55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

اسکے بالوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے ایک سرگوشی اسکو کانوں میں جاگی۔ ۔۔
“راپنزل، میری خواہش ہے کہ اک دن یہ گھٹائیں مجھ پہ بکھری ہوں، میں ان کو محسوس کر سکوں” اسنے ایک سسکی بھری، اسی پل دروازے پہ ہوئی دستک نے اسے خیالات کی وادی سے نکالا، وہ بوکھلا گئی کہ اب انجان لوگوں کا سامنہ کیسے کرے گی کیونکہ وہ کسی سے پہلے نہیں ملی ، نکاح کے دن ہی وہ سب کے سامنے آئی اور عرصہ پہلے دکھائی تصویر کی وجہ سے وہ صرف جہان کی مما کو پہچان سکی تھی ، اسکے علاوہ وہ کسی کو نہ جانتی تھی، وہ رونے لگ گئی اور بے بسی سے اسکے ہاتھوں میں لپٹے بالوں پہ نظر ڈالی۔ ۔۔
اسی لمحے اسکی آنکھ کھلی اور اسکی بھیگی نظروں سے نظر ٹکرائی ، ۔ اسکی نیند سے بوجھل سرخ آنکھیں دیکھ کے اسکا دل ڈوب کے ابھرا،
بب۔ ۔۔بال۔ ۔۔۔۔بال چھوڑیں۔ ۔ وہ روتے ، اٹکتے بولی تو اسنے ایک نظر اسے پھر ہاتھ میں لپٹے بالوں کو دیکھا اور آہستگی سے انہیں آزاد کیا وہ بجلی کی رفتار سے بیڈ سے اتری لیکن پہلے قدم پہ ٹھٹک گئ وہ ابھی تک اسی لباس میں تھی ، اسکا دل کیا وہ دھاڑیں مار کے روئے،۔۔۔۔۔
سامنے الماری میں آپکے ڈریسز ہیں۔ ۔۔
جہان کی آواز پہ وہ تھمی ۔۔۔
وہ کیسے جانتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے؟؟ اسنے سوچا لیکن پھر سوچ پہ لعنت بھیجتی اس سمت گئ اور نسبتاً سادہ پیچ ڈریس نکالا لیکن اسے پھر بھی ہیوی لگا کیونکہ وہ ایسے ڈریسز کی عادی نہ تھی۔ ۔ لیکن مجبوراً ہلکی سی ایمبرائڈری سے سجے ڈریس کو لیکر واشروم میں گھس گئ۔ ۔۔۔
جب وہ فاغ ہو کر باہر نکلی تو کمرہ خالی دیکھ کے سکون کا سانس لیا۔ ۔۔ وہ ابھی بال سلجھا رہی تھی کہ وہ سٹڈی کا دروازہ کھولتا باہر نکلا ، اسکے ہاتھ تھمے جبکہ جہان کی دھڑکن ۔۔۔۔۔
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکی سمت بڑھا تو اسکی جان ہوا ہونے لگی ۔۔۔۔ اسکے بہت قریب آکے وہ رک گیا اور اسے ایسے لگا کہ اسکے اردگرد کی سب ہوا جہان نے کھینچ رکھی ہو۔ ۔۔ اسکا سانس رکا جب اسنے اسکا ہاتھ اپنی طرف بڑھتے دیکھا ۔۔۔۔
بہت آرام سے اسکے بالوں کو ہاتھ میں لیتے وہ انہیں چہرے کے پاس لیکر گیا اور بولا
Rapunzel! I am blessed today……
اسکی جذبات میں ڈوبی آواز سے اسکا دل سکڑ کر پھولا وہ ایک دم بال چھرواتی دور ہٹی۔۔۔
دد۔۔ دور۔۔ دور رہیں۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
وہ پچھے ہٹ کے اسے دیکھتا رہا اور پھر کپڑے لیکر شاور لینے گھس گیا، اسے گئے دس منٹ گزرے کہ دروازے پہ پھر دستک ہوئی وہ اچھلی لیکن چپ رہی سوچا کہ شاید پہلے کی طرح جو بھی ہے چلا جائیگا لیکن پھر ہوئ دستک نے اسے اٹھنے پہ مجبور کیا وہ آہستہ سے دروازے کے پاس آئ اور کھول دیا ۔۔۔
باہر کھڑے خان نے اسے دیکھ کے نظریں جھکائیں ،
اسلام وعلیکم! بھابھی میم۔۔۔
اسکے طرزِتخاطب نے آج بھی اسے مسمرائز کیا۔۔۔اسنے آہستگی سے سلام کا جواب دیا اور دروازے کے سامنے سے ہٹی۔۔۔
معزرت بھابھی میم!لیکن سر کو کیہیں جانا تھا ارجنٹ سو مجھے انکی تیاری میں ہیلپ کرنا تھی ۔۔۔ تب ہی وہ شاور لیکر نکلا
Morning sir!
