55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

اسکی آواز کی گونج ابھی تلک لاؤنج میں تھی ، سب شاک کی کیفیت میں تھے
اسنے جب اسکی آنکھوں میں دیکھا تو ادھر اتنا ٹھٹھرا دینے والا تا ثر تھا وہ اندر تک ٹھنڈی پڑی لیکن خود کو مضبوط کیا کہ یہ ان سب کیلئے، جہان کے لئے اور ان کی فیمیلیز کےلئے بہت ضروری تھا لیکن ایک سرد آواز نے اسکے ہر خیال کی نفی کی، ،
اور آپکو کیوں لگتا ہے کہ ہر بار، ہر بات آپکی ہی مانی جائیگی؟ ؟ ایک فضول گیدڑ بھبکی کی وجہ سے آپ نے میرے اتنے سال ضائع کیے، ابکی بار آپ نے کوئی رکاوٹ پیدا کی تو میں وہ سب کر جاؤں گا جس سے آپ ڈر رہی ہیں کیونکہ شادی مجھے کرنے سے آپ روک نہیں سکتیں۔ ۔۔ اسنے حتی الامکان اپنی آواز خشک رکھی۔ ۔۔۔
اسکی یہ بات سن کے جہاں وہ سن پڑی وہیں ولی کے دماغ میں کلک ہوا اور وہ فوراً بولا:
لیزو! مان جاٶ پلیز نہیں تو یہ مجھے ساتھ لے جاکر تب تک ٹارچر کریں گے جب تک تم شادی نہی کرتی۔ ۔
اسنے معصومیت سے اسکے سر پہ بم پھوڑا جبکہ باقی سب کے منہ کھلے رہ گئے اسکی بکواس سن کے اور جہان۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے فقط ابرو اچکا کہ” رئیلی”کا تاثر دیا
اسکا رنگ فق ہو چکا تھا وہ نفی میں گردن ہلانے لگی
نن۔ ۔۔۔۔۔ نننن۔ ۔۔ نہیں یہ ایسا نہیں کر سکتے کبھی نہیں، اس بات پہ وہ یقین کرنے کو تیار نہ تھی ۔۔۔۔
کیوں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟مجھے روک کون سکتا ہے؟ آپ؟ ؟؟ اسنے چیلیجنگ انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ ۔۔
صبح میری فیملی آئیگی، تیار رہیے گا
خدا خافظ! ! اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(شاہ مینشن ) کے سامنے گاڑیاں رکتے ہی ڈرائیور نے مستعدی سے دروازہ کھولا اور وہ مضبوط قدموں سے وسیع و عریض لان کی درمیانی پتھریلی روش کو عبور کرتا اندر کی جانب بڑھا، خان اسنے ساتھ تھا
آہاں! گھر آیا میرا پردیسی
وہ آئے گھر اپنے خدا کی قدرت ۔۔۔۔ اندر قدم رکھتے ہی معاویہ کی شریر آواز نے اسکا استقبال کیا جو نوجوان پارٹی کے ساتھ لاٶنج میں ہی بیٹھا تھا اسنے اسے نظر انداز کر کے ردابہ شاہ کی طرف قدم اٹھائے جو کہ شاید آج ہی مینشن آئی تھی
اس سے مل کے اسنے بڑوں کا پوچھا اور سبکو دادو کے کمرے میں بھیجنے کا حکم دےکر خود بھی ادھر چلا گیا۔ ۔۔۔۔
یہ جے ہی تھا نا؟ معاویہ کی صدمے سے بھرپور آواز آئی اس نے مجھ سے یعنی مجھ سے بات نہی کی ۔۔۔۔ وہ شاک سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
بس لالے کو آج ہمیں خوش کرنا تھا۔۔۔ زینی کی دبی ہنسی نے اسے آگ لگائی
اس سے پہلے کے ان دونوں کی جنگ شروع ہوتی آریان کی آواز نےانہیں سٹل کیا
یہ سب چھوڑو بلکہ یہ سوچو کہ اس بند کمرے میں کونسی کھچڑی بن رہی۔ ۔۔ اسنے اسکا دھیان بند دروازے کی طرف لگایا تو سب کے دماغوں میں کھدبھد ہونے لگی
اچانک ان سبکی گردنیں میکانیکی انداز میں خان کی طرف گھومیں ،، جو وہیں بیٹھا چائے پی رہا تھا جواسے ردابہ دے کے گئی تھی سبکو اپنی طرف دیکھتا پا کر اسکے اندر خطرے کی گھنٹی نہیں پورا گھنٹہ بجنے لگا اسنے کپ نیچے رکھا
کیا؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں نے کونسا ادھار دینا ہے؟ ؟ بات اسکے منہ میں تھی کہ اسکی گردن معاویہ کے ہاتھوں میں تھی
بتا جے اندر کونسی بات کرنے گیا؟
مم۔ ۔ مجھ۔ ۔۔مجھے کیا پتہ سر۔ ۔۔ وہ بمشکل بولا
تمہیں سب پتہ اسکی بیوی بنے ہوتے ہو ہر وقت ساتھ ساتھ۔ ۔ وہ چبا چبا کے بولا۔ ۔۔
لا حولا ولاقوة ، ہر وقت چپکے آپ رہتے تو ۔۔۔۔ وہ اپنی گردن چھڑواتا بولا تو سب کا چھت پھاڑ قہقہ نکلا۔ ۔۔
یار صبر کر لو سب پتہ چل جائے گا۔ ۔۔ زرنش آرام سے بولی لیکن وہ بند دروازے کو دیکھتا رہا یکایک اسکی آنکھیں چمکیں وہ سبکو اشارہ کرتا اسکی طرف بڑھا۔ ۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں ،۔۔۔۔۔ بلا آخر اسنے دھماکہ کیا جس نے کمرے میں نفوس اور جھڑکی میں ٹنگے نفوس کو ہلا دیا پہلے حیرت کا جھٹکا پھر خوشی کا جھٹکا۔ ۔۔
رئیلی۔ ۔ کون ہے؟ کیسی ہے؟ مسز حسن شاہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کی۔ ۔
علیزے سکندر، معاز سکندر کی بہن۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن، وہ تو آپ سے چھوٹی۔۔۔۔۔ احمد شاہ نے بات ادھوری چھوڑی۔ ۔
ڈزن میٹر ۔۔۔ وہ سہولت سے بولا۔ ۔۔۔
ایک اور بات
وہ انہیں علیزے کا خوف، اسکی فیملی کے بارے میں بتانے لگا
اسٹیٹس کی وجہ سے انکا ڈر سب کچھ تاکہ وہ سب جان سکیں۔ ۔۔۔
بیٹا آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا اور بروقت کیا۔ ۔۔۔ زہرا بیگم جو کہ ان سب کی دادو تھیں انہوں نے اسکے فیصلے پہ مہر لگائی کیونکہ وہ سب اسکے بغیر بتائے اسکی آنکھوں کی چمک سے جان چکے تھے کہ وہ علیزے سے شادی اسکی پروٹیکشن کیلئے نہیں کر رہا تھا بلکہ اسکے پیچھے وہ خوبصورت جذبہ چھپا تھا جسکی وجہ سے وہ دربدر رہا تھا۔ ۔۔۔۔
کب جانا ہے سکندر ولا؟ ؟ زائرہ شاہ نے پوچھا
کل۔۔۔۔ اور نکاح جمعہ کو۔ ۔۔
جے! ڈریس کا کلر بھی بتاو نا؟ مسز حسن کی شریر آواز پہ وہ کھڑا ہو گیا اور دروازے کے پاس پہنچ کے آہستہ اور ٹھری آواز میں بولا:
وائیٹ کلر۔ ۔۔۔۔۔
جبکہ نوجوان پارٹی کو اٹیک ہونے لگا تھا۔ ۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ سب اسے منانے کی کوشش میں لگے تھے بلکہ کسی حد تک ڈرانے کی کوشش میں کیونکہ انکے خیال میں جو ہو نے جا رہا اسکیلئے بہت ضروری
حالانکہ اسکا رونا ان سے برداشت نہیں تھا لیکن یہ سب انکو کرنا پڑا ۔ ۔ ۔
اسکی خاموشی کو انہوں نے اسکی رضامندی ہی سمجھا اور وہ اپنے نقصان پہ روئے جا رہی تھی کہ وہ اب کچھ بھی کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
ژالے سکندر کی گود میں سر رکھے وہ اپنے اس یقین ، بھروسے کو رو رہی تھی جسے وہ کچھ لمحے پہلے کھو چکی تھی
اور شاید
اپنے پیار کو بھی۔ ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ سب ابھی تک سکتے میں تھے جب مسز احمد اور حسن نے آکر انہیں وہ خبر سنائی اور ردابہ کو کہا
بیٹا چچی کو بھی کال کر کے بلاو ، ٹائم کم ہے اور کام زیادہ کل ادھر بھی جانا ہے۔ ۔۔۔ خوشی انکی رگ رگ سے پھوٹ رہی تھی جبکہ انکی باتیں سنکے انکا سکتہ بھی ٹوٹا اور انہیں بھی تیاریوں کی فکر لگی
جبکہ معاویہ جے کے روم کی طرف بڑھا
تو شادی کر رہا ہے؟ میرے بغیر؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ ۔۔۔۔۔ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا جب جہان نے بریک لگوائی۔ ۔۔۔
