Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 36

“دیکھو نایاب تمہاری طرح وہ بھی میری بیوی ہے اس وقت وہ جس ذہنی کرب سے گزر رہی ہے میں اچھی طرح سمجھ رہا ہوں… دانش نے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا …

“پر آپ دیکھیں تو سہی وہ کیا کررہی ہے آپ کے ساتھ , میں نے کبھی آپ سے کوئی کام نہ کہا وہ اتنی معتبر کیسے ہوگئی ہے کہ آپ سے کام لے , آپ سے چیز سینڈوچ بنوائے بھی اور کھائے بھی نہ …

نایاب پھر سے وہی بات پر اگئی جس پر کچھ دیر پہلے وہ صفائی دے چکا تھا , پر دانش کو لگا شاید اسے اس کا کام کرنا بہت برا لگا تھا اس لیئے دوبارہ اسی بات پر اگئی ہے .. اب کے وہ بولا تو لہجہ ٹھوس اور سمجھانے والا تھا …

“وہ مجھے میرے حوصلوں اور میرے فیصلوں پر آزما رہی تھی اسی لیے یہی لمحہ تھا کہ مجھے اس کی ازمائش پر پورا اترنا تھا اسی لیے میں اس کے کہنے پر اتنی تھکن کے باوجود چیز سینڈوچ بنایا تاکہ اسے ایسا لگے کہ میں واقعی رشتے کو نبھانے میں دلچسپی رکھتا ہوں اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں نایاب …

دانش کی باتین سوائے تکلیف کے نایاب کو کچھ نہ دے سکیں تھیں , جانے کیوں اسے یہ بات اذیت دے رہی تھی کہ دانش کو صرف ماہین کا صبر نظر ارہا ہے نا کہ نایاب کا حوصلہ , صبر اور برداش … وہ ہونٹون کو بھینچ گئی شاید کہنے کو کچھ نہ بچا تھا نایاب کے پاس … اس کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے کچھ لمحوں کے بعد وہ دوبارہ بولا …

“ہو سکے تو تم پلیز اسے کوئی تکلیف مت دو نہ تم جاؤ اس کے پاس نہ بچے اور جو مناسب وقت ہوگا میں خود ہی تمہیں اور بچوں کو اس سے ملواؤں گا بس اتنی دعا کرنا اللہ ہمیں دوسری اولاد نارمل دے کیونکہ اگر ایسا ویسا کچھ ہوا ماہین ٹوٹ جائے گی اور میں ایسا نہیں چاہتا …

دانش کا لہجہ اور فکرمندی والا انداز نایاب کو آسمان سے زمین پر پھینک چکا تھا , نایاب کی نظر میں … کاش نایاب اپنی کم ظرفی سے اور تنگ نظری سے ہٹ کر دیکھتی تو احساس ہوتا کہ نایاب کے لیے دانش کے دل میں سوائے محبت کے اور کچھ نہیں تھا جبکہ ماہین کو صرف اس کی ہمدردی ہی حاصل تھی محبت کا کہیں نام و نشان نہ تھا … کاش عورت اس بے وقوفی سے نکل ائے تو کتنا اچھا ہو کیونکہ عورت کی یہی بے وقوفی اسے کہاں جا کر مات دیتی ہے اسے اندازہ ہی نہیں … نایاب کو کہاں لے کر جارہی تھی اس کی تنگ نظری کسی کو اندازہ نہ تھا یہاں تک نایاب خود کو بھی اندازہ نہ تھا …

“ہمممممم … ٹھیک ہے … نایاب نے بڑی دقت سے کہا اور اپنی ناگواری چھپاگئی تھی …

“یار انشاءاللہ تو کہو … وہ اسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا …

“ہمممم انشاء اللہ … نایاب نے کہا … دانش ہمیشہ کی طرح اسے اپنی گود میں بٹھاکر اس کا دھیان ماہین سے ہٹا کر اپنی طرف لانے لگا , پر دانش کو اندازہ ہی نہ تھا وہ کیا سوچ رہی ہے ….

