55.8K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

میری ہر کمی کو ہے تو لازمی”

ازقلم حوریہ ملک

قسط نمبر 1

وہ کشادہ صوفے پہ بیٹھا سامنے بیٹھے نفوس کی گفتگو سے لبریز ہو رہا تھا تھا، اسکے تاثرات بہت سپاٹ تھے۔ ۔

دیکھو جہان! تم غلط سمجھ رہے ہو ہمارا مقصد یہ نہیں تھا۔ ۔ آفندی نے بات سنبھالنے کی کو شش کی۔ ۔

اسکی اس بات پہ وہ زیر لب مسکرایا جیسے کسی بچے کی بات پہ مسکرایا جاتا۔ ۔ اسکی اس حرکت پہ انکے چہرے سرخ ہو گئے لیکن وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے کیونکہ۔۔۔

سامنے “سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس، سکن چادر کندھوں پہ ڈالے، سیاہ پشاوری چپل، ایک بازو سفید صوفے کی پشت پہ پھیلائے اور ایک ہاتھ کی مٹھی عنابی ہونٹوں پہ جمائے” بیٹھا ہوا شخص ایک معمہ تھا۔ ۔۔ اسکے تاثرات برف کی طرح سرد تھے۔ ۔۔

اس سے پہلے کے وہ کچھ بول کے انکلیے مسئلہ بناتا اسکا خاص ماتحت “خان” بھاگتا ہوا آیا اور اسکے کان میں کچھ کہا کہ اسکے چہرے کا رنگ یکلخت بدلا کہ وہاں بیٹھے پانچوں نفوس گھبرا گئے۔ ۔۔

وہ خان کو دھکا دے کے بجلی کی رفتار سے بھاگتا ہوا باہر نکلا اسکے باہر نکلتے ہی سب اسے سلام کرنے کو کھڑے ہوئے لیکن وہ بھاگتا جا رہا تھا۔۔

اسکے سوچنے کی سب صلاحیتیں مفقود ہو چکی تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکی زندگی اسکے ہاتھوں سے پھسل رہی ہو، بلڈنگ سے باہر آتے ہی اسنے ڈرائیور کو دھکا دے کے پرے ہٹایا اور سرعت سے گاڑی نکال کے لے گیا۔ ۔۔

—————————————————————————–

اسکے نکلتے ہی خان زور سے باڈی گاڈز پہ چلایا، گاڑیاں تیار کرو اور نکلو۔ ۔۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے یکے بعد کئی گاڑیاں وہاں سے نکلی۔ ۔۔

؛؛؛———————-؛

وہ گاڑی اڑا رہا تھا لیکن ایک دم سے اسکی سانس ٹوٹنے لگی کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کدھر لے جایا گیا ہے، لیکن ایک خیال سے اسکی آنکھیں چمکنے لگی اسے پانچ سال پہلے دیا گیا وہ لاکٹ یاد آیا جس میں جی پی ایس تھا۔ ۔۔

ایک امید کے ساتھ اسنے ٹریسر آن کیا تو اسے اسکی لو کیشن مل گئی اس پتے پہ پہنچ کہ وہ سرعت سے گاڑی سے باہر نکلا اس سے پہلے کہ وہ قدم آگے بڑھاتا، گلابی ڈوپٹے پہ اسکی نظر پڑی اسکے قدم لڑکھڑائے اسے لگا وہ سب ہار چکا ہے، وہ اسے ہار چکا ہے، وہ اپنی زندگی ہار چکا ہے۔ ۔۔۔

ایک امید کے ساتھ وہ بھاگتے قدموں سے اس ٹوٹی عمارت میں داخل ہوا وہ دائیں جانب مڑا تو اسے چیخیں سنائی دی اسکے خون کی رفتار تیز ہوئی اور سانس دھمنے لگی۔۔

وہ جب وہاں پہنچا تو سامنے کا منظر اسکا خون کھولا گیا۔ ۔

—————————————————————————–

خان جانتا تھا کہ اس پہ کیا بیت رہی ہو گی وہ گاڈز پہ چلایا جلدی کرو۔ ۔۔۔

آخر کار وہ اس کی کار دیکھنے میں کامیاب ہو گئے، وہاں پہنچتے ہی سب گاڑیوں کے ٹائرز چرچرانے کی آواز نے فضا میں عجیب سی آواز پیدا کی-

—————————————————————————–

وہ پانچ تھے اور اسے کھینچتے اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کر رہے تھے، اسکے چہرے پہ تھپڑوں کے نشان تھے اور اسکے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ ۔۔

