No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
بہت آسان ہے کہنا۔۔
محبت ہم بھی کرتے ہیں۔۔
مگر مطلب محبت کا،
سمجھ لینا نہیں آساں۔۔
محبت پا کے کھو دینا،
محبت کھو کے پا لینا۔
یہ ان لوگوں کے قصے ہیں۔
محبت کے جو مجرم ہیں۔۔
جو مل جانے پر ہنستے ہیں۔۔
بچھڑ جانے پر روتے ہیں۔۔
سردی اس کی ہڈیوں میں گھس رہی تھی۔۔دسمبر کا مہینہ تھا۔۔ٹھنڈ کے مارے کپکپی بند گئ تھی اس کی۔۔۔ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی اس نے۔۔
نظریں بھٹک بھٹک کر اس ستم گر کی طرف چلی جاتیں جو اسے ٹھنڈی کارپٹ پر پٹخ کر خود نرم گرم بستر میں خواب و خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔۔۔
وہ جو کبھی اس کی تکلیف پر تڑپ اٹھتا تھا وہ اتنا سنگ دل بھی ہو سکتا تھا دل ماننے کو تیار ہی نہ ہوتا۔۔۔
دانین نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ اس شخص کے ساتھ ایک خوشخال زندگی کے خواب دیکھتے ہوۓ گزارا تھا۔۔
خوابوں کے پائیدان لڑکیوں کی دسترس میں ہوتے ہیں وہ خواب سجاۓ جاتی ہیں ۔ان دیکھے رستوں پر محبت کی انگلی پکڑے چلی جاتی ہیں۔اور یہی خوابوں کے دیس تاعمر رولتے ہیں رُلاتے ہیں۔۔۔
وہ دانین جمشید علی تھی۔خواب نگر کی شہزادی۔۔اس کے خواب بےلگام گھوڑے تھے جو خواب نگر میں دوڑتے پھرتے تھے۔
اس کی خوابیدہ آنکھوں نے برسوں شہزادے کی راہ تکی تھی اور پھر شہزادہ آیا اور اس میں کھو گیا۔
خواب نگر کی وہ شہزادی خوابوں کی راہ کی مسافر بن گئ۔اور پھر چھن سے خواب ٹوٹا۔شہزادے نے ظالم دیو کا روپ دھار لیا۔۔۔
اذان کی آواز نے اس کی سوچوں پر بند باندھے۔۔کپکپاتی ہوئ وہ اٹھی۔۔تھکاوٹ اور سردی سے اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا۔۔آہستہ آہستہ چلتی وہ کھڑکی کے پاس آئ۔۔تھوڑا سا پردہ ہٹا کر باہر جھانکا۔۔۔
کاظمی حویلی کے سامنے ہی مسجد تھی۔۔مؤذن کی اذان رات کے سکوت کو توڑ رہی تھی۔
مرغ اذانیں دے رہے تھے۔۔چرند پرند اذان کی آواز کے ساتھ اپنی پناہ گاہوں سے نکل آۓ تھے۔۔
اذان ختم ہو چکی تھی۔۔پردہ برابر کرتی دوپٹہ سر پر اوڑھے وہ وضو کرنے واش روم میں گھس گئ۔۔
وضو کر کے دوپٹہ صیح سے اوڑھا۔۔جاۓ نماز ڈالی اور نماز کی نیت باندھی۔۔ہاتھ کا درد سردی سے نڈھال ہوتا تپتا جسم اس کی آنکھوں سے بہہ رہا تھا۔۔۔
آنسؤوں سے چہرہ تر تھا۔۔۔نماز پڑھ کے ہاتھ دعا کے لیئے اٹھاۓ۔آنسوؤں نے ہچکیوں کا روپ دھار لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ وہ سسکیاں بھر رہی تھی کہ آواز سے رونے کی اجازت نہیں تھی اسے۔۔۔۔
یااللہ مجھے ثابت قدم رکھ۔مجھے ہمت دے کہ میں اپنے بھائ کی زندگی کی جنگ جیت جاؤں۔۔سوجھی ہوئ آنکھیں بخار کی حدت سے بند ہو رہیں تھیں۔۔
میرا بھائ بہت معصوم ہے اس پر لگے الزام کو غلط ثابت کر میرے اللہ۔۔۔اس کی پھر سے ہچکی بند گئ تھی۔۔۔
میں یہ نہیں کہتی اللہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔کئیں لڑکیاں ایسی ہوں گی جو اس سے بھی بڑے بڑے ظلم کا شکار ہوں گی۔۔۔