@@@@@@@@@

“مجھے لگتا ہے آپی , وہ وقت دور نہیں … ماہین اس کے نزدیک تر ہوجائے گی … میں اور میرے وجود کا نام و نشان نہیں رہے گا دانش کے آس پاس … نایاب نے کرب سے کہا …. اکثر صبع کے وقت وہ دونوں بہنیں باتین کرتی تھیں , اس وقت بھی دانش آفیس جاچکا تھا اور بچے بھی سورہے تھے کیونکہ تنویر کے اسکول کی چھٹی تھی …

“نایاب صبر کرو , ماہین بھی اس کی بیوی ہے اور کزن بھی سمجھنے کی کوشش کرو یار … وہ اسے پیار سمجھارہی تھی …

“آپ بھی نا آپی , اپ کو کیوں نہیں میرا درد سمجھ میں اتا … میری تکلیف , میری اذیت کچھ بھی نہیں سمجھ میں ارہی اپ کو پتہ ہے اپ کے سارے ائیڈیاز میرے لیے مصیبتِ جان ہو گئے ہیں اب میں چاہ کر بھی دانش کو روک نہیں سکتی ماہین کے لیے اور ہر بار مجھے ماہین کی فکر میں گھلنا پڑتا ہے جبکہ اپ جانتی ہیں میں کس قدر اس سے نفرت کرتی ہوں اور اپ کو پتہ ہے یہ سب چیزیں میرے لیے نقصان دہ ہیں پتہ نہیں کب جذبات میں ا کر میں کوئی بے وقوفی کر دوں … بہت بڑی غلطی مجھ سے ہو گئی مجھ سے اپ کے ائیڈیاز کو مانتے ہوئے بہت بڑی غلطی کیونکہ یہ سب باتیں میرے گلے کا پھندہ بننے لگے ہیں … جب ماہین کا دل چاہتا ہے میرے لیے کوئی بھی لفظ استعمال کر کے دانش کو کچھ بھی کہہ سکتی ہے اور دانش سنے گا اور سرآنکھون پر بھی رکھے گا … وہ کہتی ہے بچے نہ اس کے سامنے انے چاہیے تو وہ دانش چاہتا ہے کہ ایسا ہی ہو , وہ نایاب کو دیکھنا تک نہیں چاہتی تو دانش بھی ایسا چاہتا ہے …

اس کے لہجے میں خوداذیتی ہی خود اذیتی تھی … اس سے پہلے وہ کچھ کہتیں وہ دوبارہ بولی …

“اب اپ مجھے بتائیں مجھے کیا مل رہا ہے یہ سب کچھ کر کے صرف دانش کی واہ واہ دو ٹکے کی اس واہ واہ سے میرا کیا ہو رہا ہے میری تو سراسر ذہنی اذیت ہی بڑھ رہی ہے مجھے تکلیف ہو رہی ہے سچ بتاؤں میرا دل چاہتا ہے ابھی میں بھی کھل کے ماہین کی طرح اپنی نفرت کا اظہار کروں کیونکہ دیکھیں دانش نے وہاں اس کو اس نفرت کے ساتھ بھی ایکسیپٹ کر لیا تو میں تو اس کی محبوبہ تھی نا وہ تو مجھے بالکل برداشت کرتا چاہے کتنی نفرت کا اظہار کرتی ماہین کے لیئے پر اپنے کس بے وقوفی میں مجھے پھنسا دیا آپی …. اچ میں ,نہیں ہوتا مجھ سے یہ دوغلا پن ,نہیں ہوتا آپی …

آخری لفظ کہتے کہتے اس کے لہجے میں نمی کے ساتھ بےبسی اگئی تھی … اس کی آنکھین چھلک پڑین تھیں …

“نایاب میری بہن چپ ہوجاؤ پلیز , یہ آنسو پونچھ لو میری جان … وہ بھی اچھی طرح محسوس کررہی تھی نایاب کا درد اور اس کی بےبسی بھی …

“کبھی کبھی کچھ باتیں ہمیں اتنی اسان لگتی ہیں پر نایاب ویسا ہوتا نہیں ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ جو ماہین چاہتی ہے ہمیشہ وہی ہوگا تو تمہاری سب سے بڑی بھول ہے جو دانش چاہتا ہے ماہین سب وہی کرتی ہے پر اہستہ اہستہ … سمجھنے کی کوشش کرو … وہ حیرت سے سننے لگی اپنی بہن کو … واقعی جو دانش چاہ رہا ہے وہی تو سب ہورہا ہے … ماہین تو صرف کٹھ پتلی تھی اس کے ہاتھون کی …
وہ لمحہ بھر کو چپ ہوئی اور دوبارہ بولی …

