55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

اسکا کان جلنے لگا اور دل جیسے سینہ توڑ کے باہر آ نکلے گا،
راپنزل! آج کے بعد میں انہیں اپنے سامنے سمٹے نہ دیکھوں۔۔ اسنے اسکے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔
سسی۔۔ اس نے ہلکی سی سسکاری بھری اور وہ اسکے بالوں کو چہرے کے پاس لے گیا، کچھ پل انکی خوشبو محسوس کر کے وہ ہاتھوں میں لیے ہی لیٹ گیا۔۔۔
وہ ویسے ہی رخ موڑے ساکت بیٹھی تھی۔۔۔ جب اس نے مزید حرکت نہ کی وہ دھیرے سے اپنی جگہ لیٹ گئی۔۔۔
جبکہ وہ اپنی جگہ لیٹے اسے ہی سوچ رہا تھا اور اپنے درمیان رکھے فاصلے کو دیکھتے بس یہی بات ذیہن میں آ رہی تھی۔۔۔
کیا یہ فاصلے کبھی ختم ہونگے؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . . . . . . . . . . . .
آج انکے ریسیپشن کا دن تھا۔۔۔ ہائی سیکیورٹی کے انڈر آج کا فنکشن منعقد کیا گیا۔۔۔ شہر کیا ملک بھر کی کریم جمع تھی، اسکی بھابھیوں کی فیمیلیز، جہان کی فیمیلیز، دوست احباب کیونکہ آج وہ اس شادی کو کھلم کھلا دکھانے والے تھے۔۔۔۔
اسے صبح سے زینی، لاریب اور زرتاشہ بیوٹیشنز کو ساتھ لیے کمرے میں گھسیں تھیں ۔۔۔ ایسے ایسے تجربات کیے گئے کہ وہ بوکھلا گئ۔۔
یار مانا کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن وہ کہتے ہیں موقع، دستور، موقع وغیرہ۔۔۔۔ لاریب اسکے احتجاج پہ اسکے کان میں گھسی تو وہ جھینپ گی۔۔۔۔
لائٹ پنک کلر کی زمین کو چھوتی میکسی میں اسکا سراپا قیامت ڈھا رہا تھا، لائٹ میک اپ کیے ، براون آبشار کا اونچا جوڑا بنائے جس میں اسکی صراحی دار گردن بہت نمایاں لگ رہی تھی اور جیولری میں وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔۔ اسکے ڈوپٹے کو اسکے سر پہ ہیڈ کراون کی مدد سے سجا کہ جب اسے شیشے کے سامنے کھڑا کیا تو ایک پل کو وہ خود مہبوت رہ گئی۔۔۔۔
اب زرا لالے کی نگاہ سے دیکھیں خود کو۔۔۔ تاشہ کی آواز پہ اسکا رنگ سرخ قندھاری ہوا اور فوراً نظریں جھکا لیں۔۔ چلیں! لاریب نے پوچھا تو وہ دھڑکتے دل سے سر ہلا گئی۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
بینکویٹ کے سامنے جا کے وہ زینی کی مدد سے گاڑی سے اتری تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے اسکی آنکھیں چندھیا گئی۔۔۔۔ سیاہ تھری پیس پہنے وہ شاندار سا شخص اسکے دل کے تار چھیڑ گیا۔۔۔۔وہ اسکا تھا، صرف اسکا ۔۔ اتنے دنوں میں یہ خیال اسے اک پل کو مسمرائز کر گیا۔۔۔اسکی سیاہ آنکھوں کی چمک خیرہ کن تھی اسے اپنی نظریں جھکانی پڑیں۔۔۔۔
اسکو اپنی سمت آتے دیکھ کے اسکا سر جھکا، اسکا ہاتھ تھامتے وہ جھکا اور کہا۔۔۔۔
Today’s i am blessed heavily……
میری سب حسرتوں میں اول ہے۔۔۔
تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہونا!!!