Morning !
اسنے سر ہلایا ، وہ صوفے پہ بیٹھ گئی وہ آج تک خان کی اس گھر میں ویلیو نہ سمجھ سکی تھی۔۔۔ خان نے اسکے کپڑے نکالنے کے بعد اسکی تیاری میں مدد شروع کر دی۔۔۔
تب ہی دستک دینے کے ساتھ ہی ایک ہجوم سا ان کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
Good morning ….
پر جوش آواز میں کہا گیا۔۔ وہ ان سب کو دیکھ کے بوکھلا کے کھڑی ہو گی۔۔۔
کیسی ہیں بھابھی؟ وہ سب گرمجوشی سے باری باری ملنے لگیں۔۔ اسکا چہرہ اس گرم جوشی پہ سرخ پڑا۔۔۔
او مائ گاڈ بھابھی you are blushing … ذینی چیخی۔۔
ہمارے سامنے یہ حال ہے تو رات کو جہان کا کیا حال کیا ہو گا۔۔۔۔ ردابہ کی شریر سرگوشی کی آواز اتنی تو تھی کہ وہ بھی سن سکتا، اس خیال نے اسے کانپنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔۔ اسنے اسے دیکھنے کی غلطی نہ کی جانتی تھی اسکی آنکھوں کی لپک۔۔۔۔
بھابھی آپ گھبرا کیوں رہی ہیں؟ مہرو گویا ہوئ۔۔۔
جب سب چڑیلیں گھیرتی ہیں تو پریاں گھبرا جاتی ہیں۔۔۔ خان کی بات پہ سب کی آنکھیں ابل پڑیں جبکہ اسنے اپنی مسکراہٹ دبائ۔۔۔
خان بھائ !آپ پہ کب سے معاویہ کا رنگ چڑھا؟ وہ صدمے سے گویا ہوئ۔۔۔۔
چھوڑیں سب آپ یہ بتائیں لالے نے گفٹ کیا دیا؟ انکی اکسائیٹڈ آواز پہ اسکے چھکے چھوٹے۔۔۔
اسنے بے ساختہ اسکی طرف دیکھا ، اسنے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا جہاں دو مخملی ڈبے اسنے ابھی نکال کے رکھے تھے کیونکہ جانتا تھا انکا یہ سوال ضرور ہو گا۔۔۔۔
اسںنے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا ، پہلے اوپر پڑی ڈبیا لپک کے کھولی اور سب کی نگاہ پڑی۔۔۔۔
WAO…..
AMAZING۔……
beautiful …
LoVELY۔..
اسی طرح کی بہت سی آوازیں آئیں۔۔۔ اسنے بھی دیکھا تو سبز نگینے سے سجی انگھوٹھی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔۔ اسکی چمک اسکے بیش قیمت ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔۔
لالے آپ بہت چھپے رستم ہیں۔۔۔ زینی گویا ہوئی۔۔۔
دوسرا باکس کھولو نہ ۔۔ مہرو بے صبری سے بولی۔ جبکہ جہان اور خان ڈریسنگ کے پاس سے ہٹ کے صوفے پہ بیٹھے فائل دیکھ رہے تھے اور اسکی تیوریاں بتا رہی تھی کہ وہ غصے میں تھا لیکن خود کو کنٹرول کیۓ تھا۔۔۔
دوسرے باکس کو کھولتے ہی ویسے ہی کمنٹس آئے اور اسکے کانوں میں سرگوشیاں ۔۔۔۔
آپکی انگلیاں بہت پیاری ہیں۔۔۔۔
آپ کیلیے رنگ خریدی ہے۔۔۔۔
پھر آپ کے خالی بازو دیکھے تو کنگن لیے۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں آپ ایک بار تو ضرور یہ سب پہنیں۔۔۔۔
وہ خوبصورت کنگنوں پہ نظریں جمائے ان جان لیوا سرگوشیوں میں گری تھی۔۔۔
بھابھی۔۔۔ یہ ایسے کیوں پڑے ہیں؟ لالہ نے پہنائے نہیں؟ ردابہ کے سوال نے اسے ہونق بنا دیا اسے نہیں پتہ تھا ایسی سچویشن بھی ہوتی ہے ۔۔۔
وہ.۔۔ وہ۔۔۔ مم۔۔ میں نے ابھی رکھے تھے۔۔شاور لینا۔۔ تھا۔۔۔ اسنے بمشکل کہا۔
وہ انکی باتیں سن رہا تھا لیکن متوجہ نہ ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی۔۔۔ وہ دونوں اٹھے اور دروازے کی سمت بڑھے ،
تبھی مسز حسن شاہ اینٹر ہوئیں۔۔ اسکا ماتھا چومتے انہوں نے اس پہ نظر ڈالی جو بلیک جینز ، بلیو شرٹ کے اوپر بلیک لیڈر جیکٹ پہنے کہیں جانے کو تیار تھا۔۔۔
کدھر؟ انہوں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔ابھی تو ناشتے کیلیے آنے والے علیزے کے گھر سے۔۔۔
ایک گھنٹے میں واپسی ہے ، میں انہیں انفارم کر چکا ہوں۔۔ خداخافظ!
