Ghar Ki Murghi Daal Barabar By Meher Anmol Readelle50331 Ghar Ki Murghi Dal Barabar (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Ghar Ki Murghi Dal Barabar (Episode 10)
“اسلام وعلیکم
وعلیکم السلام۔۔
کہاں ہے توں پری؟؟؟
ہائے کیا بتاؤں ردا باجی میرے امتحانات چل رہے تھے کملا کیا ہوا تھا یعنی والوں نے۔۔۔
آج ہی فارغ ہوئی ہوں۔۔۔
اچھا تو اس لیے توں اج کل گم تھی۔۔۔
جی ہاں۔۔
آپ بتائیں ردا باجی اب کس کی پٹائی کرنی ہے بہت دن ہو گئے ایڈونچر کیے ہوئے۔۔۔
فلحال میرا دل نہیں ہے پری۔۔۔
توں بتا کوئی نئی خبر۔۔۔
ہاں یاد آیا آپ کو پتہ ہے ڈاکٹر صاحب پھر سے عید سپیشل منام لکھا رہیں ہیں۔۔۔
ہائے اللہ سچی؟؟؟
مچی ردا باجی۔۔۔
آپ تو مجھے ہلکے میں لیتی ہیں حالانکہ کہ اتنی بڑی خبر دی میں نے آپ کو۔۔
پھر بھی میں آپ کے لیے گھر کی مرغی دال برابر جیسی ہوں۔۔۔
اور وہ نوری آپ کو جھوٹی خبریں دیتی اور پیسے بھی لیتی۔۔
ہائے پری دل خوش کر دیا توں نے شکر ہے کوئی تو اچھی خبر ملی۔۔۔۔
“خالہ جان۔۔۔
صدقے جاواں آ گئی میری انگوری۔۔۔
کیسی بے خالہ جان؟؟؟
میں تو ٹھیک ہوں لیکن توں نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے نام انگوری ہے اور شکل کسی لنگور سے کم نہیں لگ رہی تیری؟؟؟
بس خالہ کیا بتاؤں آپ کو۔۔۔
منہا آری اوہ بہو بیگم۔۔۔۔
جی اماں جی۔۔۔
دیکھ میری پیاری بھانجی آ گئی۔۔
آ گئی منحوس ماری لنگوری۔۔۔
منہا بیگم چہرے کے تاثرات بدلتے ہوئے۔۔۔
کیسی ہو منہا ؟؟؟
تیرے آنے سے پہلے اچھی خاصی تھی۔۔۔
کچھ کہا بہو۔۔۔
نہیں اماں جی میں کہہ رہی تھی۔ کھانا لگاتی ہوں آپ کی لنگوری میرا مطلب انگوری بھوکی ہو گی۔۔
ہاں ہاں لگاؤ کھانا۔۔۔
دل تو چاہتا ہے کھانے جمال گھوٹا ملا دوں اس چڑیل کے۔۔۔۔
انگوری یہ میری جگہ ہے یہاں سے اٹھ جاؤں۔۔۔
کیا ہو گیا ہے بہو اب وہ بیٹھ گئی ہے تو رہنے دو۔۔ ۔۔
اتنے عرصے بعد ایک ساتھ بیٹھے ہیں میرے ببلو اور انگوری۔۔۔۔
یہاں منہا بیگم کے تیور بدل رہے تھے۔۔۔
اور وہاں ببلو صاحب کی حالت بھی ٹائٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔
“دلاری اوہ دلاری۔۔۔۔
کہاں مر گئی ہے منحوس۔۔۔۔
” دلاری یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟
وہ وہ باجی باہر سگنل نہیں آ رہے تھے تو یہاں۔۔
تجھے میں نے کتنی بار کہا ہے کہ کاشف سے دور رہ اور یہ یہاں کون سا ٹاور لگا ہے یا پھر کاشف کے سر پر سگنلز والے سینگ لگے ہیں جو توں میرے کمرے میں منہ اٹھا کر ا گئی۔۔۔۔
زری باجی آپ پریشان نہ ہو آپ کا یہ سڑا ہوا شوہر میرا کرش نہیں ہے۔۔۔۔
ایک تو مجھے تیرے کرش والی بیماری سمجھ نہیں آتی ہر وقت کرش کرش ایک اب توں کاشف کے آس پاس نظر آئی نہ تو کدو کش کر دوں گی۔۔۔۔