اسنے ایک نظر اسکے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ پہ ڈالی اور پھر اسکی طرف۔۔۔۔ اسکی طرف دیکھ کے اندازہ ہوا کہ “چاہنے والے مرد کی آنکھ سے آنکھ ملانا کتنا دشوار ہوتا” وہ نظریں جھکا گئ۔۔
اسکا دل اسکے ہاتھ میں دھڑکنے لگا وہ اسے ساتھ لیے جب اندر داخل ہوا تو سب کیمرے فوراً حرکت میں آئے، سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کہ وہ گھبرا گئی اور اسکے ہاتھ پہ گرفت مضبوط کر گئ۔۔ اسکی گرفت سے اسے اسکی حالت کا اندازہ ہوا تو وہ ایک ہاتھ اٹھا کے کیمرے نیچے کرنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔۔
اسٹیج پہ جب بیٹھی تو اپنی فیمیلی نظر آئی وہ فوراً ان سے ملنے لگی۔۔ حوریہ آج بھی جہان سے ناراض تھی۔۔۔
جب جہان اسکے پہلو میں آکے بیٹھا تو اسکا بایاں پہلو جلنے لگا، وہ خود کو اس سب سے فراموش سمجھنے لگی، ۔۔۔۔۔
جہان نے اسے ساتھ لیا اور سب سے ملوانے لگا اور وہ اپنے تعارف پہ ششدر تھی۔۔۔
MeeT my wife.. Aleezy Haider Shah…
علیزے حیدر شاہ۔۔۔
علیزے حیدر شاہ۔۔۔
علیزے حیدر شاہ۔۔۔
اس نام کی بازگشت نے اسے بہت دیر تک اپنے حصار میں رکھا اور اسے پتہ بھی نہیں چلا اور وہ سر جھکائے مسکرا رہی تھی۔۔۔
سر پلیز !ایک تصویر۔۔ میڈیا کا نمائندہ اسکے پاس آکے بولا تو احمد شاہ کے اشارے پہ وہ تیار ہوا کہ انکی شادی کی خبر بہت ضروری تھی۔۔۔
اس سب سے فارغ ہو کے وہ اسٹیج پہ آکے بیٹھی ہی تھی کہ سب اسٹیج پہ آگے۔۔
جہان اٹھو، اٹھو۔۔۔ چلو فوٹو شوٹ کرواو۔۔ فوزیہ چچی نے آکر جلدی مچائی۔۔۔
لِیکن اسکی کیا ضرورت اب ۔۔ اس نے کہا۔
کیوں ضرورت نہیں؟یہی تو یادیں ہوتیں۔۔ وہ خفگی سے بولیں اور گرافر کو اشارہ کیا۔۔۔
فوٹو شوٹ نے اسے صحیح معنوں میں تارے دکھا دیے۔۔
میم پلیز سر کے شولڈر پہ ہاتھ رکھیں اور سر آپ میم کی کمر کو ہولڈ کریں۔۔۔ اسکی ہدایت پہ اسکا دل اچھل کے حلق میں آیا۔۔
اسںنے جھجکتے ہوئے اسکے کندھے پہ آرام سے ہاتھ رکھا تو جب اسنے اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کیے تو اسے یوں لگا کہ گرم انگارے نے چھو لیا ہو۔۔۔
اسکے بعد کے سب فوٹو گرافس جہان نے خود بنوائے لیکن ایسے کہ وہ تھوڑا ریلیکس فیل کرے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ جا رہی تھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ جہان جائیگا یا نہیں اسنے فوٹوسیشن کے بعد اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ کمرے میں چینج کرنے کو آئی تھی ، اسنے ڈوپٹہ اتار کے رکھا تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
کوٹ اب اتر چکا تھا اور شرٹ کے بازو فولڈ کیے ،کوٹ کو کندھے پہ لٹکائے وہ اسے ایسے دیکھ کے رک چکا تھا۔۔ وہ ایسے بے پرواہ اور بہکا دینے والے حلیے میں آج پہلی دفعہ سامنے آئی تھی۔۔۔
ڈوپٹہ کے بغیر متناسب سراپا، صراحی دار شفاف گردن ۔۔۔ وہ کوٹ صوفے پہ پھینکتا اسکی طرف بڑھا وہ اسے آگے آتا دیکھ کے قدم پیچھے کو اٹھانے لگی لیکن ڈریسنگ راہ میں حائل ہو گیا۔۔ اسکے قریب جا کے اسنے دھیرے سے اسکے لرزتے وجود کو بازو میں قید کیا اور ہلکا سا اسکی اوڈ جھکا اور دوسرے ہاتھ سے پن نکال کے اسکے بال بکھرا گیا۔۔۔
چھچ۔۔۔ چھوڑیں۔۔ اسکی بات پہ اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھایا۔۔۔ اسکا سانس اٹکا۔۔۔
وہ اسکے چہرے کو آہستہ آہستہ چھونے لگا۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ رخسار۔۔۔ ہونٹ۔۔۔۔
اسنے اسکی شرٹ مٹھیوں میں بھینچی اور ایک ہلکی سی سسکاری لی۔۔اسکی سانسیں اسکے ہاتھ کی حرکت سے تیز ہونے لگیں
