Rate this Novel
Episode 08
یآدِماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔ ۔۔۔
آنسو اسکی آنکھوں سے لڑیوں کی مانند بہتے چلے گئے۔ ۔۔۔وہ بے پرواہ لٹے انداز میں بیٹھی رہی۔ ۔
خان کو فارغ کر کے جب وہ اسکی طرف متوجہ ہوا تو اسکا بھیگا چہرا دیکھ کے ٹھٹک گیا اور ایک پل میں بات کی گہرائ میں پہنچا۔ ۔۔
وہ آہستہ سے اسکے قریب گیا اور بولا۔ ۔۔
اپنے آنسو صاف کریں۔۔۔
لیکن وہ سن کے بھی سن نہ پاٸی۔ ۔۔۔ اسنے ہاتھ اسکے بالوں کی اوڑ بڑھایا اور سہلانے لگا تو وہ ضبط کھوتی پھٹ پڑی۔ ۔۔۔
کیّوں؟ ؟کیوں آئے آپ واپس؟ کیوں پھر سے میری بے بسی کا تماشا دیکھنے آئے ؟۔۔۔۔ جان بوجھ کے کر رہے آپ۔ ۔۔
اسکی آنکھوں میں سرخی سرعت سے پھیلی اسکی باتیں سن کر لیکن وہ اسکی طرف متوجہ نہ تھی، ہوتی تو شاید یہ سب نہ بول پاتی۔ ۔۔
مینے منع کیا تھا۔۔۔مت آنا واپس ۔۔پھر کیوں ؟ وعدہ توڑ کے آۓ اور اب مجھے توڑ رہے؟؟ کیوں؟ ؟
وہ بے بسی سے روتی بولتی جا رہی تھی جب اسنے اسے دونوں بازوٶں سے پکڑ کے ایک جھٹکے سے سامنے کیا۔ ۔۔
کیونکہ؟ ۔۔۔۔۔۔ماں مر رہی تھی میری۔ ۔ نہیں برداشت کر سکی جداٸی ۔۔ ماں تھیں وہ۔ ۔ ایک پیار نے مجھے خود مجھ سے دور کر دیا تھا لیکن انکے پیار اور ممتا نے واسطہ دے کے واپس بلایا۔ ۔۔ اسکی دھاڑ اور ظالم گرفت سے اسکا سانس اٹکنے لگا، اسے لگا کہ وہ اب بھی نہ رکا تو وہ مر جائے گی۔ ۔۔
آج کے بعد تماشا دیکھنے کی بات نہ کرنا میں جان لے لوں گا۔ ۔ آپ کیا ہیں میرے لیے یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ۔۔۔
چھچھ۔ ۔ چھوڑیں۔۔۔ مجھے۔ ۔ وہ سسکی تو وہ ایک دم چونکا لیکن گرفت چھوڑنے کی بجائے نرم کرتا بولا۔ ۔۔
آنکھیں صاف کریں اپنی۔ ۔۔۔ وہ چپ رہی۔ ۔
علیزے!!
اب کی بار اسنے تنبیہہً پکارا تو وہ کسمسائ۔
خود صاف کر لیں ،میرا طریقہ پسند نہیں آئیگا۔ ۔ کان میں ہوئ سرگوشی پہلے تو سمجھ نہ آٸی اور جب آئی تو ایک پل میں اسکا چہرا سرخ پڑا ۔۔
وہ اسکے چہرے کو دیکھتا رہ گیا اسکے کپکپاتے یاقوتی لب، بھیگے سبز نین کٹورے، بکھرے بال ، بے پرواہ سراپا سب اسکو بہکانے کو کافی تھے۔ ۔
اسکی نظریں خود پہ محسوس کر کے اس کا دل سکڑا اورجھٹکے سے دور ہوتی وہ منہ رگڑنے لگی۔۔
اسنے بمشکل اسکے چہرے سے نظر ہٹاٸی اور گہری سانس لے کے خود کو کمپوز کیا۔ ۔۔
وہ بھاگتی واش روم میں گھسی۔ ۔۔ اور بے بسی سے رونے لگی ۔۔