“اصل محسوس کرنے والی بات تو یہ کہ جو تم چاہتی ہو وہ دانش ہر حال میں کرتا ہے تو ماہین کے بجائے خود پہ فوکس کرنا شروع کرو تو اسانی رہے گی باقی ماہین تو عنقریب تمہارے راستے سے ہٹنے والی ہے اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے فکر مت کرو نایاب …

اپنی بہن کی باتون سے نایاب کے دل کو بظاہر تسلی ہوگئی تھی … پر دل جو اندر سے بےقرار تھا وہ کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا … یہ دل اس کی خواہشیں اور حسرتیں نایاب کو کہاں پہنچانے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا …

یہ جو کچھ نایاب کر رہی تھی اس کا کیا انجام ہونا تھا کوئی نہیں جانتا تھا یہ تو وقت نے بتانا تھا کہ کس کے حصے میں کتنا خسارہ انا ہے اور کس نے کیا گوانا ہے …

@@@@@@@

ماہین پر سوائے چاہت کے کوئی ذمیداری نہ تھی , وہ پرسکون تھی اور کال پر سب کو مطئمن کرنے کی کوشش بھی کررہی تھی کئی دنوں سے …. اسے دس دن ہونے والے تھے یہاں رہتے ہوئے …

“ماہین کچھ چھپا تو نہیں رہی سچ بتاؤ تم ٹھیک ہو نا … سعدیہ بیگم نے وڈیو کال پر پوچھا ہمیشہ لنچ کے بعد اکثر فون کرتیں یا صبح میں … ورنہ باقی سب تو اکثر رات میں بات کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے لیے وہی کمفرٹیبل ٹائم تھا …

“جی امی , میں بلکل ٹھیک ہوں , دیکھیں دو ملازماں ہیں ایک گھر کے کام کے لیئے اور دوسری چاہت کے لیئے … میں بلکل فری ہوں , بسسس آپ کو پتا ہے چاہت کے سب کام میں خود کرتی ہوں اپنی مرضی سے … ماہین نے بتایا ان کو ساتھ ہی دکھایا بھی کچن میں کام کرتی ملازمہ اور دوسری چاہت کو پکڑے بیٹھی تھی روم میں , جبکہ ماہین اکر لاؤنج میں بیٹھی تھی اپنی مان سے باتیں کرنے کے لیئے …

“اور تم خوش ہو … سعدیہ بیگم نے پوچھا اس کے چہرے کو فوکس کرتے ہوئے , اس سے پہلے ماہین کوئی جواب دیتی اسی وقت لاؤنج کا دروازہ کھولے تنویر اگیا اس کے ساتھ ایک اور بچہ بھی تھا …

“دیکھین چھوٹی ماما میں کس کو ساتھ لایا ہوں …

ماہین نے ان کی طرف دیکھا اور بولی “تنویر ایک منٹ ویٹ …

“اوکے چھوٹی ماما … وہ معصومیت سے بولا …

سعدیہ بیگم چونکین تھیں اس آواز پر … ماہین کے چہرے کا رنگ اڑا …

“ماہین یہ بچے کون ہیں … ماہین تھوڑا سا گڑبڑائی اور بولی …

“امی دانش کے بچے ہیں … پھر بات کرتی ہوں پہلے ان کو دیکھ لوں … اوکے امی اللہ حافظ …

ماہین نے کہا اور کال کاٹنے لگی اسی وقت سعدیہ بیگم بولیں ” ماہین …

“جی ماما …

“تم کیسے خوش رہ سکتی ہو یہان اس طرح کے ماحول میں …

“امی پلیز آپ غلط نہ سمجھین بچے پریشان ہونگے , آپ سے پھر بات کرتی ہوں … اللہ حافظ … اس بار بغیر ان کے جواب کا انتظار کیے کال کاٹ گئی …

“سوری چھوٹی ماما … تنویر نے کہا جبکہ اس کے ساتھ کھڑا سنی ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو … ایسا لگ رہا تھا اس کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی ہوں جیسے …

“کیون … ماہین نے مسکرا کر پوچھا …

“ہم نے ڈسٹرب کیا آپ کو …. وہ معصومیت سے بولا جس پر ماہین نے کہا “کوئی بات نہیں اور ساتھ ہی پوچھا “ویسے یہ کون ہے … ماہین نے سمجھ کر بھی انجان بن کر تنویر سے پوچھا تھا … چھوٹے دو سالہ بچے کو دیکھ کر جو اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا ….