“لڑکی کو چھوڑ دو” وہ جب بولا تو اسکی آواز انتہائی سرد تھی۔۔ اسکی آواز سن کے ان سب کے چہرے اسکی طرف مڑے۔ ۔۔۔۔

اور جب اسنے جہان کو دیکھا تو اسکی آنکھوں کے سامنے ہفت و اقلیم گھوم گئے۔۔۔۔۔۔

لیکن جہان اسکی طرف متوجہ نہیں تھا، اسکا سارا فوکس وہ پانچ لڑکے تھے۔ ۔۔

اس میں سے ایک نے ‘علیزے’ کی طرف ہاتھ بڑھا کے اسے ڈھال بنانے کی کوشش کی۔ ۔۔

اگر اب تم نے ادھر ہاتھ بڑ ھانے کی کوشش کی تو تمہاری میت پہ رونے والا کوئی نہیں بچے گا۔ ۔

اس نے غراتے ہوئے کہا۔ ۔۔

اس لڑکے کا رنگ فق پڑا اور اسکی دھاڑ سن کے علیزے کا سانس سینے میں اٹک کے رہ گیا۔ ۔۔۔

تب تک “معاذ سکندر” جو علیزے کے بڑے بھائی تھے وہ بھی خان کے ساتھ وہاں پہنچ گئے لیکن علیزے کا سارا دھیان تو اسکی طرف تھا ، جس نے ایک نظر خان کو دیکھا تو سب سمجھتا باڈی گاڈز کو اشارہ کرتا ان پانچوں کو وہاں سے لے گیا۔ ۔

————————————————————–

خان نے ان کو باہر لے جا کے ان میں سے ایک کو پکڑ کے صرف ایک سوال کیا، “یہ سب تم نے کس کے کہنے پہ کیا؟”

وہ گڑگڑانے لگا م۔ ۔۔مج۔ ۔۔مم۔ ۔۔ مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔ لیکن اس کے ایک ہاتھ نے ہی اسے منہ کھولنے پہ مجبور کر دیا۔ ۔۔ اسکے منہ سے وہ نام سن کے ایک پل کو خان بھونچکا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن فورا سنبھل کے گاڈز سے بولا انہیں لے چلو یہاں سے۔ ۔۔ اور خود اپنے کان میں لگے آلے سے کسی کو کوئی میسج چھوڑنے لگا اور پھر اندر کی جانب بڑھ گیا۔ ۔۔۔۔

———————————؛ -؛

انکے جانے کے بعد جہان نے پہلی نظر اسکے چہرے پہ ڈالی اور اسکی طرف بڑھتے ہوئے اپنی شال اسکے گرد لپیٹنے لگا اور تب

وہ اپنا ضبط کھوتی اسکے کشادہ سینے سے جا لگی۔ ۔۔

اسکو ایک جھٹکا لگا، ایسا ہی ایک جھٹکا وہاں داخل ہوتے خان کو بھی لگا وہاں اگر کوئی پر سکون تھا تو وہ معاز سکندر تھا ۔۔۔

وو اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ۔۔ش۔۔۔شش ۔۔۔۔ شاہ ۔۔

ڈسا ہے ہجر نے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کو!

ھمارے سانس۔۔۔۔۔۔۔نیلے ہیں!

اسکے ہونٹوں سے اسکا نام ایک خوشنما سرگوشی کی مانند نکلا۔ ۔۔

اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ بس اسکے نام کا ورد کر رہی تھی۔ ۔۔

میں نے اک عرصے سے تجھے ودر میں رکھا ہے۔۔۔

میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کے چھالے ہیں بہت! !!

وہ بھول چکی تھی کے وہ کہاں ہے ،

وہ بھول چکی تھی کے خود سے کیے گئے عہد، وہ بھول چکی تھی اس سے لئے گئے عہد۔۔۔

اس پل وہ بھول چکی تھی کہ وہ اس سے نفرت کی دعویدار ہے اور اسے خود سے دور کرنے کے فیصلے بھی اسی کے تھے، وہ بس پانچ سال سے جس ڈھال کی تلاش میں تھی اسکے سامنے آتے ہی وہ ضبط کھو کے اپنا غبار نکالنے لگی۔ ۔۔۔۔۔

وہ اپنے سکتے سے باہر نکلا اور اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے اسے چپ کروانے لگا۔ ۔۔۔

ششش۔ ۔۔ شش۔۔۔ چپ، ریلیکس کچھ بھی نہیں ہوا!! سب ٹھیک ہے ، سب ٹھیک ہے۔ ۔۔۔

وہ ابھی تک معاز سکندر کی وہاں موجودگی سے بےخبر تھا۔ ۔۔

اسے ہوش تب آیا جب وہ روتے روتے بیہوش ہو کر اسکی بانھوں میں جھول گئی وو ہڑبڑا کے اسکے گال تھپتھپانے لگا

