172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 14)

Dadhkan By Rania Mehar

آہہہہہہ آہہہہہہہ جاہل لڑکی دیکھ نہیں سکتی کیا ۔۔۔

آواز ہی دے دیتی اوپر ایسے آ کر گری ہو جیسے میں بیڈ ہو تمہارا ۔۔۔

ہاشم ابھی داٶد سے مل کر گھر آیا تھا ۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ ہال کے صوفے پر بیٹھتا جب پیچھے سے اچانک مسکان اس سے ٹکرا کر ہاشم کے اوپر ہی گر پڑی ۔۔۔۔

تبھی ہاشم چلاتے ہوے بولا۔۔۔

(بول ایسا رہا ہے جیسے میں خود اس کی گود میں آی ہو سڑیل شکل والا )..

مسکان نے دل میں سوچا ۔۔۔

اللہٌنے آواز لی ہے پر آنکھیں تو ہے نہ تمہارے پاس ۔۔۔

لیکن نہیں یوز کرنا بس اپنا پاگل پن کرنا ہے ۔۔۔

ہاشم کو یاد آتے کے مسکان بول نہیں سکتی تبھی زرا مدھم آواز سے کہا ۔۔۔

اب اٹھ بھی جاٶ یہاں روم میں بھی میں تمہیں چھوڑ کر آٶ کیا ۔۔۔

ہاشم نے چڑتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔

(اٹھا لو کون سا مر جاٶ گے ۔۔۔۔

ہاے جیسے ناول کے ہیرو آٹھاتے ہے ۔۔۔

اپنی ہیروہین کو ۔۔۔

پر یہ تو سڑیل شکل والا ہے ۔۔۔

بور انسان ۔۔۔

انہہ ۔۔)

مسکان نے منہ بناتے دل میں سوچا ۔۔۔۔

کیا کوما میں چلی گی ہو تم ۔۔۔۔

ہاشم نے چڑتے ہوے اس گود میں اٹھاتے کہا ۔۔۔۔

مسکان بس گم صم ہاشم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

(ارے واہ اس نے اٹھا لیا ۔۔۔

ہاےےے میری قیسمت مجھے بھی یہی ملا تھا ۔۔۔)

مسکان نے افسوس کرتے سوچا ۔۔۔

یہاں آرام سے بیٹھ جاٶ کچھ چاہے ہو تو بتانا مجھے اچھا ۔۔۔۔

لیکن اب یہ پاگلوں والے کام مت کرنا ۔۔۔

ہاشم نے اسے بیڈ پر بیٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جبکہ مسکان نے صرف ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔

————————————————————

ثانیہ ثانیہ میری جان میں اتنا خوش ہو کہ کیا بتاو ۔۔۔

ارتضٰی گھر میں داخل ہوتے چیختے ہوے بولا ۔۔۔۔

کیا ہوا آپ کو میں کچن میں ہو ۔۔۔

کچن سے ثانیہ نے آواز لگائ۔۔۔

ارتضٰی کی بات کا جواب دیا ۔۔۔۔

ارے تم یہاں ہو چھوڑو یہ کام ہو جاے گے ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کو کمر سے پکڑتے اپنے قریب کرتے کہا ۔۔۔

ثانیہ جو آٹا گوندھنے میں مصروف تھی ۔۔۔

ثانیہ ارتضٰی کو اپنے قریب دیکھتے گھبرا ہی گی ۔۔۔

ارے چھٶڑے مجھے کام کرنا ہے بھوک لگی ہو گی آپ کو ۔۔۔

میں بس جلدی سے پڑاٹھا بناتی ہو ۔۔۔

ثانیہ نے اپنا آپ چھڑواتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جبکہ ارتضٰی کی اتنی سی قربت میں اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

بھوک تو مجھے بھی لگی ہے ۔۔۔

اتضٰی نے ثانیہ کے لبوں کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔

آپ کیوں اتنے خوش ہے ۔۔۔

ثانیہ نے اس کی نظروں کی طلب دیکھتے بال بدل دی ۔۔۔

جس میں وہ کامیاب بھی ہوئ ۔۔۔

ہاں وہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔

میرا جلاد مطلب میرا دوست بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔

شکریہ میری جان دعا کرنے کے لیے ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کو گھوماتے ہوے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔

شکر اللہٌکا اب کیسا ہے آپ کا دوست ۔۔۔

ثانیہ نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔۔۔۔

وہ دیکھ چکی تھی ارتضٰی کے چہرے پر خوشی جو اپنے دوست کی وجہ سے آی تھی ۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے وہ میں بہت جلد تم سے ملاٶ گا ۔۔۔

اچھا تم نے کھانا نہیں کھایا کیا ۔۔۔۔

ارتضٰی نے بے چینی سے پوچھا ۔۔۔۔

اپنے دکھ میں وہ بھول ہی چکا تھا ۔۔۔

ثانیہ نے کچھ کھایا ہو گا یا نہیں ۔۔۔

ابھی میں آپ کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔

آپ آجاتے تو ساتھ میں کرتے ناشتہ ۔۔۔۔

ثانیہ نے اپنی نظروں کو جھکاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

ارتضٰی کی لو دیتی نظروں سے وہ گھبرا گی تھی ۔۔۔۔

یہاں آو میں نے تمہیں کچھ بہت ضروری بتانا ہے ۔۔۔

پھر چاہے تم میرے ساتھ رہو یا نہیں مجھے اس بات کا دکھ نہیں ہو گا تم سے جھوٹ بولا ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کا ہاتھ پکڑتے باہر ہال کے صوفے پر بیٹھاتے تفصیل سے کہا ۔۔۔۔

کیا بات ہے جو اتنا پریشان ہو گے ۔۔۔

ثانیہ نے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔

ہممممم۔۔۔۔وہ میں ۔۔۔

ارتضٰی نے کچھ سوچتے ہوے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا ۔۔۔۔

کیییییییاااااا ۔۔۔۔

آ۔پ۔آپ یہ کام کرتے ہے ۔۔۔

ثانیہ نے شوک کے انداز میں چیختے ہوے کہا ۔۔۔

بس کرو لڑکی کان کے پردے پھاڑ دو گی ۔۔۔

اتنا شریف شوہر تمہارا ہے جو سب کچھ سچ بتا دیا تمہں اور تم چیخ رہی ہو ۔۔۔۔

ارتضٰی نے منصوعنی غصہ سے کہا۔۔۔

جبکہ وہ ثانیہ کے چہرے پر خوشی دیکھ سکتا تھا ۔۔۔

مجھے خوشی ہے بہت ارتضٰی کہ میرا شوہر سب کی مدد کرتا ہے ۔۔۔

لڑکیوں کی حفاظت کرتا ہے ۔۔۔

میں یہ تو نہیں کہتی کہ مجھے آپ سے محبت ہو گی ہے لیکن میں آپ کی عزت بہت کرتی ہو ۔۔۔

مجھ جیسی لڑ۔۔۔۔

ثانیہ جو ارتضٰی کے ہاتھ پکڑتے ہوے جوش سے بول رہی تھی ۔۔۔

جب ارتضٰی نے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھتے خاموش کروا چکا تھا ۔۔۔

ثانیہ نے اس کی شرٹ زور سے اپنے ہاتھوں میں پکڑی تھی ۔۔۔۔

ثانیہ ارتضٰی کے عمل پر گھبرا گی تھی ۔۔۔

ارتضٰی مدہوش سا ہوا ثانیہ میں گم

تھا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ لبوں سے گردن تک کا سفر کرتا جب ثانیہ نے زور سے دھکا دیا اسے ۔۔۔

بہت برے ہے آپ شریف بلکل نہیں ہے ۔۔۔

جاے یہاں سے آپ ۔۔۔

ثانیہ نے اپنے سرخ گلنار چہرے کے ساتھ ارتضٰی کو گھورتے ہوے بولی ۔۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہا شریف میں سب کے لیے ہو جانمن تمہارے لیے میں شریف بلکل نہیں ہو سمجھی ۔۔۔

ارتضٰی نے اس کی حالت انجواے کرتے آنکھ ونک کرتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔۔

میں ہی چلی جاتی ہو یہاں سے ۔۔۔

اس سے پہلے ارتضٰی کوئ اور گستاخی کرتا جب ثانیہ ڈر سے کہتی کچن کی طرف بھاگ گی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہہااہاہا میری بیوی ۔۔۔

ارتضٰی اس کی حرکت پر ہنستے ہوے اونچی آواز سے بولا ۔۔۔۔

جبکہ اس کی آواز سن کر کچن میں کھڑی ثانیہ شرما گی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم ڈیڈ کیسے ہے آپ ۔۔۔۔