“یہ میرا بھائی یے سنی … اسے بھی بہن دیکھنی ہے … تنویر نے بتایا …

“اچھا … وہ جھک کر اس کے پھولے گالون پر پیار کرگئی …

“سنی یہ بھی ہماری ماما ہیں … ماما بولو … تنویر سنی کو سمجھاتا ہوا بولا جبکہ وہ “ہو ہو بے بی بولا …

“سنی بہن دیکھے گا پہلے چھوٹی ماما … تنویر نے بتایا …

“ہمممم اوکے … آؤ تم دونوں … ماہین نے کہا اور دونوں کو روم میں لے آئی ماہین … سنی بھاگ کر ملازمہ کے پاس آیا جو بےبی کو پکڑے ہوئے تھی , سنی اسے پیار کرنے لگا کبھی اس کے گالون سے اپنے گال جوڑتا کبھی اسے چوم لیتا , اس کے پیار کا انداز الگ تھا … وہ ٹوٹے پھوٹے لفظون میں است باتین کررہا تھا جبکہ ماہین کو سمجھ نہ آئیں اس کی باتیں …

ماہین نے محسوس کیا تنویر کی بنسبت سنی کم گو بچہ ہے پر تنویر شارپ سا بچہ لگا ماہین کو … سنی ماہین سے تو کچھ نہیں بول رہا تھا پر چاہت کو دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشی تھی …

یہ خوشی چند پل ہی ٹھری جب نایاب اچانک اگئی اور بولی “یہان کیا کررہے ہو تم دونوں , چلو یہان سے … نایاب کا کرخت لہجہ اور نفرت سے ماہین اور چاہت کا دیکھنا اچھی طرح باور کررہا تھا کہ دانش جو کچھ کہتا رہتا تھا نایاب کے مطلق لگ بھگ سب جھوٹ تھا کیونکہ ماہین چند لمحون میں نایاب کی منافقت طبیت سمجھ اگئی تھی … جو دانش کے سامنے تو ماہین اور چاہت کے لیئے فکرمند دکھاتی ہے جبکہ اس کی بنسبت وہ اپنے اندر ان کے لیئے نفرت اور کدورت رکھتی ہے …

نایاب سنی کو اٹھایا اور تنویر کو تھپڑ مارنے لگی یہ کہتے ہوئے “تمہاری ہمت کیسے ہوئی سنی کو یہان لانے کے لیئے … اس سے پہلے واقعی وہ مارلیتی ماہین اس کا تھام کر بولی “پلیز یہ سب اپنے گھر جاکر کریں میرے سامنے بلکل نہیں کیونکہ اتنے پیارے بچے کو مارتے ہوئے میں نہیں دیکھ سکتی …

ماہین نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ گئی جبکہ نایاب غصے سے پھنکارتے ہوئے بولی …

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے روکنے کی , میرا بچہ ہے جو کروں , تم ہوتی کون ہو مجھے روکنے والی , میرا ہاتھ پکڑنے والی …

ماہین اس کے غصے کے انداز کو اگنور کرتی ہوئی بولی تو بس اتنا “چلی جائیں میرے گھر سے , میرا کوئی ارادہ نہیں یہان تماشہ لگانے کا … اتنا کہے کر ماہین چاہت کو لے کر دوسرے کمرے میں جاکر دروازہ لاک کرگئی … جاتے ہوئے ملازمہ سے کہہ گئی “جب یہ لوگ چلے جائیں تو دروازہ اچھی طرح بند کر لینا لاؤنج کی طرف سے بھی اور دوسرا مین ڈور بھی …

نایاب کو لگا جیسے وہ اس کے منہ پر طمانچہ مارگئی ہو … وہ بچون کے ساتھ تو چلی گئی پر دل میں ماہین کے لیئے اور زیادہ نفرت لیئے … ماہین کا بولڈ انداز اچھی طرح محسوس کیا نایاب نے … نایاب کو وہ اتنی زیادہ خوبصورت تو نہیں لگی تھی پر ایک پرکشش اور پراعتماد لڑکی ضرور لگی تھی اور کم عمر سی لگی نایاب کو … کچھ تھا جو اسے منفرد لگا ماہین میں کہ اس کی آنکھون میں کسی قسم کی احساسِ کمتری نہ تھی نایاب کو دیکھ کر بلکہ اس کا مضبوط لہجہ نایاب کو عجیب سے احساسات سے دوچار کرگیا …