بس میرے اللہ میری ہمت مت توڑنا۔۔۔مجھے مظبوط کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہچکیوں کے درمیاں وہ بولی۔۔اس سے مزید بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ہاتھوں کو منہ پر پھیرتی اس نے آنسؤں صاف کیئے۔۔۔جاۓ نماز لپیٹ کر دراز میں رکھی۔۔اور واپس آ کر لیٹ گئ۔۔بخار کی شدت اس کے انگ انگ کو توڑ رہی تھی۔۔تپتے جسم درد سے پھٹتے سر کے ساتھ وہ عنودگی میں چلی گئ۔۔۔۔
خالہ جان سنبھالیں اپنی ڈرپوک بیٹی کو ۔چھوٹی چھوٹی بات پر رو دیتی ہے۔۔۔وہ بمشکل اس کے خوف پر قابو پاتا اسے گھر تک لایا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔
کون ڈرپوک ہاں ڈی۔جے کسی سے نہیں ڈرتی سمجھے۔۔اپنے لیئے ڈرپوک کا لفظ سن کر وہ اپنی پرانی جون میں لوٹ آئ تھی۔۔۔
اے۔کے اور ڈی۔جے کی ماں مسکرا اٹھیں ۔وہ ایسی ہی تھی کسی بھی فیز سے پل بھر میں نکل آتی اور کبھی مہینوں لگ جاتے۔۔
خالہ جان آپ کی ڈی۔جے ابنارمل ہے آئ تھنک۔۔اے۔کے نے ڈی۔جے کو چھیڑنے کے لیئے کہا۔۔
اماں آپ دیکھ رہی ہیں اسے مجھے یعنی کے ڈی۔جے کو ابنارمل کہہ رہا ہے۔۔LLB کی سٹوڈنٹ کو۔مستقبل کی نامی گرامی وکیل کو۔۔۔ڈے۔جے اپنی ماں کی طرف دیکھتی حیرانی سے بولی۔۔۔وہ مسکرا دیں ۔ان دونوں کی نوک جھوک لگی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا غلط کہھ رہا ہوں میں خالہ جان۔۔۔اس نے ڈی۔جے کو مزید چڑایا۔۔۔۔
تم ناں مجھ سے بات مت کرو ۔۔اپنے سامان کا بیگ وہی پھینکتی وہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔۔۔۔۔اے۔کے کا جاندار قہقہہ لاؤنج میں گونجا۔۔۔۔
سنو۔۔۔!!
محبت کرنے والے تو،
بہت خاموش ہوتے ہیں۔۔
جو قربت میں بھی جیتے ہیں۔
جو فرقت میں بھی جیتے ہیں۔۔
نہ وہ فریاد کرتے ہیں،
فقط اشکوں کو پیتے ہیں۔۔
محبت کے کسی بھی لفظ،
چرچا نہیں کرتے۔۔
وہ مر کے بھی اپنی چاہت کو،
کبھی رسوا نہیں کرتے۔۔
بہت آسان ہوتا ہے کہنا،
محبت ہم بھی کرتے ہیں۔۔۔
محبت ہم بھی کرتے ہیں۔۔
دانین. . دانین ۔۔!!! نیم عنودگی میں اس نے اساور کی آواز سنی ۔۔۔اس نے آنکھیں کھولنی چاہیں مگر پلکیں من من کی ہو رہیں تھیں۔۔
دانین ۔۔!!اٹھو ناشتہ بنا کر دو۔۔۔وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔۔مگر اس کا جسم تو ہلنے سی انکاری تھا۔۔پھر سکوت چھا گیا۔۔اسے لگا اساور چلا گیا ہے۔۔۔مگر چہرے پر پڑتے پانی کے سیلاب نے اس کی تمام حسیات کو جگایا۔۔وہ ایک دم اٹھ بیٹھی۔۔۔
اساور پانی کا خالی جگ لیئے کھڑا تھا۔۔جو سارا کا سارا بس پر پھینک چکا تھا۔۔پہلے ہی وہ بخار کی حدت سے دہک رہی تھی۔۔۔بھیگے وجود نے اس پر مزید کپکپی طاری کر دی تھی۔۔۔
پمشکل پلکوں کو اٹھا کر اس نے ظالم دیو کی طرف دیکھا۔۔۔جو پورے جہاں کی سختی اپنے چہرے پر لیئے کھڑا تھا۔۔۔
ماہرانی صاحبہ نیند پوری ہو گئ ہو تو ناشتہ بنا دو۔۔۔جگ کو میز پر پٹختا۔۔وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔
نیم بےجان وجود کو گھسیٹتی شال اوڑھ کر وہ کمرے سے نکل گئ۔۔۔
وہ کچن میں پہنچی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ناشتہ بنایا اور لے کر کمرے میں پہنچی۔۔
ناشتہ کر لیں۔۔۔ٹرے ٹیبل پر رکھی۔۔۔۔۔
پرفیوم کی بوتل واپس ڈریسنگ پر رکھتا وہ آکر ناشتہ کرنے لگا۔۔۔۔
چاۓ دو۔۔۔سلائیس کا ٹکڑا منہ میں ڈالا۔۔جلدی سے دانین نے چاۓ کا کپ اٹھایا اس کی طرف بڑھایا۔۔کمزوری کی وجہ سے ہاتھ کانپا اور چاۓ چھلک کر اساور کے پینٹ پر گِر گئ۔۔۔۔اساور کا میٹر گھوما۔۔۔
