55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

آو بیٹا ، رک کیوں گئے؟؟ احمد شاہ نے پاس بلایا ۔۔
سب اس وقت لاونج میں بیٹھے اسکے گھر والوں اور جہان کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے ان کے قریب آئ اور سب کو سلام کیا اور سب بڑوں کے سامنے سر جھکا کے پیار لیا۔۔۔
بھابھی آج پورا دن ہم آپکو اپکی نئ فیملی سے متعارف کروائیں گے۔۔ آریان خوشی سے بولا اور وہ سر ہلا کے رہ گئی۔۔۔
کچھ دیر میں ولی، حماس ، ژالے اور دریہ سکندر بچوں کے ساتھ اندر آے۔
السلام علیکم !
باآواز سلام کیا اور سب سے ملنے لگے جب اسکی باری آئی تو اسنے آنسوٶں کی جھری لگا دی ۔۔۔
مم۔۔ مجھے گھر جانا ہے۔۔ لالہ کے پاس۔۔۔ وہ حماس سے بولی تو ولی دانت پیستے بولا۔۔۔
علیزے !جہان بھائی کدھر ہیں؟وہ اسکا دھیان بٹانے کو بولا۔۔۔ تم نے انہیں صبح صبح کدھر جانے دیا؟
مجھے نی پتہ۔۔ وہ نروٹھے انداز میں بولی ۔۔ باقی سب انکی نوک جوک سے مستفید ہو رہے تھے۔۔
وہ ژالے کی بیٹی حوریہ کو گود میں لیے بیٹھی جب وہ آیا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔
سب کو سلام کرتے اسنے ایک نظر بلیو ڈریس میں سر جھکائے بیٹھے فرد پہ ڈالی اور حماس اور ولی سے ملنے لگا جبکہ ژالے اور دریہ کے سامنے سر جھکایا۔۔ وہ یہ دیکھ کے حیران رہ گئی کیونکہ وہ ان سے عمر میں بڑا تھا لیکن وہ شاید رشتے کا لحاظ کر رہا تھا۔۔۔
جیتے رہیں۔۔ خوش رہیں۔۔ دریہ شرارتاً بولی۔۔۔
ادھر علیزے کے پاس ہی بیٹھ جاٶ اپنی ہی بیوی ہے۔۔۔ وہ جگہ دیکھ رہا تھا جب اسفی چاچو نے مسکراہٹ دبائے کہا تو وہ خجل ہو گیا۔۔جبکہ وہ اپنی جگہ سمٹ سی گئی۔۔۔
حوریہ بیٹا انکل سے ملو۔۔ ژالے نے اسکی گود میں بیٹھی اپنی بیٹی کو کہا۔۔
نہیں،یہ گندے انکل ہیں، انہوں نے کل پھوپھو کو چرا لیا۔۔۔ وہ ناراضگی سے بولی اور اسکی بات پہ سب کا چھت پھاڑ قہقہ لگا۔۔۔
علیزے کی سانس رکی اسکا ردعمل سوچ کے۔۔ جبکہ وہ ہلکا سا مسکرایا اور اسکا بازو پکڑتے اسے سامنے کیا اور بولا۔۔۔
بیٹا۔۔ آپکی پھوپھو سے بدلا لیا ہے ۔۔۔ اسکا دل رک کے دھڑکا۔۔پھر وہ اسکی سمت ہلکا سا جھکا اور بظاہر حوریہ سے بولا۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مجھے اور میرا سب کچھ چرایا آج مینے سب واپس لیا، سود سمیت۔۔ اسکی گھمبیر آواز پہ اسکی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔۔۔
وہ سیدھا ہوا اور باتوں میں لگ گیا۔۔۔
بہو ناشتہ لگواٶ بچی بھوکی ہے صبح سے۔۔۔ دادو مسز احمد سے بولیں۔۔۔۔ جبکہ بچی کی بھوک بچے کی سرگوشی ختم کر چکی تھی۔۔۔
انہوں نے ملکر ناشتہ لگایا اور سب نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا۔۔۔
جب وہ سب نکلنے لگے تو اسکے روتے چہرے کو دیکھ کہ ولی ناک چڑھاتا بولا۔۔۔
قسم سے تمہاری بہتی ناک دیکھ کے جہان بھائی کو ٹشوز اور رومال گفٹ کرنے کو دل کر رہا، تم تو انکی شرٹس کا کباڑا کر دو گی۔۔۔