ایک تو یہ لڑکا۔۔ وہ بڑبڑاتی آگے آئیں اور اسکے ماتھے کس چومتے اسے ساتھ لگائے دعائیں دینے لگیں۔۔۔
تم سب بھابھی کو پیارا سا تیار کر کے نیچے لیکر آٶ۔۔ وہ انہیں حکم دے کے چلی گئیں۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . .
یہ ایک کمرے کا منظر تھا جہاں ایک آدمی کرسی پہ بندھا بیٹھا تھا۔۔۔ اچانک دروازہ کھولا اور ایک سرد آواز نے اسکے رگوں کے خون کو جما دیا۔۔۔۔
Welcome back to Pakistan Malik….
تت۔۔ تم ہو جس نے مجھے ۔۔۔ ڈی پورٹ کروایا؟ وہ ڈر کو چھپاتے ہو ے بولا۔۔۔
فضول بکواس مت کرنا جو پوچھوں اسکا سیدھا جواب دینا۔۔۔ اسنے غراتے ہوئے کہا۔۔ اسکی سرخ آنکھیں خان کو بھی ڈرا رہی تھیں۔۔۔
میری بیوی کو کیوں اٹھوایا تھا؟ اسنے سلگتے ہوئے استفسار کیا۔۔
کک۔۔ کون۔۔ سی بی۔۔۔ اسکی بات لبوں میں تھی کہ اسکے بھاری ہاتھ نے اسے کرسی سمیت الٹنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔ دیکھو جہان تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔ میں تو تمہارے ساتھ ۔۔۔ تھا اس دن جب خخ۔۔ خان نے تمہیں بتایا۔۔۔۔
رائیٹ، میری شادی کی اطلاع سب تک نہیں گئی ، میری بیوی بھی کسی نے نہیں دیکھی تو تمہیں کیسے پتہ کے میں کس دن کی اور کس کی بات کر رہا۔۔۔ وہ آگے کو جھکتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا۔۔۔۔
تب اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی بڑی بیوقوفی کر چکا ہے اور کس کے سامنے۔۔۔ اب خمیازے کا وقت تھا۔۔
پھر اسکا گریبان پکڑتے فقط اتنا بولا۔۔ مجھے وجہ بتاو؟؟
تت۔۔ تم نے میرے ٹینڈر پکڑواۓ تھے ، میں تمہیں سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔ آ.۔۔آفندی نے کہا کہ تمہاری کوئی کمزوری ڈھونڈ کے اس پہ وار کروں ۔۔۔ تب ۔۔ تب تمہارے ایک گارڈ کے زریعے مجھے علیز۔۔۔۔
نام مت لو ۔۔۔ میں کاٹ ڈالوں گا۔۔۔ وہ دھاڑا تو وہاں کھڑے وجود کانپ اٹھے۔۔
ملک نے جب دیکھا تو وہی جہان کے پیچھے کھڑا تھا تب اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہ رہی۔۔۔
میں اسی دن جان چکا تھا کہ میرے اپنے آدمی کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں تو پہلے انہیں چیک کر چکا ہوں ،۔ تم سے بس پوچھنا تھا کہ تم نے یہ زلیل حرکت کی کیوں؟
دل تو کر رہا ہے اس جرم کی پاداش میں تمہیں خود سزا دوں لیکن۔۔۔۔
تبھی دروازہ کھلا اور نیب کے اہلکار اندر آئے ۔۔ شکریہ شاہ صاحب انکی کب سے تلاش تھی ہمیں۔۔۔
وہ سر ہلاتا باہر کو نکلا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوی بلیو ڈریس، ہلکی سی لپ اسٹک لگائے اور جہان کے رکھے تحفے پہنے(جوکہ انہوں نے زبردستی پہنائے) جب وہ تیار ہوئی تو سب ایک بار پھر اس سے لپٹی۔۔۔
بھابھیییییییییییی۔۔۔
you are soooo cute
وہ جھینپی۔۔۔ جب وہ انکے ساتھ نیچے آئی تو سب کو بیٹھے دیکھ کے اسکے قدم تھمے۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