55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

اسنے بمشکل ہاتھ بڑھا کے موبائل لیا لیکن تب تک کال بند ہوگئی تھی اسنے تشکرانہ گہرا سانس لیا۔ ۔۔۔ وہ ایک ہفتے سے یہاں تھی اور اسکے مسلسل میسجز اور کالز آ رہیں تھیں جنکو وہ مسلسل اگنور کر رہی تھی وہ یہ سب جان کے کر رہی تھی شاید اسطرح وہ اسے چھوڑ دے۔۔۔ اسنے لرزتے ہاتھوں سے اسکے میسجز اوپن کیے۔۔۔
Missing …
Sweet heart..
My lady…
Rapunzel ….
LOve u…
Mrs۔…
HoneY۔…
اسی طرح کے آدھے ادھورے میسجز تھے جو ہمیشہ کرتا تھا اسطرح وہ شاید اسکے گمان کو خود تک محدود رکھنے کی کوشش کرتا۔۔۔ اسکے بہت سے میسجز اسنے بغیر دیکھے ڈیلیٹ کر دیے۔۔مرینہ بہت دیر سے اسے نوٹ کر رہیں تھیں اور جانچ رہی تھی۔۔۔
کیا میسج آیا شوہر نامدار کی جانب سے؟ بھابھی کی آواز پہ وہ گڑبڑائی۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ اسنے موبائل نیچے رکھ دیا جبکہ مرینہ ابھی بھی پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا وہ گہری نیند کی آغوش میں لیٹی تھی جب اسکا موبائل بجا جو اسکی نیند میں خلل کا باعث بنا اسنے بغیر دیکھے کال اٹھائی۔۔۔
ہیلو۔۔۔ نیند سے بوجھل آواز ابھری جو سننے والے کی دھڑکنیں بڑھا گیا۔۔۔
میری جاااااااان۔۔۔ سو چکی ہو؟ کسی کی خمار آلود آواز نے اسکی نیند بھک سے اڑا دی..
کون؟؟ اسبے الجھتے ہوئے پوچھا۔۔
معاویہ۔۔۔آرام سے جواب آیا۔۔ اسی پل دروازے پہ دستک ہوئی اسنے دروازے کو دیکھا کہ موبائل سے آواز آئی ، دروازہ کھولو۔۔ اسنے اٹھتے ہوئے دروازہ کھولا تو وہ اندر آیا فوراً۔۔۔
آپ ااس وقت۔۔ خیریت؟ اسنے پوچھا جب کے وہ اسکے نیند سے بوجھل آنکھیں،بکھرے بال اور بے پرواہ سراپے کو دیکھ رہا تھا اور اس سے پہلے کہ یہ ماحول اور سراپہ اسکے حواسوں پہ چھاتے اسنے فوراً لگامیں کھینچیں۔۔ جبکہ وہ اسکی آنکھیں دیکھ کے جھجھک گئی۔۔۔
کیا دیکھ رہے ہیں؟ جائیں نا۔۔ اسکی کپکپاتی آواز پہ چونکا اور پھر مسکراتے اسکی طرف بڑھا تو وہ قدم بقدم پیچھے ہوئی۔۔۔
باہر جائیں۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
ذینی میری جان! مجھے کچھ کہنا ہے تم سے۔۔ وہ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔
کیا؟؟ وہ بولی۔۔
یہ ماحول ،تنہائی، کمرے میں موتیے کی مہک،تمہاری یہ خوبصورتی اور ہم دونوں کا رشتہ اس پہر مجھے صرف یہی بات کہنے پہ مجبور کر رہا۔۔ وہ اسکے قریب آکے رکا اور اسکے چہرے کی سمت ہاتھ بڑھایا تو وہ بھیگی آنکھوں سے لرزتے سراپے کے ساتھ رخ بدل کے چیخی۔۔۔
پلیز۔۔۔
اسنے آہستہ سے اسکا چہرا سامنے کر کے بال ہٹائے اور اسکے کان میں جلدی سے بولا۔۔۔
پلیز مجھے کھانا گرم کر دو۔۔۔۔ اسکی بات پہ اسکے اوسان خطا ہوئے اور آنکھیں بھک سے کھلیں۔۔۔
