Rate this Novel
Episode 05
وہ آہستگی سے قدم اٹھاتا اسکی سمت بڑھا، سائیڈ لیمپ کی مدہم روشنی اور کمرے کا خوابناک ماحول اسکے احساسات پہ ایک خوشکن تاثر چھوڑ رہا تھا۔ ۔۔۔
وہ آہستہ سے ایک گھٹنہ موڑتا اسکے نزدیک بیڈ پہ بیٹھ گیا۔ اسکے بکھرے بال اور سرخ لپ اسٹک سے سجے یاقوتی لب اسکی برداشت کا امتحان لینے لگے وہ بمشکل سرکش جذبوں کی لگام کھینچتا اس پہ کمبل ٹھیک کرتا اٹھ گیا اور کپڑے لیکے شاور لینے گھس گیا تاکہ خود کو ٹھنڈا کر سکے۔ ۔۔۔
پندرہ ، بیس منٹ بعد باہر نکلا تو بلیک ایزی سوٹ میں ملبوس تھا ، بالوں میں ہاتھوں سے ہی کنگھی کر کے کام چلایا اور سگریٹ اور لائیٹر لیکر کر کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا اور اپنے فیورٹ مشغلے میں لگ گیا۔ ۔۔۔
نہ جانے کتنا وقت گزرا کہ وہ آہستہ سے شعور کی منزلیں طے کرتی ہوش میں آئی۔۔۔ اسکی آنکھ کھلی تو سب سے پہلی نظر سرخ و سفید فریش پھولوں سے ٹکرائی ، اسنے آہستہ سے نگاہ پھیری تو ایک نا مانوس کمر ے میں خود کو پایا اور تب اسے اپنے ساتھ کیا دھوکہ یاد آیا کہ کیسے وہ ادھر تک پہنچی۔ ۔۔
اس سوچ کے آتے ہی وہ تیزی سے اٹھی اس سے پہلے کہ وہ قدم مخملیں قالین پہ رکھتی اسکی نگاہ اپنے بائیں جانب کھڑکی کے پاس کھڑے جہان تک گئی، ایک پل کو وہ جہاں کی تہاں رہ گئی ۔۔۔۔
Welcome in my life Darling !!!
جہان کی پرسکون آواز نے اسے پتنگے لگا دٸیے ، وہ سرخ پڑی جہان کو اندازہ لگانا مشکل ہوا کے یہ سرخی شرم کی تھی یا اسکی بات کا اثر ہے مگر اسکے لیے اسکے رنگوں سے سجے چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا، وہ قدم بہ قدم چلتا اسکی طرف بڑھا۔۔۔
خبردار!ادھر ہی کھڑے رہیں ، مار ڈالوں گی میں ۔۔۔ وہ روتے ہوئے پھنکاری۔۔
چیٹ۔۔۔۔۔کک۔۔۔ کیا ہے آپ نے مجھے، سب جھوٹ۔۔۔۔ جھوٹ بولا ، میری خوشی۔۔۔۔۔۔۔۔ ، رضامندی کچھ بھی۔۔۔۔۔ آپ کیلیے معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔ غلط کہتے تھے سب کہتے، جھوٹی تھی سب باتیں ، ڈھک۔۔۔۔ڈھکوسلہ تھت۔۔۔ تھا سب ۔۔۔۔ وہ سسکتے ہوئے ٹوٹے لفظوں میں بولی۔۔۔۔
اس نے کچھ بھی نہ کہا ، یہ ظاہر بھی نہ ہو نے دیا کہ یہ باتیں اس پہ کب آمیز اثر کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ غبار صرف اسی کے سامنے نکل سکتا ہے۔۔۔وہ اسے دیکھتا رہا اسکے کپکپاتے لب، سسکتی ہوئی آنکھیں و خمدار بھیگی پلکیں ۔۔ سرخ ڈوپٹہ شاید اتار کے رکھ دیا تھا پہلے ہی اب وہ اس کے سامنے سفید لباس میں کھڑی اسکا امتحان لے رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ پھر سے آگے بڑھا تو چیخی ” دور، ۔۔ دور رہیں ، نفرت کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔۔ شدید نفرت ۔۔۔۔سنا آپ نے؟؟
اس نے آرام سے اسکے قریب آتے جھٹکے سے اسے اسکے گرد بازو پھیلاتے اسے اپنے ساتھ لگایا
اور وہ۔۔۔ اسے لگا اسے انگاروں نے چھو لیا ہو، وہ ایک پل کو ساکت ہوئی ۔۔ کیا کچھ نہ یاد آیا تھا اسے اس لمس سے۔۔۔
پانچ سال پہلے کا یہ لمس اسے آج بھی اپنے بالوں، اپنے چہرے ، گردن اور۔۔۔۔ پر محسوس ہوتا تھا اور پھر سے وہ اسے اسی آگ میں دھکیل رہا تھا۔۔۔۔
میرے سکون کی ابتدا سے لیکر
میری ازیت کی انتہا ہو تم۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سب بھولتی اسے اسکا دھوکہ یاد آیا تو اسکے اندر شدت کی مزاحمت جاگی ، اسنے اسے دونوں ہاتھوں سے دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
چھچھ۔۔۔۔ چھ۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔
وہ چلائی لیکن بھول گئی کہ اس گرفت سے نکلنا آج بھی ناممکن تھا۔۔۔۔ جب وہ کچھ نہ کر پائی تو اسکے سینے پہ مکے مارنے لگی اس سے افاقہ نہ ہوا تو اس کے کندھے پہ زور زور سے اپنی پیشانی مارنے لگی۔۔۔
اسکی اس حرکت پہ وہ ایک پل کو حیران ہوا پھر زیر لب مسکرایا اور اسے آرام سے ساتھ لگا کہ اسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر ایک ہاتھ سے اسکا سر اپنے کندھے پہ ٹکایا اور اسکے بالوں کو سہلانے لگا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا اسے کیسے ریلیکس کرنا ہے ۔۔۔
جبکہ وہ مزاحمت کے باوجود اسی کے سینے سے لگی روتی، سسکتی اسی کے شکوے اسے سناتی رہی اور اس سے نفرت کا اظہار اسی کے سینے پہ سر رکھ کے کرتی رہی ۔۔ وہ دھیرے دھیرے ایک ہاتھ سے اسکی کمر اور ایک ہاتھ سے اسکے بال سہلاتا رہا۔۔
کچھ لمحوں بعد اسکی مدہم سانسں نے گواہی دی کہ وہ سو چکی ہے ، اس نے دھیرے سے اپنے لب اسکے کان کے پاس لےجاکر سرگوشی کی ” نفرت کا پرچار نہ جانے آپ خود کو تسلی دینے کیلیے کرتی ہیں یا مجھے ازیت دینے کے لیے لیکن دونوں صورتوں میں ہی یہ جان لیوا ہے ۔۔۔۔ اور پھر آرام سے اسے بازووں میں اٹھا کہ بیڈ پہ لے جا کے لٹا دیا اور پھر ہلکا سا جھکتے ہوئے ہوئے اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکرا کے آنکھیں موند گیا۔۔۔
کچھ پل اسے محسوس کرنے کے بعد وہ اٹھ گیا جانتا تھا کہ پھر اپنی شدتوں پہ قابو نہیں رکھ پائے گا اور یہ نازک وجود اسکی شدتیں نہیں برداشت کر سکتا۔۔۔۔
کچھ پل لگے اسے خود کو کمپوز کرنے میں، پھر وہ اسکے پاس لیٹ گیا اور اسکے بالوں کو اپنے ہاتھوں پہ لپیٹتا آنکھیں موند گیا جبکہ نیند آنکھوں سے دور تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب سب جاگے تو مرینہ معاز کو ڈھونڈنے لگی جب وہ کمرے میں گئے تو ان کے پیچھے گئیں وہ جانتی تھیں کہ وہ ان سے جان بوجھ کے دامن چھڑا رہے رات کو بھی ان کے آنے سے پہلے لیٹ گئے۔۔
میں کب سے آپ کو دیکھ رہی آپ مجھے اگنور کر رہے۔۔ وہ خفگی سے بولیں۔۔
مینے کب ایسا کیا؟؟؟
آپ مجھے یہ بتائیں کہ کل ایمرجنسی میں علیزے کی رخصتی کیوں کی؟ جبکہ ایسا کچھ پروگرام بھی نہ تھا ۔۔ انہوں نے ڈائریکٹ پوچھا۔۔۔
وہ گہری سانس بھر کے رہ گئے اور بولے کہ جہان کو اطلاع ملی تھی کہ’ اس ‘تک اسکے نکاح کی خبر پہنچ گئی تھی لیکن ہائی سیکیورٹی کی وجہ سے کچھ کر نہ پایا اسلیے اسے اسکے ساتھ بھیجنا ہی ٹھیک تھا۔۔۔
اں کی بات سے وہ ایک دم پریشان ہوئیں ۔۔ ڈونٹ وری ۔۔ مجھے اللہ اور جہان پہ پورا یقین ہے سب ٹھیک ہو جائیگا آپ جائیں اور ناشتہ تیار کریں ، علیزے کی طرف بھی لیکر جائیں۔۔۔
ان کی بات سنکے وہ باہر کو چل دیں۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . .
صبح اسکی آنکھ کھلی تو وہ ٹھٹک گئی ، رات کو جب وہ آئی تو بیہوش تھی اور جب ہوش آیا تب روشنی کم تھی کہ وہ غور کرتی اب وہ لیٹے لیٹے کمرے کا جائزہ لینے لگی ، کمرہ رہنے والے کے زوق کی اعلیٰ مثال تھا، کشادہ کمرہ بلیک اور گرے کلر کے کامبینیشن سے مزین تھا، اس شخص کی شخصیت میں سیاہ رنگ کی بہت کثرت تھی۔۔۔ سیاہ چمکدار آنکھیں، سیاہ بال جو پیشانی پہ بکھرے ہوتے اور وہ سیاہ رنگ استعمال کرتا تھا۔۔۔۔
اسنے نظریں گھمائیں تو اپنی دائیں جانب لیٹے جہان سے ٹکرائی تو پوری رات اسے تمام جزیات کے ساتھ یاد آئی ۔۔ اسکا چیخنا، جہان کا پرسکون ردعمل، اسکا اسے خود کے ساتھ لگائے تسلی دینا ۔۔۔ یہ سب یاد آتے ہی وہ سرعت سے اٹھی لیککن اسے بالوں میں کھنچاو کی وجہ سے رکنا پڑا اس نے مڑ کے دیکھا تو وہ اسکے بال لپٹائے لیٹا تھا ۔۔ وہ ایک پل کو ساکت ہوئی۔۔۔۔۔ بڑی سرعت سے ایک منظر اسکی آنکھوں میں جاگا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