اسکی بات پہ سب نے ہنسی روکی جبکہ وہ منہ کھولے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی اور جب سمجھ آیا تب غصے سے لال ہوئی۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ جائیں یہاں سے۔۔ میں نٸ بولنا آپ کے ساتھ۔۔۔ انکی فکر آپ مت کریں۔۔ آپ نے کونسا شرٹس دھو کے دینی۔۔ وہ غصے سے بولی جب وہ ہنستے ہوئے اسے ساتھ لگا کے بولا۔۔
اوکے اوکے یار۔۔۔ تم دن میں روز دو تین گندی کرنا ۔۔۔ وہ شرم سے سرخ پڑی کیونکہ وہ پاس آکھڑا ہوا تھا۔۔
بھائی۔۔۔ وہ حماس کی طرف مڑی۔۔
اوکے سوری ۔۔ خداخافظ۔۔ اور وہ سب اسی طرح ہنستے ہوئے چل دیۓ جبکہ زینی اسے ساتھ لیے سب سے متعارف کروانے لگی۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شآہ مینشن میں تین فیمیلیز رہتی تھی۔۔۔۔زمان شاہ اور زہرہ شاہ کی چار اولادیں تھیں ۔۔ سب سے بڑے احمد شاہ جنکی شادی انکی پسند سے مہرخ شاہ سے کی گئی لیکن وہ جہان کی پیدائش کے پانچ سال بعد گھر چھوڑ گئیں تو پھر انکی شادی انہوں نے اپنے دوست کی بیٹی زائرہ شاہ سے کی جس میں سے انکی دو بیٹیاں زینی اور ردابہ تھیں۔۔ زینی کا نکاح معاویہ سے جبکہ ردابہ کی شادی شہروز شاہ سے کی گئی جو کہ امریکہ میں ہوتا ہے انکا بہت پیارا بیٹا اور جہان کا لاڈلہ روحان تھا۔۔۔
احمد سے چھوٹے حسن شاہ تھے جنکی شادی زہرہ شاہ کی بھانجی زارا شاہ سے کی گئی ۔۔ انکا بڑا بیٹا موحد جسکی شادی لاریب سے ہوئی انکے تین بچے ہیں عمر، ہادی اور عدن۔۔۔ اسکے بعد زاویار اور اسکی ہنس مکھ اہلیہ آیت تھی انکے دو بیٹے حنان اور منان تھے ۔۔ اسکے بعد معاویہ، آریان اور مہرو تھے ۔۔۔
انکے بعد آسیہ شاہ تھیں جنکی شادی وجاہت شاہ سے کی گئی انکے تین بچے زوریز، زرتاشہ اور زرمینہ ہیں ۔۔۔زر مینہ ابھی سال بھر کی تھی جب وجاہت کا انتقال ہو گیا تو انکے گھر والوں کے ناروا سلوک کی بنا پہ انہیں مینشن لے آیا گیا لیکن وہ وہاں نہ رکیں تو انہیں مینشن کے بلکل ساتھ بنے ولا میں ٹھرایا گیا لیکن بچے اکثر مینشن میں جمع ہوتے یا مستی کرنے کو ولا آجاتے۔۔۔
اسکے بعد اسفند اور انکی اہلیہ فوزیہ تھیں انکے تین بچے طلال جسکی شادی مومنہ سے ہوئی تھی اسکی ایک بیٹی محرم تھی ، اسکے بعد کاشان اور مروہ تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب اسے گھر دکھانے میں مصروف تھیں۔۔ وہ ایک پورشن دیکھ کے ہی تھک چکی تھی۔۔
اندر آکے سب کے پاس بیٹھے تو کچھ دیر بعد مما نے آکے آیت بھابھی سے بولا۔۔
بیٹا علیزے کو کمرے میں لے جاو ریسٹ کر لیں۔۔۔
نن۔۔ نہیں آنٹی۔مم۔۔ وہ بولنے لگی تو انہوں نے ٹوکا
آنٹی نہیں مما۔۔ مجھے سب بچے مما کہتے ہیں۔۔ زارا کو ماما جبکہ فوزیہ کو چچی تو آپ بھی ایسے ہی بلایا کریں۔۔ انہوں نے اسے ساتھ لگاتے کہا۔۔
جی مما۔۔۔ وہ سر جھکا کہ بولی۔۔۔
وہ سب اسکے ساتھ روم تک آئیں تو وہ جھجکتے ہوئے بولی، مم.۔۔ مجھے اکیلے۔۔ ڈر لگتا ہے ۔۔ آپ بھی آئیں۔۔۔
اوہ شیور! کیوں نہیں آئیں آپ۔۔۔