کبھی نعمان کبھی عثمان منان حماد کاشان پتہ نہیں تیری اس بیماری کا کیا ہو گا۔۔
اتنی بار تو کاشف نہاتے نہیں مہینے میں جتنی بار توں کرش بدلتی ہے۔۔۔۔
باجی میری چھوڑے کاشف صاحب۔ ۔
بھائی بول کمینی۔۔
ہاں کاشف بھائی پتہ نہیں کس کو خوابوں میں سونی سونی کہہ کر جھولا جھلا رہے تھے۔۔۔
تو بکواس بند کر اور کام کر جا کے یہ جتنی ہاتھ اور زبان موبائل پر چلتے اتنے اگر کام پر چلاؤ تو مجھ سے گالیاں اور اپنی اماں سے جھاڑو نہیں پڑے گے۔۔۔۔
جا رہی ہوں باجی۔۔
نام ہے راج دلاری اور کام دیکھو منحوس ماری کے اچھی خاصی جان چھوٹ گئی تھی پتہ نہیں کیا دورہ پڑا ڈاکٹر صاحب کو اس چڑیل کو واپس ہمارے سروں پر سوار کر گئے۔۔
اللّٰہ پوچھے ڈاکٹر صاحب نوں۔۔۔
لیکن پہلے کاشف کی تو کلاس لوں پتہ نہیں کس بہن کو جھولا جھلا رہے ہیں۔۔۔
” اماں یہ کیا ہے مجھے نہیں کرنی اس سے شادی وادی۔۔۔
دیکھ بینی توں نے ہی کہا تھا کہ لڑکے کا نام نعمان ہونا چاہیے اور اب منع کر رہی ہے۔۔۔
اماں میں نے لڑکے کا نام نعمان کہا تھا لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی پہاڑی بکرا ہی لے آؤ۔۔۔
ہائے اللہ بینی توں اللہ کی نہ شکری کیوں کر رہی ہے اتنا پیارا ہے۔۔
ہونہہ پیارا ناک دیکھے اس کی جیسے پلاسٹک کی ٹوٹی ہوتی ہے۔۔
اور پیٹ جیسے کسی شاپر میں پھونک بھر دی ہو۔۔
” آ جا مشی۔۔۔
فاطمہ مہوش کو بابا جی کے آستانے پر لے آئی تھی۔۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔
بولو بچہ۔۔۔
زما یوہ مسلہ (ایک مسئلہ ہے)
بچہ یہ کیا زی زا کر رہی ہو۔۔۔
مرشد یہ پٹھان ہے پشتو زبان میں بول رہی ہے زا زی نہیں کر رہی ویسے فٹے منہ تہاڈے مرشد ہون تے۔۔
بچہ اردو میں بولو جو بھی مسئلہ ہے۔۔۔۔
وہ بابا جی ہم نہ اس سے شادی نہیں کرنا اپنے کزن سے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔
اوہ تو یہ مسئلہ ہے۔۔۔
پریشانی کا حل تو ہے بچہ لیکن خرچہ کچھ زیادہ آئے گا۔۔
مطلب کیا ہے؟؟
مطلب ایک ہزار پشاوری پہاڑی بکرا وہ بھی کالے رنگ کا۔۔۔۔
ایک بوری پشاوری کہوا کی بوری۔۔۔۔۔
ساتھ میں ہو سکے تو اخروٹ انجیل اور پشاور کا سپیشل بادام بھی۔۔۔
مرشد کنٹرول کرو جے اے پٹھانی دا بھیجا پھیر گیا تے تسی وی گئے۔۔۔۔
زما غوسہ آہ ھا دہ (مجھے غصہ آرہا ہے)
مہوش کو غصہ ا رہا تھا بابا کا کمینہ پن دیکھ کر۔۔۔۔۔
” اسلام وعلیکم۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔
آؤ آؤ علی خوش آمدید۔۔۔۔
وعلی علی اور اس کی ماں کا ویلکم کر رہا تھا اپنے گھر میں۔۔۔
جب کے خان بابا اور زر گل کے تاثرات کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔۔۔۔۔۔
علی ہچکچاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