علیزے ۔۔۔علیزہ ہوش میں آو ۔۔۔۔

اور زور سے دھاڑا خان گاڑیاں” سکندر ولا” کی طرف تیار کرو۔ ۔۔

اسکی بات سن کر وہاں دوڑ کے آتے معاز کے قدم ایک پل کو ٹھٹکے لیکن۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ علیزے تک پہنچتے وہ اسے بازوٶں میں اٹھائے انکی طرف مڑا اور ٹھٹک گیا لیکن پھر ‘ایم سوری’ کہتے اسے لئے باہر کی جانب دوڑ پڑا۔ ۔۔۔

————————————————————–

جب معاز سکندر کی گاڑی سمیت وہ گاڑیاں بھی ‘سکندر ولا’ کے سامنے رکی تو اب کی بار معاز نے اسکی گاڑی سے خود اسے باہر نکالا اور انہیں بھی اندر آنے کا کہہ کے اندر بڑھ گیا کیونکہ اسے اپنے کچھ سوالوں کے جواب چاہیے تھے۔ ۔۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ اندرونی حصے کی طرف قدم رکھتے اندر سے ‘ زجاح سکندر، حماس سکندر اور حنین سکندر’ تینوں بھائی باہر آتے دکھائی دیے جنہیں علیزے کے غائب ہونے کی خبر کچھ دیر پہلے ملی تھی۔۔۔۔۔

لیکن انکو آتا دیکھ کے وہ رک گئے۔۔۔۔ بھائی علیزے کو۔ ۔۔۔۔

ابھی کوئی سوال نہیں کرو زجاح اور مہمانوں کو لاونج میں لے کر جاو

اور خود علیزے کو لیے سامنے کمرے کی طرف بڑھ گیا انکے پیچھے ان سب کی بیویاں بھی۔ ۔۔۔۔

معاز یہ ایسے کیوں پڑی ہے ٹھیک ہے نا؟ ؟؟ انکی بیوی مرینہ سکندر نے روتے ہوئے ان سے پوچھا۔ ۔۔۔

ہاں سب ٹھیک ہے بس سٹریس کی وجہ سے اور انکو کچھ کہتے باہر نکل گئے ۔ ۔ ۔

۔ ۔

———————————–

جہان جانتا تھا کہ وہ اسے اندر کیوں لے کر آئے ہیں ، وہ انکے اندر پنپتے سوالوں کو بھی جانتا تھا لیکن وہ کچھ اور سوچے بیٹھا تھا اور وہ کیا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا حتی کہ خان بھی۔ ۔۔۔۔ جو اسکے صوفے کے پیچھے کھڑا تھا جبکہ گارڈز باہر لان میں اور گیٹ پہ تھے۔ ۔۔۔۔

کچھ دیر میں اسے معاز باہر آتا دیکھائی دیا ۔۔۔۔ اور اسکے سامنے موجود صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

انتظار کےلئے معزرت ۔۔۔۔۔ شاہ صاحب! !!

اس نے فقط سر ہلانے پہ اکتفا کیا ۔۔۔

آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں ، اسنے سامنے میز پہ پڑے لوازمات کی طرف اشارہ کیا۔ ۔۔۔

نہیں شکریہ! وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ ۔۔۔۔ اسنے بات کا آغاز کیا۔

جی کہیے۔ ۔۔۔ وہ سب اسکی طرف متوجہ ہوئے۔

میں۔۔۔ علیزے سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

بلاآخر اس نے ان کے سروں پہ بم پھوڑ دیا۔ ۔۔ وہاں ایک خوفناک سی خاموشی چھا گئی وہاں آنے والا انکا پانچواں بھائی اسی دروازے پہ کھڑا رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔

وہ اس بات کی توقع کبھی نہیں کر سکتے تھے کہ ‘جہان حیدر شاہ’ علیزے سے شادی کا خواہش مند ہے۔ ۔۔۔ وہاں موجود دو نفوس اس بات سے بہت خوش دکھائی دے رہے تھے کہ وہ حقیقت سے آشنا تھے

ایک مرینہ سکندر

اور

دوسرا خان

کچھ لمحوں بعد معاز سکندر نے کچھ کہنے کی کوشش کی مم۔ ۔۔ میں۔۔۔۔۔

میں جانتا ہوں آپ کیا جاننا اور کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں۔ ۔۔۔ میں علیزے کو جانتا ہوں پہلے سے اور۔ ۔۔۔۔۔۔۔