@@@@@@@@@@

“مجھے لگتا ہے ماہین خوش نہیں نادر صاحب … سعدیہ بیگم نے کہا …

“کیوں کیا ہوا … نادر صاحب نے حیرت سے پوچھا …

“دانش کے بیوی بچے اتے ہیں ماہین کے گھر ,آپ کو پتا ہے ماہین کہے گی کچھ نہیں , اندر ہی اندر گھٹتی رہے گی , بس برداش کرلے گی ہر بات … پلیز کچھ کریں نادر صاحب … سعدیہ بیگم نے کہا …

نادر صاحب بھی فکرمند ہونے لگے کیونکہ ان کو ایک بھی بات نہیں بھولی تھی ماہین کی کہی ہوئی … کس طرح وہ کہتی تھی اسے بٹا ہوا شوہر قبول نہیں , اب یہ سب اس کے سامنے ہورہا ہے کیا بیت رہی ہوگی اس کے دل پر ….

“سعدیہ ہم کربھی کیا سکتے ہیں , جب ماہین خود اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے … نادر صاحب نے کہا , ان کے لہجے میں پریشانی اور فکر تھی …

” میرا خیال ہے یہ بہتر نہیں ہے کہ ماہین ہمارے ساتھ یہاں رہے کراچی میں اور دانش اتا جاتا رہے بجائے اس کے کہ ماہین اسلام اباد رہ کر کسی ذہنی کرب سے گزرتی رہے … سعدیہ بیگم نے بڑی آس لے کر پوچھا …

” نہیں سعدیہ بیگم یہ مناسب نہیں کیونکہ اس سے ہمارے گھر کا ماحول بھی خراب ہو سکتا ہے کیونکہ ریحان بالکل برداشت نہیں کرے گا اس طرح ماہین کو دیکھ کر اور اپنا گھر خراب کر دے گا … نادر صاحب نے حقیقت کا ایک اور رخ دکھایا جو سچ بھی تھا کیونکہ ریحان جس قدر جذباتی تھا اس میں کچھ بھی غلط وہ ریما کے ساتھ کر سکتا تھا اور کسی طرح اور کسی طور بھی سعدیہ بیگم اور نادر صاحب اپنے گھر کا ماحول خراب کرنا نہیں چاہتے تھے …

“نادر صاحب , اتنے بےبس ہم کیوں ہیں , کاش ہم کچھ کرسکتے … سعدیہ بیگم بےبسی سے بولیں ..

” سچ میں سعدیہ بیگم یہ افسوس تو مجھے بھی تا عمر رہے گا کہ ہمارے اپنوں نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے…. نادر صاحب افسردگی سے بولے تھے … سعدیہ بیگم اپنے آنسو ضبط کرنے لگیں کیونکہ واقعی اس درد کی کوئی دوا نہیں تھی …

@@@@@@@@@@

“نایاب مجھے تم سے یہ امید نہ تھی تم یہ سب کروگی اوپر جاکر … دانش نے جب رات میں نایاب سے کہا تو وہ حیران ہوگئی …

“تو اس نے آپ سے میری شکایت کی , ہاں … نایاب نے غصے پوچھا …

“کیا ہوگیا ہے نایاب , تم ملازمون کے سامنے تماشہ لگاؤگی اور مجھے پتا نہیں لگے گا … ایسا کیسے تم سوچ سکتی ہو … دانش نے کہا …

“اس کا مطلب ملازمون کی بات پر آپ یقین کریں گے اور میری نہیں … نایاب نے حیرت سے ہوچھا …

“نایاب , مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا ہوگیا ہے تمہیں … میں ایک بات کر رہا ہوں اور تم دوسرا جواب دے رہی ہو اور عجیب سے سوال بھی ساتھ ہی ساتھ کرتی جا رہی ہو … دانش واقعی میں کنفیوز انداز میں بولا واقعی میں نایاب اسے الجھن کا شکار لگی …

“کیا ہوا ہے نایاب … کونسی بات تم کو اس قدر پریشان کررہی ہے , ڈسکس کرو میرے ساتھ , کیوں اتنا بدلتی جا رہی ہو تم پہلے تو ایسی نہیں تھی تم نایاب میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں اتنا نہیں سمجھتی تم … دانش محبت سے بولتا اس کے ہاتھ تھامے اور اس کی آنکھون میں جھانکتا اس کی پریشانی کی وجہ پوچھ رہا تھا …

نایاب اس کی فکرمندی خود کو لے کر دیکھتی رہ گئی …

جاری ہے ….