داٶد نے تیمور صاحب کے روم میں انٹر ہوتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

پورے داٶد پلیس کے چالیس چکر لگاٶ ۔۔۔

پھر ٹھنڈے برف والے پول میں تیراکی کرو پورے پندرہ منٹ پھر جا کر اپنے ڈیڈ سے بات کرنا سمجھے ۔۔۔

اور یہ ساری سزا تمہاری تین گھنٹے میں ختم ہو جاے سمجھے تم ۔۔۔۔

تیمور صاحب نے بنا دیکھے غصہ سے کہا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہا سیرسیلی ڈیڈ ۔۔۔

کال می جنرل تیمور شاہ سمجھے مسٹر داٶد میر ۔۔۔

داٶد نے ہنستے ہوے کہتا جب تیمور صاحب نے غصہ سے بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔

اوکے سر جنرل تیمور شاہ میں یہ کرو گا ۔۔۔

داٶد نے تیمور صاحب کو بیک ہگ کیے سنجیدہ ہو کر کہا تھا ۔۔۔۔

وہ سمجھ گیا تھا ۔۔

تیمور صاحب کو غصہ ہے اس کی حرکت پر ۔۔۔۔

(داٶد پلیس کا ایک چکر لگانے میں پورے بیس منٹ لگتے تھے ۔۔۔

جبکہ تیمور شاہ جانتے تھے یہ کام داٶد کے لیے کتنا آسان تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہا یہ سزا بھی کم ہے ۔۔۔

میں دیکھو گا اب میرا ببر شیر کیسے یہ کام پورا کرتا ہے )…

تیمور صاحب نے ہنستے ہوے سوچا ۔۔۔

———————————————————–

اففف اس بچی کا کیا کرو ۔۔۔

اسے ساتھ لے کر بھی چلا گیا یہ آرمی پھر بھی چھوڑے گی مجھے ۔۔۔۔

قمر خان مسکان کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوے سوچا ۔۔۔

وہ کوٹھے کی بیک ساہیڈ کی طرف جا رہا تھا تاکہ وہاں سے بھاگ سکے ۔۔۔

سر اس بچی کا کیا کرنا ہے۔۔۔

ساتھ لے کر جانا ہے کیا ۔۔۔۔

قمر جب کوٹھے سے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا ۔۔۔

جو اس کے آدمیوں نے گاڑی روک کر رکھی تھی ۔۔۔

یہی چھوڑ دو اسے یہ عذاب نہیں چاہے ۔۔۔

چلو جلدی چلے ۔۔۔

قمر نے مسکان کو دھکا مارتے غصہ سے کہا ۔۔۔

اسے صرف اپنی جان بچانے کی پڑی تھی ۔۔۔۔

گرنے کی وجہ سے ایک شیشے کا ٹکرا مسکان کے سر پر لگا ۔۔۔

درد محسوس ہوتے ہی مسکان نے رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

بھاہیٶ بھاہیٶ بچاے مجھے ۔۔۔

مسکان مسلسل روتے ہوے داٶد کو پکار رہی تھی ۔۔۔۔۔

تب تک کوٹھے میں دھماکہ ہو چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

یہاں کیا ہوا ہے راشد تم دیکھو زرا ۔۔۔

اصغری جو مختار سے ملنے کے بعد گھر کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔

جب سامنے والی جگہ پر رش دیکھتے ڈرئیوار سے پوچھا ۔۔۔

پتہ نہیں میم میں زرا چیک کرتا ہو شاہد دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے ۔۔۔۔

راشد نے گاڑی سے باہر جاتے ہوے کہا ۔۔۔

بھاہیٶ بھاہیٶ بچاٶ ۔۔۔

اصغری کے کانوں میں کسی بچی کے رونے کی آواز پڑی۔۔۔

کون ہے یہ بچی ۔۔۔

آواز سنتے ہی اصغری نے باہر نکل کر دیکھتے سوچا ۔۔۔

جب سامنے مسکان زمین پر خون سے لت پت رونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔

بیٹا کیسے ہوا یہ سب۔۔۔

انٹی میرا بھاہیٶ ۔۔

می۔۔۔۔

بیٹا ہوش میں آو ۔۔۔

اصغری نے مسکان کے پاس جاتے پوچھا ۔۔۔

جب مسکان نے روتے ہوے بھاہیٶ کہہ کر بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔

اللہٌایسی حالت بچی کی افففف راشد جلدی یہاں آو ہاسپٹل چلے ہم ۔۔۔

اصغری نے افسوس کرتے سوچ کر راشد کو آواز دی ۔۔۔۔

میم یہ لاکٹ بچی کا ۔۔۔

گاڑی میں بیٹھتے راشد نے اصغری کو مسکان کا لاکٹ دیتے کہا ۔۔۔

جو اس کے گلے سے اتر چکا تھا ۔۔۔۔

اکب۔ی۔۔اکبٰری اور یہ کیا اس کی بیٹی ۔۔۔

اصغری نے لاکٹ کو کھولتے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔۔

جہاں مسکان اور اکبٰری کی تصویر تھی ۔۔۔

مطلب یہ میرا خون میری بھانجی۔۔

یہ یہاں کیسے اور اکبٰری ۔۔

اصغری نے روتے ہوے سوچا ۔۔۔۔

جبکہ وہ مسلسل معصوم سی شکل بناۓ بے ہوش پڑی مسکان کو دکھ سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

ڈیڈ آپ کی چاۓ ۔۔۔۔

محمل نے روم میں داخل ہوتے تیمور صاحب کو مخاطب کیا ۔۔۔

جو کھڑکی کے پاس کھڑے باہر لان میں داٶد کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ہاں بیٹا رکھ دو ۔۔۔

یہاں آو ۔۔۔

تیمور صاحب متوجہ ہوتے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔

ڈیڈ یہ کھڑوس انسان یہ کیوں کر رہا ہے ۔۔۔

پہلے ہی زخمی ہے وہ ۔۔۔

محمل نے پاس جاتے کھڑکی سے باہر داٶد کو چکر لگاتے پوچھا ۔۔۔

یہ میرا ببر شیر ہے ۔۔

یہ معمولی زخم ہے اس کے لیے تم فکر نہ کرو بیٹا ۔۔۔

تیمور صاحب نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔

لیکن پھر بھی ڈیڈ درد تو ہوتا ہے نہ اور یہ کھڑوس کیسے قابو آ جاتا ہے آپ کے ۔۔۔

محمل نے سامنے دیکھتے پوچھا ۔۔۔

داٶد اس وقت شارٹس اور بلیک بینان میں ملبوس پسینے میں شرابور چکر لگانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔

میرا بیٹا بہت پیارا ہے ۔۔۔

بہت دکھ دیکھے ہے اس نے آج سب کے سامنے اگر یہ سٹون مین ہے ۔۔۔

تو میں جانتا ہو ۔۔

میرا بیٹا دل کا کتنا نرم انسان ہے ۔۔۔

تیمور صاحب نے محبت سے کہا ۔۔۔

جبکہ محمل خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔۔

(اچھا انسان تو ہے میری عزت بچانے کے لیے شادی کر لی ۔۔۔

اور ابھی تک شوہر ہونے کا حق نہیں لیا ۔۔۔

توبہ توبہ میں کیا سوچ رہی ۔۔۔)