اور علیزے؟؟ اسکی بات کاٹ کے انہوں نے پوچھا۔ ۔۔۔۔

وہ بس اتنا جانتی ہیں کہ انہوں نے میرے پرپوزل کو ریجیکٹ کیا تھا جو میں انہیں انکے کالج فنکشن کے بعد دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ اسنے انہیں آدھی ادھوری سچائی بتائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پوری سچائی انکی مسز جانتی ہیں۔ ۔۔

اسکی ریجیکشن کے بعد میں پس منظر ہوا کی میں انہیں ٹائم دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ اس سارے عرصے میں یہ پہلا جھوٹ تھا جو اسنے بولا اور مرینہ اور خان یہ بات جانتے تھے اور شاید

علیزے بھی۔ ۔۔۔۔۔

لِیکن اب یہ شادی ناگزیر ہو چکی ہے میں اب اور انہیں ٹائم نہیں دے سکتا۔ ۔۔

اسنے دوٹوک الفاظ میں کہا۔ ۔

اور اگر ہم انکار کر دیں تو۔ ۔۔۔۔۔۔

حنین سکندر نے لب کشائی کی۔ ۔۔۔

تو بھی میں یہ شادی کرنا چاہوں گا ۔ ۔۔۔ اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔ ۔۔

سوری جہان یہ شادی نہیں ہو سکتی، علیزے نہیں مانے گی۔ ۔۔ معاز نے شائستگی سے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ سرکش ہے۔ ۔

وہ مان جائینگی ، انہیں ماننا پڑیگا۔ ۔۔۔۔ اس نے پرسکون لہجے میں کہا۔ ۔

وہ کبھی نہیں مان سکتی تم کچھ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔۔

جب میں نے یہ کہا کہ میں انہیں جانتا ہوں تو مطلب میں ان سے ریلیٹڈ ہر بات جانتا ہوں

وہ بات بھی جسکی بناء پہ انہوں نے انکار کیا اور اب آپ کر رہے ہیں۔۔

اور مجھے نہیں لگتا کہ کم از کم آپ لوگوں کو اس بات کو سر پہ سوار کرنا چاہیے ۔ اینڈ بلیو می میں انہیں، آپکو یا پھر خود سے جڑے کسی انسان کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔ ۔۔۔

آپ اس جمعہ کو نکاح کی تیاری کریں پلیز۔ ۔۔۔ اسنے نرمی لیکن دوٹوک انداز میں کہا۔ ۔۔

جہان بھائی آپکو نہیں لگتا کہ شادی کی بات لڑکے اپنے منہ سے کرتے اچھے نہیں لگتے۔ ۔۔۔

ولی سکندر جسکا سکتا ٹوٹ چکا تھا اسنے اندر آتے ایک شگوفہ چھوڑا تو وہ فقط اتنا بولا

صبح میری فیملی آئیگی تب سب طے ہو گا۔ ۔۔۔

حیدر ایک بار اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کر لو ہمارا اسٹیٹس ، فیملی۔ ۔۔۔۔۔

آپکو لگتا ہے کہ آپ مجھے ان فضول کے سوالوں اور مفروضات سے باز رکھ سکتے۔ ۔۔۔۔ اس نے انکی آنکھوں میں چیلیجنگ انداز میں دیکھا۔ ۔۔۔

تو ان سب نے ہتھیار ڈال دٸیے کیونکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ جو عزت اور حفاظت وہ اپنی بہن کے لئے ڈھونڈ رہے تھے وہ اسے جہان حیدر شاہ کے پاس ہی مل سکتی ہے۔ ۔۔۔

اوکے آپ اپنی فیملی کو بھیج دینا صبح سب فائنل کریں گے۔ ۔۔۔۔ معاز کی بات سن کے وہ سب بھائی اور انکی بیگمات بہت خوش ہوئے۔ ۔۔۔

مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔ ۔۔۔۔۔۔ علیزے کی سپاٹ آواز گونجی۔ ۔۔۔۔

اسکی آواز کی گونج ابھی تلک لاؤنج میں تھی ، سب شاک کی کیفیت میں تھے

اسنے جب اسکی آنکھوں میں دیکھا تو ادھر اتنا ٹھٹھرا دینے والا تا ثر تھا وہ اندر تک ٹھنڈی پڑی لیکن خود کو مضبوط کیا کہ یہ ان سب کیلئے، جہان کے لئے اور ان کی فیمیلیز کےلئے بہت ضروری تھا لیکن ایک سرد آواز نے اسکے ہر خیال کی نفی کی، ،