جاہل عورت تمیز نہیں ہے تجھے۔۔اساور کا لہجہ وخشیانہ تھا وہ سہم گئ۔۔۔
سوری۔۔!!!! آواز کپکپائ۔۔
سوری مائ فٹ۔۔اسے زور کا دھکا دیتا وہ واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔۔دانین کا سر بیڈ کی پائنتی سے لگا۔۔روح کی گھائل اب وہ جسم کی بھی گھائل ٹھہری۔۔۔ہاتھ سر پر لگا کر دیکھا تو خون بہہ رہا تھا۔۔۔
اس کی سانس ساکت ہوی۔وہ ڈر گئ تھی۔۔
پینٹ بدل کر وہ باہر نکلا۔۔بغیر اس پر نظر ڈالے پاؤں کی ایک مزید ٹھوکر بیڈ کے پاس بیٹھی اس خواب نگر کی شہزادی کو مارتے ہوۓ وہ لمبے لمبے ڈگ بڑھتا آفس روانہ ہو گیا۔۔۔
بہتے خون کو دیکھتی وہ رو پڑی تھی۔۔۔ماضی کی اک یاد آنکھوں کے پردے پر لہرائ۔۔
بےبی پنک پاؤں تک آتی فراک ،مانگ کی صورت میں بالوں کو دونوں کندھوں پر پھیلاۓ وہ اپنی دوست کی شادی میں جانے کے لیئے تیار تھی۔اساور لینے آیا تھا اسے۔پک اینڈ ڈراپ کی ڈیوٹی دانین کی وہی سرانجام دیتا تھا۔۔۔۔
پوری طرخ سے تیار ہو کر اس نے چوڑیاں پکڑیں اور بہننے لگئ۔۔۔ایک چوڑی اس کے ہاتھ میں ٹوٹ گئ۔۔۔۔ ۔ہاتھ کی پشت پر چھوٹی سی خراش آئ اور خون کا ننھا سا قطرہ ابھرا۔۔خون دیکھ کر اس کی جان ہوا ہوئ۔۔
اس نے زور سے چیخ ماری۔۔لاؤنج میں بیٹھے،اساور ،سعدی اور اس کی امی گھبرا گئیں۔۔بھاگتے ہوۓ اس کے کمرے کو پہنچے۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔سعدی جلدی سے اس کے پاس پہنچا۔۔۔لہجہ پریشان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ہاتھ پر چوٹ لگ گئ۔۔۔اس کے آنسو نکلنے کو بےتاب تھے۔۔۔
دکھاؤ مجھے۔۔۔اساور نے تڑپ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔۔چوٹ چھوٹی تھی مگر اساور کو اسے تکلیف دینے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پریشان کرتی تھی۔۔۔۔
سعدی فرسٹ ایڈ باکس لاؤ۔۔اساور نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑے سعدی کی طرف دیکھا۔۔وہ بھاگ کر فرسٹ ایڈ باکس لے آیا۔۔۔
جب تک اس کی پٹی نہیں ہو گئ۔دانین کی چیخیں گھر بھر میں گونج رہیں تھیں۔۔پٹی ہوی تو وہ چپ ہوئ۔۔۔
ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔۔وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اسے بہت چوٹ لگ گئ ہو۔۔۔
پریشان مت ہو بیٹا اتنی بڑی چوٹ نہیں ہے۔۔۔اس کی اماں نے اساور کو مطمئن کیا۔۔۔
اماں مجھے آرام کرنا ہے۔۔چھوٹے سے زحم سے اس کو کمزوری ہو گئ تھی۔۔
اور شادی۔۔۔
نہیں جا رہی دیکھیں طبیعت خراب ہے اس کی۔۔۔سعدی اور اساور بیک وقت بولے ۔ دانین نے مسکرا کر ماں کو دیکھا۔۔جو سر جھٹکتی مسکراتی ہوئ باہر چلی گئیں۔۔۔
سر میں درد کی ٹیس شدت سے ابھری تو وہ ماضی کی یاد سے باہر نکلی۔۔۔
اس کا حال اور مستقبل اس کے ماضی سے بہت مختلف ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
خود کو گھسیٹتی وہ ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئ۔۔سر اچھا خاصا پھٹ چکا تھا۔۔خون ابل ابل کر بہہ رہا تھا۔۔اسے لگا وہ مر جاۓ گی مگر وہ تو بےہوش تک نہ ہوئ مرتی کیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