میں کیسے انکی شدتوں کو روکوں،؟ کیسے ان نظروں کا سامنا کروں؟ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ روتے ہوئے بس یہی بات اسکے دماغ میں تھی۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حرم جانو! وہ جو آپکی چڑیل ٹائپ خالہ آتی تھیں ، وہ آجکل نظر نہیں آ رہیں، کوئی دیو تو نہیں لے گیا؟ ؟۔۔۔ اس نے اندر آتے ہی بائیں جانب بیٹھی ہدیٰ کو دیکھ کے شرارتاً پوچھا۔ ۔۔
آپ انتہائ بے ہودہ انسان ہیں۔ ۔ خود ہونگے بھوت۔ ۔۔ لڑکیاں دیکھ کے ڈرتی ہیں، ۔۔۔۔ وہ غصے سے بولی۔ ۔۔
آپ نہیں ڈرتی؟ ؟ اسنے معصومیت سے پوچھا۔
نہیں۔ ۔ وہ اکڑائ۔ ۔
ہائے تو آپ لڑکی نہیں؟ ؟ اسکے معصوم سوال پہ اسکا دماغ بھک سے اڑا۔ ۔۔۔
ژآآآآآآآآآلے۔ ۔۔۔ وہ چلائ۔ ۔
کیا ہوا؟ ؟ ژالے اور علینہ بھاگتی آئیں۔ ۔
سمجھا لیں اپنے اس تھرڈ کلاس دیور کو۔ ۔۔ میں سر پھاڑ دینا اسکا۔ ۔ وہ غصیلے انداز میں بولی۔ ۔
مینے کچھ نہیں کیا ۔۔ رئیلی۔ ۔ وہ آرام سے بولا،
ہیں نا حرم۔ ۔۔ اسنے حرم کو گھورتے پوچھا تو وہ فوراً بولی۔ ۔
جی چاچو۔ ۔۔
جبکہ وہ دونوں سر پکڑ کے رہ گئیں۔ ۔ کیوں جھگڑتے ہو دونوں ؟بچے تھوڑی ہو۔ ۔ ژالے روہانسی ہو کہ بولی۔ ۔
وہ بہت نرم مزاج کی تھی ، ہزار کوشش کے باوجود سختی نہ دکھا پاتی اس لیے سب اسکا فائدہ اٹھاتے۔ ۔
ولی تمہاری علیزے سے ابھی بات ہوئ۔ ۔ مرینہ نے اندر آتے پوچھا۔۔
نہیں بھابھی خود ہی نہیں کی۔۔ اسے تھوڑا ٹائم دیں تاکہ وہ ادھر ایڈجسٹ ہو سکے۔۔۔ ایک ہفتہ بعد ریسیپشن ہے تب رہنے کیلیے بلا لیجیے گا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ سر ہلا کہ رہ گئیں۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
دو دن گھر سے غائب رہنے کے بعد وہ ابھی گھر داخل ہوا تھا۔۔ ان دو دنوں میں وہ کافی حد تک سب سے گھل مل چکی تھی بلکہ رات کو بھی وہ سب اسی کے کمرے میں ہوتیں تھیں۔۔۔
اسنے اسکی غیرموجودگی پہ شکر ادا کیا اور سب کے ساتھ لگی رہی کہ اسکی غیر موجودگی پہ اسکی یاد ہمیشہ کی طرح دل پہ اثر انداز نہ ہو۔۔۔۔لیکن۔۔۔
برسوں سنبھالی لب پہ تیرے زائقہ کی یاد۔۔
پھر اک روز ہار کے کچھ اور چکھ لیا۔۔۔
لِیکن
اسکے نہ یاد کرنے والے ارادے کو اسکے آنے والے میسجز بھک سے ختم کر دیتے تھے۔۔۔ وہ نہ ہو کہ بھی ہر جگہ تھا۔۔ کمرے میں لگا اسکا سیاہ سوٹ میں پورٹریٹ ایک پل کو اسے یہی محسوس کرواتا کہ وہ اسے کہیں نہ کہیں دیکھ رہا ہے۔۔۔۔
وہ لاونج میں اینٹر ہوا تو سب گپیں ہانک رہے تھے۔۔۔
السلام علیکم !