کیا؟؟اسنے آنکھیں پھاڑتے پوچھا وہ جو کچھ اور سمجھ رہی تھی وہ اسکی بات پہ سنبھل نہ سکی۔۔
ہاں پلیز سب سو چکے ہیں اور مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ پلیز۔۔
وہ التجائیہ بولا تو وہ روتے ہوئے اسکے سینے پہ مکے مارنے لگی۔۔
آپ نہایت بد تمیز انسان ہیں، شرم نہیں آئ یہ سب کرتے ،میرا ہارٹ فیل ہو جاتا توو؟؟ وہ روتے بس مار رہی تھی تب اسنے مسکراتے اسکے ہاتھ پکڑے اور دوسرے سے اسکے آنسو پونچھتے اسے پاس آیا اور بولا۔۔
یقین نہیں مجھ پہ۔۔ اسکے سوال پہ وہ ٹھر گئی، اور دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں دیکھتے رہے ۔۔۔
میسج کی وایبریشن سے وہ چونکا اور اس سے بولا۔
چلو جلدی سے کھانا گرم کر کے دو نہیں تو اب کی بار ایسے دیکھتی رہی تو کچھ کر بیٹھوں گا وہ اسکی سمت جھکا تو وہ مکہ مارتی بولی۔۔۔۔
ایویں ہی کونی کرنا میں گرم کھانا۔۔ اور جوتے پہننے لگی تو وہ مسکراہٹ دباتے بولا۔۔ اوکے مائے لیڈی۔۔۔
اسنے سر خم کیا تو وہ سلگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کی میز پہ سب ناشتہ کر رہے تھے اور معمول کی نارملی باتیں بھی جاری تھیں کہ مسز احمد نے جہان کو مخاطب کیا۔۔
بیٹا کل فری ہیں؟؟انہوں نے استفسار کیا ۔۔
کیوں۔۔ خیریت؟اسنے ابرو اچکائی۔۔
ہاں بیٹا۔۔وہ علیزے کے گھر سے کال آئی تھی انہوں نے پوری فیملی کو کل ڈنر پہ انوائٹ کیا ہے تو آپ بھی چلیں، آپ ایک دفعہ بھی نہیں گئے اسطرح مناسب نہیں لگتا۔۔
۔ انہوں نے تفصیل بتائی جبکہ وہ علیزے کے نام سے کہیں اور پہنچا تھا وہ اسے مسلسل رابطے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اگنور کر رہی تھی یہ بات اسے مسلسل کرب دے رہی تھی وہ جانتا تھا وہ جان بوجھ کہ ایسا کر رہی ہے لیکن۔۔۔
بیٹا آپ نے بتایا نہیں؟انکی آواز نے اسکے تسلسک کو توڑا۔۔اوکے ٹھیک ہے۔۔۔ اسنے سر ہلایا گویا جانے کو ہامی بھری ہو۔۔۔
آہآں۔۔ لوگ تو خوش ہوں گے ،فری نہ بھی ہوئیے تو ہو جائیں گے آخر سسرال جانا ہے۔۔ اسے دیکھ کے معاویہ کی معمول کے مطابق زبان پھسلی۔۔
ویسے جے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بکواس کرتا اسنے اپنا پاوں اسکے پاوں پہ زور سے مارا تو وہ چیخ اٹھا جبکہ وہ آرام سے ناشتے میں بزی تھا۔۔۔
کیا ہوا؟؟ سب نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
کچھ نہی! جلاد کے ہتھے چڑھ گیاتھا۔۔۔ وہ بڑبڑایا جبکہ وہ بے تاثر چہرے سے کچھ سوچ رہا تھا اب۔۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
علیزے تم جہان کی کالز وغیرہ کیوں اگنور کر رہی ؟ وہ جو مرینہ کی گود میں سر رکھے لیٹی باتیں کر رہی تھی انکے سوال پہ چونکی، ٹھٹکی اور تھمی۔۔جبکہ وہ چاروں اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