اسکی انگلی جب اسکی ٹھوڑی سے ہوتی ہوئی اسکی گردن تک پہنچی اور کالر بون پہ جا کہ جب اٹکی تو اسنے فوراً التجائیہ انداز میں اسکا ہاتھ روکا
شش۔۔ شاہ پلیز۔۔۔۔۔۔ اور ہلکا سا رخ موڑ گئی۔۔۔۔۔
، اسے لگ رہا تھا اسکا دل حلق سے نکل کے باہر آ گرے گا اگر جہان نے اسکو تھاما نہ ہوتا تو وہ زمین بوس ہو چکی تھی۔۔
اسکی مزاحمت پہ اسنے اپنی ضبط سے سرخ پڑتی آنکھیں اٹھائیں اور اسکے سر جھکائے وجود کو دیکھا۔۔اور اسکے بال ایک سائیڈ سے ہٹا کے بائیں کندھے پہ ڈالے۔۔۔ اسکی ٹانگیں لرزنے لگیں ۔۔
وہ آہستگی سے جھکا اور اسکے دائیں کندھے پہ اپنے سلگتے لب رکھ دیے۔۔
وہ ششدر رہ گئی اسکے لمس میں کیا کچھ نہ تھا
پیار۔۔۔۔ عشق۔۔۔ دیونگی۔۔۔جنونیت۔۔۔
لِیکن اسے حیران کرنے والی ایک چیز تھی اس لمس میں اور وہ تھا اس میں چھپا۔۔
احترام۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کرتا دروازے پہ ہوئی دستک نے دونوں کو چونکا دیا۔۔۔
یس۔۔ اسنے اندر آنے کو نہ کہا اسلیے ملازمہ نے اندر آنے کی غلطی کیے بغیر علیزے کو نیچے آنے کا پیغام دے کے چلی گئ۔۔۔ وہ اسکی گرفت میں کسمسائی تو اسنے پھر سے اسکو قریب کرتے اسکے ماتھے پہ استحقاق کی مہر ثبت کی اور سرگوشی کی
I’ll miss u so much…. I can’t spent even one day without you so please….
اسنے بات ادھوری چھوڑ کے اسکا چہرہ تھاما اور اس سے پہلے کہ وہ ہر حد پار کرتا اور اسکی نفرت کے دعوے کی دھجیاں اڑاتا وہ جھٹکے سے اپنا آپ چھڑواتی ڈریسنگ روم میں بھاگی۔۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شادی کے ہنگامے سرد پڑے تو سب روز کے کاموں میں مصروف ہوئے۔۔
خان۔۔۔ خان۔۔ وہ زور سے چلاتی باہر آئی اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں چلا نہ جائے۔۔
جی بی بی!!اسنے بیزاری سے پلٹ کے جواب دیا، ایک پل کو اسکا دل کرلایا لیکن پھر ہشاش لہجے میں بولی۔۔
مجھے یونی جانا ہے ، چھوڑ آو۔۔۔ اس نے مان سے کہا۔۔
سّوری بی بی! مجھے سر کے ساتھ کہیں جانا ہے ،میں ڈرائیور کو کہتا ہوں وہ آپکو چھوڑ آتا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہہ کے پلٹا۔۔
لِیکن مجھے تمہارے ساتھ جانا ہے۔۔ وہ اصرار کرتی بولی.
بی بی آپ۔۔۔۔ وہ اسکی بات کاٹتے بولی۔۔
تم مجھے نام سے کیوں نہیں پکارتے باقی سب کی طرح؟؟ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔۔
کیونکہ میں اپنی حدود سے واقف ہوں اور آپ بھی اس بات کا خیال رکھا کریں۔۔۔ اب جائیں اندر ،ڈرائیور آتا تو اطلاع کر دیتا۔۔۔۔ اسنے تلخی سے بات ختم کی۔۔۔
تم ۔۔۔ تم بہت ظالم ہو۔۔ وہ روتی ہوئی کہتی اندر بھاگی۔۔۔
غدار ہونے سے ظالم ہونا بہتر مہرو بی بی۔۔۔ وہ سر جھٹکتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . .
ڈھیلے ڈھالے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس ، بالوں کو عجیب سا نقشہ دے کہ اوپر اکٹھا کیے اور گلے میں مفلر لٹکائے، پاپ کارن کا باول ہاتھ میں لیے وہ بچوں کے ساتھ بیٹھی مگن انداز میں کارٹون دیکھ رہی تھی کہ ولی بھنائے انداز میں اندر آیا۔۔
علیزے اپنے شوہر اور اسکے گارڈز کو سمجھا لو میں انہیں شکل سے چور لگتا ہوں جو ہر بار اپنے گھر میں آتے ہوئے بھی مجھے چیک کرتے۔۔۔۔ وہ روہانسے انداز میں بولا تو اسنے ہنسی دبائی۔۔۔
شکل کا کیا ہے ، شکل سے تو مجھے بھی آپ۔۔۔ اس نے لب شریر انداز میں دبائے تو وہ جارحانہ تیوروں سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔
سوری ۔۔سوری ۔۔وہ ہنستے ہوئے پیچھے ہٹی۔۔
علیزے کدھر ہو یار؟تمہارا شوہر کالز کر کر کے پاگل ہونے لگا۔۔ علینہ کی بات سن کے اسکا ہاتھ جہاں کا تہاں رہ گیا اور دل سکڑ کے پھولا۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