محمل نے دل میں سوچا۔۔۔۔

ایک وعدہ کرو گی بیٹا مجھ سے تم ۔۔۔۔

تیمور صاحب نے آس بھری نظروں سے پوچھا ۔۔۔

جی ڈیڈ آپ میرے لیے پاپا جیسے ہے ۔۔۔

آپ بتاے کوشش کرو گی وعدہ پورا کر سکو میں ۔۔۔

محمل نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔۔۔۔

میرے بیٹے کا ساتھ مت چھوڑنا چاہے کچھ بھی ہو جاے ۔۔۔

میں مانتا ہو یہ شادی دونوں کی مرضی سے نہیں ہوئ ۔۔

لیکن بیٹا نکاح میں بہت طاقت ہے ۔۔۔

یہ دو انجان لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتی ہے ۔۔۔

تم اسے سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔

اسے اپنے جیسا بناٶ کچھ بھی کرو ۔۔۔

میں نے دیکھا ہے ۔۔۔

جب سے تم آی ہو کم از کم تھوڑا بول اور ہنس بھی رہا ہے ۔۔۔۔

اس کے پاس دل ہے لیکن دھڑکن نہیں ۔۔

مجھے پتہ ہے ایک دن وہ دھڑکن تم بنو گی ۔۔۔

بس بیٹا داٶد پر یقین رکھنا کبھی اسے چھوڑنا مت ۔۔

وعدہ کرو میرے بعد بھی میرے بیٹے کا خیال رکھو گی ۔۔۔

تیمور صاحب نے تفصیل سے کہتے وعدہ لینا چاہا ۔۔۔۔

میں ضرور سب کچھ کرو گی ڈیڈ ۔۔

شوہر ہے میرا تو مجھے ہی خیال رکھنا پڑے گا ۔۔۔

بس کھڑوس شکل دیکھ کر ڈر جاتی ہو ۔۔۔

لیکن فکر نہ کرے اب آپ کا بیٹا بولے گا ہنسے گا ۔۔۔

چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔

محمل نے ہمت دیتے تسلی دی ۔۔۔

(جبکہ دل میں وہ ڈر رہی تھی ۔۔۔)

ہمیشہ خوش رہو بیٹا ۔۔۔

تیمور صاحب نے خوش ہوتے دعا دی ۔۔۔

————————————————————

افففففف مسکان کیا مسئلہ ہے تمہارا بار بار کیوں بلا رہی ہو ۔۔۔

ہاشم نے روم میں انٹر ہوتے چڑتے ہوے کہا ۔۔۔

سامنے بیڈ پر بیٹھی مسکان سکون سے چپس کھا رہی تھی ۔۔

جیسے اس سے زیادہ ضروری کوئ کام نہیں ۔۔۔

مسکان کب سے ہاشم کو تنگ کر رہی تھی ۔۔۔

وہ بار بار بل کی گھنٹی بجا دیتی ہاشم بھاگا بھاگا آتا تو مسکان آگے سے کچھ نہ بولتی ۔۔

وہ مسلسل ایک گھنٹے سے یہ کام کر رہی تھی ۔۔۔

ابھی بھی یہی ہوا ۔۔۔

ہاشم کو روم سے گے ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوے تھے ۔۔

جب بل کی گھنٹی دوبارہ بجی ۔۔۔

وہ ویسے ہی الٹے قدموں سے واپس آتا چڑ کر بولا ۔۔۔۔

(اب مزہ آیا بچو ۔۔۔

بڑا کہا تھا کوئ ضرورت ہو تو بتانا ۔۔۔

انہہ ۔۔

مجھے نہیں چاہے یہ ہمدردی ۔۔

ہمدردی سے نکاح کیا اب خیال بھی اس لیے رکھ رہے ہو ۔۔۔

نفرت ہے مجھے ہمدردی سے ۔۔۔

مسکان نے غصہ سے دل میں سوچا ۔۔۔)

ڈریس نکال کر دے مجھے ۔۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے ٹائپ کیا ۔۔۔

کیا بکواس ہے۔۔

نوکر ہو کیا ۔۔۔

تمہارا ۔۔۔

ہاتھ پاٶں سلامت ہے تمہارے چل کر لو ۔۔۔

جاہل لڑکی زرا نرمی سے بات کر لو ۔۔۔

سر پر چڑ جاتی ہو ۔۔۔

ہاشم غصہ سے آگ بگولا ہوتا بولا ۔۔۔

جبکہ مسکان اب بھی سکون سے بیٹھی چپس کھا رہی تھی۔۔۔

اففف یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے ۔۔۔

ہاشم نے اپنے سر کے بال نوچتے کہتا روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔

———————————————————–

کون سی ایسی سزا ملی ہے جو ختم نہیں ہو رہی ۔۔۔

محمل نے لان میں آتے داٶد کو دیکھتے پوچھا ۔۔۔

جس کا بھاگنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اب داٶد اس کی بات اگنور کرتا اپنی بینان اتار کر پول میں جا چکا تھا ۔۔۔۔۔

ہممممم اگنور کب تک کرو گے آخر بات تو کرو گے مجھ سے ۔۔۔

محمل نے اپنا اگنور ہونا محسوس کرتے دل میں سوچا ۔۔۔

ویسے شرم نہیں آتی ایسے کپڑے اتار کر گھوم رہے ہو ۔۔۔

محمل نے پول کے پاس پڑی چیئر پر بیٹھتے ہوے پھر بولی ۔۔۔

داٶد سکون سے یخ ٹھنڈے برف والے پانی میں سکون سے تیراکی کر رہا تھا ۔۔۔

میں نے دیکھا تم نے پورے پچاس چکر لگاۓ داٶد پلیس کے اب یہ پول میں کیا کر رہے ہو سکون نہیں کیا جان کو ۔۔۔