نہیں تو۔۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔
علیزے میں سب جانتی اب تم بتاٶ کہ تم ایسا کیوں کر رہی؟تم جانتی ہو کہ وہ تم سے شادی کیوں کرنا چاہتا تھا ؟ اب تو سب ٹھیک ہے اسکی فیملی اچھی ہے تم کیوں پرانی باتیں بھول کے نئی زندگی کا آغاز نہیں کرتی؟؟
نہیں کرنا مجھے کوئی آغاز ۔۔۔ نہیں رہنا مجھے انکے ساتھ نہ انکے ساتھ کوئی رشتہ استوار کرنا ہے۔۔میں یہ سب اسی لیے کرتی کہ وہ اکتا کہ مجھے چھوڑ دیں میں کسی کی سسکیوں پہ اپنی زندگی کا آغاز نہیں کر سکتی کبھی نہیں۔۔ مجھے انہیں چھوڑنا ہوگا ہر قیمت پہ۔۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ وہ وہیں ساکت رہ گئیں۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ بہت دیر سے ایک ہی نقطے پہ مرکوز کیے بیٹھی تھی پھر بلآخر کار وہ فیصلہ کرتی اٹھیں اور موبائل اٹھا کے اک نمبر ملایا۔۔۔۔ کال جانے لگی تو وہ کال پک ہونے کا ویٹ کرنے لگی۔۔
السلام علیکم ۔۔ جہان حیدر شاہ سپیکنگ!!
اسکی بھاری آواز گونجی ..
وعلیکم السلام !مرینہ سکندر ۔۔ کیسے ہیں آپ؟
انہوں نے ملائمت سے پوچھا۔۔۔
الحمداللہ!میں ٹھیک ہوں ۔۔آپ کیسی ہیں؟ وہ اگر چونکا بھی تھا تو ظاہر نہیں کیا۔۔
الحمداللہ ۔۔ فری ہیں؟ میں ڈسٹرب تو نہیں کیا؟؟ وہ بولیں۔۔
نہیں۔۔ آپ کریں بات۔۔۔ اسنے کہا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ بات کوئی ضروری ہے
مجھے علیزے کے بارے میں بات کرنی ہے، مناسب تو نہیں لگتا لیکن علیزے کے بچکانہ رویہ کی وجہ سے کرنا پڑ رہی ہے۔۔۔ وہ ہچکچاتے بولیں۔۔
جی۔۔۔
آہستہ سے انہوں نے اسے علیزے سے ہوئی ہر بات اسکے گوش گزاری تو اسکے ماتھے کی رگیں تن گئیں اور آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔۔۔
آپ اسے اپنے رشتے کا احساس دلائے ایسے اسے ابھی اسپیس دینے کا فائدہ نہیں، وہ الٹا سیدھا ہی سوچے گی۔۔۔
جی بھابھی۔۔ اینڈ تھینک یو سو مچ ۔۔
وہ آہستہ سے بولا اور موبائل رکھا…
سگریٹ سلگاتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔
نہیں علیزے اب کوِئ معافی نہیں ، آپ پھر سے مجھے وہی سزا دینے جا رہی رہیں۔۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو گا ،آپ ہر پل کا قرض چکائیں گی، مجھ سے دور جانے کی بات کرتی ہیں آپ اب میں آپ کو بتاوّں گا کہ نزدیکیاں کیا ہیں تاکہ آپ دور ہونے کو ہی بھول جائیں ۔۔ آپ مجھے اس جرم کی سزا دے رہیں جو مینے کیا نہیں ۔۔۔ اسکی آنکھیں لمحہ بہ لمحہ سرخ ہو رہی تھیں اور چہرہ سپاٹ۔۔۔
You will pay for it Aleezy Haider shah…
You will….
جاری ہے۔۔۔۔۔