اور آپکو کیوں لگتا ہے کہ ہر بار، ہر بات آپکی ہی مانی جائیگی؟ ؟ ایک فضول گیدڑ بھبکی کی وجہ سے آپ نے میرے اتنے سال ضائع کیے، ابکی بار آپ نے کوئی رکاوٹ پیدا کی تو میں وہ سب کر جاؤں گا جس سے آپ ڈر رہی ہیں کیونکہ شادی مجھے کرنے سے آپ روک نہیں سکتیں۔ ۔۔ اسنے حتی الامکان اپنی آواز خشک رکھی۔ ۔۔۔

اسکی یہ بات سن کے جہاں وہ سن پڑی وہیں ولی کے دماغ میں کلک ہوا اور وہ فوراً بولا:

لیزو! مان جاٶ پلیز نہیں تو یہ مجھے ساتھ لے جاکر تب تک ٹارچر کریں گے جب تک تم شادی نہی کرتی۔ ۔

اسنے معصومیت سے اسکے سر پہ بم پھوڑا جبکہ باقی سب کے منہ کھلے رہ گئے اسکی بکواس سن کے اور جہان۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے فقط ابرو اچکا کہ” رئیلی”کا تاثر دیا

اسکا رنگ فق ہو چکا تھا وہ نفی میں گردن ہلانے لگی

نن۔ ۔۔۔۔۔ نننن۔ ۔۔ نہیں یہ ایسا نہیں کر سکتے کبھی نہیں، اس بات پہ وہ یقین کرنے کو تیار نہ تھی ۔۔۔۔

کیوں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟مجھے روک کون سکتا ہے؟ آپ؟ ؟؟ اسنے چیلیجنگ انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ ۔۔

صبح میری فیملی آئیگی، تیار رہیے گا

خدا خافظ! ! اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ ۔۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(شاہ مینشن ) کے سامنے گاڑیاں رکتے ہی ڈرائیور نے مستعدی سے دروازہ کھولا اور وہ مضبوط قدموں سے وسیع و عریض لان کی درمیانی پتھریلی روش کو عبور کرتا اندر کی جانب بڑھا، خان اسنے ساتھ تھا

آہاں! گھر آیا میرا پردیسی

وہ آئے گھر اپنے خدا کی قدرت ۔۔۔۔ اندر قدم رکھتے ہی معاویہ کی شریر آواز نے اسکا استقبال کیا جو نوجوان پارٹی کے ساتھ لاٶنج میں ہی بیٹھا تھا اسنے اسے نظر انداز کر کے ردابہ شاہ کی طرف قدم اٹھائے جو کہ شاید آج ہی مینشن آئی تھی

اس سے مل کے اسنے بڑوں کا پوچھا اور سبکو دادو کے کمرے میں بھیجنے کا حکم دےکر خود بھی ادھر چلا گیا۔ ۔۔۔۔

یہ جے ہی تھا نا؟ معاویہ کی صدمے سے بھرپور آواز آئی اس نے مجھ سے یعنی مجھ سے بات نہی کی ۔۔۔۔ وہ شاک سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا۔۔

بس لالے کو آج ہمیں خوش کرنا تھا۔۔۔ زینی کی دبی ہنسی نے اسے آگ لگائی

اس سے پہلے کے ان دونوں کی جنگ شروع ہوتی آریان کی آواز نےانہیں سٹل کیا

یہ سب چھوڑو بلکہ یہ سوچو کہ اس بند کمرے میں کونسی کھچڑی بن رہی۔ ۔۔ اسنے اسکا دھیان بند دروازے کی طرف لگایا تو سب کے دماغوں میں کھدبھد ہونے لگی

اچانک ان سبکی گردنیں میکانیکی انداز میں خان کی طرف گھومیں ،، جو وہیں بیٹھا چائے پی رہا تھا جواسے ردابہ دے کے گئی تھی سبکو اپنی طرف دیکھتا پا کر اسکے اندر خطرے کی گھنٹی نہیں پورا گھنٹہ بجنے لگا اسنے کپ نیچے رکھا

کیا؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں نے کونسا ادھار دینا ہے؟ ؟ بات اسکے منہ میں تھی کہ اسکی گردن معاویہ کے ہاتھوں میں تھیo

بتا جے اندر کونسی بات کرنے گیا؟

مم۔ ۔ مجھ۔ ۔۔مجھے کیا پتہ سر۔ ۔۔ وہ بمشکل بولا

تمہیں سب پتہ اسکی بیوی بنے ہوتے ہو ہر وقت ساتھ ساتھ۔ ۔ وہ چبا چبا کے بولا۔ ۔۔

لا حولا ولاقوة ، ہر وقت چپکے آپ رہتے تو ۔۔۔۔ وہ اپنی گردن چھڑواتا بولا تو سب کا چھت پھاڑ قہقہ نکلا۔ ۔۔