اسکی آواز پہ مہرو سے باتیں کرتے اسکے لب اور سانسیں ایک ساتھ رکیں۔۔۔ اسنے آہستگی سے رخ موڑا اور اسکے بلیک شوز کو دیکھ کے نظر اٹھنے سے انکاری ہوئ ۔۔۔۔
کیسے ہو بیٹا؟ایسے بھی کرتا ہے کوئ ۔۔ ابھی آپ کی شادی ہوئی ہے اور آپ علیزے کو چھوڑ کے کہیں گئے تھے اور بتایا بھی نہیں؟؟ آسیہ پھوپھو نے ملتے ہوئے انکے ٹھیک لتے لیے۔۔۔
چھوڑیں پھوپھو۔۔ اسکی پہلی بیوی تو اسکے ساتھ تھی نہ ۔۔ معاویہ نے منہ بسورا اور دادو کے سامنے سر جھکائے خان کی طرف اشارہ کیا تو جے کا زوردار مکا اسے کراہنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔
جےےےےے۔۔ وہ چلایا۔۔۔
لالے ذرا پتہ نہیں چل رہا کہ شادی ہوئی ہے اب ہم ولیمہ پ۔۔۔۔۔
ارے چھوڑو دوسروں کی شادی کے مزے لینا، آو ہم اپنی شادی کرتے اور۔۔۔ اسکی زبان میں پھر کھجلی ہوئ اور وہ زینی کی بات کاٹتا بولا لیکن جہان کے گردن کے گرد کسے بازو نے منہ بند کروا دیا۔۔۔۔
بھابھی بچائیں۔۔۔ اسکی دہائی پہ اسنے بھی انکی بھابھی کی اوڑ دیکھا جو خود اس سے بچنے کو شاید زرتاشے کے پیچھے چھپی تھی۔۔۔۔
شرم کر لیا کرو تم بھی۔۔۔ فوزیہ چچی نے آکے اسے چپت لگائ ، اور تبھی انابی نے کھانا لگنے کی اطلاع دی تو سب کھانے کے لیے اٹھے۔۔۔
علیزے کھاو نہ بیٹا۔۔ آسیہ بیگم نے اسے ٹوکا تو فوراً پلیٹ پہ جھکی لیکن کچھ کھا نہ سکی کیونکہ اسکے سامنے وہ خان کے سرو کرنے کے بعد کھانے میں مشغول ہو گیا تھا اور خان بھی اپنی جگہ جا چکا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسے کمرے میں جانا موت لگ رہا تھا اسلیے وہ سب کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھتے، باتیں کر رہی تھی لیکن اسکے اٹکنے سے لگ رہا تھا کہ وہ مینٹلی یہاں حاضر نہ تھی۔۔۔
ارے تم سب ابھی ادھر ہی ہو؟ اٹھو سب اور بھابھی کو کمرے میں چھوڑ کے آو۔۔۔۔
زارا بیگم نے آتے ہی انہیں اٹھایا۔۔۔
جاو بیٹا آج جہان اتنے دنوں بعد آیا ہے اسے ٹائم دو۔۔۔انہوں نے جان کے کہااور انکی بات پہ اسکے قدم من من کے ہوئے۔۔۔۔۔
جبکہ انہوں نے مسکراہٹ چھپائ کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ شادی کن حالات میں ہوئی ہے اسلیے سب جان بوجھ کے انہیں ٹائم دیتے تھے۔۔۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوئ تو خالی کمرہ دیکھ کے تشکر بھری سانس بھری اور جلدی سے کپڑے لیکر واش روم گھسی وہ اسکے آنے سے پہلے اسکی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔
بلیک اور بلیو ڈھیلے ڈھالے ٹراوزر اور گھنٹوں تک آتی شرٹ پہنے باہر نکلی اور اسکارف سے بالوں کو الٹا سیدھا سمیٹا اور دوپٹہ لیے بیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔ تبھی اسکا موبائل بجا ، مرینہ بھابھی کی کال دیکھ کے وہ سب بھول کے کال سننے لگی۔۔۔
اسے بات کرتے دس منٹ ہوئے کہ سٹڈی کا دروازہ کھولتے وہ اندر آیا اور وہ بے خبر لگی رہی۔۔۔۔ اسنے ایک نظر بے خبر وجود پہ ڈالی۔۔ براون بالوں کو اسکارف میں لپیٹے ، دوپٹہ گود میں رکھے اسکی جانب پشت کیے وہ مگن انداز میں مصروف تھی۔۔۔۔
اسکا تسلسل تب ٹوٹا جب وہ اسکے پیچھے بیڈ پہ جا کے بیٹھا۔۔۔ اسکا سانس مدہم ہوا۔۔۔
جب وہ کچھ نہ بولی تو بھابھی نے پکارا۔۔۔ علیزے!!
ججج۔۔۔ جج۔۔جی ۔۔۔۔ وہ ہکلائ۔۔۔
اسںنے ہاتھ بڑھایا اور اسکارف میں بندھے بالوں کو جھٹکے سے کھول دیا۔۔ اسکا دل سکڑا اور پھر موبائل اسکے ہاتھوں سے چھوٹ کہ گود میں جا گرا۔۔۔
علیزے۔۔۔ لیزے۔۔۔ بھابھی کی آواز آتی رہی لیکن وہ وہاں ہوتی تو سنتی نا۔۔۔۔۔
اور تب وہ اسکے بالوں کو ہلکے سے سمیٹتا اور ہاتھوں پہ لپیٹتا اسکے کان کے پاس جھکا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