محمل نے ایک دفعہ پھر بات کی ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف پھر سکون تھا ۔۔۔۔

اففف کس بات کی اکڑ ہے مسٹر کھڑوس میں کب سے بول رہی ہو ۔۔۔

تم نے منہ ایسے بند کیا ہے جیسے ٹیکس لگے گا ۔۔۔۔

محمل پول کے کنارے پر بیٹھتے دانت پیستے بولی ۔۔۔

وہ کب سے بول رہی تھی ۔۔۔

تم لڑکیوں کے بولنے پر ٹیکس لگنا چاہے سچی

پاکستان کا قرضہ ختم ہو جاے گا ۔۔۔

داٶد پول کے کنارے جاتے طنز سے بولا ۔۔۔۔

دور رہو مجھ سے گیلا کر دو گے مجھے ۔۔۔

محمل نے داٶد کی باڈی سے نظر چڑاتے ہوے کہا ۔۔۔

مضبوط سینہ سکس پیک مسلز دیکھ کر محمل خود گھبرا گی تھی ۔۔۔۔

آو تم بھی انجواۓ کرو میرے ساتھ ویسے بھی بیوی ہو ۔۔۔

داٶد نے اس کا گھبرانا نوٹ کرتے محمل کا بازو پکڑتے اپنی طرف کیھنچا ۔۔۔

آہہہہہہہ میں مر گی اتنا ٹھنڈا پانی بچاٶ بچاٶ ۔۔۔

محمل داٶد کی باہوں میں ہی کانپتی ہوئ چیختی ہوی بولی ۔۔۔

اسے واقعی پانی ٹھنڈا لگا تھا ۔۔۔۔

بتاٶ اب کیسا فیل کر رہی ہو ۔۔۔

کب سے تمہاری پٹر پٹر زبان چل رہی تھی ۔۔۔۔

داٶد نے غصہ سے محمل پر اپنی گرفت سخت کرتے پوچھا ۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے ۔۔۔

محمل کی ہمیشہ کی طرح داٶد کی قربت میں آج بھی بولتی بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔

ت۔ت۔۔تمہاری آنکھیں براٶن ہے کل نیلی تھی کیوں ۔۔۔

محمل نے ہمت کرتے پوچھا ۔۔۔

جو اس کی لیز لگی براٶن آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ویسے یہ ڈریس پیارا ہے کیا خیال ہے ابھی تمہں باہر نکال دو ۔۔۔

داٶد نے اگنور کرتے محمل کے ڈریس کو دیکھ کر طنز کیا ۔۔

جو کہ گیلا ہونے کی وجہ سے اس کے جسم سے چیپک گیا تھا ۔۔۔۔

نہ۔نہہی۔

نہیں خبردار مجھے باہر نکالا پہلے خود دفعہ ہو یہاں سے ۔۔۔

محمل شرم سے پانی پانی ہوتی اسی کے گلے لگی دھمکی دے رہی تھی ۔۔۔

واہ ہ ابھی کوئ بول رہا تھا ۔۔۔

لیکن اب ڈر گے ہے ۔۔۔

داٶد نے اس کی حرکت پر مسکراتے طنز کیا ۔۔۔۔

محمل بس آنکھں بند کیے اس کے گلے لگی کھڑی تھی ۔۔۔

میں ڈی ایم نے تمہارا سمجھی جو ایسے گلے لگی ہو میرے پیچھے ہٹو۔۔۔۔

داٶد نے محمل کو خود سے دور کرتے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔

تم ہو بھی نہیں سکتے سمجھے مسٹر کھڑوس ۔۔۔

محمل دوبارہ گلے لگے منہ بناتے بولی ۔۔۔

واہ کیا کہنا تمہارا چلو چھوڑو مجھے اب ۔۔۔

داٶد نے اسے اپنی باہوں میں بھرتے باہر نکالتے ہوے کہا ۔۔۔

داٶدددددددد۔۔۔۔

شرم کر لو کچھ تم کھڑوس ۔۔۔

محمل نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں میں ڈارلنگ تو شرم کیسی ۔۔۔

داٶد نے محمل کے کندھوں پر ٹاول رکھتے طنز سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

افففف میں بھی نہ پتہ جو ہے یہ کھڑوس کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔

پھر بھی ڈر جاتی ہو ۔۔۔

محمل نے آنکھں کھولتی ٹاول کو اچھے سے جسم پر کور کرتی بولی ۔۔۔۔

اتنے دنوں سے اسے یہ تو پتہ چل گیا تھا ۔۔۔

کہ داٶد نفس کا بھوکا انسان نہیں تھا ۔۔۔۔

اسے پتہ تھا ایک لڑکی کی عزت کیسے کی جاتی ہے ۔۔۔

لیکن یہ عورت ذات سے نفرت کیوں کرتا ہے ۔۔۔

خیر یہ بھی پتہ چل جاے گا پہلے کپڑے چیج کر لو۔۔۔

محمل نے دل میں سوچتے کہا ۔۔۔

————————————————————

مسز انور ہم نے آپریشن کر دیا ہے آپ کی بیٹی کا ۔۔۔

سر کے اندر شیشہ چلا گیا تھا ۔۔۔

آپریشن تو کر دیا لیکن ۔۔۔

لیڈی ڈاکٹر نے اصغری کے پاس آتے بتاتے اھوری بات چھوڑ دی ۔۔۔

لیکن کیا ڈاکٹر ۔۔۔

انور نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔

لیکن یہ اب یہ اللہٌ کی مرضی تھی جو بھی ہوا ۔۔

آپریشن کے بعد یا تو وہ کوما میں جا سکتی تھی یا پھر ان کی یاداشت چلی جاتی ۔۔۔

بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے وہ سب کچھ بھول چکی ہے ۔۔۔

سواۓ اپنے نام کے ۔۔۔

ڈاکٹر نے افسوس سے کہتی چلی گی تھی ۔۔۔۔

میں کبھی نہیں بتاو گی مسکان کو اس کے ماضی کے بارے میں ۔۔۔

میری بیٹی ہے بس ۔۔۔

اصغری نے دل میں سوچا ۔۔۔

————————————————————

پورے ایک ماہ انور اصغری مختار محمل ہاشم سب نے مسکان کا بہت خیال رکھا تھا ۔۔۔

مسکان کو ہوش آنے کے بعد یہی کہا گیا تھا ۔۔

وہ اصغری کی بیٹی ہے جو کہ مسکان مان چکی تھی ۔۔۔

ہر وقت مسکان اب ہاشم کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔

ہاشم بھی اس کا خیال رکھتا تھا ۔۔

ایک چھوٹی گڑیا کی طرح ۔۔۔

محمل اور مسکان کی شرارتوں سے رونق لگی رہتی تھی ۔۔۔۔

مختار کو بھی پتہ چل گیا تھا مسکان کس کی بیٹی ہے ۔۔۔

ایک دن الماری سے انور کو اصغری کے کپڑوں کے نیچے لاکٹ ملا تھا ۔۔۔

جس پر اس نے کافی ہنگامہ کیا تھا ۔۔۔

لیکن انور مان لیا اکبٰری کی بیٹی ہے لیکن اس کی تربیت میں کرو گی ۔۔

میری بیٹی ہو گی یہ ۔۔۔

پلیز مان جاے نہ ۔۔۔

اصغری نے منت کرتے کہا ۔۔۔

یہ ملی تھی ۔۔تو اس کا بھای بھی تھا اصغری ۔۔۔

وہ کہاں ہے ۔۔۔

انور نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

ایک منٹ آپ کو کیسے پتہ ۔۔

اصغری نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔

انور نے اکبٰری کے فون کال والی بات بتا دی تھی ۔۔۔۔

لیکن میں رکھ رہا اسے اس کے بھائ کو دو ۔۔

جیسی ماں تھی ویسی یہ ہو گی بات ختم ۔۔۔

انور نے دو ٹوک کہتے بات ختم کی ۔۔۔

یا اللہٌمسکان کا بھای نہیں ایسا نہیں ہونے دو گی کبھی نہیں بتاو گی مسکان

کو اس کا بھای زندہ بھی ہے ۔۔۔

اصغری نے دل میں پرعزم ہوتے سوچا ۔۔۔۔

جبکہ انور اور اصغری کی بات سن کر ہاشم مسکان سے نفرت کرنے لگا تھا ۔۔۔

جہاں وہ ہر وقت ساتھ رہتے تھے وہاں کب ہاشم مسکان کی شکل دیکھ کر بھاگ جاتا تھا ۔۔۔۔۔