یار صبر کر لو سب پتہ چل جائے گا۔ ۔۔ زرنش آرام سے بولی لیکن وہ بند دروازے کو دیکھتا رہا یکایک اسکی آنکھیں چمکیں وہ سبکو اشارہ کرتا اسکی طرف بڑھا۔ ۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں شادی کرنا چاہتا ہوں ،۔۔۔۔۔ بلا آخر اسنے دھماکہ کیا جس نے کمرے میں نفوس اور جھڑکی میں ٹنگے نفوس کو ہلا دیا پہلے حیرت کا جھٹکا پھر خوشی کا جھٹکا۔ ۔۔

رئیلی۔ ۔ کون ہے؟ کیسی ہے؟ مسز حسن شاہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کی۔ ۔

علیزے سکندر، معاز سکندر کی بہن۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن، وہ تو آپ سے چھوٹی۔۔۔۔۔ احمد شاہ نے بات ادھوری چھوڑی۔ ۔

ڈزن میٹر ۔۔۔ وہ سہولت سے بولا۔ ۔۔۔

ایک اور بات

وہ انہیں علیزے کا خوف، اسکی فیملی کے بارے میں بتانے لگا

اسٹیٹس کی وجہ سے انکا ڈر سب کچھ تاکہ وہ سب جان سکیں۔ ۔۔۔

بیٹا آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا اور بروقت کیا۔ ۔۔۔ زہرا بیگم جو کہ ان سب کی دادو تھیں انہوں نے اسکے فیصلے پہ مہر لگائی کیونکہ وہ سب اسکے بغیر بتائے اسکی آنکھوں کی چمک سے جان چکے تھے کہ وہ علیزے سے شادی اسکی پروٹیکشن کیلئے نہیں کر رہا تھا بلکہ اسکے پیچھے وہ خوبصورت جذبہ چھپا تھا جسکی وجہ سے وہ دربدر رہا تھا۔ ۔۔۔۔

کب جانا ہے سکندر ولا؟ ؟ زائرہ شاہ نے پوچھا

کل۔۔۔۔ اور نکاح جمعہ کو۔ ۔۔

جے! ڈریس کا کلر بھی بتاو نا؟ مسز حسن کی شریر آواز پہ وہ کھڑا ہو گیا اور دروازے کے پاس پہنچ کے آہستہ اور ٹھری آواز میں بولا:

وائیٹ کلر۔ ۔۔۔۔۔

جبکہ نوجوان پارٹی کو اٹیک ہونے لگا تھا۔ ۔۔۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ سب اسے منانے کی کوشش میں لگے تھے بلکہ کسی حد تک ڈرانے کی کوشش میں کیونکہ انکے خیال میں جو ہو نے جا رہا اسکیلئے بہت ضروری

حالانکہ اسکا رونا ان سے برداشت نہیں تھا لیکن یہ سب انکو کرنا پڑا ۔ ۔ ۔

اسکی خاموشی کو انہوں نے اسکی رضامندی ہی سمجھا اور وہ اپنے نقصان پہ روئے جا رہی تھی کہ وہ اب کچھ بھی کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔

ژالے سکندر کی گود میں سر رکھے وہ اپنے اس یقین ، بھروسے کو رو رہی تھی جسے وہ کچھ لمحے پہلے کھو چکی تھی

اور شاید

اپنے پیار کو بھی۔ ۔۔۔۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ سب ابھی تک سکتے میں تھے جب مسز احمد اور حسن نے آکر انہیں وہ خبر سنائی اور ردابہ کو کہا

بیٹا چچی کو بھی کال کر کے بلاو ، ٹائم کم ہے اور کام زیادہ کل ادھر بھی جانا ہے۔ ۔۔۔ خوشی انکی رگ رگ سے پھوٹ رہی تھی جبکہ انکی باتیں سنکے انکا سکتہ بھی ٹوٹا اور انہیں بھی تیاریوں کی فکر لگی

جبکہ معاویہ جے کے روم کی طرف بڑھا

تو شادی کر رہا ہے؟ میرے بغیر؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ ۔۔۔۔۔ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا جب جہان نے بریک لگوائی۔ ۔۔۔

میرا تم سے نکاح کب ہوا؟ وہ سرد لہجے میں بولا

سوری۔ ۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا

میرا تم سے نکاح کب ہوا؟ جو تم یوں بیویوں کی طرح جرح کر رہے ہو؟ ؟ اسنے اسے باتوں کی مار لگائی

