسی کی باری آئی تو ژالے اور علینہ اسکے ساتھ روم میں اسکی تیاری کے لیے گئیں تو اسکا شاہی فرمان سن کے بھونچکا رہ گئیں۔۔
مجھے ان کے ساتھ رہنا ہی نہیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ فقرہ مکمل کرتی دروازے پہ کھٹکا ہوا اس نے دیکھاتو وہاں کھڑے جہان کے سرد تاثرات سے سجے چہرے کو دیکھ کے اسکا سانس سینے میں کہیں اٹکا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
See translation