میرا تم سے نکاح کب ہوا؟ وہ سرد لہجے میں بولا
سوری۔ ۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا
میرا تم سے نکاح کب ہوا؟ جو تم یوں بیویوں کی طرح جرح کر رہے ہو؟ ؟ اسنے اسے باتوں کی مار لگائی
وہ خجل سا ہو گیا اور اسکے گلے لگ گیا اور زور سے بولا یارررررررررررررر۔ ۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ، بہت زیادہ۔ ۔
وہ واقعی بہت خوش تھا
اوکے پیچھے ہٹو مجھے کام ہے۔ اسے پرے کرتا وہ ریک کی سمت گیا اور فائل نکالی
جے بھابھی کیسی ہیں؟ اسکی شرارت سے پر آواز پہ اسنے اسکی طرف دیکھا جو شاید اسے اب تنگ کرنا چاہ رہا تھا۔ ۔۔
جیسی ہیں ویسی ہی ہیں! اس میں پوچھنے والی کیا بات ؟ وہ جان بوجھ کے لاپرواہی سے بولا۔ ۔
مطلب کیسی ہیں؟ اب کے اس کے سوال پہ اس نے اسے اپنے مخصوص انداز میں دیکھا تو
وہ پزل ہوتا بولا
یار تمہاری ان نظروں سے ہم گھبرا جاتے ، بھابھی کی کیا حالت ہوتی ہوگی؟ ؟ اسنے پھر شرارت کی
اسکی اس بات سے اچانک اسکے سامنے ایک منظر آیا تو اسکے ہونٹوں پہ ایک پل کو مسکراہٹ چمکی جیسے بادلوں میں سے چاند۔ ۔۔۔
آہم۔ ۔ آہم۔ ۔۔ وہ شرارتاً کھانسا تو جے ہوش میں آیا
جے تم خوش ہو؟
اسکے سوال پہ وہ تھما اور دل میں بولا ہاں میں بہت خوش ہوں ، میں اپنی محبت، اپنی خواہش ، اپنے عشق وجنون کو پانے جا رہا ہوں ، میں خوش نہیں بہت خوش ہوں۔۔۔
جے!! اسنے اسکا کندھا ہلایا۔۔
ہاں اور اسے بولا اوکے میں نکلنے لگا دیر ہو رہی۔ ۔۔
کیوں تم کدھر جا رہے ؟ اسنے حیرانگی سے استفسار کیا
واپس، کچھ کام نپٹانے۔۔ نکاح والے دن آوں گا۔ ۔ خداخافظ اور اسکے کچھ بولنے سے پہلے نکل گیا۔ ۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاہ فیملی جب سکندر ولا گئی تو وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی کہ وہ ان سے مل سکتی اس لئے انہوں نے بھی insist نہی کیا لیکن مسز حسن، احمد اور اسفند شاہ اسے اسکے روم میں ذرا کی ذرا مل آئیں۔۔۔
نکاح کا دن فائنل کر کے ڈریس دیکر وہ واپس آئے ،
اس سے پہلے سکندر فیملی انکے ہاں جا کے سب فائنل کر چکے تھے
نکاح سے ایک دن پہلے اسکی چاروں بھابھیاں اسکے پاس آئیں اسکا نکاح کا ڈریس لیکر جو اسنے اب تک نہ دیکھا تھا۔۔۔۔
انہوں نے مہمان نہیں بلائے تھے صرف خاص لوگ تھے وہ زیادہ ہلاگلا کر کے کوئی رسک نہی لے سکتے تھے۔۔۔۔
علیزے!آٶ ڈریس دیکھیں ابھی ہم نے بھی نہیں دیکھا سنا ہے جہان نے خود کلر پسند کیا ۔۔ مرینہ اسے ریلیکس کرنے کو بولیں
جبکہ اسکے نام نے اسکے اندر آگ لگا دی اور اسکا دل کرلانے لگا لیکن وہ چپ رہی۔۔
ژالے نے جب ڈریس نکالا تو سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں وہ مکمل سفید رنگ کو پاٶں کو چھوتا ایپلک کا بیش قیمت ڈریس تھا جبکہ
اسکا دل ڈریس کو دیکھ کے ایک لمحے کو سکڑا
اور کانوں میں ایک سرگوشی سنائی دی۔۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ آج آپکو سفید رنگ میں دیکھ کہ ایک چیز تو فائنل ہوئی،، ہمارے نکاح کا ڈریس اسی رنگ میں ہو گا۔۔۔۔ اسکو گہری اور جذبات سے لبریز نگاہوں سے دیکھتے اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔
اسکی آنکھ سے آنسو نکلا۔۔
کیا ہوا؟ وہ سب پریشان ہوئیں۔۔
Nothing۔. Its beautiful
وہ بمشکل بولی تو وہ سب ریلیکس ہو گئیں۔۔۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جسکا ان سبکو شدت سے انتظار تھا
مینشن میں سب ادھر ادھر اپنی تیاریوں میں مگن تھے انہوں نے شام کو ادھر پہنچنا تھا اسلیے مسز اسفند ، ردابہ، ابرش اور مہرو ادھر پہلے ہی جا چکے تھے
وہ سب اسے تیار کرنے لگی تو اسکے بھائی اندر آئے
پلیز تھوڑا ٹائم۔۔۔۔۔ زجاح شائستگی سے بولا تو سب باہر جانے لگے اور وہ علیزے کے پاس بیٹھے۔۔۔
ہمارا بیٹا ناراض ہے ہم سے؟ حنین نے پوچھا وہ کچھ نہ بولی
بیٹا بھائیوں پہ یقین رکھو، ہم کچھ غلط نہیں کر رہے یہ آپ کیلئے بہت بہتر ہے اور آہستہ آہستہ بہت سی باتیں سمجھائیں. . وہ چپ چاپ روتی سنتی رہی
دروازے پہ دستک ہوئی تو سب اسے ملتے باہر نکلے تو وہ سب اندر آکر اسے تیار کرنے لگیں۔۔۔
جب وہ ڈریس پہن کے باہر نکلی تو سب کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللّه نکلا ۔۔۔
سفید رنگ اسکے سوگواع حسن کو چار چاند لگا رہا تھا وہ کو ئی بھٹکی ہوئی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔
گاڈ !بھابھی آپ تو بغیر تیاری کے اتنی پیاری لگ رہیں ہیں تیار ہو کے تو آج آپ نے لالے کے ہوش اڑانے۔۔۔۔ مہرو بے ساختگی سے بولی ۔۔۔ اسکی بات پہ سب ہنسنے لگی جبکہ اسکا دل اسکے نام پہ سکڑ کر پھیلا۔۔۔۔
اسکے بعد انہوں نے اسکے بالوں کو سیٹ کیا نیلے اور سبز پتھروں سے سجے بروچ کو اسکے بالوں میں سجا کے باقی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا اور ڈیپ ریڈ لپ اسٹک اسے لگا دی یہ تھی اسکی مکمل تیاری کیونکہ یہ بھی شاہ کا آرڈر تھا کی سمپل تیار کرنا۔۔۔۔۔
سفید ڈوپٹے کو اسکے سر پہ ٹکا کے دونوں پلو پیچھے کو کر دیے۔۔۔۔۔
علیزے اپنی خیر مناٶ آج ۔۔۔۔ کیونکہ تمہارا یہ روپ دیکھ کے شاید جہان بھائی آج ہی رخصتی کا نہ کہہ دیں ۔۔۔۔ اسکی دوست زوبی شرارت سے بولی
جبکہ اسکی بات سن کے اسکا سانس سینے میں اٹک گیا ۔۔ وہ یہ کیوں بھول گئی اپنی نفرت اور غصے میں کہ جسکے لیے وہ آج سجی تھی وہ اسکے پور پور کا دیوانہ ہے۔۔۔۔
یہ بات ذہہن میں آتے ہی اسکا دل تیز ڈھڑکنے لگا اور جسم میں سنسناہہٹ ہونے لگی
یہ شادی جن بھی حالات میں ہو رہی تھی ، اسکی مرضی ہے یا نہیں وہ خوش ہے یا نہیں لیکن اسکے دیوانے پن کی تو گواہ ہے
اسے اپنی گود ان آنسووں سے بھیگی محسوس ہوئی جن کے ساتھ اس سے التجا کی گئی
مت کریں میرے ساتھ ایسا ،مجھ سے ایسی کڑی آزمائش نہ مانگیں۔۔۔۔۔
وہ کانپنے لگی وہ اسکی شدتیں کبھی برداشت نہیں کر سکتی تھی کبھی نہیں ، وہ اپنی اس نفرت کا پرچار کرتے ہوئے بھی اسکے جذبات اور جنونیت کے سامنے بند نہیں باندھ سکتی ۔۔۔۔۔
بھابھی رخصتی نہیں کرنی مجھے۔۔۔ وہ سرسراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
ریلیکس نہیں ہو گی ، مذاق کر رہی ہیں یہ۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے تسلی دی۔۔۔
تب باہر سے شور اٹھا کہ لڑکے والے آگئے۔۔۔۔۔ اسکے ساتھ ہی اسکی سانسیں یک لخت دھمیں ہوٸی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