ویسے لالے کی مسز ہو کے بھی آپ ڈر رہی ہیں ۔۔ ناٹ فیئر۔۔۔ مہرو شریر انداز میں بولی تو وہ جھینپ گئی۔۔۔
آپ تو جہان کے نام سے اتنا بلش کرتی ہیں ، جب وہ سامنے ہو یا پیار کرتا ہو گا تب کیا کرتی ہیں؟؟ لاریب بھابھی ہادی کو سہلاتے ہوئے اسے تنگ کرتی بولیں۔۔۔
انکے صبر کا امتحان لیتی ہوں گی۔۔ ہمارا یہ حال ہوتا انکو دیکھ اور وہ تو۔۔۔
پلیز۔۔۔۔۔ اسنے خون چھلکاتے چہرے کو چھپاتے زینی سے التجا کی۔۔ اسکی اس معصوم ادا پہ سب مسکرا اٹھیں اور آیت نے ہنستے ہوئے اسے ساتھ لگایا تبھی دروازہ کھلا اور معاویہ اور خان جہان کے ساتھ اندر آۓ۔۔۔
اسکو دیکھ کے اسکا نارمل ہوتا چہرا پھر سے سرخ ہوا۔۔۔ معاویہ کی آنکھیں زینی کو دیکھ کے شرارت سے چمکیں۔۔
ہائے یہ کونسی مخلوق ہے جسنے بھابھی کو گھیرا ہے؟ وہ زینی کا جائزہ لیتا گویا ہوا۔۔۔
آپ۔۔ نکلے یہاں سے سخت برے لگ رہے ادھر۔۔۔ وہ غصے اور جھنجھلاہٹ سے بولی۔۔۔۔
کیااااااااااااا؟ اور تم۔۔۔ تم مجھے اتنی بری لگتی ہو کککک۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کوئی بکواس کرتا اسکی نظر جے کے چہرے سے ٹکرائ اور وہاں چھائے تاثر نے اسے بات پلٹنے پہ مجبور کیا۔۔۔
اتنی بری کہ میرا دل کرتا کہ میں تمہیں اتنا پیااااااار کروں کہ جت۔۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی لمبی چھوڑ ہی گیا اسے راستے میں زینی کی شرم اور غصے سے بھری آواز نے روکا۔۔۔
لالے ۔۔۔ دیکھیں نا۔۔۔ وہ جہان کو شکایت آمیز لیجے میں بولی۔۔
اور معاویہ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کے اچھل کے علیزے کے پیچھے گیا۔۔۔
بچائیں بھابھی مجھے، اپنے جلاد شوہر سے۔۔ جبکہ وہ اس افتاد پہ بوکھلا گئی ۔۔ کبھی اپنے پیچھے بیٹھے معاویہ کو دیکھتی ، کبھی ان سب کو اور پھر اسکی طرف نگاہ گئی لیکن وہ نگاہ چہرے تک جانے سے پہلے ہی پلٹ آئی ، اسکیلیے سب سے مشکل کام اس چہرے کو دیکھنا تھا۔۔۔
روکیں بھابھی۔۔۔ مار دے گا مجھے ۔۔ اسکی بے پر کی دہائی پہ وہ گھبرائ جبکہ سب نے افسوس سے سر ہلایا۔۔
اسنے اسکے قدموں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا اور پھر معاویہ کو۔۔۔
حح۔۔حید۔۔حیدر!۔۔۔۔۔۔ر۔۔رک جائیں ناااا۔۔ اسکی بے بسی میں چھپی التجا پہ سب کے چہرے پہ مسکراہٹ آئ جبکہ اسکے قدم ساکت ہوئے۔۔۔
وہ جہاں کا تہاں رہ گیا ، وہ متعجب تھا کہ واقعی اسنے اسے پکارا تھا اور وہ بھی ایسے؟؟
جبکہ وہ خود دم بخود رہ گئی کہ اسنے کیا بولا اور کیونکر بولا اور وہ بھی اس مقام پہ جب وہ اس سے نفرت کی دعویدار ہے۔۔
معاویہ کے موبائل کی رنگ نے انہیں چونکایا تو وہ موبائل لیے نکلا تو لاریب بھی سب کو اٹھنے کا کہہ کہ اسے خداخافظ کہتی نکل گئی جبکہ وہ ابھی تک ساکت بیٹھی تھی۔۔۔
I wish u call me Haider…..
I want to listen my name from your lips….
ایک آنسو اسکی آنکھ سے نکلا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