وہ خجل سا ہو گیا اور اسکے گلے لگ گیا اور زور سے بولا یارررررررررررررر۔ ۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ، بہت زیادہ۔ ۔

وہ واقعی بہت خوش تھا

اوکے پیچھے ہٹو مجھے کام ہے۔ اسے پرے کرتا وہ ریک کی سمت گیا اور فائل نکالی

جے بھابھی کیسی ہیں؟ اسکی شرارت سے پر آواز پہ اسنے اسکی طرف دیکھا جو شاید اسے اب تنگ کرنا چاہ رہا تھا۔ ۔۔

جیسی ہیں ویسی ہی ہیں! اس میں پوچھنے والی کیا بات ؟ وہ جان بوجھ کے لاپرواہی سے بولا۔ ۔

مطلب کیسی ہیں؟ اب کے اس کے سوال پہ اس نے اسے اپنے مخصوص انداز میں دیکھا تو

وہ پزل ہوتا بولا

یار تمہاری ان نظروں سے ہم گھبرا جاتے ، بھابھی کی کیا حالت ہوتی ہوگی؟ ؟ اسنے پھر شرارت کی

اسکی اس بات سے اچانک اسکے سامنے ایک منظر آیا تو اسکے ہونٹوں پہ ایک پل کو مسکراہٹ چمکی جیسے بادلوں میں سے چاند۔ ۔۔۔

آہم۔ ۔ آہم۔ ۔۔ وہ شرارتاً کھانسا تو جے ہوش میں آیا

جے تم خوش ہو؟

اسکے سوال پہ وہ تھما اور دل میں بولا ہاں میں بہت خوش ہوں ، میں اپنی محبت، اپنی خواہش ، اپنے عشق وجنون کو پانے جا رہا ہوں ، میں خوش نہیں بہت خوش ہوں۔۔۔

جے!! اسنے اسکا کندھا ہلایا۔۔

ہاں اور اسے بولا اوکے میں نکلنے لگا دیر ہو رہی۔ ۔۔

کیوں تم کدھر جا رہے ؟ اسنے حیرانگی سے استفسار کیا

واپس، کچھ کام نپٹانے۔۔ نکاح والے دن آوں گا۔ ۔ خداخافظ اور اسکے کچھ بولنے سے پہلے نکل گیا۔ ۔۔۔۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شاہ فیملی جب سکندر ولا گئی تو وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی کہ وہ ان سے مل سکتی اس لئے انہوں نے بھی insist نہی کیا لیکن مسز حسن، احمد اور اسفند شاہ اسے اسکے روم میں ذرا کی ذرا مل آئیں۔۔۔

نکاح کا دن فائنل کر کے ڈریس دیکر وہ واپس آئے ،

اس سے پہلے سکندر فیملی انکے ہاں جا کے سب فائنل کر چکے تھے

نکاح سے ایک دن پہلے اسکی چاروں بھابھیاں اسکے پاس آئیں اسکا نکاح کا ڈریس لیکر جو اسنے اب تک نہ دیکھا تھا۔۔۔۔

انہوں نے مہمان نہیں بلائے تھے صرف خاص لوگ تھے وہ زیادہ ہلاگلا کر کے کوئی رسک نہی لے سکتے تھے۔۔۔۔

علیزے!آٶ ڈریس دیکھیں ابھی ہم نے بھی نہیں دیکھا سنا ہے جہان نے خود کلر پسند کیا ۔۔ مرینہ اسے ریلیکس کرنے کو بولیں

جبکہ اسکے نام نے اسکے اندر آگ لگا دی اور اسکا دل کرلانے لگا لیکن وہ چپ رہی۔۔

ژالے نے جب ڈریس نکالا تو سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں وہ مکمل سفید رنگ کو پاٶں کو چھوتا ایپلک کا بیش قیمت ڈریس تھا جبکہ

اسکا دل ڈریس کو دیکھ کے ایک لمحے کو سکڑا

اور کانوں میں ایک سرگوشی سنائی دی۔۔۔۔

مائے گاڈ۔۔۔ آج آپکو سفید رنگ میں دیکھ کہ ایک چیز تو فائنل ہوئی،، ہمارے نکاح کا ڈریس اسی رنگ میں ہو گا۔۔۔۔ اسکو گہری اور جذبات سے لبریز نگاہوں سے دیکھتے اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔

اسکی آنکھ سے آنسو نکلا۔۔

کیا ہوا؟ وہ سب پریشان ہوئیں۔۔

Nothing۔. Its beautiful

وہ بمشکل بولی تو وہ سب ریلیکس ہو گئیں۔۔۔۔۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جسکا ان سبکو شدت سے انتظار تھا

مینشن میں سب ادھر ادھر اپنی تیاریوں میں مگن تھے انہوں نے شام کو ادھر پہنچنا تھا اسلیے مسز اسفند ، ردابہ، ابرش اور مہرو ادھر پہلے ہی جا چکے تھے

وہ سب اسے تیار کرنے لگی تو اسکے بھائی اندر آئے

پلیز تھوڑا ٹائم۔۔۔۔۔ زجاح شائستگی سے بولا تو سب باہر جانے لگے اور وہ علیزے کے پاس بیٹھے۔۔۔

ہمارا بیٹا ناراض ہے ہم سے؟ حنین نے پوچھا وہ کچھ نہ بولی

بیٹا بھائیوں پہ یقین رکھو، ہم کچھ غلط نہیں کر رہے یہ آپ کیلئے بہت بہتر ہے اور آہستہ آہستہ بہت سی باتیں سمجھائیں. . وہ چپ چاپ روتی سنتی رہی

دروازے پہ دستک ہوئی تو سب اسے ملتے باہر نکلے تو وہ سب اندر آکر اسے تیار کرنے لگیں۔۔۔

جب وہ ڈریس پہن کے باہر نکلی تو سب کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللّه نکلا ۔۔۔

سفید رنگ اسکے سوگواع حسن کو چار چاند لگا رہا تھا وہ کو ئی بھٹکی ہوئی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔

گاڈ !بھابھی آپ تو بغیر تیاری کے اتنی پیاری لگ رہیں ہیں تیار ہو کے تو آج آپ نے لالے کے ہوش اڑانے۔۔۔۔ مہرو بے ساختگی سے بولی ۔۔۔ اسکی بات پہ سب ہنسنے لگی جبکہ اسکا دل اسکے نام پہ سکڑ کر پھیلا۔۔۔۔

اسکے بعد انہوں نے اسکے بالوں کو سیٹ کیا نیلے اور سبز پتھروں سے سجے بروچ کو اسکے بالوں میں سجا کے باقی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا اور ڈیپ ریڈ لپ اسٹک اسے لگا دی یہ تھی اسکی مکمل تیاری کیونکہ یہ بھی شاہ کا آرڈر تھا کی سمپل تیار کرنا۔۔۔۔۔

سفید ڈوپٹے کو اسکے سر پہ ٹکا کے دونوں پلو پیچھے کو کر دیے۔۔۔۔۔

علیزے اپنی خیر مناٶ آج ۔۔۔۔ کیونکہ تمہارا یہ روپ دیکھ کے شاید جہان بھائی آج ہی رخصتی کا نہ کہہ دیں ۔۔۔۔ اسکی دوست زوبی شرارت سے بولی

جبکہ اسکی بات سن کے اسکا سانس سینے میں اٹک گیا ۔۔ وہ یہ کیوں بھول گئی اپنی نفرت اور غصے میں کہ جسکے لیے وہ آج سجی تھی وہ اسکے پور پور کا دیوانہ ہے۔۔۔۔

یہ بات ذہہن میں آتے ہی اسکا دل تیز ڈھڑکنے لگا اور جسم میں سنسناہہٹ ہونے لگی

یہ شادی جن بھی حالات میں ہو رہی تھی ، اسکی مرضی ہے یا نہیں وہ خوش ہے یا نہیں لیکن اسکے دیوانے پن کی تو گواہ ہے

اسے اپنی گود ان آنسووں سے بھیگی محسوس ہوئی جن کے ساتھ اس سے التجا کی گئی

مت کریں میرے ساتھ ایسا ،مجھ سے ایسی کڑی آزمائش نہ مانگیں۔۔۔۔۔

وہ کانپنے لگی وہ اسکی شدتیں کبھی برداشت نہیں کر سکتی تھی کبھی نہیں ، وہ اپنی اس نفرت کا پرچار کرتے ہوئے بھی اسکے جذبات اور جنونیت کے سامنے بند نہیں باندھ سکتی ۔۔۔۔۔

بھابھی رخصتی نہیں کرنی مجھے۔۔۔ وہ سرسراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

ریلیکس نہیں ہو گی ، مذاق کر رہی ہیں یہ۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے تسلی دی۔۔۔

تب باہر سے شور اٹھا کہ لڑکے والے آگئے۔۔۔۔۔ اسکے ساتھ ہی اسکی سانسیں یک لخت دھمیں ہوٸی۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