Rate this Novel
Episode 04
وہ سب باہر کو لپکیں جبکہ وہ کسی انہونی کے احساس سے لرزتے دل کو سنبھالنے لگی۔۔۔ فنکشن کا انتظام سکندر ولا کے خوبصورت لان میں ہی کیا گیا جسکی سب سجاوٹ ولی، معاویہ، ہادی اور احرام نے ملکر کی تھی۔۔
جہان سفید شلوار سوٹ کے ساتھ آف وائیٹ شال لیے بہت شاندار لگ رہا تھا۔۔ وہ بہت پر سکون انداز میں بیٹھا تھا لیکن اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔
شاہ کے سب کزنز نے ولی اور زجاح کے ساتھ ملکر بہت ہلا گلا مچایا، کچھ دیر بعد نکاح کے لیے جب اسے لے جانے کو سب کمرے میں آئے تو اسکا دل چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کے روئے اور اس سب کو ادھر ہی روک دے اور اسے اس سب سے بچا لے لیکن شاہ کی بات یاد آتے ہی وہ سن پڑی۔۔۔۔
اسے جب لان میں لایا گیا تو سرخ آرگنزا کے ڈوپٹے نے اسکے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔۔۔
شاہ کی کزنز نے اسکی فراک کو پکڑا تھا جو زمین کو چھو رہی تھی اور کچھ نے اسکے ڈوپٹے کو تھاما ہوا تھا۔۔ وہ جب لان میں آئی تو سب انکی طرف دیکھنے لگے۔۔۔ جے نے جب ادھر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
وہ اسکی تھی صرف اسکی۔۔۔۔ اسکی حور تھی۔۔۔ اسکی بیوٹی۔۔۔
وہ اسی کےلیے بنی تھی اور آج وہ اسے ہر طرح سے پانے والا تھا۔۔۔ وہ خوش تھا بہت خوش ، اسکے دل میں جزبات کا سمندر امڈ رہا تھا۔۔۔
نکاح خواہ پہلے سے ہی موجود تھا ، اسکے بیٹھتے ہی وہ نکاح کی کاروائ شروع کرنے لگے،
علیزے سکندر ولد سکندر علی آپکو جہان حیدر شاہ ولد احمد شاہ سے سکہ رائج الوقت حق مہر دس لاکھ ، یہ نکاح قبول ہے؟
اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور کانوں میں ایک زہریلی آواز گونجی “تم نے کسی کی طرف دیکھا یا کسی نے تمہاری طرف دیکھا تو میں تم دونوں کو عبرتناک سزا دوں گا” مرا جائیگا وہ بن موت
ایک گرم لمس نے اسے دردناک خیالات سے باہر نکالا تب اسے محسوس ہوا کہ شاہ نے اپنا بازو صوفے کی پشت پہ پھیلانے کے بہانے اسے اشارہ دیا کہ دیر مت کرو۔۔۔
اسنے دھمتی سانسوں اور دھیمی آواز میں کہا قبول ہے، دوسری اور تیسری دفعہ بھی اسنے یہی کیا
جہان سے جب پوچھا گیا تو اسنے پرسکون انداز میں نکاح قبول کیا۔۔۔۔ نکاح کے بعد سب انہیں مبارک دینے لگے ،مبارک باد کی آوازوں کے ساتھ وہاں دعائیں بھی تھیں۔۔۔
نکاح کے بعد اسکا سرخ ڈوپٹہ اتار دیا گیا اور تب جہان نے اسے دیکھا وہ اسے پہلے سے بھی خوبصورت لگتی تھی لیکن ابھی اسے دیکھ کے تھم سا گیا۔۔۔
سب باری باری آکر اسے ملنے لگے جبکہ وہ اپنے خودساختہ ڈر میں بیٹھی تھی ، نکاح وہ کر چکی تھی لیکن اب آگے کا سوچ کے اسکی جان نکل رہی تھی۔۔۔
جہان اسکے چہرے کو دیکھتا ناجانے کیا سوچ رہا تھا کہ خان نے اسکے کان میں کچھ کہا ، سن کے وہ تھوڑا چونکا پھر ایک محظوظ سی چمک اسکی آنکھوں میں در آئی اور وہ اٹھ کے معاذ کے پاس گیا اور انہیں کچھ کہا تو وہ کچھ پریشان ہوئے لیکن وہ آرام سے پلٹ کے آگیا اور سب کے ساتھ کھڑا ہو گیا تبھی اچانک معاز نے رخصتی کا کہ کے ان سب کو ششدر کر دیا جبکہ وہ آرام سے پانی پیتا رہا کیونکہ سب لڑکے اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
you are so wrecked ……
معاویہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
YesS, i am…. AnY doubt??
اسنے پر سکون انداز میں کہا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا ۔۔۔
جب اس سب کاروائی کی اسے خبر ہوئی تو اسکے حواس کام چھوڑنے لگے تو اسے کمرے میں لے جایا گیا، وہ چپ چاپ ریکھتا رہا کیونکہ وہ جانتا تھا اتنی آسانی سے تو وہ جائیگی نہیں یہ سب اسکے لیے بہت مشکل تھا۔۔۔۔
نہیں جانا مجھے کہیں، چیٹ کر رہیں ہیں مجھے سب ۔۔ وہ روتے ہوئے چیخی۔۔
میں جان لے لوں گی انکی جنہوں نے یہ سب میس کری ایٹ کیا ہے۔۔ وہ پھنکاری تو سب کے ہونٹوں پہ دبی مسکراہٹ آئی جسے فواً چھپا لیا۔۔۔
معاز نے دروازے میں آتے ہی اشارہ کیا تو وہ اسے چادر اوڑھانے لگیں تو شدتوں سے رو دی۔۔۔۔ اسے ایک دم جہان سے شدید نفرت محسوس ہوئی جو اسکےلیے مسئلے بناتے ہوئے صرف خود کا سوچ رہا تھا ۔۔۔ وہ شخص پھر سے جیت گیا تھا۔۔۔۔
پچھتاووں پہ محیط ہے!
جس لمحے دل میں اترے تم۔۔۔
اس لمحے کا دکھ ہے۔۔۔۔۔۔
وہ شدتوں سے روئے جا رہی تھی باہر جا کے جب وہ بھائیوں سے ملنے لگی تو اسکے حواس کام چھوڑگئے اور وہ حنین کے بازوں میں جھول گئی۔،۔۔
سب ایک دم پریشان ہوئے لیکن مسز حسن اور احمد نے اسے آرام سے تھام کے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور خود بھی بیٹھ گئیں۔۔۔۔
اسکے بعد جب جہان نکلنے لگا تو ان سے فقط اتنا بولا کہ یقین رکھیں ۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائیگا۔۔۔۔ اور گاڑی میں بیٹھ گیا اور سبھی گاڑیاں آہستہ سے مینشن کو چل پڑیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بیہوشی میں ہی کمرے میں پہنچایا گیا اور آریان جو کہ ڈاکٹر تھا اس نے اسے انجیکشن لگایا اور سب کو تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے بس سٹریس سے ہوش کھو بیٹھی ہیں۔۔۔
آخر ایک دیو کو برداشت کرنا ہے ۔۔ آخر میں سب کو ریلیکس کرنے کو شریر انداز میں بولا تو مسز حسن کا ایک جھانپڑ پڑا۔۔۔۔
دو بجے کا وقت تھا جب وہ کمرے کی اوڑ جانے لگا تو وہاں دوازے کے سامنے جمی پلٹون کو دیکھ کے ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔۔۔
خیریت؟ اسنے ابرو اچکائی۔۔
بس یار تجھے لوٹنے کا پلان ہے ، اسے احساس نہی کہ اسکی بھابھی بیہوش پڑی ہے اور یہ بھائی کو لوٹنے لگی ہے۔۔۔ معاویہ جسکا نکاح زینی سے اسکی پرزور فرمائش پہ ہوا تھا اسکے بولنے سے پہلے ہی بول پڑا۔۔۔۔
آپ چپ رہیں۔۔۔ سب نے اسے چپ کروایا اور جے سے فرمائشی نیگ مانگنے لگیں جسے سن کے اسکے ماتھے کے بل گہرے ہونے لگے جسے وہ جان بوجھ کے دھڑکتے دل سے اگنور کر گئیں۔۔۔
غائب ہو سب ادھر سے۔۔۔ وہ دھاڑا لیکن آج سب اسکی کمزوری کو ڈھال بنا کے کھڑے تھے اسلیے ڈٹے رہے تو اسے مجبوراً خان کو بلا کے انہیں فارغ کرنا پڑا ۔۔۔۔
دروازے میں پہنچ کے اسے ان سب کی کورس میں آواز آئی good luck……
وہ دانت پیستے دروازہ بند کرتے ہوئے اندر داخل ہوا اسکی پہلی نظر بیڈ پہ پڑے اسکے بے پرواہ بکھرے وجود پہ پڑی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
